بین السطور

اکتوبر 18, 2010

ہمیں کیوں بلایا؟

اسکو ل میں کلاس ٹیچر دعا کروارہی تھیں کہ اللہ سب کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ سب بچےہاتھ اٹھائے۔ آمین آمین کہہ رہےتھے مگر ایک بچےنے ہاتھ اٹھائےنہ آمین کہا۔ ٹیچر نےپوچھا بیٹا تم کیوں خاموش ہو۔ اس نےجواب دیا ”مس‘ میرےابو ڈاکٹر ہیں۔“
دوپیشےایسےہیں کہ جن کےپھلنے‘ پھولنےکی دعا کرتےہوئے سوچنا پڑتاہے‘ ایک ڈاکٹر اور دوسرےگورکن کا پیشہ۔ بسااوقات دونوں ایک دوسرےکےمعاون ہوتےہیں۔ جہاں کوئی بیمار نہ ہو وہاں طبیب بیمار پڑجاتےہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں باہر سے آئےہوئے ایک غیر مسلم طبیب کےساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ وہ پریشان تھا کہ لوگ بیمار ہی نہیں پڑتے۔ اس کو بتایا گیا کہ مسلمان ”طبیب اعظم“ کےبتائےہوئےاصولوں پر عمل کرتےہیں اس لیےعموماً بیمار نہیں ہوتے۔ا س اصول کا بنیادی جزو یہ تھا کہ خوب ٹھونس ٹھونس کر کھانا مت کھائو۔ ایک حصہ پانی اور ایک ہوا کےلیےچھوڑ دو۔ حقیقت یہ ہےکہ کم کھانےسے آج تک کوئی نہیں مرا البتہ بسیارخوری سےجسم مختلف امراض کا گودام بن جاتا ہے۔
بہرحال‘ ڈاکٹر اور گورکن کا وجود لازمی ہے۔ دعا یوں کی جاسکتی ہےکہ اللہ ڈاکٹر کےہاتھ میں شفا عطا فرمااور درد دل عطا کرے‘ وہ درد نہیں جس کےلیے پھر کسی ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ رہا گورکن تو وہ نہ ہو تولاشیں سڑجائیں۔ اس کےلیے یہی دعا ہےکہ کفن چور نہ ہو۔
یہ ڈاکٹر حضرات ہمیں یوں یاد آگئےکہ ہر سال 10 اکتوبر کو اقوام متحدہ کےتحت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن منایا گیا۔ کراچی میں دماغی اور نفسیاتی و جنسیاتی امراض کےبین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر مبین اختر نےلوگوں کےدماغ درست کرنےکا ٹھیکا لےرکھا ہے۔چنانچہ انہوں نےبھی ایکسپو سینٹر میں اس موضوع پر ایک بھرپور سیمینار منعقد کیا۔ ڈاکٹر مبین اختر ہر سال ہی لوگوں کی آگاہی کےلیےیہ کام کرتےہیں۔ انہوں نےاس موقع پر امراض دماغی کےمعروف معالجین‘ پروفیسرز اور ماہرین نفسیات کو جمع کرلیا۔ ہمارےبارےمیں انہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی یا صحافت سےتعلق رکھنےکی وجہ سے ہمیں بھی بلالیا کہ صحافی جن حالات سےگزر رہےہیں ان میں دماغی صحت برقرار رہنا مشکوک ہے۔ صحافیوں کو مختلف قسم کےذہنی دبائو کا سامنا رہتا ہے۔ فیلڈ میں کام کرنےوالوں کو تو ایسےایسےمناظر دیکھنےپڑتےہیں کہ ہوش اڑ جاتےہیں اور پھر دوسروں کےہوش اڑاتےہیں۔ ذرائع ابلاغ‘ برقی ہوں یا کاغذی‘ نفسیاتی و دماغی الجھنوں کو بڑھانےمیں اپنا کردار اد اکررہےہیں۔ ممکن ہےاپنا انتقام لےرہےہوں۔ آزما کر دیکھ لیجییے۔ ایک ہفتہ اخبار پڑھیں نہ ٹی وی دیکھیں۔ فشار خون (بلڈ پریشر) معمول پر رہےگا‘ بھوک خوب لگےگی اور یہ جو مزاج میں کڑواہٹ آگئی ہے‘ تیوریوں پر مستقل لکیریں پڑگئی ہیں ‘ سب دور ہوجائیں گی۔ بیوی‘ بچےبھی قریب آنےلگیں گے۔ سعودی عرب کےدارالحکومت ریاض کےانگریزی اخبار ریاض ڈیلی کےمدیر طلعت وفا سے ہم نے وچھا کہ سعودی اخبارات میں بڑے سے بڑےحادثےکی خبر ہوتی ہےنہ قتل و غارت کی۔ تو بڑےتحمل سے انہوں نےکہا ”ہم لوگوں کا بلڈ پریشر نہیں بڑھانا چاہتے۔“ سعودی عرب میں لو بلڈ پریشر کی شکایت عام ہے۔
ہمارےایک بہت ہی محترم ساتھی تھےنصر مخدومی۔ ہم سےبہت سینئر تھی۔ اپنےکام پر بھرپور عبور تھا۔ خرابی یہ تھی کہ وہ اخبارمیں ہونے کےباوجود سوچتےبھی تھےاور کڑھتےبھی تھی۔ جسارت میں آنےسےپہلےہی ایسےہی کسی مرحلےمیں ناانصافی دیکھی تو ڈاکٹر مبین اختر کےبقول دماغ میں موجود کیمیائی مادوں کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن یہ گڑبڑ شعور و آگہی میں کمی نہیں‘ زیادتی کےسبب ہوئی۔ پھر یوں ہوتا تھا کہ جب بھی ان پر آگہی کا غلبہ ہوتا تھا تو انہیں زبردستی ڈاکٹر مبین اخترکےنفسیاتی اسپتال بھجوایا جاتا تھا۔ یہ کام عموماً ہمارےساتھی راشد عزیز کیا کرتےتھے۔ وہاں جو ”علاج“ ہوتا تھا اس کےزیر اثر کئی دن تک سہمےرہتےتھے۔ وہ صرف نعرےلگایا کرتےتھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ نعرےبازی تو اب عام ہے۔
صحافیوں کےلیےسوچنا‘ سمجھنا اور حالات کا اثر لینا نقصان دہ ہے۔ حکمرانوں کو دیکھیے۔ اگر وہ بھی قوم و ملک کےحالات پر کڑھنےاور بہتری کی فکر میں مبتلا ہونےلگےتو حکومت کیسےکریں گے۔ جناب صدر کے پاس جب اقتدار نہیں تھا تب تو برطانوی عدالتوں میں ان کی دماغی کیفیت کےبارےمیں جو رپورٹیں خود جمع کرائی گئیں وہ کچھ اور کہتی ہیں۔ اب اگر وہ کراچی نفسیاتی اسپتال کی خدمات حاصل کریں تو کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس اسپتال میں بھی کلفٹن کےاس اسپتال کی طرح مچھر نہیں ہوتےجہاں قید کا بڑا حصہ گزرا ہے۔
ڈاکٹر مبین اختر نےایکسپو سینٹر میں بہت سےلُوگوں کو جمع کرلیا تھا جس سےاندازہ ہوا کہ لوگ اپنا دماغ درست کرنےمیں د لچسپی رکھتےہیں۔ اس سیمینار میں کئی معروف ماہرین نفسیات موجود تھے۔ مہمان خصوصی پروفیسر مسرت حسین تھے۔ اہم بات یہ ہےکہ صحافی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر مسرت کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہےکہ ہم اپنےاردگرد کسی کو نفسیاتی مرض میں مبتلا پائیں تو اسےکسی ماہر نفسیات کو دکھانےکا مشورہ دیں۔ ڈاکٹر صاحب! کوئی یہ تسلیم ہی کہاں کرتا ہےکہ وہ ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ اصرار کیا تو سر پھاڑ دےگا اور پھر حکمرانوں کو یہ مشورہ دینےکی جرات کون کرےگا؟ بیویاں اپنےشوہروں کو اور شوہر اپنی بیویوں کو لیےکھڑےہوں گے۔ شادی کےچند برس بعد دونوں ایک دوسرےکےبارےمیں یہی سمجھنےلگتےہیں۔ انہوں نےوالدین کو بچوں سےشفقت سے پیش کرنےکا مشورہ دیا ہےلیکن بہتر تھا کہ وہ یہ مشورہ بچوں کو دیتے۔
ڈاکٹر مبین اخترکی تحقیق ہےکہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد 25 فیصد سےتجاوز کرچکی ہےمگر ماہرین ذہنی امراض کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ ہم تو سمجھ رہےتھےکہ شہر کراچی کے آدھےلوگ پاگل نہیں ہیں۔ ماہرین نفسیات کا دم غنیمت ہےکہ تعداد 25 فیصد تک ہی پہنچی ہے۔ مگر ہم اب تک اس سوچ میں ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نےہمیں کیوں بلایا۔ ممکن ہے یہ سوچا ہو کہ صحافی حضرات نفسیاتی اسپتالوں اور ڈاکٹروں کی اہم خدمت کررہےہیں‘آمدنی بڑھوا کر۔ بہرحال دماغی صحت کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے‘بیوی‘ بچوں کو قتل کرنا ‘ خودکش حملے پاگل پن کی انتہا ہے۔ بنیادی سبب دین سےدوری ہے۔ قرآن کریم سب سےبڑا نسخہ شفا ہے۔ پڑھ کر دیکھیےتو نفسیاتی اسپتال خالی ہوجائیں گے۔ ماہرین نفسیات کی تقریریں سن کر ہمیں اپنے بارےمیں شبہ ہوچلا ہے۔ ایک اطمینان یہ ہےکہ دماغ ہو تو خراب ہو اور کیمیائی‘ مادوں میں کمی‘ بیشی کا خطرہ ہو۔

اکتوبر 12, 2010

بلوری ڈیری فارم کا مکھن

Filed under: سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 5:56 شام
حاجی غلا احمد بلور بڑے بھلے آدمی ہیں۔ جب سے وہ ریلوے کے وزیر بنے ہیں انہوں نے کئی ریلیں بند کروادیں تاکہ ایک طرف تو عوام ٹرین کے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے بچیں‘ ریلوے اسٹیشنوں پر باسی اور مضر صحت کھانا کھا کر اپنی صحت خراب نہ کریں‘ دوسری طرف ان ٹرانسپورٹروں کا بھلا ہو جو عوام کی خاطر بسیں چلاتے اور ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے کی زحمت اٹھاتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ اے این پی کے بلوری وزیر نے چوہدری پرویز الٰہی کا پرانا بیان کسی اخبار میں دیکھ لیا ہے۔ وزراءاتنے مصروف ہوتے ہیں کہ روز کے روز اخبار نہیں پڑھ سکتے۔ ان کے سیکرٹری مطلب کی خبروں پر نشان لگا کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں لیکن دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہنے والے وہ بھی نہیں پڑھ پاتے۔ اس کا اندازہ ٹی وی چینلز کے مباحثوں میں شریک کسی بھی وزیر کی ”باخبری“ سے کیا جاسکتا ہے۔ امکان یہ ہے کہ کسی نے ڈھائی تین سال پرانے اخبار میں نان یا پکوڑے لپیٹ کے دے دیے ہوں گے اور کھانا کھاتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کا یہ بیان سامنے آگیا کہ وہ صدر پرویز کو وردی سمیت آئندہ س بار صدرمنتخب کرائیں گے۔ لیکن خود پرویز مشرف وردی میں سے نکل بھاگے اب افسوس کرتے ہیں کہ کاش مزید 5 سال تک وردی نہ اتاری ہوتی جس کو وہ اپنی کھال کہتے تھے اور اب بالکل ہی کھال سے باہر ہیں۔
غلام احمد بلورنے پرویز الٰہی سے متاثر ہوکر فرمایا ہے کہ ”آصف علی زرداری کو مزید 10 سال کے لیے صدر قبول کیا جائے۔“ حاجی صاحب کی تحقیق ہے کہ صدر زرداری سب سے مسکین آدمی ہیں‘ نہایت عاجز انسان ہیں ‘ ایسا شخص آیا نہ آئے گا‘ انہیں جانے نہ دیا جائے۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ریلوے کے پاس انجن نہیں۔“
ممکن ہے کہ دونوں باتوں میں ربط نہ محسوس ہو حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ ریلوے کا حال تو اس لیے خراب ہے کہ انجن نہیںہیں اور ٹرینیں بغیر انجن کے چل رہی ہیں جبکہ حکومت کو آصف زرداری جیسا انجن ملا ہوا ہے۔ اب یہ واضح نہیں کہ انجن کے پیچھے بوگیاں بھی ہیں یا تنہا ”شنٹنگ“ کررہا ہے اور یہ کہ کس پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ مسکین شخص ہے‘ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ غلام احمد بلور کہتے ہیں کہ صدرمملکت جیسا عاجز صدر آیا ہے اور نہ آئے گا۔ اب یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ عاجز اور مسکین کون ہے‘ عوام یا صدر محترم۔لیکن اگر جناب زرداری واقعی عاجز اور مسکین ہیں تو محکمہ زکواة کو توجہ کرنی چاہیے۔ مسکین کا تعین تو ٹیکس کے گوشوارے دیکھ کر ہی ہوجاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جناب غلام احمد بلورنے اچانک اتنا بہت سا مکھن کیوںلُگادیا؟ کیا یہ گھر کا مکھن ہے؟ یہ افواہیں بھی اڑائی جارہی ہیں کہ وفاقی کابینہ میں کمی کی جارہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ رحمن ملک‘ بابر اعوان کے ساتھ جناب غلام احمد بلور کی ملازمت بھی پکی ہے۔ دوسری طرف اے این پی کے رہنماﺅں اور خےبرپختونخوا کی حکومت کے بارے میں بڑی تشویشناک خبریں آرہی ہیں۔ ہمارا گمان تھا کہ باچا خان کے پیروکار کم از کم بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ سے ضرور دور رہیں گے۔ سیاسی بدعنوانی اپنی جگہ لیکن مالی بدعنوانی زیادہ خطرناک ہے وہ بھی خےبرپختونخوا جیسے ضوبے میں جو سندھ اور پنجاب کے مقابلے میں پہلے ہی بہت پیچھے ہے اور اب سیلاب نے بھی سب سے پہلے اس صوبے کو نشانہ بنایا۔ مگر اے این پی کے حکمران کیا کررہے ہیں اس کا پول خود اے این پی کے رہنما اور مردان سے منتخب رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد خان ہوتی نے اس کا پول کھولا ہے۔ اس وقت وزیراعلیٰ بھی ہوتی ہیں جن کو صوبے کے لوگ ”بابا“ کہتے ہیں۔ صوبے میں عوام کے لبوں پر یہ جملہ ہے کہ عوام سیلاب میں ڈوب گئے اور بابا پیسوں کے سیلاب میں۔ ادھر سیلاب آرہا تھا اور اُدھر اے این پی کی حکومت کی وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے خلاف آوازیں بلند ہورہی تھیں۔
ان آوازوں میں سب سے نمایاں اور توانا آواز رکن قومی اسمبلی نواب خواجہ محمد خان ہوتی کی ہے۔ اخباردی نیشن کی 6 اکتوبر کی ایک رپورٹ کے مطابق اے این پی کے ایم این اے محمد خان ہوتی نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر کو مشورہ دیا ہے کہ دیکھو یہ جو سیلاب زدگان کے لیے امداد آرہی ہے اس میں صوبائی حکومت کے کسی فرد کا ہاتھ نہیں لگنا چاہیے اورور نہ کسی کے ہاتھ نہیں آئے گی‘ اقوام متحدہ خود ہی تقسیم کرے۔ اقوام متحدہ کے افسر نے یقین دلایا کہ اس معاملہ میں خےبرپختونخوا کی حکومت سے بات کرلی جائے گی۔
سابق وفاقی وزیر اور اے این پی کے رکن قومی اسمبلی محمد خان ہوتی کا کہنا ہے کہ میری پارٹی کی حکومت انتہا درجہ کی بدعنوان ہے۔ اس نے تو لوٹ کھسوٹ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ جب میں اپنے علاقہ کے لوگوں کو امداد سے محروم دیکھتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے‘ آپ کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ کتنا برا حال ہے۔ صوبہ کی حکومت کو اربوں روپے کی امداد ملی ہے مگر حکمران اس کا بڑا حصہ خود نگل گئے۔ پٹواری وطن کارڈ وصول کرنے والوں کی جعلی فہرستیں بنارہے ہیں اور اصل کارڈ اے این پی کے رہنماﺅں کے حلقوں میں بانٹے جارہے ہیں۔ مردان میں میرے علاقے میں لوگوں کو ایک کوڑی بھی نہیں ملی۔ چار سدہ اور نوشہرہ کے متعدد علاقے امداد سے محروم ہیں۔ وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی خود بدعنوانی کی سرپرستی کررہے ہیں اور صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی اربوں روپے کھاگئی ہے۔ وزیراعلیٰ اپنے حلقے میں امداد تقسیم کررہے ہیں حالانکہ ان کا علاقہ سیلاب سے متاثر نہیں ہوا۔ چہیتے افسران رشوت دے کر سیلاب زدہ علاقوں میں تعیناتی کروارہے ہیں تاکہ سیلاب زدگان کی امداد لوٹی جاسکے۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی ‘ امیر حیدر ہوتی اور اعظم خان ہوتی بدعنوانی میں براہ راست ملوث ہیں۔
یہ گھر کی گواہی بہت طویل ہے۔ خواجہ محمد خان ہوتی یکم اکتوبر کو اپنی ہی پارٹی کی بدعنوانی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست بھی دائر کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنی درخواست کی نقول نیب‘ آئی ایس آئی‘ ایف آئی اے اور فوج کے سربراہ کو بھی بھیجی ہیں۔ شاید صدرمملکت کو نہیں بھیجی کیونکہ انہیں بھی معلوم ہوگا کہ آصف زرداری بہت مسکین اور عاجز ہیں۔ غلام احمد بلور نے صدر کو مکھن لگایا ہے وہ محمد خان ہوتی کی مہم شروع ہونے کے بعد ہی لگایا ہے۔
محمد خان ہوتی کوانسداد منشیات کی وزارت میں وفاقی وزیر کا منصب دیا گیا تھا مگر انہوں نے صرف تین ماہ بعد گزشتہ سال مارچ میں اپنی اعلیٰ قیادت کی وسیع بدعنوانی پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے حلقے میں 14 تعمیراتی منصوبوں میں جم کر بدعنوانی ہوئی ہے۔ محمد خان ہوتی خود کو بدعنوانی کے خلاف جنگ کا پہلا شہید قرار دیتے ہیں۔ لیکن ”غازی“ تو اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور اب تو ڈیری فارم کھول لیا ہے جہاں سے تازہ مکھن نکال کر لگایا جارہا ہے۔ لیکن یہ ”روغن قاز“ کہا ہوتا ہے۔ سنا ہے یہ زیادہ مچرب اور مجرب ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاقہ میں قاز بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ ایک اور رپورٹ ہے کہ خیبرپختونخوا میں 3 ہزار تجارتی کمپنیاں ایسی ہیں جو ٹیکس چوری کررہی ہیں اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچارہی ہیں۔ یہ رپورٹ وزارت خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔
اس صورتحال پر جانے وہ لوگ کیا کہیں گے جنہوں نے صوبہ پر متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے خلاف آسمان سر پر اٹھالیا تھا اور اے این پی کی کامیابی پر بغلیں بجارہے تھے۔ا س متحدہ مجلس میں شامل جماعت اسلامی اور اس کی تنظیم الخدمت آج بھی سیلاب زدگان کے کام آرہی ہے اور بے لوث خدمت کررہی ہے۔ نوشہرہ میں امداد نہ پہنچنے کا شکوہ نواب محمد خان ہوتی کررہے ہیں۔ نعمت اللہ خان کراچی سے ان کی مدد کو پہنچے اور نائب امیر جماعت سراج الحق کہہ رہے ہیں کہ ہم نوشہرہ والوں کی مدد کے لیے اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے۔ غلام احمد بلور کو اپنے صوبے کے مصیبت زدہ عاجز اور مسکین نظر نہیں آرہے‘ نظر میں ہے تو صرف ایک۔

اگست 7, 2010

تاریخ خاموش ہوگئی

Filed under: سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 7:17 صبح
رضا علی عابدی بڑے سینئر صحافی ہیں‘ اتنے سینئر کہ وہ جو اپنے لڑکپن میں انہیں روز شام کو ایک خاص لہجہ میں بی بی سی ریڈیو پر بولتے ہوئے سنا کرتے تھے‘ آج خودسینئر صحافی کہلاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کا ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو خاصے کی چیز ہے۔ لندن میں اتنے عرصہ سے ہیں کہ اب انگریز ان سے اصلاح لیتے ہیں۔ لیکن وہ اب تک پاکستانی ہیں اور صدر پاکستان لندن پہنچے ہیں تو ان کے جذبات بھی عام پاکستانیوں کی طرح ہیں۔زرداری صاحب بڑے عزم و ہمت والے ہیں۔ چیچہ وطنی سے لے برمنگھم تک سب ان کے دورہ برطانیہ کی مخالفت کررہے ہیں لیکن انہوں نے جو ٹھان لی سو ٹھان لی۔ لڑکپن سے ان کا یہی مزاج ہے جب انہوں نے کسی بے کار سی فلم میں چائلڈ اسٹار کا کام کیا تھا۔ فلم تو نہ چل سکی لیکن جناب زرداری اسٹار بن گئے‘ کتنے ہی لوگوں کے مقدر کا ستارہ ‘فراخی افلاک کا ایسا ستارہ جس سے لوگ اپنی تقدیر کی خبر لینا چاہتے ہیں۔زرداری صاحب کے دورہ لندن پر یوں تو بہت سے اعتراضات کیے جارہے ہیں اور پیپلزپارٹی کے سارے ہی دانشور ایک ایک اعتراض کا سرتوڑ جواب دے رہے ہیں لیکن رضا علی عابدی نے ان سب سے ہٹ کر ایک نیا اعتراض کردیا ہے۔ یہ اعتراض زرداری صاحب سے زیادہ ہمارے برطانوی سفارتخانے اور خاص طور پر سفیر پاکستان واجد شمس الحسن کی انگریزی دانی پر ہے۔ جب پاکستان کے اخبارات میں یہ خبریں آئیںکہ غریب قوم کے امیر ترین صدر لندن کے بہت مہنگے ہوٹل میں قیام کریں گے جس کے ایک کمرے کا روز کا کرایہ لاکھوں میں ہے اور کئی کمرے مختص کرائے جاچکے ہیں تو پاکستانی سفارتخانے نے بیان جاری کیا کہ صدر پاکستان لندن کے Cheapest فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کریں گے۔ا س لفظ کو رضا علی عابدی پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ یہاں تو CHEAPEST کامطلب نہایت گھٹیا لیا جاتا ہے‘ یہ پاکستان کی انگریزی تو ہوسکتی ہے لندن کی کوئنز انگلش نہیں۔ انہوں نے اس گھٹیا پر افسوس کا اظہار کیا تاہم جس کی یہ حرکت ہے اس کا نام لینے سے گریز کیا۔ اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ۔ آج کے صحافی ہوتے تو پاکستانی حکومت کے شمس و قمر کا نام بلاتکلف لے ڈالتے۔ رضا علی عابدی کے اس اظہار تاسف پر ہم نے بھی بابائے اردو کی مرتب کردہ انگریزی لغت کھولی تو CHEAPکے مطالب میں ”گھٹیا‘ سستا‘ حقیر‘ نکما‘ شرمندہ‘ افسردہ‘ بے قدر“ وغیرہ وغیرہ پائے۔ CHEAPEST صیغہ مبالغہ ٹھیرا یعنی انتہائی گھٹیا‘حقیر وغیرہ۔ تو اس سرکاری اعلامیہ کا مطلب یہ ٹھیرا کہ پاکستان کے وفاق کی علامت جناب صدر لندن کے انتہائی گٹھیاہوٹل میں قیام فرمائیں گے۔ ممکن ہے کہ ”ہائیڈریجنسی لندن‘ دی چرچل“ نام کا یہ ہوٹل لندن کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ایسا ہی ہو جیسے دنیا کے ارب پتی حکمرانوں میں بے چارے زرداری۔ ویسے تو وہ اپنی طرف سے پاکستان کا مان بڑھانے کی حتی المقدور کوشش کررہے ہیں‘ خاص طور پر 1988 ءکے بعد سے۔ CHEAPESTہوٹل کے حوالے سی ہم یہ سمجھے تھے کہ زرداری صاحب شاید کسی پرانی سرائے میں قیام فرمائیں گے یا جیسے ہمارے ریلوے اسٹیشنوں کے باہر چارپائی‘ بسترا سے اوپر کے ”صاف ستھرے“ہوٹل ہوتے ہیں‘ ایسے ہی کسی ہوٹل میں بستر جمائیں گے تاکہ کچھ پیسہ بچے اور وہ ان کے اپنے اور اپنے بچوں کے کام آئے۔ لیکن لگتا ہے انہیں اور ان کے بچوں کو ایسی بچت کی ضرورت نہیں۔ہمارے لیے تو یہ بھی ایک انکشاف ہے کہ فرانس میں بھی جناب آصف علی زرداری کا کوئی ”خاندانی“ محل ہے۔ ایسی خبروں پر ہمیں تو خوشی ہوتی ہے کہ قسمت سے کیسا صدر ملا ہے کہ لندن کا سرے محل ہی نہیں‘فرانس کے مشہو ر تاریخی علاقہ نارمنڈی میں بھی ان کا محل ہے اور بھی کئی جگہ ہوسکتا ہے۔ ایسے محل داروں سے پاکستان کی شان بڑھتی ہے۔ لیکن تعجب ہمیں نارمنڈی والے محل کے خاندانی ہونے پر ہے جہاں وہ گزشتہ منگل کو فرانسیسی ایئرفورس کے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہنچائے گئے اور صرف دو گھنٹے قیام فرما کر روانہ ہوگئے۔ فرانس کے صدر سرکوزی اور آصف زرداری میں ویسے بھی ایک خاص رشتہ اوگسٹا کے تعلق سے ہے چنانچہ ایئرفورس کا ہیلی کاپٹر ان کے لیے وقف ہوگیا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق نارمنڈی کا یہ محل سولہویں صدی میں شاہ فلپ کی بیوہ کے لیے تعمیر کیا گیا جو اب پاکستانی WIDOWER کی ملکیت ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ محل گزشتہ 24 برس سے زرداری خاندان کی ملکیت ہے۔ یعنی یہ ان کے والدہ حاکم علی زرداری نے 1986ءمیں حاصل کیا۔ پھر یہ اب تک چھپا کر کیوں رکھا گیا۔ فیصل رضا عابدی توکہتے ہیں کہ آصف زرداری جدی‘ پشتی ارب پتی ہیں لیکن جب حاکم علی زرداری نے الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع کرائے تھے تب تو نہ اس محل کا تذکرہ تھا نہ جدی پشتی ارب پتی کہاکروڑ پتی ہونے کا بھی ذکر نہ تھا۔ حاکم علی زرداری نے اپنی معمولی سے آمدنی ظاہر کی تھی اور ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ کراچی کا بمبینو سینما ان کی ملکیت ہے ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس سینما میں صرف روپے میں دو آنے کا حصہ ہے۔تھوڑی سی زمین ظاہر کی گئی تھی۔ گوشوارے اٹھا کر دیکھ لیجیے مرحوم جتوئی صاحب تو اور بھی بہت کچھ کہتے تھے۔ لیکن یہ تحقیق تو کی جاسکتی ہے کہ 1986 ءمیں حاکم علی زرداری کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا کہ انہوں نے فرانس کے علاقہ نارمنڈی میںا یک محل خرید لیا‘ وہ بھی تاریخی محل جس کی قیمت اسی حساب سے زیادہ ہوگی۔ لیکن اس کی تحقیق کون کرے گا؟ لندن کے سرے محل کا اسکینڈل جب سامنے آیا توبے نظیر بھٹو اور آصف زرداری دونوں نے بڑے زور شور سے اس کی ملکیت سے انکار کیا تھا۔ زرداری صاحب نے تو یہ بھی کہا تھا کہ اگر سرے محل میری ملکیت ہے تو میری طرف سے اجازت ہے اسے بیچ کر کچھ حصہ مجھے بھی دے دیا جائے۔ اب تو سنا ہے کہ اسپین اور دوبئی میں بھی وسیع جائداد ہے۔ ہونی بھی چاہیے۔ آخر وہ دو مرتبہ وزیراعظم بننے والی خاتون کے شوہر تھے۔ کیا اتنا بھی نہ ہوتا۔ ایف آئی اے کے ایک معمولی سے افسر نے لندن میں محترمہ کی میزبانی کرکے اور کاروبار میں شرکت کرکے کتنا کچھ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ تو پارس ہیں‘ جو چھو جائے وہ خود سونا بن جائے۔آج کل بحث یہ چھڑی ہوئی ہے کہ جناب صدر لندن کے جس گھٹیا سے ہوٹل میں مقیم ہیں اس کے کمروں کا کرایہ کتنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ تو کہتے ہیں کہ ایک سویٹ کا کرایہ بمشکل ڈھائی‘ تین سو پاﺅنڈ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر زرداری کا دورہ فرانس و برطانیہ سرکاری دورہ ہے۔ یعنی اخراجات یہ بھوکی‘ ننگی قوم اٹھارہی ہے۔ صدر کے بشیر جناب فیصل رضا عابدی کہہ رہے تھے کہ تمام اخراجات صدر زرداری اپنی جیب سے برداشت کررہے ہیں اور پیپلزپارٹی کی نفس ناطقہ بی بی فوزیہ وہاب دعویٰ کررہی تھیں کہ تمام اخراجات پیپلزپارٹی برطانیہ برداشت کررہی ہے۔ کون سچ بول رہا ہی؟ یہ لوگ آپس میں ٹیلی فون کرکے ہی کوئی متفقہ موقف اختیار کرلیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ لیکن تضاد بیانی کا یہ پہلا موقع تو نہیں۔قوم کچھ بھی کہتی رہے‘ برطانوی اخبارات کتنی ہی تضحیک کرتے رہیں اور ٹین پرسنٹ کے حوالے دیتے رہیں‘ آخر جناب زرداری نے ڈیوڈ کیمرون سے مصافحہ کر ہی لیا۔ شاید کئی دن تک ہاتھ نہ دھوئیں۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ جناب زرداری ڈیوڈ کیمرون کے سامنے بیٹھ کر ان کو بتائیں گے کہ صاحب آپ نے پاکستان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ صحیح نہیں ہے‘ ایسا تو نہ کریں۔ جواب کیا ملا اس پر تاریخ خاموش ہے۔

جولائی 26, 2010

واحد جمہوریت پسند جنرل

Filed under: Uncategorized — اطہر ہاشمی @ 1:28 شام
چلیی، پاکستان میں کوئی تو محفوظ ہے اور کوئی کیا چاروں بڑے محفوظ ہیں جن کے بارے میں اخبار ڈان نے ”Quartet Seeure “ کی سرخی جمائی ہے۔ اسے ہم جمہوری حکومت کا ”چوکا“ کہہ سکتے ہیں۔ چھکا بھی لگ سکتا تھا بشرطیکہ ان میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اسپیکر و چیئرمین کو بھی شامل کرلیا جاتا لیکن وہ بھی ان چار کے دم سے ہیں۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ”پوسٹ بجٹ تقریر“ کی طرح اپنے تین منٹ کے خطاب کے اگلے دن جو فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں 2013ءتک توسیع کے بعد ہم خود 2013 ءتک تو محفوظ ہوگئے۔ اس حصار میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو اس لیے شامل کرلیا کہ جناب جسٹس افتخار محمد کی مدت ملازمت بھی 2013ءتک ہے۔ ورنہ کسی بھی ملک میں چیف جسٹس کو تحفظ درکار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی حفاظت کا تعلق سپہ سالار کی مدت ملازمت سے ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جناب وزیراعظم نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم ہیں تو جسٹس افتخار بھی ہیں لہٰذا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ لیکن جسٹس افتخار محمد چوہدری پر تو جناب زرداری اور جناب کیانی کے پیشرو صدر اور آرمی چیف نے بھی ہاتھ ڈالا تھا مگر اپنے ہی ہاتھ جلا بیٹھے۔ صدر زرداری تو لاتعلق ہوگئے تھے کہ ہم نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ووٹ نہیں لیے تھی، روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ وہ بہرحال نبھا رہے ہیں ان کے دم سے بہت کی روزی، روٹی لگی ہوئی ہے اور کچھ کو تو ایوان صدر میں مکان ملا ہوا ہے۔ منشور میں یہ تو کہیں نہیں کہ روٹی، کپڑا اور مکان سب کو دیں گے۔ ویسے اس کا حل پیپلز پارٹی سندھ کے وزیر جیل خانہ جات پیش کرچکے ہیں، جیل ایک ایسی جگہ ہے جہاں روٹی، کپڑا مکان ہی کیا اور بھی بہت کچھ ملتا ہے۔جناب وزیراعظم نے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے 2013ءتک محفوظ رہنے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اب ”حدود میں رہ کر کام کیا جائے“ یہ مشورہ یا ہدایت کس کے لیے ہی، ان میںسے اور کون ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ حدیں پار کررہا ہی؟ کیا اس سوال کا جواب ضروری ہی؟ وزیراعظم صاحب نہ تو صدر نہ ہی آرمی چیف کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں اور اپنے بارے میں تو وہ خود جانتے ہیں کہ اتنے محدود ہیں کسی حد کے قریب تک نہیں بھٹکتے مبادا کھینچی ہوئی لکیر پر پاﺅ پڑے جائی، تب شاید یہ اشارہ میڈیا کی طرف ہے لیکن میڈیا تو ان چاروں میں شامل ہی نہیں جسے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بعد تحفظ کی خوشخبری سنائی گئی ہو، اس خطاب اور صحافیوں سے گفتگو میں جناب وزیراعظم نے یہ فرمایا تھا کہ ”ہمیں کیا کرنا ہے یہ ہم جانتے ہیں، میڈیا اپنا کام کرے“۔ہم حکمرانوں کے بارے میں ہمیشہ خوش گمانی سے کام لیتے ہیں خواہ وہ کوئی ہوں۔ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اچھے معنوں میں میڈیا کو کام کرنے کی اجازت دی ہے اور اس کا یہ مفہوم نہیں کہ ”جاﺅ، جاﺅ اپنا کام کرو“ یا یہ کہ ہمارے کام میں ٹانگ مت اڑاﺅ، اس معاملہ میں وزیراعظم بڑے فراخ دل ہیں۔ 19 جولائی کو جب وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کمیشن برائے اعلیٰ تعلیم کے صدر نشین جاوید لغاری نے ان سے 45منٹ تک ملاقات کی تو وزیراعظم نے ان سے بھی یہی کہا تھا کہ جاﺅ، اپنا کام کرو۔ اس کا سرکاری اعلامیہ بھی جاری ہوا لیکن عجیب بات ہے کہ 5 دن بعد 24جولائی کو خبر آرہی ہے کہ وزیراعظم نے تو ایسی کوئی ملاقات کی ہی نہیں۔ چیئر مین ہائر ایجوکیشن کمیشن سے حکمرانوں کو بڑے تحفظات ہیں اور ان کا شمار ”تحفظ یافتگان“ میں نہیں ہے۔ ہم پھر کہیں گے کہ ہمیں واقعی اس بات کی خوشی ہے کہ ملک کے چاروں بڑے محفوظ ہیں اور ان کی انشورنس پالیسی منظور ہوگئی ہے۔ ہم جیسوں کا کیا ہی، کہیں بم دھماکا، کہیں گولیاں، فاقہ کشی، غربت، مہنگائی، بدامنی یہ سب عوام کا مقدر ہے۔ اہل کراچی چڑیوں کی طرح شکار کیے جارہے ہیں لیکن کراچی ہی کیا، ملک میں کس کا گھر محفوظ ہے سوائے چار، پانچ ”محفوظین“ کے۔ کراچی میں چوبیس گھنٹے میں مزید ایک درجن جیتے جاگتے انسان ہلاک کردیے گئے تو نوشہرہ میں صوبائی وزیراطلاعات کے اکلوتے بیٹے کو قتل کردیا گیا، ہم چونکہ کراچی میں بیٹھے ہیں شاید اس لیے ہمیں اپنا دکھ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ جس کا اکلوتا بیٹا مارا جائے اس کا صدمہ زیادہ ہے اور یوں ان لوگوں کے دکھ اور صدمے کا اندازہ بھی ہوسکے گا جن کے کڑیل جوان بیٹے دہشت گرد قرار دے کر مار دیے گئے۔ کتنے ہی بیٹے اسی دن کراچی میں شکار ہوگئے۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں اکٹھی 3 سال کی توسیع سے ہمیں بھی بہت خوشی ہورہی ہے لیکن وزیراعظم صاحب نے اس کا جو جواز تراشا ہے وہ بڑا عجیب ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ”جمہوریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں کیا ہی، مشکلات حالات میں ایسے سپہ سالار کی ضرورت تھی“۔یعنی جنرل کیانی سے نیچے کوئی دوسرا جرنیل جمہوریت پسند ہے نہ اس نام نہاد جنگ کو جاری رکھ سکتا ہی، نہ ہی کوئی دوسرا ایسا ہے جو قبائلی علاقوں میں ”کامیاب فوجی آپریشن“ کرسکے۔ یہ توسیع بھی حسب معمول فوجی مفاد میں ہوئی۔ لیکن کیا یہ دیگر جنرلوں پر عدم اعتماد نہیں اور ان کی نا اہلی کا اعلان نہیں؟ لیکن شاید وزیراعظم کو اپنا اور صدر کا تحفظ عزیز ہے اور یہی ملکی مفاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر بھی 2013ءتک محفوظ ہوگئے اور گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ زرداری صاحب 2018ءتک صدر رہیں گے اور بلاول کو وزیراعظم بنا کر ہی عہدہ چھوڑیں گے۔ تب پھر جنرل کیانی کو 2018 ءتک توسیع دی جائے کہ فوج میں واحد جمہوریت پسند ہیں۔ بی بی بے نظیر تو جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دے چکی ہیں، گیلانی صاحب ستارہ جمہوریت تو دیں۔

جولائی 3, 2010

ایک ایڈیٹر کی سائیکل کا پہیہ

ایک صاحبزادی نےوالدین کو بتائےبغیر اپنی پسند کی شادی کر لی اور چپ چاپ پیا گھر سدھار گئی۔
یہ مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شاید اس میں کچھ دخل ٹی وی ڈراموں کا بھی ہو۔ بھارتی ڈراموں میں تو بغیر شادی کےلڑکیاں ماں بن جاتی ہیں اور گھر والےبڑےچاو سےانہیں قبول کرلیتےہیں۔ پاکستانی معاشرےمیں بھی تواتر سےایسے واقعات پیش آرہےہیں اور پھر ڈیرہ غازی خان کی صائمہ کا المیہ سامنےآتا ہےجو موبائل فون کےذریعہ دوستی کرکےکراچی آگئی اور شادی کا وعدہ کرنےوالےنےاسےگھر کےصحن میں گاڑ دیا۔ والدین اپنی بچیوں کےہاتھ میں موبائل فون نہ دیں تو اچھا ہے۔
ہم جس لڑکی کا ذکر کررہےہیں وہ شادی کےصرف تین ماہ بعد واپس آگئی۔ ماں نےگلےلگا کر پوچھا بیٹی ‘ واپسی کی اتنی جلدی کیا تھی۔ لڑکی نےجواب دیا‘ اماں ‘ بڑا دھوکا ہوگیا۔ میں نےجس سےشادی کی اس کی کار کرائےکی تھی‘ وہ جس مکان میں رہتا ہےاس کا کرایہ ایک سال سےنہیں دیا‘ مالک مکان روز آکر دھمکاتا ہے‘ اس کا موبائل چین کا ہے‘ جھاڑو‘ برتن اور کھانا پکانا سب مجھ کو کرنا پڑتا تھا۔ اور تو اور وہ ایک ایسےاخبار میں ملازم ہےجہاں مہینوں تنخواہ نہیں ملتی۔ اس سےتو اپنا ہی گھر بھلا۔
اخبارات ہی نہیں‘ اربوں وپےکےسرمائےسےچلنےوالےبرقی ذرائع ابلاغ میں بھی تنخواہوں کےمعاملہ میں یہی صورت حال ہے۔ لیکن کئی صحافی اور تجزیہ نگار ایسےبھی ہیں جو لاکھوں میں کھیل رہےہیں اور تنخواہ دار صحافی ملازم رکھےہوئےہیں۔
صحافیوں کےحوالےسےیہ تذکرہ یوں نوک قلم پر آگیا کہ کئی دن پہلےہمیں ایک خبر موصول ہوئی تھی اور ہم تب سےیہ خبر چھپی ہوئی دیکھنےکےلیےمختلف اخبارات ٹٹول رہےہیں ۔ لیکن ” ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازعروساں‘‘پریس ریلیز کی شکل میں خبر یوں ہےکہ ” معروف صحافی اور روزنامہ ……..کےایڈیٹر علی زیدی اپنےصحافی دوست علی جان کو اپنی بغیر اسٹینڈ کی سائیکل کےڈنڈےپر بٹھا کر برنس روڈ پر لیموں کا شربت پینےگئے۔ وہاں انہوں نےاپنی سائیکل کا اگلا پہیہ کھمبےکےساتھ زنجیر سےباندھ دیا لیکن نامعلوم چوروں نےلوڈشیڈنگ کا فائدہ اٹھایا اور اگلا پہیہ کھمبےسےبندھا چھوڑ کر باقی سائیکل لےگئے۔ یہ دیکھ کر دونوں صحافیوں نےسینہ کوبی شروع کردی لیکن ستم ظریفی کی انتہاءہےکہ لوگوں نےصورتحال کا مزہ لینا شروع کردیا۔ مزید ستم یہ کہ اتنےبڑےسانحہ کی کوریج کےلیےکسی نیوز چینل یا اخبار نےکیمرہ مین یا فوٹوگرافر بھیجنےکی زحمت بھی نہیں کی حالانکہ کئی چینلز اور اخبارات کےدفاتر قریب ہیں۔ پولیس کےبارےمیں شکایت کی جاتی ہےکہ تھانہ قریب ہونےکےباوجود پولیس تاخیر سےآئی۔ لیکن آتو جاتی ہے۔ مذکورہ واردات کی رپورٹ درج کرانےکےلیےایڈیٹر صاحب اور ان کےصحافی دوست تھانےپہنچےتو پولیس نےمقدمہ درج کرنےسےانکار کردیا ۔ ‘‘دو ‘ چار اہلکار تو ہنس بھی رہےتھے۔
ہمارےہم پیشہ و ہم مشرب بھائی علی زیدی نےعوام اور صحافیوں سےاپیل کی ہےکہ اگر وہ کسی کو بغیر پہیےکی سائیکل فروخت کرتےدیکھیں تو انہیں فوری طور پر اطلاع دیں[موبائل نمبر دیا گیا ہےجو ہم اس لیےدرج نہیں کر رہےکہ کہیں ان سےاگلا پہیہ بھی طلب نہ کرلیا جائے] ۔ علی زیدی نےصدر مملکت ‘ وزیر عظم ‘ گورنر‘ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سےاپیل کی ہےکہ پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنےاور بےپہیہ کی سائیکل برآمد کرنےکےفوری احکامات دیےجائیں۔ انہوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے ازخودنوٹس  لینےکی اپیل بھی کی ہے۔
یہ سانحہ بجائےخود بڑا سنگین ہےلیکن سنگین ترین پہلو یہ ہےکہ ایک اخبار کا ایڈیٹر بغیر اسٹینڈ والی سائیکل پر گھوم رہا تھا اوراس کا بھی صرف ایک پہیہ ہی بچا ہے۔ چوروں کےپاس شاید زیادہ وقت نہیں تھا ورنہ تو وہ کھمبا ہی اکھاڑ لیتے تاکہ پوری سائیکل ہاتھ لگے۔ مذکورہ اخبار کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایڈیٹر صاحب کےپہیےمیں سائیکل لگواکر دے۔ ہم نےتو جس دن سےیہ خبر پڑھی ہے‘ آتےجاتےنظر رکھ رہےہیں کہ ایک پہیہ سےمحروم سائیکل نظر آئےتو اپنےایڈیٹر بھائی کو فوراً مطلع کریں۔ غنیمت ہےکہ علی زیدی ان صحافیوں میں سےنہیں جن کی بیویاں تیسرےمہینےہی میکےجا بیٹھتی ہیں۔ ان کی سائیکل کرائےکی نہیں تھی اور تو قع ہےکہ تنخواہ بھی بروقت مل رہی ہوگی۔ ذرائع نےیہ نہیں بتایا کہ کیا علی زیدی شادی شدہ بھی ہیں۔ بغیر اسٹینڈ کی سائیکل سےتو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ان کےاس مطالبہ کی تائید کریں گےکہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں۔
ہمیں صحافی برادری ‘ خاص طور پر کالم نگاروں سےبھی شکایت ہےکہ اتنےبڑےسانحہ پر انہوں نےکچھ نہیں لکھا حالانکہ ایک کالم نگار کشور ناہید کا لیپ ٹاپ گم ہوا تو انتظار حسین نےپر سا بھی دیا اور چور سےاپیل بھی کی کہ لیپ ٹاپ واپس کردے۔ روزن ِدیوار سےعطاالحق قاسمی بھی اپنا کالم لےکر آگئےاور موقع سےفائدہ اٹھا کر 35سال پہلےاپنےلمبریٹا اسکوٹر کی چوری کا ذکر بھی کردیا جس کےتذکرےپر سب کالم نگار ان کی مدد کو دوڑ پڑےتھے۔ احمد ندیم قاسمی‘ انتظار حسین‘ نصراللہ خان‘ منو بھائی اور ابن انشا تک نےایسےکالم باندھےکہ چور ان کا اسکوٹر چھوڑگیا۔ عطاالحق قاسمی کا خیال ہےکہ یہ ” چمتکار“ پیپلز پارٹی کےاخبار مساوات میں سہیل ظفر کا کالم چھپنےسےہوا جس سےچور یہ سمجھا کہ یہ پارٹی کا حکم ہےجس کی پابندی ڈسپلن کا تقاضاہے۔ یعنی 35سال پہلےایک اسکوٹر کی چوری پر بھی اکتفا کرلیا جاتا تھا۔اب تو پلوں کےنیچے سےبہت سا پانی بلکہ پل ہی بہہ گئےہیں۔ جمہوریت کی چوری سےکم پر بات نہیں ٹھیرتی۔ سائیکل والےایڈیٹر بھائی شکر کریں کہ ایک پہیہ تو بچ رہا ہےجسےاب تک کھمبےکی قید سےآزاد کرالیا ہوگا ‘وہ ون وہیل ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ حکومت تو ایسی سائیکل چلا رہی ہےجس کےدونوں پہیےغائب ہیں اور اسٹینڈ بھی نہیں ہے۔ بس کھمبا گڑا ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : یہ کالم اطہر ہاشمی صاحب ایک قاری کی فرمائش پر لکھا گیا ہے ۔ جعفر صاحب نے فرمائش کی تھی کہ اطہر صاحب کبھی سیاست کو ٹچ کیے بغیر کچھ لکھ کر نذر بلاگ کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جعفر صاحب آپ کا تبصرہ اہم ہوگا۔
شکریہ
ایڈمن ’’بین السطور‘‘۔

جون 26, 2010

ہمارے دستی‘ ہمارے جاٹ

Filed under: سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 6:18 صبح
”ہزاروں سیاسی اداکاروں کے باوجود ہمارا دستی اور ہمارا جاٹ پھر جیت گیا۔“ جناب صدر نے شہید بی بی کے مزار پر کھڑے ہوکر جعل سازوں‘ دھوکے بازوں کی کامیابی پر نہ صرف فخر کا اظہار کیا بلکہ انہیں ”ہمارا“ کہہ کر اعزاز بھی بخشا۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ایسے تمام لوگ انہی کے ہیں اور انہی کے دم سے کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ یہ دستی اور جٹ کون ہیں‘ ان سے اب پوری قوم واقف ہوچکی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ سینکڑوں ارکان قومی اسمبلی میں سے دو‘ ایک تھے۔ مگر جب سے عدالت کی نظر پڑی یہ شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے۔ جناب صدر نے ان کو اپنا کہہ کر تمام نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں‘ بس کسی طرح جعلی ڈگریاں حاصل کرلو اور ہمارے ہوجاﺅ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی اپنوں کی حمایت میںکسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ جعلی ڈگری کا حصول کارگل کے معاملہ سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ جیتے رہیں۔اگر جناب سلمان تاثیر یہ بات کہتے تو ان کو زیبا تھا۔ لیکن میاں برادران کا اصل نشانہ توجنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے میاں برادران کی حکومت چھینی تھی چنانچہ ہر برائی کا موازنہ جنرل پرویز سے ہوگا۔ جعلی ڈگری اور کارگل کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک تیلی نے جاٹ سے کہا تھا”جاٹ رے جاٹ تیرے سرپہ کھاٹ۔“تیلی قافیہ ردیف سے واقف تھا ممکن ہے کوئی شاعر اس کے کولہو پر تیل لینے آتا ہو۔ جو اب میں جاٹ کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے کہا ”تیلی رے تیلی‘ تیرے سر پہکولہو“ اس پر تیلی نے اقرار کر کہا واہ‘ قافیہ تو ملا ہی نہیں۔ جاٹ نے کہا قافیہ ملے نہ ملے‘ بوجھوں تومرے گا۔ ہم بھی کب سے سوچ رہے ہیں کہ تیلی کا مناسب قافیہ کیا ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے بھی کچھ ایسا ہی قافیہ ملایا ہے۔اطلاع یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں کے معاملہ میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی سے بازی لے گئی ہے۔ چلیے‘ کہیں توپالا مارا۔ اب ایک خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اور ن لیگ اپنے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی تصدیق رکوانے کے لیے متحدہ ہوگئی ہیں۔ یہ اتحاد مبارک ہو جعل سازوں کو۔ دونوں پارٹیوں کا موقف ہے کہ ایک دوسرے کا ”پنڈا“ کھولنے سے دونوں ہی ”لاجوں“ مریں گے‘ کیوں نہ ایک دوسرے کا پردہ رکھاجائے۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ میاں برادران ایسے کوتاہ اندیش نہیں کہ جعل سازوں اور دھوکے بازوں کو اعلانیہ ہمارے کہیں۔ ایسی جرات تو وہی کرسکتا ہے جو خود اس فن کا ماہر ہو۔ عدالتیں جعلی ڈگریاں پکڑ رہی ہیں اور جعل سازوں کو چھوڑ رہی ہیں۔ نااہل قرار پانے والے روح سفر کی طرح کل کسی اور راستے سے آجائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے لوگوں کو سزا بھی ملتی۔ برسوں تک اسمبلیوں کا رکن رہ کر جو مراعات حاصل کی ہیں‘ قوم کے خزانے سے تنخواہ لی ہے‘ وہ اگلوائی جاتی ‘ ضمنی انتخابات کا خرچہ وصول کیا جاتا۔ لیکن اندھیر نگری میں سب اندھیر ہی ہے۔ ایک عام آدمی معمولی سے جعل سازی کرتا ہے تو اسے سزا ہوجاتی ہے۔ یہاں تو پوری قوم سے دھوکا کیا گیا اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی میں بھی حصہ لیا گیا۔ ایسے قوانین اور ایسی اسمبلیوں کی کیا وقعت رہ گئی؟ سزا مل جاتی تو آج کوئی فخریہ یہ نہ کہتا کہ ہماے دستی اور ہمارے جٹ پھر جیت گئے۔ جن پارٹیوں میں ایسے جعل ساز بیٹھے ہوئے ہیں ان پارٹیوں سے سوائے جعل سازی اور فریب کے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن صدر صاحب یہ تو بتائیں کہ جاٹ کب سے ان کے ہوگئے۔ وہ تو ق لیگ کے ٹکٹ پر بھی جیت گئے تھے۔جناب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سید زادے ہیں اور شیخ عبدالقادر جیلانی جیسے بزرگ سے نسبت ہے جو ڈاکوﺅں کے سامنے بھی سچ بولنے سے نہیں ہچکچائے یہ سید زادے جمشید دستی کی انتخابی مہم کامیاب بنانے کے لیے مظفر گڑھ پہنچے‘ مقامی افراد کے لیے کئی انعامات‘ منصوبوں اور ملازمتوں کا اعلان کرکے دستی کی کامیابی کو پکا کیا اور روحانی قوت کام میں لاکر انتخابات سے پہلے ہی دستی کی کامیابی کا اعلان کردیا۔ ان کے منہ سے نکلی بات بھلا کیوںنہ پوری ہوتی کہ وہ سیدکے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی ہیں۔ لیکن یہی سید صاحب جمعرات 13 مئی کو قومی اسمبلی سے‘ اس اسمبلی سے جس میں اب بھی کئی جعل ساز بیٹھے ہیں‘ خطاب کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ سیاسی جماعتیں جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کو ٹکٹ جاری نہ کریں۔واہ ‘ کیا بات ہے۔ جمشیددستی کی انتخابی مہم میں شرکت کا عذر یہ پیش کیا کہ ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ پارٹی نے کیا تھا‘ پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنا میری ذمہ داری ہے۔ پھر وہ بورے والا میں ایسی ہی ایک اور انتخابی جلسہ میں خطاب کرنے چلے گئے۔کاش کوئی ایسا بھی ہو جو پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنے کے بجائے حق اور سچ کا دفاع کرے‘ ملک کا دفاع کرے‘ غریب عوام کے حقوق کا دفاع کرے اور عوام کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ یہ ہمارے ہیں‘ ہم ان کو جتائیں گے۔ لیکن موجودہ نظام میں تو دستی اور جٹ ہی جیتتے رہیں گے کہ وہ صاحبان اقتدارکے چہیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بل بوتے پر یہ دعویٰ کہ پی پی کو اقتدار سے ہٹانا آسان نہیں۔ آپ تو خود یہ مشکل آسان کیے دے رہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ وفاقی وزیر قانون بھی ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگری لیے گھوم رہے ہیں وہ بھی صدر صاحب کے اپنے ہی ہیں۔ لیکن اصلی سیاسی اداکار کون ہی؟ کیا اب بھی پتا نہیں چلا؟

جون 24, 2010

ہمیشہ دیر کردیتے ہیں ہم

ایک سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ 15 اپریل 2010 ءکو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ کو دو ماہ چھ دن گزرنے کے بعد 21 جون کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اس میں حیرت کی کیا بات ہے‘ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری کی پوری رپورٹ انگریزی میں تھی۔ اس کو پڑھنے اور سمجھنے میں وقت تو لگتا ہی ہے جبکہ وقت حکمرانوں میں سے کسی کے پاس نہ تھا۔ وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی اس پورے عرصہ میں بہت مصروف رہے۔ انہوں نے واشنگٹن جاکر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے سرجوڑ کر راز کی باتیں کیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ مسائل پر غور کے لیے سر سے سر جوڑنا ہی پڑتا ہے۔ جواب میں امریکا نے پاکستان کو سر سے پکڑ رکھا ہے۔ صرف رچرڈ ہالبروک ہی اوباما کے خصوصی ایلچی مقرر ہونے کے بعد گزشتہ دنوں دسواں چکر لگا کر گئے ہیں اور اپنی گفتگو سے چکرا کر رکھ دیا ہے۔ ایک دن کہا کہ پاک ایران گیس معاہدہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اور جب واشنگٹن سے باز پرس ہوئی تو اگلے ہی دن کہہ دیا کہ ”مشتری ہوشیار باش“ اس مصرعہ طرح پر پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم گرہ لگارہے ہیں اور گرہیں کھل کر نہیں دے رہیں۔ سنا ہے کہ ہالبروک کو یہ اعتراض تھا کہ پاکستان میں ان کے سر سے سر کیوں نہ جوڑا گیا اور امریکی وزیر خارجہ جیسا یہاں کیوں نہیں ہے۔پھر بھی ہالبروک پاکستان کے آموں کی تعریف کرگئے۔ لیکن امریکی روایات کے عین مطابق دودھ میں مینگیاں بھی ڈال دیں۔ آموں کی تعریف کرنے پر جب ان سے کہا گیا کہ امریکا جس طرح پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیتا ہے اسی طرح پاکستانی سندھڑی‘ چونسہ ‘ انور رٹول‘ دسہری اور سرولی کے لیے بھی دروازے کھول دے‘ لیکن موصوف نے اس کے لیے شرط لگادی کہ امریکی ٹیم آکر ایک ایک انور رٹول کو ٹٹول کر دیکھے گی‘ جراثیم کا سراغ لگائے گی‘ القاعدہ سے تعلق کی تحقیقات کرے گی اور خاص طور پر یہ دیکھے گی کہ یہ ان آموں کی نسل میں سے تو نہیں جو 17 اگست 1988 ءکو جنرل ضیاءالحق کے طیارے میں رکھوائے گئے تھے۔ اس سانحہ میں امریکا نے اپنا سفیر بھی قربان کردیا تھا۔ چلی کے امریکی سفارتخانے میں ایک پاکستانی پہلے سے وقت لے کر اپنا ویزا بڑھوانے گیا تھا۔ اسے دبوچ لیا گیا‘ الزام یہ تھا کہ اس کے کاغذات اور کپڑوں سے دھماکا خیزمواد کی بو آرہی ہے۔ ممکن ہے وہ بیچارہ کسی دیسی صابن سے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر گیا ہو۔ ایسا ہی کوئی مواد ہالبروک کو پاکستانی آم میں نظر آجائے۔ بستی لال کمال کے سانحہ کے بعد تو آموں کے بارے میں امریکی محتاط ہوگئے ہوں گے۔ خود امریکی پالیسی یہ ہے کہ آم کے آم‘ گٹھلیوں کے دام‘ پاکستان کو جتنا کچھ دے رہے ہیں اس میں سے رس تو خود چوس لیتے ہیں اور گٹھلیوں کے دام وصول کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ جو قریشی ہیں اور نام کے ساتھ شاہ بھی لکھتے ہیں‘ سجادہ نشین بھی ہیں۔ امریکا سے فرصت پاکر وہ سجادہ سنبھالتے ہیں۔ عربی میں سجادہ قالین کو کہتے ہیں مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ قالین کے شیر ہیں۔ شیروں کے بارے میں جناب زرداری کا تجربہ وسیع ہے چنانچہ انہوں نے بی بی کی سالگرہ پر بھی نقلی شیروں کا حوالہ دیا ہے۔ غالباً یہ بھی جعلی اسناد کی کوئی شکل ہے۔ بی بی بے نظیر شہید ہوگئیں اس لیے ہم شیر کے حوالے سے ان کا تبصرہ نہیں دوہرائیں گے۔ لیکن جب جعلی ارکان اسمبلی اپنائے جارہے ہیں تو جعلی شیر کیا برے ہیں۔ کبھی بھٹو صاحب کے دست راست جناب غلام مصطفی کھر بھی تو بزعم خود شیر پنجاب تھے۔ چڑیا گھر میں ہم نے بڈھے شہر کا بُرا حال دیکھا ہے کہ اس سے گوشٹ بھی نہیں چبا یا جارہا تھا۔ جعلی شیر اپنی ہی بوٹیاں نوچتے ہیں۔ بے شمار مصروفیات کے بعد اب وزیر خارجہ صاحب کو فرصت ملی تو رپورٹ بھی پڑھی ہوگی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پوری رپورٹ پڑھ کے بیٹھی تھی اور ناراض تھی۔ ایسی ہی ناراضی کا اظہار کیری لوگر بل پر بھی ہوا تھا تب حکمرانوں نے بھی اس کی شرائط پر نظرڈالی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے بہت کچھ ہے۔ مثلاً یہ کہ ”آئی ایس آئی‘ آئی بی اور ایم آئی نے رپورٹ کی تیاری میں رکاوٹیں ڈالیں‘ پی پی کے اپنے انتظامات ناقص تھے‘ پرویز مشرف کے رشتہ دار ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز کے کہنے پر سی سی پی او راولپنڈی مسعود عزیز نے جائے شہادت کو دھلوایا۔ رپورٹ میں بے نظیر کو چھوڑ کر بھاگ جانے والوں کا بھی ذکر ہے۔ 17 اپریل کو وزیراعظم کی صدارت میں پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ رپورٹ میں نامزد سرکاری اہلکاروں کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں‘ تمام ذمہ داروںکے خلاف کارروائی ہوگی‘ ملزمان کو انصاف کے کٹہڑے میں لایا جائے گا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ”رپورٹ نے پارٹی موقف کو درست ثابت کردیا۔“ اب پارٹی موقف کیا کہتا ہی؟ یہی رپورٹ ناقابل اعتبار ٹھیری تو اس کی مداحی کرنے والے کیا ٹھیری؟ ہمارے خیال میں ابھی وہ کٹہڑا تیار کیا جارہا ہے جس میں ملزمان کو کھڑا کیا جائے گا۔ سانحہ بڑا ہے‘ مجرم بھی بڑے بڑے ہیں چنانچہ کٹہڑا بھی بہت بڑا چاہیے۔ شاید اس کے لیے لکڑی کا انتخاب ہورہا ہے۔ بس یوں نہ ہو کہ مضبوط لکڑی حاصل کرنے کے لیے شجرکاری پر غور ہورہاہ ے‘ کچھ بھی بعید نہیں۔ اور ایک رپورٹ یہ تھی کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا ایک صفحہ 15لاکھ ڈالر میں پڑا ہے‘ معاملہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا۔ لیکن یہ تو رپورٹ آنے کے دودن بعد کی بات ہے۔ اب تو معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ یہ قیمتی رپورٹ اقوام متحدہ کے منہ پر دے ماری گئی ہے۔18 اپریل کو تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد شروع ہونے کی اطلاع تھی‘ 6 افسر ہٹادیے گئے تھے‘ ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے۔ رپورت میں نامزد افراد کو گرفتار کرنے کافیصلہ ہوا۔ اور پھر نہائی دھوئی پھسل پڑی۔ اسٹیبلشمنٹ کے اہم افراد کے نام رپورٹ میں آئیں گے تو پھر یہی ہوگا۔ لیکن اتنی تاخیر سے کیون۔ منیر نیازی کے بقول ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں“ مگر اب اتنی دیر ہوچکی ہے کہ مزید انتظار کرنا عوام کے لیے دوبھر ہوگیا ہے۔

جون 18, 2010

ہوائے ترک تعلقات

جوتیوں میں دال بٹنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ پرانے وقتوں کی کہاوت ہے۔ اب دال ایسی سستی نہیں کہ جوتیوں میں تو کیا‘ڈونگوں ‘ پیالوں‘ قابوں اور رکابیوں میں بھی بانٹی جاسکے۔ اس عوامی دور حکومت کے گزشتہ ایک سال میں دالیں سو سے دو سو فیصد تک مہنگی ہوئی ہیں۔ اب تو سوغات کے طور پر ہی بانٹی جاسکتی ہے۔ اچھا ہے‘ جوتے ہی کون سے سستے ہیں کہ دال کے ساتھ وہ بھی جائیں۔ یہ تو اب عوام پر برسنے کے لیے رہ گئے ہیں۔
اتحادیوں کی حکومت ہے اور اتحادہی غائب ہے۔ اب اتحاد صرف اک ایئر لائن کے نام پر رہ گیا ہے یا پھر فسادیوں میں نظر آتا ہے وگرنہ حکمران اتحادیوں میں تو عدم اتحاد پر اتحاد ہے۔ پنجاب میں میثاق جمہوریت کے دو بڑے دستخط کنندگان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں اقتدار کی حد تک میثاق ہے‘ جمہوریت کا تو کہیں بھی نام و نشان نہیں۔ قومی اسمبلی میں فرینڈلی اپوزیشن کے نمائندہ چودھری نثار علی خان نے چیلنج دے دیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت میں کوئی خرابی ہے تو پیپلزپارٹی الگ ہوجائے یعنی ”تو روکا ہے کس نے چلی جائے نا۔“
قومی اسمبلی میں بحث تو بجٹ پر اور وفاقی معاملات پر ہورہی تھی لیکن بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر کے مصداق جب وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید ہوگی تو وہ جواب میں ن لیگ کی پنجاب حکومت ہی پر تنقید کرے گی۔ تم تو ہمیں کو کہتے ہو‘ یہ تم کو کیا ہوا۔ اب پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں شریک اقتدار ہیں۔ تاہم حصہ بقدر جثہّ کے مطابق ۔ جب پنجاب حکومت پر زد پڑی تو نثار علی خان کو کہنا پڑا کہ قومی اسمبلی میں پنجاب حکومت کو طعنے نہ دیے جائیں ورنہ تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں۔ ہتھیاروں سے ان کا مطلب یقیناً ٹی ٹی اور کلاشنکوف سے نہیں ہوگا۔ ان کی دلیل تھی کہ اگر پنجاب حکومت میں خرابی ہے تو پیپلزپارٹی بھی اس میں حصہ دار ہے۔ الطاف حسین ہوتے تو اس موقع پر اپنا مشہور جملہ دوہراتے‘ میٹھا میٹھا ہپ ‘کڑوا کڑوا تھو۔ نثار علی خان نے دعوت مبارزت دی کہ پیپلزپارٹی میں ہمت ہے تو پنجاب حکومت سے الگ ہوکر دکھائے‘ کس نے روکا ہے۔
 کم از کم اس معاملہ میں تو ن لیگ بازی لے جاچکی ہے۔ اس نے وفاقی حکومت سے الگ ہوکر دکھادیا۔ قومی اسمبلی میں پنجاب کے بجٹ پر جوابی اعتراض ہوا تو نثار علی خان نے نہلے پر دہلا مارا کہ پنجاب حکومت کا بجٹ تو پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ ہی نے بنایا ہے۔ اس طرح وہ بھی عوام دوست ہی ہوگا۔ ان کی یہ بات تو معقول ہے کہ پنجاب حکومت پر اعتراضات پنجاب اسمبلی میں کیے جائیں۔ اگر یہاں پنجاب اسمبلی کی بات ہوگی تو پھر سندھ اسمبلی کی بات بھی ہوگی۔
شاید نثار علی خان کے چیلنج کے اثرات ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفے طلب کرلیے ہیں۔ لیکن یہ چائے کی پیالی میں طوفان ہے اور پیالی بھی وہ جو خالی ہے‘ چائے کون سی سستی ہے۔ تازہ ترین صورتحال تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی نے یہ کہہ کر استعفے دینے سے انکار کردیا ہے کہ ہمیں تو بی بی شہید نے ٹکٹ دیے تھے اور ہم بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ یعنی ان سے استعفے بی بی صاحبہ ہی لے سکتی تھیں۔ مرحومہ یہ کام اتنی تاخیر سے نہیں کرتی تھیں بلکہ پہلے ہی استعفے لے کر اپنے بیگ میں رکھ لیتی تھیں کہ وقت ضرورت کام آئیں۔(فوزیہ بی بی کہتی ہیں ہم نے بھی یہی کام کیا ہی)
پنجاب کا سب سے دلچسپ اور توجہ طلب کردار گورنر سلمان تاثیر کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن والے جب بھی گورنر ہاﺅس کی طرف دیکھیں گے انہیں گورنر سلمان تاثیر ہی نظر آئے گا‘ صدر بھی آصف زرداری ہی رہیں گے‘ ن لیگ کی باری تب آئے گی جب ہمارے بچے جوان ہوچکے ہوں گے۔ حیرت ہے کہ گورنر صاحب کے بچے اتنے بڑے ہونے کے باوجود اب تک جوان نہیں ہوئے۔ ان کی سکھ ”بیوی“ سے پیدا ہونے والا آتش تاثیر تو کب کا اپنی جوانی کا ثبوت دے چکا ہے۔ جب بیٹا باپ کے منہ آنے لگے اور اس کا کچا چٹھہ کھولنے لگے تو اس کے جوان ہونے میں بلکہ بہت جوان میں کوئی شک نہیں رہتا۔
جناب سلمان تاثیر نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے پنجاب کارڈ چھین لیا ہے۔ اس چھینا جھپٹی کی تو ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی۔ ایک بار ہمارا بھی کارڈ پورے بٹوے کے ساتھ چھینا جاچکا ہے۔ ہم اب تک یہی سوچ رہے تھے کہ اُچکے کا تعلق کس سے تھا۔ گورنر صاحب کا کہنا ہے کہ پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ لا اینڈ آرڈر کا ہے لیکن شواہد اور نظائر موجود ہیں کہ گورنر صاحب کا اپنا سب سے برا مسئلہ لا منسٹر رانا ثنا اللہ ہیں جن کی وجہ سے گورنر صاحب کو بہت نیچے جھکنا پڑتا ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ پرویز مشرف کی باقیات کو سندھ میں لا اینڈ آڈر کا مسئلہ نظر نہیں آتا جہاں پیپلزپارٹی اور متحدہ کی متحدہ حکومت ہے اور قاتل بھی متحد ہیں۔
ہوائے ترک تعلقات کب سے چل رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ سرفہرست ہے اور اب سے نہیں بہت پہلے سے۔ بار بار علیحدہ ہونے اور ترک تعلق کی دھمکیاں دے چکی ہے مگر اسی تنخواہ پر کام کررہی ہے۔ لیکن نہیں‘ شاید ہر دھمکی پر تنخواہ بڑھ جاتی ہو۔ یہی وتیرہ جمعیت علماءاسلام نے اختیار کرلیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی بار بار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک ہی دن دو خبریں تھیں۔ ایک میں حکومت سے علیحدگی کا عندیہ اور دوسری خبر یہ کہ حکومت سے معاملات طے پاگئے‘ مطالبات مان لیے گئے اور اب سب کچھ ٹھیک ہے۔ جے یو آئی کا مطالبہ تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی اس کو دی جائے اور مولانا شیرانی کو چیئرمین بنایا جائے۔ مولانا شیرانی بھلے آدمی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل (مرحومہ)میں تھے توجنرل پرویز مشرف سے بھی اچھے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ترک تعلق اچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔ صلہ رحمی کا صلہ بھی ملتا ہے۔ جمعیت علماءاسلام وضع دار جماعت ہے۔ گزشتہ دنوں اس کے وزراءنے وفاقی کابینہ سے احتجاجاً واک آﺅٹ کرکے مثال قائم کی تو اس پر وزیراعظم گیلانی جیسے شخص کو بھی جلال آگیا اور بول پڑے جارہے ہو تو استعفیٰ دے کر جاﺅ۔ لیکن جے یو آئی کے رہنماﺅں میں تحمل و برداشت بہت ہے۔ یہ سوچ کر ٹال دیا کہ شاید کی اور سے کہا جارہا ہے۔
 یہ جو مختلف جماعتیں باربار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکیاں دے رہی ہیں اس پر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کہیں ایک دن خود پیپلزپارٹی ہی دھمکی نہ دے بیٹھے کہ جاﺅ‘ ہم نہیں کھیلتے۔ اس صورتحال پر شعیب بن عزیز کا شعر یاد آتا ہے۔ لکھا رکھا ہے عہد ترک الفت مگر دل دستخط کرتا نہیں ہی ”حجتاں ڈھیر“ کی بھی تو کوئی کہاوت ہے۔
—————————————————————-
یہ مضمون آج کے جسارت میں بطور کالم شائع ہوچکا ہے۔ بلاگ کی پالیسی کے مطابق صرف خاص برائے بلاگ تحریریں شائع ہوں گی تاہم ہاشمی صاحب کے کئی مداحوں کے پرزور اصرار پر اس رول میں نرمی کی گئی ہے۔ اب شائع شدہ کلام وضاحت کے ساتھ شائع کیے جائیں گے۔ شکریہ ایڈمن "بین السطور”
بلاگ کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔

جون 17, 2010

طوفان اور سیاست دان

رئوف طاہر بڑےسینئر صحافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حمید اختر یا عباس اطہر کی عمر کےہیں۔ ہمارےپرانےساتھی ہیں۔ ایک عرصےتک لاہور سےجسارت کی نمائندگی کرتےرہے، پھر مجیب الرحمن شامی کو پیارےہوگئے۔ جدہ میں برسوں ساتھ رہا۔ میاں نوازشریف جدہ پہنچےتو ہم نےشہر خالی کردیا۔ رئوف طاہر نےغریب الوطن امیر کی دلدہی جی جان سےکی۔ رئوف طاہر لاہور واپس آگئےہیں اور اب شریف برادران پر لازم ہےکہ دل داری کریں۔
رئوف طاہر کو ہم بھولتےتو نہیں ہیں لیکن چند دن سےوہ اس لیےیاد آرہےہیں کہ انہوں نےایک دلچسپ ایس ایم ایس بھیجا ہےجو ہمارےموبائل میں محفوظ ہےاور اُس وقت تک رہےگا جب تک موبائل کسی اور کو پسند نہیں آجاتا۔
پیٹ (phet) نامی طوفان بھی جمہوری حکومت کی آمد کی طرح کا شور مچاتا ہوا آیا تھا لیکن گرد ِ کارواں کی طرح سمٹ گیا، تاہم یادیں چھوڑ گیا۔ اس کی یاد رئوف طاہر نےبڑےدلچسپ انداز میں تازہ کی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ ”طوفان کی آمد کی خبر پر عمران خان نےچیف جسٹس سےمطالبہ کیا کہ اس کا سوموٹو ایکشن لیا جائے‘ جماعت اسلامی نےاسےبلیک واٹر کی سازش قرار دیا‘ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی تحقیق یہ تھی کہ اس کی سازش وزیرستان میں تحریک طالبان نےتیار کی ہے، صدر زرداری کےزوردار مشیر خاص نے‘ جو اب زبان کھینچ لینےکی دھمکیاں بھی دینےلگےہیں‘ طوفان کےٹل جانےکو صدر زرداری کی بہترین حکمت عملی قرار دیا۔ محترمہ فوزیہ وہاب نےاسےبےنظیر بھٹو شہید کےخواب کی تعبیر قرار دیا۔ لندن والےالطاف حسین نےطوفان کی شدید مذمت کی اور یہ شکوہ دوہرایا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مسلم لیگ ق کےبڑےچودھری جناب شجاعت نےاپنےتاثرات دیتےہوئےکہا کہ مجھےتو پہلےہی معلوم تھا کہ طوفان سےکچھ نہیں ہوگا اس لیےلسّی شسّی پی کر سوگیا تھا۔“
رئوف طاہر کا یہ طوفانی تبصرہ بہت دلچسپ ہےلیکن اس میں ایک بڑی کمی رہ گئی ہے۔ انہوں نےجدہ میں میزبانی کا لحاظ کرتےہوئےیہاں بھی میاں برادران کےتاثرات پیش کرنےسےگریز کیا ہے۔ حالانکہ ان کی دیرینہ خدمات ایسی ہیں کہ ایک آدھ جملہ ان سےمنسوب کرنےسےکوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ میاں برادران تو بڑےظرف والےہیں اور گجرات کےچودھریوں کےسوا سب ان کےبھائی اور ملک و ملت کا سرمایہ ہیں خواہ وہ اللہ اور رسول کےباغی قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر چودھری شجاعت لسّی پی کر سورہےتھےتو ممکن ہےکہ میاں صاحب Last Supper سمجھ کو سری پائےپر ٹوٹ پڑےہوں۔ سری کی ضرورت بھی بہت ہے۔
رئوف طاہر کا یہ ایس ایم ایس پڑھ کر ایک اور صاحب نےتبصرہ کیا ہےکہ میاں صاحب نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر بےساختہ کہا کہ ہمیں کوئی خطرہ نہیں‘ ہم فرینڈلی اپوزیشن ہیں، جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچنےدیں گے۔ انہوں نےفوری طور پر چودھری نثار علی خاں کو فون کیا کہ اس مسئلےپر پارلیمنٹ میں گرماگرم بیان دیا جائےاور یہ بھی دیکھا جائےکہ میثاقِ جمہوریت میں اس کےبارےمیں کیا طےہوا ہے۔
چھوٹےمیاں صاحب نےطوفان کو گورنر پنجاب کی سازش قرار دیا اور اعلان کیاکہ سستی روٹی کا منصوبہ جاری رہےگا۔ جبکہ سلمان تاثیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت ہوتےہوئےپنجاب کو کسی اور طوفان سےکوئی خطرہ نہیں۔ سلمان تاثیر نےعزم ظاہر کیا کہ وہ سمندر کو کراچی سےاٹھا کر لاہور لاکر رہیں گےپھر پیپلزپارٹی کےجیالےجئےبھٹو کےنعرےلگا کر ہر طوفان کا رُخ موڑ دیں گی۔ اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ رانا ثنااللہ سےاستعفیٰ لیا جائے‘ وہ لاہور کو لاڑکانہ بنانےکےمنصوبےمیں رکاوٹ ہے۔
اور بھی بہت سےسیاست دان ہیں جو رئوف طاہر کو یاد نہیں آئےیا طوالت کےخوف سےایسےگریز کیا جیسےپیپلزپارٹی اپنا اقتدار طویل ہونےکےڈر سےہر بار ایسےاقدامات کرتی ہےکہ زیادہ عرصہ تک اسےذمہ داری کا بوجھ سنبھالنا نہ پڑی۔ پاکستان کےاہم ترین سیاستدان پیر صاحب پگارا شریف نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر پہلےتو چھت پر چڑھنےکی کوشش کی تاکہ ستاروں کی چال دیکھی جائے، پھر اپنےگھوڑوں کی چال دیکھنےکےلیےاصطبل میں چلےگئے۔ پچھلےدنوں ان کےپانچوں گھوڑوں نےریس جیت لی۔ سنا ہےکہ انہوں نےایک گھوڑےکا نام ”پیٹ“ رکھنےکا ارادہ بدل دیا، کیوں کہ وہ راستہ بدل دیتا ہے۔
ایک سیاستدان اسفندیار ولی بھی ہیں۔ طوفان کی خبر پر اُن کا کہنا تھا کہ وہ اگر خیبر پختون خوا تک پہنچا تو اےاین پی پیپلز پارٹی سےاتحاد ختم کردےگی کیوں کہ یہی طےہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارےہوتےہوئےاس خطےمیں کوئی اور نہیں آسکتا۔ انہوں نےکہا کہ ہم تو قہوےکی پیالی میں بھی طوفان اٹھا دیتےہیں‘ جس طرح یہ طوفان ٹلا ہےاسی طرح ہزارہ صوبےکا مطالبہ بھی ٹل جائےگا۔
مولانا فضل الرحمن کا ہم بہت زیادہ احترام کرتےہیں اس لیےاُن کا ردعمل دینےسےگریز کریں گے۔ یوں بھی وہ الطاف حسین کی طرح حکومت سےالگ ہونےکی دھمکیاں دیتےرہتےہیں چنانچہ ممکن ہےکہ طوفان کےحوالےسےبھی دونوں کےخیالات ایک سےہوں۔ حکومت نےان کےمطالبات مان لیےہیں‘ اب ملک میں خواہ کوئی بھی طوفان آئے۔

جون 14, 2010

غریب عوام کے نمائندے

پروفیسر ابراہیم کا خیال تھا کہ یہ مناظرہ ہورہا ہے اور فیصل رضا عابدی بہت اچھے مناظر ہیں۔ لیکن ہمارے خیال میں تو یہ مجادلہ تھا‘ مناقشہ تھا‘ مناقضہ تھا یا ایسا مباحثہ تھا کہ جو زیادہ چیخ کر بولے وہ جیت جائے۔ بھلا فیصل رضا عابدی سے کون جیت سکتا ہے۔ وہ اپنے صدر اور پارٹی سربراہ جناب آصف علی زرداری کے لیے ایسی بلند فصیل ہیں کہ کمند ڈالنے والے کوشش کرکے رہ جاتے ہیں۔ فیصل رضا زبان کی آری سے کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ عوام کی ہمدردیاں عابدی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتیں۔
فیصل رضا عابدی کو عوام کی ہمدردی کی ضرورت بھی نہیں۔ انہیں جس کی ہمدردی ‘ حمایت اور پشت پناہی چاہیے وہ وافر دستیاب ہے اور فیصل رضا وفور شوق میں آگے بڑھے چلے جارہے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے۔ آخر وہ صدر پاکستان ‘ حکمران جماعت کے شریک چیئرمین اور پورے چیئرمین کے باپ جناب زرداری کے مشیر خاص ہیں۔ اب تک تو جناب زرداری کے پاس صرف یہ اعزاز تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن کے شریک حیات ہیں‘ ایسے سرتاج ہیں کہ سر کہیں اور تاج کہیں مگر اب تووہ پوری قوم کے سر کا تاج ہیں اور اس تاج میں جناب فیصل رضا عابدی‘ فوزیہ وہاب ‘ بابر اعوان ‘ رحمن ملک ‘ ریاض لالجی‘ سلمان اور عثمان فاروقی‘ جمشید دستی‘ شیخ ریاض اور سلمان تاثیر جیسے کوہ نور جڑے ہوئے ہیں۔ہر ایک ایسا کہ جس کے بارے میں ظفر اقبال نے تلقین کی تھی کہ ”آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے“ امام اور مقتدی سب کے سب صاحبان کردار۔مجال ہے کہ منہ پر ذرا بھی مہتاب چھٹے۔
ایکسپریس چینل کے اس مجادلہ میں ایک بڑے عالم پروفیسر ابراہیم بھی موجود تھے اس لیے ہم نے ایسے مشکل الفاظ شامل کردیے جن کا مطلب جاننے کے لیے لغت سے رجوع لانا پڑے۔ لیکن رعب تو پڑے گا۔ ویسے تو جناب فیصل رضا عابدی خود بھی بڑے عالم فاضل ہیں۔ اسی لیے ایک صحافی نے انہیں آیت اللہ کا خطاب دیا ہے۔ لیکن کیا آیت اللہ ایسے ہوتے ہیں؟ اس کا مطلب تو ”اللہ کی نشانی“ ہے۔ اللہ اپنی کیسی کیسی نشانیاں دکھارہا ہے۔ ہمیں یہ اطمینان ہے کہ پیپلزپارٹی کی چوتھی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جناب فیصل رضا روٹی توکسی طور کما کھائیں گے۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری کے صدر بننے سے پہلے تک تو خود پیپلزپارٹی والے بھی عابدی صاحب کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ لیکن بی بی شہید کے ہوتے ہوئے خود زرداری صاحب ہی کا سیاست میں کیا عمل دخل تھا؟ ہمارے خیال میں اعتراض بے وجہ اور تعصب پر مبنی ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے کام دکھاتے رہتے اور شہرت سے اجتناب کرتے ہیں‘ ناموری کبھی نقصان دہ بھی ہوتی ہے۔ فیصل رضا عابدی کے بارے میں بھی گمان یہی ہے کہ وہ بھی رحمن ملک کی طرح بی بی کے بہت قریب رہے ہوں گے۔ لیکن سامنے کی بات یہ بھی ہے کہ ناہید خان اور صفدرعباسی جیسے لوگ تو بی بی کا سایہ بنے ہوئے تھے اب زرداری کے آفتاب کے سامنے سائے غائب ہوگئے۔ یوں تو بی بی کی رضاکارانہ جلاوطنی کے عرصہ میں مخدوم امین فہیم نہ صرف پارٹی کو سنبھالے رہے بلکہ فوجی حکومت سے معاملات طے کرانے میں بھی آڑھتی کا کردار بخوبی ادا کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تو محض ڈاکیہ تھے اور ڈاک کے نظام کی صورتحال سب کے سامنے ہے‘ ڈاکیے کی تو شکل بھی یاد نہیں رکھی جاتی۔ اور وہی کیا‘ نون لیگ میں بھی تو ایک مخدوم ہیں‘ جناب جاوید ہاشمی۔
 کچھ بھی کہیے‘ ڈراما اتنا دلچسپ اور سنسنی خیز تھا کہ ہم نے یہ پروگرام بار بار دیکھا۔ پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر ویسے بھی مزاحیہ پروگرام نہیں آتے اور جو آتے بھی ہیں تو ان کو پر مزاح ثابت کرنے کے لیے قہقہوں کی ریکارڈ آوازیں شامل کردی جاتی ہیں یا پھر پروگرام پیش کرنے والے / والیاں خود محظوظ ہونے کا تاثر دیتے/ دیتی ہیں۔ اس پر تو ہنسی آہی جاتی ہے۔
ایکسپریس چینل کے میزبان جاوید چودھری کو پہلی بار برہم ہوتے دیکھا۔ یہ کریڈٹ بھی فیصل رضا عابدی کو جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپے سے باہر کون ہوا۔ عموماً لڑائی بھڑائی کی فلموں میں مزاح کا حصہ کم ہوتاہے۔ لیکن یہ لڑائی بھی تھی اور کامیڈی بھی۔ فیصل رضا عابدی کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام کے نمائندہ ہیں۔ عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کا نمائندہ سوا سال سے پرل کانٹی ننٹل میں مقیم ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 12 ہزار روپے یومیہ ہے۔ یعنی مہینے کا 3 لاکھ 60 ہزار اور سال کا 43 لاکھ 20 ہزار روپے۔ یہ صرف کمرے کا کرایہ ہے۔ ممکن ہے کہ فیصل رضا کبھی کبھار اس ہوٹل میں کھانا بھی کھالیتے ہوں یا مہمانوں کی تواضع مشروبات ہی سے کر بیٹھتے ہوں۔
 اللہ نے ان کو دیا ہے تو کیوں نہ خرچ کریں۔ جاوید چودھری کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہوٹل کاخرچ پی آئی اے ادا کرتی ہے۔ پی آئی اے کا خسارہ سوا سال سے مزید بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس پر فیصل نے چیلنج کیا ہے کہ یہ ثابت ہوجائے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے ورنہ جاوید چودھری چینل چھوڑ دیں۔ جاوید چودھری تو آسانی سے ایک سے دوسرے چینل میں جاسکتے ہیں۔ یہ کام تو عرصہ سے ہورہا ہے۔ جس طرح سیاسی بنجارے مشہور ہیں اسی طرح اب نئی طرح کے خانہ بدوش وجود میں آگئے ہیں۔ جس نے زیادہ پیسے دکھائے اس کے خیمے میں جا بیٹھے۔
 اب دیکھیے کہ فیصل رضا عابدی اور جاوید چودھری میں سے کون اپنی بات پر قائم رہتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عوام کی نمائندگی کی دعویدار جماعت کا ایک زبردست لیڈر 12 ہزار روپے یومیہ کرائے کے کمرے میں کیوں رہ رہا ہے؟ مان لیا کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کرتے ہوں گے۔ مگر یہ تو کھلا اسراف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ فضول خرچی ہے اور فضول خرچ کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اتنے پیسو ں میں تو عابدی صاحب شاندار بنگلہ کرائے پر لے سکتے ہیں۔ صدر کے مشیر کی حیثیت سے ایوان صدر میں ٹھاٹ دار جگہ مل سکتی ہے جو پرل کانٹی نینٹل سے زیادہ محفوظ بھی ہے اور بارعب بھی۔ فیصل رضا کچھ بھی کہیں‘ اس اسراف اور اصراف بے جا کے انکشاف سے ان کی اپنی پارٹی کے غریب کارکنوں کے سینے پر سانپ لوٹ گیا ہوگا جن میں سے کتنے ہی دو وقت کی روٹی سے محروم ہوں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ اسکیم بہت اچھی ہے لیکن ایک خاندان کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ ملتا ہے اور فیصل رضا عابدی 12 ہزار روپے روزانہ صرف ایک کمرے کا دے رہے ہیں۔ ان کے ذریعہ آمدنی کا ہمیں علم نہیں۔ ممکن ہے وہ بھی جناب زرداری کی طرح وسیع ذرائع رکھتے ہوں۔
مباحثہ کے شریک پروفیسر ابراہیم کو آخر کار یاد دلانا پڑا کہ وہ بھی موجود ہیں۔ لیکن جہاں فیصل رضا عابدی ہوں وہاں کوئی اور نہیں ہوگا۔ گفتگو اتنی شائستہ کہ نطق نے بڑھ کے بوسے تری زباں کے لیے ۔

جون 4, 2010

مضبوط پوّا

Filed under: فکاہیہ کالم,حالات غیر حاضرہ — اطہر ہاشمی @ 7:28 شام
شعیب اختر چار اوورز میں ہانپنے اور لنگڑانے لگے۔ ان کو ایشیا کپ کے 15 رکنی اسکواڈ کے لیے منتخب کرلیا گیا۔
ایک اخبار کی سرخی ہے ”راولپنڈی ایکسپریس کا انجن جواب دے گیا‘ ایکسپریس پٹڑی پر چڑھنے سے پہلے اترگئی۔“ شاید ان کی یہی ادا سلیکٹرز کو بھاگئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تو بغیر کوئی گیند پھینکے کب سے ہانپ رہے ہیں‘زبان تک ”لنگڑانے“ لگی ہے اور جناب چیف سلیکٹر محسن حسن خان نے شاید کبھی بالنگ کرائی ہی نہیں۔ کرکٹ چھوڑے ہوئے ایک عرصہ ہوگیا۔ ان کے کریڈٹ میں ایک ‘ دو بھارتی فلمیں اور ماضی کی دوسرے درجے کی فلم ایکٹریس رینارائے ہے۔ اس کو دوسرے درجے کی اداکار بھی ہم نے مروتاً کہہ دیا ہے۔ لیکن محسن حسن خان وہاں بھی کلین بولڈ ہوگئے تھے اور میدان سے باہر کردیے گئے۔
شعیب اختر کی یہ کارکردگی دیکھ کر کرکٹ کے پنڈتوں نے پیش گوئی کی کہ ان کا ایشیا کپ کھیلنے کا امکان ختم ہوگیا لیکن جسے اعجاز بٹ رکھے اسے کون چکھے۔ اگلے ہی دن خبر آگئی کہ 15 رکنی ٹیم کے لیے شعیب اختر اور شعیب ملک دونوں کو منتخب کرلیا گیا ہے۔ شعیب اختر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جو کارکردگی دکھائی ہے‘ اس سے وہ مطمئن ہیں۔ ہونا بھی چاہیے کہ اب تک وہ ایسی ہی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ اگر چار اوورز کرالیے تو بڑی بات سمجھیے۔ جتنی ان کی عمر اور ان کا وزن ہے اس میں اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ شاید یہی سوچ کر انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ ایک سال پہلے کی تو بات ہے کہ دو‘ تین اوورز کراکے راولپنڈی ایکسپریس نے پویلین کا رخ کیا تھا۔
ایک چیز ہوتی ہے ”درشنی ہاتھی“۔ یہ خوب کھلایا ‘ پلایا ہاتھی ہوتا ہے جس سے غینم خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ جانے کیا بلا ہے۔ اس ہاتھی کا کام صرف خوف زدہ کرنا ہی ہوتا ہے۔ لڑاﺅ تو راجا پورس کا ہاتھی ثابت ہوتا ہے جو اپنی ہی فوج کو نقصان پہنچاتا ہے۔
شعیب اختر کی ٹیم میں موجودگی سے مخالف پر یقینا خوف طاری ہوجائے گا۔ آخر کو وہ تیز ترین بالرز میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بس اتنی احتیاط کی جائے کہ ان سے بالنگ نہ کرائی جائے ورنہ بھرم ٹوٹ جائے گا۔ویسے بھی وہ آخری کھلاڑیوں (ٹیل اینڈرز) کو آﺅٹ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں آزمانا ہی ہو تو آخری دو ‘ تین اوورز دے دیے جائیں۔ ان کی خوبی بس یہ ہے کہ وہ تیز گیند پھینکتے ہیں اور اس کے لیے اتنی جان مارتے ہیں کہ خود ہانپنے لگتے ہیں۔
شعیب اختر کا حال بھی ان سیاسی جماعتوں جیسا ہے جو اقتدار میں آنے سے پہلے اپنا بھرم بنائے رکھتی ہیں اور اقتدار ملتے ہی ہانپنے‘ لنگڑانے لگتی ہیں۔ شعیب اختر تو چار اوورز کے بعد ہانپتے ہوئے نظر آئے لیکن موجودہ حکومت تو سوا دو اوورز ہی میں ہانپ اور کانپ گئی ہے۔ پانچ اوورز مکمل کرتے کرتے جانے کیا حال ہو۔ لوگ کب سے شرطیں لگارہے ہیں کہ کب امپائر انگلی اٹھاتاہے۔ لیکن لگتا ہے کہ تماشائی ہی ہانپ جائیں گے‘ بجٹ سے تو پہلے ہی کانپ رہے ہیں۔ اتنا خوف سمندری طوفان ہیرا (پیٹ) کا نہیں جتنا بجٹ اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا تھا۔ لوگ ”پیٹ“ نامی طوفان سے نہیں اپنے خالی پیٹ سے سہمے ہوئے ہیں کہ 5 سالہ اننگز کھیلنے کے دعویداروں کا پیٹ بھرے تو ان کو بھی کچھ نصیب ہو۔ پاکستان کے 45 فیصد عوام کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا۔
سنا ہے کہ شعیب اختر کے لیے کپتان شاہد آفریدی کا اصرار تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 34 سالہ فاسٹ بالر ٹوئنٹی‘ ٹوئنٹی اور ون ڈے میچوں کے لیے بہت مناسب ہیں۔ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ شاہد آفریدی اس وقت کا انتظار کرلیتے جب ٹوئنٹی کی جگہ 10 اوورز کا میچ ہوا کرے گا۔ عمر کا کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ بہرحال قوم کا اثاثہ ہیں۔ اسی لیے کپتان ”بوم بوم“ (فارسی والا نہیں) نے کہا ہے کہ ”شعیب اختر کی جتنی بھی کرکٹ باقی رہ گئی ہے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایشیا کپ میں شعیب اختر کو سری لنکا اور بھارت کے خلاف اہم میچوں میں کھلایا جائے گا۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں انہیں آرام دیا جائے گا۔“ہمارا خیال میں تو انہیں صرف بنگلہ دیش کے خلاف کھلایا جاتا باقی دو ٹیمیں تو مضبوط ہیں۔
پاکستان کے اور بھی کئی کرکٹرزایسے ہیں جن میں اب بھی کچھ نہ کچھ کرکٹ باقی رہ گئی ہوگی ان کو بھی موقع دیا جانا چاہیے۔ مثلاً عمران خان ‘ عبدالقادر‘ رمیز راجا‘ محسن حسن خان اور خود اعجاز بٹ۔ اور ہاں! یونس خان کا قصور بھی معاف کردینا چاہیے۔
ایک برخوردار نے شعیب اختر کی شمولیت کی خبر سنتے ہی بے ساختہ کہا ”بڑا مضبوط پوّا ہے صاحب“ ہم اس اصطلاح سے ناواقف ہیں۔ ہم تو اب تک یہ سمجھتے رہے کہ یہ تیل یا دودھ وغیرہ ناپنے کا آلہ ہے جس میں پاﺅ بھر شے ناپی جاتی ہے یا پھر میخواروں کی اصطلاح میں پوّا اور ادھا کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یہ مضبوط پوّا کیا ہے؟ ایک اخبار کا تجزیہ ہے کہ ”پس پردہ کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں۔“
پوّا تو خود اعجاز بٹ کا بھی مضبوط ہے‘ وزیر دفاع کے برادر نسبتی ہیں۔ لیکن وہ جمعرات کو پریس کانفرنس میں خود ہی بول پڑے کہ ”شعیب اختر کی شمولیت کسی سیاسی دباﺅ یا خفیہ ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔“
شاہد آفریدی کا مسئلہ تو صرف سر کی خشکی ہے۔ جس کے لیے وہ ”سر اور کندھا“ استعمال کرتے ہیں۔ کندھے پر ان کے بوجھ ہے اور سر میں خشکی۔
ایسا لگتا ہے کہ شعیب ملک میں بھی کرکٹ ”باقی ماندہ “ ہی ہے۔شادی سے پہلے ہی وہ ماند ہوگئے تھے۔ قومی کرکٹ کی سلیکشن کمیٹی سے زیادہ فعال تو حکمران پیپلزپارٹی کی سلیکشن کمیٹی ہے کہ چن چن کر پرانے اور تجربہ کار مخلص وابستگان سے پیچھا چھڑا کر ایسی ٹیم منتخب کی ہے جس کے بیشتر دانے داغدار ہیں مگر خوب کھیل رہے ہیں بلکہ کھل کھیل رہے ہیں۔ دیکھیے‘ ایشیا کپ اور پاکستان کپ میں کیا ہو۔

مئی 21, 2010

حکومتی نوٹس، اہل کراچی کی خوش بختی

Filed under: Uncategorized,سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 3:06 شام
اہل کراچی بہت خوش قسمت ہیں۔ اِدھر لاشیں گریں اور اُدھر حکمرانوں نے نوٹس لیا۔ یہ نوٹس وزیر اعلیٰ سندھ سے لے کر قصر صدارت کے مکین آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی تک نے فوراً لے لیا۔ اور اس نوٹس کے بعد بھی جمعرات تک تعداد38ہوگئی تھی۔ پھر بھی یہ کیا کم ہے کہ نوٹس لیا تو گیا۔ حکمران یہ بھی نہ کرتے تو کوئی کیا کرلیتا۔
سنا ہے اسلام آباد سے کہا گیا ہے کہ فوراً رپورٹ بھیجی جائے ۔ غالباً یہی پوچھا گیا ہوگا کہ گن کر بتاﺅ کتنے مرے۔اور رپورٹ کیا ہوسکتی ہے۔ پھر شاید پرانی رپورٹیں نکلوائی جائیں اور یہ موازنہ ہو کہ پہلے کتنے مرے تھے اور اب کتنے مرے۔ تعداد کم ہو تو اسے جمہوری حکومت کا کارنامہ قرار دیا جائے۔ لوگوں کا کیا ہے‘ مرتے ہی رہتے ہیں۔ اس سے زیادہ تو ہیپاٹائٹس سے مررہے ہیں‘ زہریلی شراب کر مر جاتے ہیں اور حکومت نوٹس بھی نہیں لیتی۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سے مرنے والے خوش قسمت ہیں کہ بے شمار مصروفیات کے باوجود ان کے لیے حکمرانوں نے وقت نکالا۔ وفاقی وزیر داخلہ اپنی ہی پریشانی میں مبتلا ہیںورنہ تو فوراً کراچی بھیجے جاتے اور وہ اعلان کرچکے ہوتے کہ اب کراچی میں کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوگی‘میں ہوں ناں۔( ان کا بیان آگیا کہ کسی کو کراچی کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔پہلے ان سے اجازت لی جائے)
گزشتہ منگل تک تو صدر مملکت بھی کراچی میں تھے اور امریکا سے آئے ہوئے حکمرانوںسے ملاقات کررہے تھے۔ اپنے اتحادیوں کی کورکمیٹی کا اجلاس بھی کیا۔ لیکن ”ان کے جاتے ہی یہ کیا ہوگئی گھر کی صورت“۔ اس بار بھی یہ پتا نہیں چلے گا کہ قاتل کون ہیں ‘ لیکن کسی سے بھی پوچھ لیجیے وہ بتادے گا۔ دیواروں پر جگہ جگہ نعرے لکھے ہوئے ہیں”یہ شہر ہمارا ہے“ لیکن اب یہ شہر صرف قاتلوں کا ہے‘ ایسے قاتل جنہوں نے دستانے بھی نہیں پہنے ہوئے۔ کیا12مئی2007ءکے قاتلوں کے چہرے کسی سے چھپے ہوئے ہیں؟
لیکن اقتدار کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ رینجرز کو ایک بار پھر اختیارات دے دیے گئے اور شہر میں مزید لوگ قتل ہوگئے۔ یہ جو شہر میں برسوں سے رینجرز تعینات ہیں‘ اسلحہ سنبھالے ہوئے گشت کرتے نظر آتے ہیں ان کی افادیت کیا ہے؟ اگر ان کے ہوتے ہوئے بھی قاتل شہر میں دندناتے پھریں تو پھر رینجرز کو پریشانی میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں گھر بھیج دیا جائے۔ تب بھی یہی تو ہوگا جو اب ہورہا ہے۔ پولیس ہو یا رینجرز ‘کسی نے بھی قاتلوں پر گولی چلانا تو درکنار ‘پکڑا تک نہیں۔ خفیہ ایجنسیاں ہوں یا بھانت بھانت کے حکمران ٹولے ‘کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ کھل کر بتائے ‘قاتل کون ہیں‘ کیو ں قتل کررہے ہیں۔متحدہ کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر جمعرات کو ایک ٹی وی مذاکرے میں کہہ رہے تھے کہ اب تک جتنی بھی ٹارگٹ کلنگز ہوئی ہیں ان سب کی تحقیقات کرائی جائے۔ وہ 12مئی 2007ءکو مشیر داخلہ سندھ تھے اور پوری پولیس فورس ان کے تابع تھی ۔ کیا اس دن کے قتل عام کی تحقیقات کروائی گئی یا وہ ٹارگٹ کلنگ نہیں تھی‘ عوامی طاقت کا اظہار تھا؟ وسیم اختر کو داد دیجیے۔ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں امن بحال کرنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ۔ کہتے ہیں کہ ان تازہ وارداتوں سے ہمارا کیا لینا دینا۔ یہ تو پختونوں اور ہزارے وال کا جھگڑا ہے۔ ہزارے وال ایبٹ آباد میں ہلاک ہونے والوں کا چہلم منارہے تھے ، اے این پی اور ہزارے وال کے جھگڑے میں ہم کیوں انوالو(ملوث ) ہوں گے۔
وسیم اختر صاحب جیتے رہیے۔ اس بار یہ اچھا نکتہ لائے ہیں۔ لیکن اے این پی کے شاہی سید تو بہت کھل کر آپ کا نام لے رہے ہیں بلکہ یہ بھی کہ قتل عام کا ذمہ دار گورنر ہے۔ قاتل پکڑے نہ جائیں اور اپنے کام میں مصروف ر ہیں‘ عوام کی جان اور ان کے مال کا تحفظ نہ ہوسکے تو ذمہ دار بہرحال حکومت ہوتی ہے۔ گورنر ہو یا وزیر اعلیٰ ‘صوبائی وزیر داخلہ ہو یا وفاقی۔ خود صدر اور وزیر اعظم بھی ذمہ دار ٹھیرتے ہیں۔بھیجئے پھر رحمن ملک کو کراچی یا لندن۔ صدرمملکت ایک بار پھر نائن زیرو کا چکر لگائیں اور ڈاکٹر فاروق ستا رکو ٹوپی پہنائیں۔
حکومت اب تک یہ طے نہیں کرسکی کہ کون قتل کررہا ہے۔ فوزیہ وہاب کہتی ہیں کہ اس میں کوئی سیاسی جماعت ملوث نہیں اور صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کہتے ہیں کہ سیاسی عناصر ملوث ہیں۔ یہ وہی ذوالفقار مرزا ہیں جنہوں نے بڑے طمطراق سے کہا تھا کہ مجھے صرف تین ماہ دیں تو قاتلوں کو الٹا ٹانگ دوں۔انہوں نے متحدہ کو دھمکیاں دیں اور پھر جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ ان کے اوپر والوں نے سمجھادیا ہوگا کہ نہ سندھ حکومت رہے گی اور نہ وزیر داخلہ ہوں گے ‘صرف بدین کے شوگر ملوں پر گزارہ ہوگا۔ یونہی یادآگیا کہ یہ دیوان گروپ آف انڈسٹری کہاں غائب ہوگیا؟
متحدہ درس دے رہی ہے کہ اے این پی اور ہزارہ تحریک اپنے کارکنوں کو صبر کا درس دیں۔ ضرور دینا چاہیے۔ خود متحدہ برسوں سے یہی درس دے رہی ہے‘ دوسروں کو۔ وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ”قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی“۔ اب تو ایسے لطیفوں پر ہنسنے کی سکت بھی نہیں رہی۔ کتنے ہی گھروں سے جنازے اٹھے ہیں ‘ اس پر بھی لطیفے سنائے جائیں‘ بڑی ہمت کا کام ہے۔ 12مئی 2007ءکی بات تو چھوڑیے۔ اپریل2008ءکے بعد جتنی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے کیا اس کے قاتل پکڑ لیے گئے۔ قرار واقعی سزا مل گئی؟ کم ازکم نشاندہی ہی کردی جاتی کہ قاتلوں کا تعلق کس گروہ سے ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے بھی تو یہی ہوا تھا۔ کیا ”جلد گرفتار“ کا سیاسی مفہوم کچھ اور ہے؟
اور وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ الطاف حسین سے بڑی گہری دوستی ہے‘ ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے‘ ملک کے لیے اس کی خدمات سب کے سامنے ہیں۔ صحیح کہتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے اہل پنجاب سے خطاب کرتے ہوئے جاگیر داروں کو انتباہ کیا تھا کہ اپنا ناپ بتاﺅ بوری ہم فراہم کریں گے۔ یہ بھی تو ملک کی خدمت ہے۔ کتنے ہی کاشتکارشکوہ کررہے ہیں کہ انہیں باردانہ نہیں دیا جارہا۔جوبوریاں تیار پڑی ہیں وہ انہیں دیدی جائیں۔ووٹ بینک بڑھ جائے گا۔

مئی 20, 2010

دل جلے

Filed under: Uncategorized,سماجی سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 2:47 شام
ہمیں جناب رحمن ملک بہت پسند ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پولیس سمیت کئی خفیہ ایجنسیاں ان کے ماتحت ہیں اور ہمارا تعلق صحافت سے ہے۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ ہمارا شمار بھی ان صحافیوں میں ہوتا ہے جن کو حکومت نے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی بک بک بندکردیں۔ بک بک کرنا ویسے بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ اردو کے ابتدائی قاعدے میں یہ تاکید ہے کہ ”بک بک مت کر“ لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ قاعدہ پڑھنے والے القاعدہ والے سمجھے جانے لگے ہیں۔ جناب شاہین صہبائی کا کیا ہے۔ وہ ملک سے باہر بیٹھے ہیں ‘ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان آئے تو 2002 ءکی طرح ان کے خلاف پھر کوئی ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے۔ اس وقت وہ اسلام آباد میں دی نیوز کے گروپ ایڈیٹر تھے اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جی ایچ کیو کے ایک اہلکار کے گھر سے واشنگ مشین چرائی ہے۔ اس وقت جی ایچ کیو ہی کی حکومت تھی ورنہ تو ان پر بھینس چوری کا الزام لگتا جو بھٹو صاحب کی جمہوری حکومت میں چوہدری ظہور الٰہی پر لگا تھا۔ لیکن یہ بھی تو ممکن ہے جناب شاہین صہبائی کو کپڑے دھونے میں دشواری پیش آرہی ہو۔ آج کل پڑھی لکھی خواتین خود کپڑے کہاں دھوتی ہیں۔
یہ تو غنیمت ہے کہ ہم ان صحافیوں میں شامل نہیں ہیں جن کے بارے میں حکمرانوں کو کوئی منصوبہ بندی کرنا پڑے پھر بی ہم حفظ ماتقدم کے طور پر جناب رحمن ملک کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں گو کہ ان کا مستقبل اس وقت کسی گول ڈرم یا ڈول ڈرم (DOLDRUMS)میں ہے ۔ چنانچہ اس موقع پر ہم محاورے والے ”شاہ مدار“ کا کردار ادا نہیں کرناچاہتے۔
ہمیں جناب رحمن ملک عدالت عالیہ لاہور کے فیصلے اور اس پر جناب صدر کے سوﺅموٹو ایکشن کی وجہ سے یاد نہیں آئے بلکہ 14 مئی کے اخبارات میں ان کے ایک دلچسپ جملے کی وجہ سے یاد آئے جارہے تھے کہ اس اثنا میں عدالت نے یاد کرلیا۔ اچھا ہوا کہ وہ کراچی میں آبیٹھے اور لاہورہائی کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت کروالی۔ سندھ بہرحال جناب زرداری کا محفوظ قلعہ ہے بلکہ قلع معلی ہے۔ اسی لیے صدر نے کراچی میں اتحادیوں کے کور کمیٹی اجلاس کے بعد رحمن ملک کو مشورہ دیا کہ وہ بار بار سندھ آتے رہیں‘ خاص طور پر جب تک عدالتی معاملات نمٹ نہ جائیں کیونکہ صدر کی طرف سے ان کو بیل آﺅٹ (BAILOUT)کرنے کے باوجود خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ ہم جناب رحمن ملک کے جس خوبصورت جملے کے شیدائی ہوئے‘ تقریباً سب اخبارات نے اس کو سرخی بنایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رحمن ملک کی گفتگو میں یہی ایک جملہ کام کا تھا باقی تو بھرتی کے جنہیں شاعر حضرات ”برائے بیت“ کہتے ہیں۔
جناب رحمن ملک نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر کھڑے ہوکر فرمایا”پیپلزپارٹی ‘ ایم کیو ایما تحاد سے کئی لوگوں کے دل جل رہے ہیں۔“ یہاں تو بہت سے لوگوں کے چولہے نہیں جل رہے‘ چراغوں کے بجائے دل ہی جلائے جارہے ہیں لیکن ہمیں اس جملے پر تجسس ضرور ہوا کہ یہ کون لوگ ہیں جو پی پی‘ متحدہ اجلاس سے جلے بھنے جارہے ہیں۔ آخر سراغ لگاہی لیا۔رحمن ملک نے یہ انکشاف 13 مئی کو کیا تھا۔12 مئی کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی روداد ہمارے سامنے ہے جس میں کچھ دل جلوں نے پھپھولے پھوڑے ہیں‘ آیئے دیکھتے ہیں یہ کون لوگ ہیں۔
قومی اسمبلی میں صدرمملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب پر بحث کے دوران ایک رکن اسمبلی اچانک پھٹ پڑے اور انہوں نے حکومت ہی نہیں بلکہ پی پی ‘ متحدہ اتحاد اور رحمن ملک کے کردار پر کھری کھری سناڈالیں۔ یہ صاحب نہ تو لیگ کے تھے نہ ق یا کسی اورپارٹی کے بلکہ یہ تھے پاکستان پیپلزپارٹی کے جناب ظفر علی شاہ ۔ ظفر علی شاہ سندھ کے علاقہ نوشہرو فیروز سے پی پی کے رہنما ہیں اور بڑے پرانے لوگوں میں سے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں جب موجودہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اسپیکر قومی اسمبلی تھے تو سید ظفر علی شاہ ڈپٹی اسپیکر تھے۔ اس سے ان کی پارٹی وابستگی اور بی بی سے قربت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ جب بولے تو پورے ایوان میں سناٹا چھاگیا۔
ظفر علی شاہ نے کہا کہ حکومت کراچی اور حیدرآباد کے معاملات پر بھی علاقے کے منتخب نمائندوں کو خاطر میں نہیں لاتی۔ سندھ ہی سے ایک اور پی پی رہنما سید امیر علی شاہ جاموٹ نے جو حیدرآباد سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں‘ ظفر علی شاہ کا ساتھ دیا۔ یہ شاید سیدوں کا اتحاد تھا مگر وزیراعظم بھی تو سید ہیں۔ امیر علی جاموٹ نے خاص طور پر متحدہ قومی موومنٹ سے ”ہینڈلنگ“ پر تنقید کی اور رحمن ملک کا نام لیے بغیر دونوں سینئر پارلیمنٹرینز نے ان کو الطاف حسین کو منانے کے لیے لندن بھیجنے پر پارٹی قیادت کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے ”کچھ لوگوں“ کو لندن بھیجا تاکہ ضلع حیدرآباد کی پرانی حیثیت بحال کرنے کے وزیراعظم کے اعلان پر متحدہ کے چیف الطاف حسین کی ناراضی اور برہمی کو دور کرکے انہیں رام کیا جائے۔
اب معلوم ہوگیا ہوگا کہ جناب رحمن ملک کا روئے سخن کس کی طرف تھا او رپی پی‘ متحدہ اتحاد سے کس کے دل جل رہے ہیں‘ اس لیے رحمن ملک نے اگلے ہی دن دل جلوں کی بات کی۔ لیکن یہ تو ”اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔“ یہ صرف دو ہی دل جلے نہیں ہیں بلکہ سندھ سے پیپلزپارٹی کی پوری قیادت اور کارکنوں کا یہی عالم ہے کہ کانوں سے دھواں نکل رہا ہے اور عام تاثر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ میں اپنا اقتدار بچانے کے لیے بری طرح بلیک میل ہورہی ہے۔ لندن کے دبدبے کا یہ عالم ہے کہ وزیراعظم کو حیدرآباد ضلع کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا اعلان چند گھنٹوں میں واپس لینا پڑا اور ترجمانوں نے اصرار کیا کہ وزیراعظم کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ لیکن وزیراعظم کا یہ اعلان توباتصویر محفوظ ہے کہ حیدرآباد کے لوگوں پر سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ ضلع کو تقسیم کردیا گیا ۔ حالانکہ بات کسی پر ظلم و ستم کی نہیں‘ سیاست کی ہے۔2005 ءمیں ضلع حیدرآباد کے چار ٹکڑے کردیئے گئے تھے اور مٹیاری‘ ٹنڈوالہ یار‘ ٹنڈو محمد خان کے نئے اضلاع تشکیل دیے گئے ۔ ان اضلاع کے عوام کو سہولتیں حاصل ہوئی ہیں اور وہ خوش ہیں۔ مشکل یہ آپڑی کہ اب اگر حیدرآباد کی پرانی حیثیت بحال کی جائے تو موجودہ ضلع حیدرآباد پر متحدہ کی بالادستی ختم ہوتی ہے کیونکہ اکثریت متحدہ کے مخالفین کی ہوجائے گی اور اگر موجودہ حیثیت برقرار رکھی جائے تو حیدرآباد پیپلزپارٹی کے قبضہ میں نہیں آسکے گا۔ یہ ہے اصل معاملہ ‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ کو حیدرآباد کی تقسیم تو قبول ہے مگرکراچی کے پانچ اضلاع کی بحالی قبول نہیں کہ اس طرح سٹی گورنمنٹ کی سلطنت سکڑجائے گی۔ اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ متحدہ کے دباﺅ پر پسپائی اختیار کرنے پر وزیراعظم کا دل بھی جل رہا ہے یا نہیں۔18 مئی کی اطلاع تو یہ ہے کہ صدر زرداری نے اپنے اتحادی کا یہ مطالبہ مسترد کردیا کہ تمام اہم مناصب پر منظور نظر افراد کو تعینات کیا جائے۔ اس مطالبہ میں خرابی کیا تھی؟ آخر پیپلزپارٹی اور صدر صاحب خود بھی تو یہی کررہے ہیں۔
بقول چودھری شجاعت‘ مٹی پاﺅ۔ نوشہرو فیروز کے سید ظفر علی شاہ نے پی پی متحدہ اتحاد کی صورتحال ہی پر تنقید نہیں کی بلکہ اپنی پارٹی کی حکومت کو بھی رگید ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ”حکومت پاکستان کو بناناری پبلک بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ حیرت ہے کہ اپوزیشن تو پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی بات کرتی ہے اور ہماری حکومت اسے کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ پارٹی لائن کی پیروی کریں لیکن یہاں کون ہے جو ہمیں بتائے کہ پارٹی لائن کیا ہے۔ پارٹی کے اجلاسوں میں ارکان سے مشورہ ہی نہیں کیا جاتا۔ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنی لیڈر کے قاتلوں تک کونہیں پکڑسکتی۔“ ظفر علی شاہ نے ججوں کے تقرر کے لیے قائم عدالتی کمیشن میں وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کو شامل کرنے کی بھی مخالفت کی۔
رحمن ملک صاحب نے اس تنقید کے جواب میں کہا کہ ”ہمارا الطاف حسین سے دوستی کا رشتہ ہے۔ ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے اور ملک کے لیے اس کی خدمات سب کے سامنے ہیں۔“ اب کرلیجئے 12 مئی کے سانحہ کی تحقیقات۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں نہیں معلوم یہ بنانا ری پبلک کیا ہے۔ یہ تو پتا ہے کہ بنانا کیلے کو اور ری پبلک جمہوریہ کو کہتے ہیں۔ تو کیا اس کا ترجمہ ”کیلائی جمہوریہ“ کیا جائے۔ جنرل پرویز مشرف بھی یہ اصلاح استعمال کیا کرتے تھے کہ پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے۔ وہ پتا نہیں‘ پاکستان کو کیا بنا گئے اور پیپلزپارٹی کیا بنانا چاہتی ہے۔ سنا ہے کیلے میں کیلشیم بہت ہوتا ہے اور جلے دل کے لیے فائدہ مند ہے۔

مئی 18, 2010

روٹی کپڑا مکان اور موبائل فون

Filed under: Uncategorized,فکاہیہ کالم,سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 5:12 شام
کہتے ہیں یہ محض لطیفہ ہے۔ فرانس کی ملکہ کے محل کے باہر عوام جمع ہوکر احتجاج کررہے تھے ۔ ملکہ نے اپنے حاضر سروس حاجب سے پوچھا یہ لوگ ہمارے آرام میں خلل ڈالنے کے لیے شور کیوںمچا رہے ہیں؟ اس نے کہا ملکہ عالیہ آپ کی رعایا شکایت کررہی ہے کہ روٹی نہیں مل رہی ۔ملکہ نے حیران ہوکر کہا” روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھالیتے؟“

ممکن ہے یہ محض لطیفہ ہو لیکن ایسے لطیفے اس دور میں بھی ہورہے ہیں۔ ارب پتی صدر مملکت نے فرمایا ہے کہ ” بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہر ضرورت مند کو موبائل فون فراہم کیا جائے گا“۔

فرانس کی ملکہ تو بلاوجہ بدنام ہے۔ پاکستان میں بادشاہت نہ سہی ‘ شاہانہ انداز و مزاج تو ہے۔ لوگ روٹی مانگ رہے ہیں ‘ ان کو موبائل فون تھمایا جارہا ہے وہ بھی شہید بی بی کے نام سے چلنے والے پروگرام کے تحت ۔ بی بی کی روح خوش ہوگئی ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے بانی نے نعرہ دیا تھا” روٹی ‘کپڑا اور مکان“۔ ان کے جانشینوں نے اس میں موبائل فون کا اضافہ کردیا۔ جب ایک آمر کی طرف سے معزول کردہ ججوں کی بحالی کا تقاضا کیا جارہا تھا تو جناب زرداری نے فرمایا تھا کہ ہمیں تو روٹی کپڑا مکان کے نعرے پر ووٹ ملے ہیں ‘ ججوں کی بحالی ہمارے منشورمیں شامل نہیں۔ اب اگر آئندہ الیکشن میں منہ دکھانے کے قابل رہ گئے تو امید ہے کہ نعرے میں موبائل فون بھی شامل کرلیا جائے گا‘ کونسا کسی کو دینا ہے‘ روٹی ‘ کپڑا ‘ مکان کا وعدہ کب پورا ہوا۔
ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ بعض صحافیوں کو ڈنک مارنے کی عادت پڑگئی ہے۔ اچھی بات میں بھی کیڑے نکالتے ہیں۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ چینوٹیوں بھرے کباب میں سے کون کیڑے نکالتا ہے۔ بہر حال انہوں نے غریبوں کو موبائل فون دینے کی حکمت یہ بیان کی کہ اس طرح وہ گھر بیٹھے پیزا ( یا پتزا) منگواسکیں گے۔ یعنی روٹی نہیں ہے تو پیزا کھا لو۔ اس طرح ڈلیوری بوائز کی نئی اسامیاں نکلیں گی۔ پیزا بنانے والے اداروں میں کام بڑھے گا اور لوگوں کو ملازمت ملے گی۔
یہ بہت دور کی کوڑی ہے جو غریبوں کا ہمدرد ایک اچھا حکمران ہی لاسکتا ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ آصف زرداری کے پیشرو پرویز مشرف خود اور ان کے درآمدی وزیر اعظم جناب شوکت عزیز بھی معیشت کے پھلنے ‘پھولنے کی یہ مثال دیتے تھے کہ گاﺅں ‘دیہات تک میں ٹی وی اور فرج پہنچ گئے ہیں(بجلی پہنچے یا نہ پہنچے) ۔ شوکت عزیز نے موبائل چھینے جانے کی وارداتوں پر کہا تھا کہ یہ بھی معاشی بہتری کی علامت ہے‘ لوگوں کے پاس موبائل ہیں تو چھینے جارہے ہیں۔
قصر صدارت سے پرویز مشرف نکلے ہیں مگر ان کی روح وہیں ہے۔
آپ نے بھی شاید وہ بڑے بڑے بل بورڈز دیکھے ہوں جن پر پاکستان کے مستقبل کی نقشہ کشی کی گئی ہے کہ جب گاﺅں گاﺅں ‘گلی گلی انٹرنیٹ ہوگا۔ کسی کو گالی دینا اچھی بات نہیں۔ ہم کچھ نہیں کہیں گے لیکن مستقبل کی بات کرنے والے حال تو دیکھیں کہ گاﺅں ‘ دیہات کیا شہروں میں کئی کئی گھنٹے تک بجلی نہیں آتی۔ انٹرنیٹ کیا پون چکی سے چلے گا۔ پرویز مشرف کے دور میں ایک اشتہار چلتا تھا”میرے گاﺅں میں بجلی آئی رے“۔ اب شہروں میں بھی جب بجلی بحال ہوتی ہے تو بچے شور مچاتے ہیں” میرے گھر میں بجلی آئی رے“ بجلی کی آر جار دیکھ کر ہی تو جناب زرداری نے غریبوں میں موبائل فون بانٹنے کا اعلان کیا ہے۔
ایسے ہوتے ہیں غریبوں کے ہمدرد۔ جب سب کے پاس موبائل فونز ہوں گے تو چھینا جھپٹی بھی ختم ہوجائے گی۔ غریب آدمی موبائل فون کو کھائے ‘پیے ‘ اوڑھے ‘ بچھائے ‘ یہ اس کی مرضی ۔ فرانس کی ملکہ تو بلاوجہ بدنام ہے۔ اتنی بھولی تو وہ بھی نہ ہوگی۔ عجیب بات ہے ‘ کسی کو بھولا کہو تو وہ چڑ جاتا ہے کہ مجھے احمق کہتے ہو۔ہمارے حکمران بھولے ‘بھالے ہیں‘بھولے کم ‘بھالے زیادہ۔

ضلع داروں کی ضلع جگت

Filed under: Uncategorized,سماجی سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 3:38 شام
ہمارے سیاستدان بسا اوقات بڑے کالمانہ جملے کہہ جاتے ہیں۔ حزب اختلاف میں تو ایک سے ایک جملے باز پڑا ہے لیکن اب تو ضلع دار بھی ضلع جگت کا ماہر ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ٹی وی پروگرام ”ٹاکرہ“ کی جان دلدار پرویز بھٹی مرحوم نے ایک بار کہا تھا: ”یارو! جملے بازی میرا تو خاندانی پیشہ ہے لیکن کچھ خاندانی مجھ سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔“

کبھی ضلع جگت اور برجستہ جملہ بازی میراثیوں تک محدود تھی، لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ فنکار ہوتے جارہے ہیں۔ شادی بیاہ اور بڑی تقریبات میں میراثی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے اور حاضرین میں موجود کسی بڑی شخصیت کے حوالے سے ایسے جملے چسپاں کرتے تھے کہ اٹھائے نہ اٹھیں۔ اب زیادہ تر اسٹیج ڈراموں اور ٹی وی چینلز کو پیارے ہوگئے۔
یہ میدان خالی ہوا تو دوسروں نے سنبھال لیا۔ جگہ خالی کب رہتی ہے! جملے بازی میں بہت ہی محترم حافظ حسین احمد کا جواب نہیں، لیکن اب وہ کم کم نظر آتے ہیں، ورنہ تو ان کا ایک جملہ پوری تقریر پر بھاری ہوتا ہے۔ وہ یہ کام سلیقے سے کرتے ہیں لیکن بعض لوگ اس میں بھی پھوہڑ پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جملے بازی کا مقابلہ گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر اور ن لیگ کی طرف سے پرویز رشید یا رانا ثناءاللہ میں جاری ہے۔ ن لیگ کے پاس پنجاب کی حکومت ہے اور سلمان تاثیر کے پاس صدر زرداری کا پروانہ۔ کبھی گورنر لاٹ صاحب کہلاتا تھا۔ جناب تاثیر آج بھی اس پر پورے اترتے ہیں۔ لاٹ کا مہند ہے، یعنی انگریزی لفظ کو ہندیا لیا گیا ہے۔ ہندی میں لاٹ کا مطلب شعلہ یا لَو بھی ہے جو پنجابی میں آگیا ہے۔ مثلاً پنجابی میں کسی شعلہ ¿ جوالہ کی تعریف یوں کی گئی ہے ”سلفے دی لاٹ ورگی“۔ وضاحت کے لیے عرض ہے کہ لغت کے مطابق سلفا ایک دفعہ چلم بھرنے کے قابل تمباکو یا چرس کو کہتے ہیں۔ اس کا کوئی تعلق شاید اسلاف سے نہ ہو۔ چلم میں جو بھی رکھا ہو جب پینے والا زور سے کش کھینچتا ہے تو اس میں سے ایک شعلہ بلند ہوتا ہے۔ ہرچند کہ دل تو اس میں بھی جلتا ہوگا، لیکن یہ کسی دل جلے کی گور کا معاملہ نہیں جس کے بارے میں میر نے کہا تھا کہ ”شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے“۔ سلفا پینے والے صبح، شام کا لحاظ نہیں رکھتے۔ یہ چلم بغیر حقّے کے پی جاتی ہے اور دونوں ہاتھوں میں اس طرح دباکر جیسے کسی غیر مستحق کے ہاتھ میں اقتدار آگیا ہو۔ حقے والی چلم کے بارے میں کسی استاد نے کیا خوب کہا تھا کہ:
مارا جو دم، چلم سے شرارے نکل پڑے
اک برجِ آتشیں سے ستارے نکل پڑے
کیا ہی اچھی تشبیہ ہے۔ حقہ پینے کے آداب سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ چلم کے اوپر ایک برج نما ٹوپی رکھی جاتی ہے تاکہ چنگاریاں نہ اڑیں اور ہوا سے کوئلے بھی جلد ٹھنڈے نہ ہوجائیں۔ لیکن جو دَم دار ہوتے ہیں وہ ایسا کش کھینچتے ہیں کہ چلم سے شرارے نکل پڑتے ہیں۔ ٹوپی دار چلم کو برجِ آتشیں سے تشبیہ دے کر شاعر نے ان چنگاریوں کو ستارے کہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسا دَم لگانے والوں کا اپنا دم اکھڑ جاتا ہے اور وہ دیر تک کھانستے رہتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ سیاسی دم کشوں کا ہے کہ بعد میں دیر تک ہانپتے رہتے ہیں۔ سلفے کی لاٹ شعلہ مستعجل ہوتی ہے اور دہن کے برج آتشیں سے نکلنے والے شراروں کی عمر بھی تھوڑی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہم وزیراعظم کے اس جملے کی داد ضرور دیں گے کہ جنہیں اقتدار کی جلدی ہے وہ اپنے گھوڑے چھاﺅں میں باندھیں۔ یعنی یہ ن لیگ کو مشورہ ہے کہ ٹھنڈی کرکے کھائیں اور ٹھنڈی چھاﺅں کے مزے لیں۔ آخر پیپلزپارٹی نے بھی تو دوبار گیارہ گیارہ سال اپنے گھوڑے پر کاٹھی نہیں ڈالی اور دونوں مرتبہ پی پی کے کئی گھوڑوں پر دوسروں نے کاٹھی ڈال دی۔ کیسے کیسے اصیل گھوڑے تھے جو دوسروں کے اصطبل میں چلے گئے۔ جناب زرداری نے تو موقع ملنے پر وزیراعظم ہاﺅس میں اصطبل بنالیا تھا لیکن ان پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا داغ لگ گیا۔ گھوڑوں کو داغا بھی جاتا ہے تاکہ پہچانے جائیں۔ مگر اب تو بے داغ گھوڑے پیپلزپارٹی کے طویلے میں مربے کھارہے ہیں اور طویلے کی بلا بندر کے سر جارہی ہے۔ مگر ہمیں کیا پتا کہ یہ بندر کون ہے۔ ممکن ہے یہ وہی بندر ہو جسے جنگل کے جانوروں نے اپنا حاکم بنالیا تھا۔ جب بھی کوئی کمزور جانور اپنا مسئلہ لے کر جاتا وہ اِدھر سے اُدھر چھلانگیں مارنے لگتا۔ کسی نے شکایت کی تو کہا: ”اور کیا کروں‘ دوڑ دھوپ تو کررہا ہوں“۔ تو صاحبو! خوشخبری ہو کہ عوام کے 80 فیصد مسئلے آپ سے آپ حل ہوگئے، اور یہ جو درپیش ہیں یہ شاید مسئلے ہی نہیں۔ کسی مصیبت‘ آفت اور کٹھنائی کو مسئلہ نہ سمجھنا تو آپ کے اپنے اختیار میں ہے۔
لاٹ صاحب نے یہ کہا تو کیا غلط کہا کہ رائے ونڈکے محلوں میں راج کرنے والے صرف 5 ہزار روپے ٹیکس دیتے ہیں تو کیوں نہ جناب نوازشریف کا نام بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ کی فہرست میں ڈال دیا جائے! یہی ہونا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے بے نظیر شہید اور جناب زرداری کے کھاتے بھی دیکھ لیے جائیں۔ اور وہی کیا، اس حمام میں اور بہت سے ہیں۔

مئی 10, 2010

عدالت ِ عظمیٰ پر پکّے سوروں کا حملہ

عدالت ِعظمیٰ میں این آر او پر عمل نہ ہونے کے مقدمے کی سماعت ہورہی تھی کہ تین سوروں نے عدالت ِعظمیٰ پر حملہ کردیا۔
ذرا ٹھیریے‘ آپ جو سوچ رہے ہیں وہ غلط ہے۔ بات وہ نہیں جو اس خبر کی سرخی پڑھتے ہی دماغ میں آگئی ہوگی اور لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ تین سور کون سے ہوسکتے ہیں۔ ہماری قوم نتیجہ اخذ کرنے میں بڑی جلدبازی سے کام لیتی ہے۔ بعض لوگوں نے تو نام بھی گنوانے شروع کردیے اور سب جمع کریں تو تعداد تین سے کہیں آگے بڑھ جاتی ہے۔
بات صرف اتنی ہے کہ سپریم کورٹ پر حملہ آور سور اصطلاحی معنوں میں پکے سور نہیں تھے بلکہ سچ مچ کے چار ٹانگوں والے سور تھے جن کا نام اپنی زبان پر لاتے ہوئے بڑی، بوڑھی خواتین اب بھی گریز کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس کا نام لینے سے چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔ چنانچہ ذکر کرنا ہی پڑجائے تو ” جنگل والا“ کہہ کر اپنی نمازیں بچا لیتی ہیں۔ البتہ وہ قرآن کریم جو نماز میں بھی پڑھا جاتا ہے‘ اس میں خنزیر کا ذکر ہو تو کوئی حرج نہیں کہ قرآن کریم تو بے سوچے سمجھے پڑھا جاتا ہے۔
سب بے سوچے سمجھے نہیں پڑھتے۔ ایک کاتب صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی کی بھی تحریر میں اپنی طرف سے کچھ تحریف و ترمیم ضرور کیا کرتے تھے۔کچھ عرصہ پہلے تک جب کمپوزنگ شروع نہیں ہوئی تھی تو کاتبوں کی بڑی قدر تھی اور وہ اتنے پڑھے لکھے سمجھدار ہوتے تھے کہ ایڈیٹر کو بھی مناسب مشورہ دیتے تھے۔ کسی نے ہمارے مذکورہ کاتب کو قرآن کریم کتابت کے لیے دیا اور تاکید کردی کہ دیکھنا اس میں اپنی طرف سے کچھ شامل نہ کرنا۔
کام مکمل ہوا تو احتیاطاً پوچھ لیا کہ اس میں بھی اپنی عقل تو نہیں لڑائی۔ کہنے لگے ”توبہ توبہ‘ میری کیا جرا ¿ت! البتہ جہاں خنزیر اور ابلیس کا نام آیا وہاں میں نے تھوڑی سی تبدیلی کردی۔ مقدس ترین کلام میں خنزیر اور ابلیس کا تذکرہ کیا معنی۔“
پوچھا: ”کمبخت پھر ان کی جگہ کیا کیا؟“ کہنے لگے ”خنزیر کی جگہ تو میں نے گھوڑا کردیا کہ پسندیدہ جانور ہے اور اللہ نے ہانپتے ہوئے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے، اور جہاں ابلیس اور شیطان کا ذکر تھا وہاں کہیں میں نے آپ کا اور کہیں آپ کے والد کا نام ڈال دیا۔“
خبر یہ ہے کہ جمعرات 6 مئی کو اسلام آباد ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے اہلکار عدالت ِ عظمیٰ اور ایوانِ صدر سے ملحقہ زمین سے گھاس کی کٹائی کررہے تھے کہ اچانک ایوانِ صدر کی طرف سے تین سور نکل آئے اور سب سے پہلے اس جگہ حملہ آور ہوئے جہاں برقی ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کیمرہ مین موجود تھے۔ یہ افراد این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے کی کوریج کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے۔ ان کے حملے سے دو کیمرہ مین زخمی ہوگئے۔ ٹی وی چینلز کے کیمرہ مین مشتعل افراد یا پولیس والوں کے ہاتھوں پہلے بھی زخمی ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایوانِ صدر کی طرف سے آنے والے سوروں کا نشانہ بنے۔ اس بات کی تحقیق کی جارہی ہے کہ انہوں نے کس کے اشارے پر میڈیا کے لوگوں پر ”سورانہ“ حملہ کیا۔ تاہم اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ان سوروں کی ذاتی حرکت تھی اور انہیں حکومت کی اس ناراضی سے نہ جوڑا جائے جو وہ الیکٹرانک میڈیا یا چینلز کے خلاف ظاہر کرتی رہتی ہے۔ یوں بھی اس موقع پر وہ مخصوص اینکرز موجود نہیں تھے جن کو ایوان صدر سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جنگلی سوروں نے پارکنگ ایریا میں موجود گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ جس سے لگتا ہے کہ ان سوروں تک بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ بڑے لوگوں کے لیے نئی نئی کاریں خریدی جارہی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ بھی اس بات پر برہم ہوں کہ ان کا جنگل روز بروز کم ہوتا جارہا ہے اور شہر پھیلتے جارہے ہیں۔ جنگل کا رقبہ کم ہونے سے ان کے پیٹ پر بھی لات پڑ رہی ہے۔ غربت اور ظلم سے تنگ آئے ہوئے انسان بھی سب سے پہلے گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کیا سوروں نے بھی انسان سے کچھ سیکھ لیا ہے؟ انسانوں میں تو کئی ایسے ہیں جنہوں نے سوروں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
گاڑیوں پر حملوں سے تین ڈرائیور بھی زخمی ہوئے جو وقت پر بھاگنے میں ناکام رہے۔ جو وقت پڑنے پر گاڑی بھگا کر لے جاتے ہیں ان پر خوامخواہ تنقید کی جاتی ہے۔ کیا وہ بھی زخم کھاتے؟ ان سوروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شاہراہِ دستور پر بھی نکل آئے اور عوام کو نشانہ بنایا۔ دو راہ گیر زخمی ہوئے۔ شاہراہ دستور خطرناک جگہ ہے۔ اب دستور کسی اور شاہراہ پر جاپڑا ہے۔ وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے صاف کہہ دیا کہ عدالت صدر زرداری کے سوئس اکاﺅنٹس کو بھول جائے۔ یہ”شیرِ مادر“ کیا ہوتا ہے؟ سنا ہے آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے۔
بی بی سی کا تبصرہ ہے کہ جب ایوانِ صدر کی طرف سے آئے ہوئے سور حملوں پر حملے کررہے تھے تو پولیس اور رینجرز کے مسلح اہلکار تماشا دیکھ رہے تھے اور کسی نے گولی نہیں چلائی۔ حالانکہ پولیس تو اس معاملے میں بہت تیز ہے۔ ممکن ہے وہ اس چکر میں ہو کہ ان حملہ آوروں کو پکڑ کر تھانے لے جائے اور وہاں چھترول کرے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ گولی چلا دیتی تو جنگلی حیاتیات کے تحفظ کا عالمی ادارہ ہنگامہ کردیتا۔ اہلِ مغرب کو انسانوں سے زیادہ جانوروں کی زندگی عزیز ہے اور جانور بھی سور۔ اس سے ان کا پیٹ کا رشتہ ہے۔
لوگوں کو زخمی اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرکے یہ تینوں سور ریڈیو پاکستان سے ملحقہ گرین ایریا میں روپوش ہوگئے۔ سپریم کورٹ کے وکیل نعیم صاحب نے کہا ہے کہ عدالت ِعظمیٰ ان سوروں کے خلاف سوموٹو ایکشن لے اور عوام کو سوروں سے بچائے۔ اس کے لیے ایوانِ صدر‘ وزیراعظم ہاﺅس اور عدالت ِعظمیٰ کے اطراف باڑ لگائی جائے۔ آخری اطلاعات کے مطابق عدالت نے سوروں کے خلاف سوموٹو ایکشن لے لیا ہے اور حاضری کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔ سیکریٹری قانون نے استعفیٰ دے دیا ہے اور باخبر ذرائع کے مطابق استعفے کی ایک وجہ وہ سور ہیں جو عدالت پر حملہ آور ہوئے۔

مئی 8, 2010

تاثیر کی مرسڈیز اور پنجاب کے عوام

اکبر الہ آبادی نے کہا تھا:

رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ
قوم کے غم میں ڈنر کھاتا ہے حکام کے ساتھ
لیکن یہ شعر ایسے لیڈروں کے بارے میں کہا تھا جو حکومت میں نہ ہوں۔ غالباً یہ اپوزیشن کے رہنماﺅں کے لیے ہے۔ آج کل تو ایسے لیڈر بھی ہیں جو حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ یعنی ”جناب شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی“۔ حضرت مولانا فضل الرحمن نے چند دن پہلے ایک صحافی کے سوال پر اسے اپنا کمال قرار دیا ہے۔

جہاں تک حکمرانوں اور حکام کا تعلق ہے تو ان کی پانچوں گھی میں ہیں اور عوام کا سر کڑاھی میں دے رکھا ہے، اس پر آنچ بھی دھیمی دھیمی کہ ایک دم ہی نہ جل ’بجھیں‘۔ جواز یہ کہ گیس کا پریشر کم ہے۔ پنجاب اس ملک کا سب سے زرخیز صوبہ ہے اور اس سے زیادہ زردار اس صوبے کا گورنر ہے۔ گورنر ہاﺅس کی بات تو چھوڑیے کہ یہ پُرشکوہ محل ایک سرائے ہے، لیکن خود گورنر صاحب اتنے صاحب ِحیثیت ہیں کہ ان جیسے زرداری ملک بھر میں کم ہی نکلیں گے۔ یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے کہ پرانی مرسیڈیز میں گھوم رہے ہیں۔ ہمیں نواب کالا باغ یاد آگئے۔ پورا مغربی پاکستان جب ایک صوبہ بنادیا گیا تھا وہ اس صوبے کے گورنر تھے۔ گویا موجودہ پاکستان کے حاکم اعلیٰ۔ ایک دن بڑے غصے میں گورنر ہاﺅس کے باہر ٹہل رہے تھے۔ بیٹا سرکاری گاڑی لے گیا تھا۔ جیسے ہی واپس آیا تو اسے ڈانٹنا شروع کردیا: ”یہ سرکاری گاڑی ہے، تمہارے باپ کی گاڑی نہیں، تمہیں جرآت کیسے ہوئی اسے استعمال کرنے کی!“ یہ وہ گورنر ہیں جن کے ظلم و زیادتی کی کئی داستانیں مشہور ہیں لیکن سرکاری مال میں خوردبرد کا ایک واقعہ بھی نہیں ملتا۔ اسی گورنر ہاﺅس میں آج سلمان تاثیر براجمان ہیں اور اس حکومت کا حصہ ہیں جس کی اسپیکر قومی اسمبلی کی گاڑی کے ٹائروں پر لاکھوں خرچ کردیے گئے اور پارٹی کی ترجمان نے پوچھے جانے پر فخریہ کہا کہ کیا ہماری اسپیکر سوزوکی میں سفر کریں گی۔ سوزوکی میں سفر کرنے والے شاید بہت گھٹیا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن جس صوبے اور جس ملک میں روٹی کے لالے پڑے ہیں وہاں کے حکمرانوں کی عیاشیوں کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ دنیا بھر سے بھیک مانگ رہے ہیں تاکہ حکمرانوں کی ”دال روٹی“ چلتی رہے۔ گورنر پنجاب کے لیے دو کروڑ 54 لاکھ روپے کی نئی مرسیڈیز کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس کے لیے آنے والے بجٹ سے پیشگی رقم نکال لی گئی ہے، وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ اگلا بجٹ عوام دوست ہوگا۔ عوام کے دوستوں میں چند ہی تو سرفہرست ہیں۔ سلمان تاثیر اپنی جیب سے ایسی کئی مرسیڈیز خرید سکتے ہیں لیکن جو مزہ عوام کا خون چوس کر عیش کرنے میں ہے وہ اپنے پیسے سے کہاں ملتا ہے!

یہ سب تصویریں اسی پنجاب کی ہیں۔ آج بھی خالصہ راج ہے۔ ہر تصویر منہ سے بول رہی ہے مگر عالی جناب! سب کے سب بہرے ہیں۔ بچے دھوپ میں اینٹیں بنا رہے ہیں، سرکاری پرائمری اسکول میں زمین پر بیٹھے تعلیم حاصل کررہے ہیں تاکہ بڑے ہوکر کسی گورنر، کسی وزیر کے کام آئیں، عورتیں پانی کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں اور عام آدمی بس کی چھت پر سفر کررہے ہیں، گورنر کے لیے ڈھائی کروڑ کی مرسیڈیز۔ بقول شفق ہاشمی:

تو جانِ بزم ہے، روشن ہے تیرا کاشانہ
میں کیا کروں کہ اندھیری مری گلی ہے بہت

شفق ہاشمی اپنی گلی میں ایک بلب ہی لگوا لیتے تو یہ شکوہ نہ رہتا۔ اس صورت حال پر ایک خاتون شمیم فاطمہ کہہ رہی ہیں کہ:

ہمارے پاس تو اپنے لیے اب
تسلی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
کوئی پوچھے کہ یہ تسلی دینے والے کہاں ملیں گے۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں.

مئی 5, 2010

دہی سے روٹی

وہ ہر سال چھٹیوں میں اپنے گھر آتا تھا۔ بال بچوں کی خاطر کب سے ملک سے باہر تھا۔ ایک بار آیا تو جانے کیا سوجھی، صحن میں ابا کے لائے ہوئے کھلونوں سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر پوچھ بیٹھا ”یہ فلاں کب پیدا ہوا اور فلاں کب ہوا؟“ سیدھی سادی بیوی شوہر کی سالانہ آمد کے حوالے سے حساب دیتی رہی۔ ایک بچے کا حساب نہیں مل رہا تھا تو گڑبڑا گئی۔تنک کر بولی ”بے چارہ کونے میں بیٹھا دہی سے روٹی کھا رہا ہے، تیرا کیا لیتا ہے!“

لوگ بلاوجہ سابق صدر پرویزمشرف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو امریکا کے کسی کونے میں بیٹھے دہی بلورہے ہیں۔ ان سے اب بھی یہ توقع نہیں کہ وہ دہی سے روٹی کھاتے ہوں گے۔ پاکستان میں عرصہ تک اقتدار میں رہ کر پوری قوم کا دہی بلوتے رہے اور عوام دودھ دہی سے بھی محروم ہوگئے۔ اب جمہوری حکمرانوں نے روٹی سے بھی محروم کردیا۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ پرویز مشرف اطمینان سے ایک کونے میں بیٹھے رہیں اور خط سبو پہ ڈولتے، ناچتے گاتے رہیں۔ پاکستان میں تو وہ ایک نامور گوّیے سے مقابلہ کیا کرتے تھے۔ فنکار ایسے کہ ساغرِ مے سر پر رکھ کر ٹھمکا لگاتے اور ایک قطرہ تک نہ چھلکتا۔ ناچ گانے کی محفلوں میں ان کے حواری بھی ان کا ساتھ دیتے۔ سی بی آر کے چیئرمین عبداللہ یوسف کو حکم ہوا تو وہ بھی اس بڑھاپے میں ”سانوں نہر والے پل تے بلا کے“ کی تال پر ناچے۔ اب مسلم لیگ ق والے یہی گا رہے ہیں کہ ”خورے ماہی کتھے رہ گیا۔“
داد دیجئے ان کے پرانے غمخوار اور آئی ایس پی آر کے سابق ترجمان ریٹائرڈ میجر جنرل راشد قریشی کو کہ بڑے دھڑلے سے دعویٰ کررہے ہیں کہ پورا نہیں تو آدھا پاکستان پرویز مشرف کا منتظر ہے کہ کب وہ مسیحائی کے لئے واپس آتے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی نے انہیں عزت و احترام سے اس لئے تو باہر نہیں بھجوایا کہ وہ واپس بھی آئیں۔
ان کی واپسی سے سب سے بڑا خطرہ موجودہ حکمرانوں ہی کو ہے۔ قاتل بے نقاب ہوسکتے ہیں۔ اندر خانہ یہی کہا جاتا ہے کہ کسی کونے میں بیٹھا جام سبو سے شغل کررہا ہے، کرنے دو ہمارا کیا لیتا ہے. موصوف نے اپریل کے مہینے میں 11 دن نیویارک میں گزارے اور خوب ہلا گلا کیا۔ ایک تقریب میں کوئی بوٹا شیخ ڈھول بجا رہا تھا اور پاکستان کا سابق صدر اور سابق آرمی چیف ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہا تھا۔ پرویز مشرف خوش قسمت ہیں کہ انہیں امریکا میں بھی ”بوٹے“ مل جاتے ہیں جو ان کے لئے ڈھول پیٹتے ہیں۔ پاکستان میں یہی کام راشد قریشی، بیرسٹر سیف ، فہد اور کچھ دوسرے لوگ کررہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس کُل پاکستان مسلم لیگ رجسٹرڈ ہوجائے تو جنرل صاحب جام رکھ کر سیاست کی صراحی اٹھالیں گے۔ لیکن ابھی پاکستان نہیں آسکیں گے۔
برطانوی ”صحافن“ کرسٹینا لیمب لکھتی ہیں کہ میں جب جنرل صاحب سے ملنے گئی تو وہ شراب اور سگار ساتھ پی رہے تھے اور گلوکاروں پر 50-50 پاونڈ کے نوٹ لٹارہے تھے۔ گلوکاروں کی تو موج ہوگئی۔ پاکستان میں تو وہ سو، سو روپے کے نوٹ لٹاتے تھے۔ شراب کے تذکرے پر ہمیں بھٹو صاحب کا وہ معروف جملہ یاد آگیا ”شراب پیتا ہوں، حلوہ تو نہیں کھاتا“۔ پرویزمشرف بھی غالباً حلوہ نہیں کھاتے ورنہ لندن میں موجود ان کے سابق ساتھی اور مداح جناب الطاف حسین اپنا معروف جملہ دوہراتے ”میٹھا میٹھا ہپ“۔ جناب الطاف حسین بھی کڑوا کڑوا تھو کرکے کسی کے میٹھے پر جا بیٹھے ہیں۔ کرسٹینا لیمب کو غالباً ”ویل“ دینے پر تعجب ہے کیونکہ برطانیہ اور امریکہ میں اس طرح ویل نہیں دی جاتی۔ یہ کام کسی اور طریقے سے ہوتا ہے۔ اپنے سامنے ناچنے والوں کو نوازتے تو وہ بھی ہیں۔ ہمیں تو افسوس اس پر ہے کہ ”آنجہانی “ (اب پرویز مشرف کسی اور جہان میں ہیں) جب نیویارک سے لندن جانے لگے تو ظالموں نے ان کی خدمات کاذرا بھی لحاظ نہ کیا اور جوتے، بیلٹ وغیرہ اتار کر تلاشی لی (وغیرہ کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی)۔ کبھی وہ دن بھی تھے کہ پرویزمشرف کا سب کچھ امریکیوں پر عیاں تھا، دل و دماغ تک۔ یہی نہیں بلکہ سابق خاتونِ اول محترمہ صہبا کے پرس کی تلاشی بھی لی اور چوڑیاں تک اتروالیں۔ مشرقی عورت ایک خاص موقع ہی پر اپنی چوڑیاں اتارتی ہے اور کانچ کی چوڑیوں کو توڑ ڈالتی ہے۔ اس موقع پر صہبا نے جن نظروں سے اپنے سرتاج کو دیکھا وہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے اندلس کے آخری خلیفہ کو اس کی ماں نے دیکھا تھا جب جلا وطن ہوتے ہوئے اس نے الحمرا کی شان و شوکت کو دیکھا اور آبدیدہ ہوگیا۔ ممکن ہے کہ صہبا مشرف نے کچھ کہا بھی ہو، مثلاً یہ کہ ”ہور چوبو“۔ لیکن راوی اس بارے میں خاموش ہے۔ اسی دوران یہ خبر آئی کہ ناٹو کو بھیجے جانے والے شراب سے بھرے ہوئے تیس کنٹینر چوری ہوگئے۔ اب کچی شراب پی کر مرنے والوں کی تعداد کم ہوجائے گی کیونکہ ناٹو کو پکی شراب فراہم کی جاتی ہے۔ جناب پرویز مشرف بھی ٹھرا نہیں پیتے۔ صہبا دن رات ساتھ ہے۔ دیکھیے کب موصوف پاکستان میں قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ کوئی اور حکومت این آر او جاری کرے۔ ابھی تو وہ کونے میں بیٹھے سگار اور شراب سے شغل فرما رہے ہیں، کسی کا کیا بگاڑ رہے ہیں! یہ کام وہ کرکے جاچکے۔

اپریل 27, 2010

کچرا پھینکنے کی آزادی

Filed under: سماجی سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 4:54 شام
کئی برس وطن سے باہر رہ کر یہ بھول ہی چکے تھے کہ آزادی کیا ہوتی ہے‘یہ کیسی بڑی نعمت ہے جو ہمیں میسر ہے مگر ہم اس کی قدر ہی نہیں کرتے۔ ایک کہاوت ہے”دوسرے کا گھر ‘تھوک کا بھی ڈر“ ۔ یعنی دوسرے کے گھر میں ادھر ادھر تھوکتے ہوئے بھی میزبان کی خفگی کا ڈر رہتا ہے۔اس کا احساس ہمیں سعودی عرب میں رہ کر بار ہا ہوا۔
ایک بار یوں ہوا کہ جدہ میں عزیز یہ کے چوراہے پر ہماری ٹیکسی اشارہ پر رکی ہوئی تھی کہ ہم نے اطمینان سے سگریٹ کا ٹوٹا باہر اچھا ل دیا۔ قریب کھڑی کار سے ایک سعودی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ بے چارے کو اردو نہیں آتی تھی اس لیے عربی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ گمان ہے کہ وہ ہماری اس آزادی پر برہم تھا۔ ہمیں عربی نہیں آتی تھی‘قرآن کریم بے سمجھے پڑھ ڈالتے ہیں۔ اندازہ ہوگیا تھاکہ وہ کیا کہہ رہا ہوگا۔ عربی نہ جاننے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ہم نے ایک لفظ سیکھ لیا تھا”انا آسف“ اسی سے کام چلایا۔ اشارہ کھل گیا تھا۔
جب تک سعودی عرب میں رہے محتاط ہی رہے۔پاکستان آنے کے بعد بھی چند دن تک تو یہی کیفیت رہی کہ سڑک پر ٹوٹا اچھالتے ہاتھ رکتا اور پان کی پیک تھوکتے ہوئے گلا رکتا تھا۔لیکن جلد ہی آزادی کا احساس واپس آگیا،آس پاس سب یہی کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ طارق روڈ گئے۔اپنے بچوں کو کوک کی بوتلیں اور چیپس کے پیکٹ دلوائے۔ تاکید کی کہ خالی بوتلیں اور پیکٹ باہر نہ پھینکنا۔اتر کر دکان میں گئے ‘واپس آئے تو کچرا گاڑی میں نہیں تھا۔بچوں سے پوچھاتو انہوں نے بتایا کہ ہم تو بہت دیر تک خالی بوتلیں اور پیکٹ لیے بیٹھے رہے۔ کوئی کچرا کنڈی (ڈسٹ بن) بھی نظر نہ آیا ۔لیکن آس پاس کھڑی گاڑیوں سے لوگ اپنا کچرا باہر پھینک رہے تھے ‘ہم نے بھی پھینک دیا۔
یہ ہیں آزادی کے مزے۔ہم لوگ اپنا کچرا باہر اچھال دیتے ہیں۔اب وہ خواہ کسی کے سر پر پڑے۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک خاتون نے ماسی کو تاکید کی کہ کچرا پھینکتے ہوئے کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔کافی دیر بعد ماسی واپس آئی ‘پوچھا اتنی دیر کیوں لگادی؟ بولی ‘بی بی! آپ ہی نے کہا تھا کہ کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔ شریف آدمی بڑی دیر بعد نظر آیا۔ لیکن اب وہ منہ اوپر کیے جو کچھ کہہ رہا ہے اس سے لگتا ہے پہچاننے میں غلطی ہوگئی۔
یہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ گھر کا کوڑا کرکٹ ہو یا اندر کا غبار ‘ہم سب کچھ باہر اچھال دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی کررہے ہیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔اب اے این پی کے حاجی عدیل کو دیکھ لیجئے۔ نام کے ساتھ ”حاجی ‘ شوقیہ لگا رکھا ہے یا سچ مچ خانہ کعبہ تک گئے تھے؟ انہوںنے کہا ہے کہ ”میرا ہیرو تو راجا داہر ہے‘ محمد بن قاسم نہیں“۔اس سے شبہ ہوتا کہ وہ خانہ کعبہ سے بھی خالی ہاتھ واپس آگئے۔ راجا داہر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور اس کی طر ف منہ کرکے نماز پڑھنے والوں کا سخت دشمن تھا اور محمد بن قاسم کعبہ کی حرمت کا رکھوالا‘مسلمانوں کی عزت کا محافظ۔ حاجی عدیل صاحب نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ یہی کچھ جناب الطاف حسین کے ممدوح جی ایم سید کہہ چکے ہیں۔ وہ بھی راجا داہر کو اپنا ہیرو اور محمد بن قاسم کو لٹیرا گردانتے تھے۔ پھر بھی خود کو سید کہتے تھے۔
حاجی عدیل نے حج ضرور کیا ہوگا۔ایسے ہی لوگوں کے لیے شیخ سعدی نے ایک شعر کہہ رکھا ہے۔
خر عیسیٰ اگر بہ مکہ رود
چوں بیاید ہنوز خرباشد
یعنی حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ ہو آئے تو بھی گدھا ہی رہے گا۔اپنے ملک میں ہر طرح کی آزادی ہے ۔یہ کہیں اور کہاں۔ہم نے بھی کچرا اچھا ل دیا ہے۔

اپریل 23, 2010

قریب کی نظر اور خواتین

پاکستان کی خبر ایجنسی اے پی پی نے کہیں سے نکال کر ایک تحقیق پیش کی ہے کہ خواتین میں جلن اور حسد کا مادہ ضرور ہوتا ہے اور یہ منفی جذبہ ان کی بینائی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ جب خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے شوہر دوسری عورتوں کی طرف متوجہ ہیں تو انہیں شدید جلن ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں ان کی قریب کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت متاثرہوتی ہے اور وہ صاف نہیں دیکھ پاتیں۔
اے پی پی سرکاری خبر ایجنسی ہے‘اس لیے اس کی پیش کردہ تحقیق پر آنکھ بند کرکے اعتبار کرلینا چاہیے‘یہ تحقیق کیے بغیر کہ موجودہ حکومت کی کتنی خاتون وزراءاور ارکان اسمبلی ایسی ہیں جن کو صاف نظر نہیں آتا یا صرف وہ نظر آتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ بی بی بے نظیر شہید کی قریب کی نظر تو بہت ہی گر گئی تھی۔ وجہ اس تحقیق کی روشنی میں اب سمجھ میں آئی۔ لیکن اسپیکر قومی اسمبلی ہوں یا وفاقی وزیر بہبود آبادی و منصوبہ بندی محترمہ فردوس عاشق اعوان ‘ ان کی قریب کی نظر کیوں کمزور ہے ‘اس پر اے پی پی کو تحقیق کروانی چاہیے۔
یوں تو اور بھی کچھ اہم خواتین ہیں لیکن ہمیں اس وقت دو ہی نام یاد آرہے ہیں۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان کی قریب کی نظر تو اتنی کمزور ہے کہ وہ مسلم لیگ ق میں رہ کر جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دیتی رہیں اور قریب ہونے کے باوجود اس وقت تک جنرل صاحب اور ان کی لیگ کا چہرہ صاف نظر نہیں آیا جب تک انہیں یقین نہیں ہوگیاکہ فروری 2008ءکے انتخابات میں ق لیگ اقتدار میں نہیں آرہی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کی دور کی نظر بہت تیز ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہ کدھر جھکتی ہیں۔ یہ تو یقینی بات ہے کہ وہ جس پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں گی وہی بیٹھ جائے گا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں ق لیگ کے ایک رہنما اور سابق ساتھی انہیں دیکھ کر یہ گنگنا رہے تھے“کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں“ وہ برا مان گئیں۔ پتا نہیں انسان کہنے پر یا بدل جانے کے الزام پر۔ بچوں کو پیدا ہونے سے روکنے کے محکمہ کی وزیر بی بی فردوس نے شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کو بچے مارنے کی مہم کا سفیر نامزد کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک خبر ہے کہ ”ہیجڑوں کی مدد سے فیملی پلاننگ کو فروغ دینا چاہتی ہوں‘بھارت میں آبرو باختہ عورتوں سے بہبود آبادی کاکام لیا جارہا ہے‘ممبئی کے ریڈلائٹ ایریا میں سارا دن گزار کر مفید معلومات حاصل کیں۔“ اس پر شعیب ملک اور ثانیہ مرزا اعتراض کریں تو کریں لیکن مفید معلومات کے حوالے سے بھارتی اخبارات نے فردوس عاشق کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں وہ ایک روپے کا سکہ ڈال کر خودکار مشین سے کنڈوم نکال رہی ہیں۔ انہوں نے بسہولت اور سستی دستیابی پر بھارتی حکومت کی بہت تعریف کی اور سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کی۔ ممکن ہے مشین کی درآمد یااس کی ایجنسی لینے پر بات ہوئی ہو۔
بات چلی تھی خواتین میں جلن اور حسد کے مادے اور اس کی وجہ سے قریب کی نظر کمزور ہونے سے۔اس کمزوری کی وجہ سے خواتین اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتیں۔ شوہر بھی صاف نظر نہیں آتا۔ ویسے تو چند برس بعد قریب سے کیا دور سے دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ چشمہ لگوانے سے کتراتی ہیں کہ اس سے عمر سے زیادہ یا اپنی عمر کے مطابق نظر آنے لگیں گی۔ بہ مجبوری کبھی چشمہ لگاہی لیں تو حیران ہوجاتی ہیں کہ ارے یہ ہے وہ جس کے ساتھ اتنے برس بِتا دیے۔ حسد اور جلن فطری معاملہ ہے۔اس سے مبرا پنجاب اسمبلی کی ایک رکن ہی نظر آئیں جنہوں نے اپنے شوہر کو مزید شادیاں کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ کاش…………!

اپریل 20, 2010

ملا نصرالدین اور راجا پرویز اشرف

ایک صاحب نے بڑی تشویش کے عالم میں اپنے دوست سے کہا "یار میری بیوی روزانہ ایک ہزار روپے مانگتی ہے۔” دوست نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا "آخر روزانہ اتنے پیسوں کا وہ کرتی کیا ہے؟” جواب ملا "یہ تو پتا نہیں کبھی دیے ہی نہیں”۔
ظاہر ہے کہ یہ متوسط طبقے کے لوگوں کا مکالمہ ہے جہاں ایک ہزار روپیہ بھی کبھی بڑی حیثیت رکھتا تھا۔ صدر ، وزیر اعظم اور دیگر وزرا کے روزانہ کے اخراجات کا سن کر اب آنکھیں محاورتاً بھی پٹھتی نہیں ہیںکہ گنجائش ہی نہیں رہی۔ اب تو ہر بات معمول کی بات ہوکر رہ گئی ہے۔ تاہم مذکورہ بالا لطیفہ یا "حقیقہ ” ہمیں راجا صاحب کی اپیل سن کر یاد آگیا۔
ملک میں اس وقت یوںتو کئی راجے ہیں جن میں کچھ مہاراجے بھی ہیں لیکن آج کل سب سے زیادہ شہرت جس راجے کو مل رہی ہے وہ ہیں جناب راجا پرویز اشرف۔ بڑے بھلے آدمی ہیں۔ ان کی بھلمنساہٹ اور سادگی دیکھ کر ہی انہیں پانی و بجلی کی وزارت دی گئی کہ ساری بدنامی انہی کے کھاتے میں جائے گی۔ موصوف نے بھی اتنی تاریخیں دیں کہ ایک ٹی وی چینل پر کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ جب باہر نکلتے ہیں تو لوگ "او بھائی کلینڈر” کہہ کر آواز لگاتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے اور جتنی زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اتنی ہی ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ رحمن ملک تک مقبولیت اور نیک نامی میں ان سے پیچھے چلے گئے ہیں۔ یوں بھی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کالی مرسیڈیز کے حوالے نے رحمان ملک کو پریشان کرر کھا ہے۔
یہی راجا پرویز اشرف قوم کو تلقین کررہے تھے کہ بجلی کا استعمال کم کردیں۔ تب ہمیں یہ لطیفہ یاد آگیا۔ یارو بجلی دوگے تو کم یا زیادہ کے استعمال کی بات ہوگی۔ جن علاقوں میں18، 18گھنٹے بجلی آہی نہیں رہی وہاں تو "گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی” والی صورت حال ہے۔ راجا صاحب کہہ رہے ہیںکہ یہ جو 24 گھنٹے میں سے چھ گھنٹے بجلی ملتی ہے اس میں بھی کفایت کرو۔ہم نے سنا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی اب تک پہنچی ہی نہیں ہے وہاں کے لوگوں سے بھی راجا صاحب نے اپیل کردی ہے کہ کم کم استعمال کرو۔ کسی نے توجہ دلائی تو کہا کہ یہ پیشگی انتباہ ہے۔
ہمیں لگتا ہے کہ موصوف ملا نصرالدین کے مداحوں میں سے ہیں۔ملا جی وسط ایشیا ‘ عرب اور ترکی کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ ایک بار انہوں نے بازارمیں دہی خرید کراپنے لڑکے کو پیالہ تھمایا اور تاکید کی کہ گھر لے جا لیکن خبردارگرنے نہ پائے۔ اس کے ساتھ ہی ایک تھپڑ بھی جڑدیا۔ کسی نے کہا ملاجی یہ کیا حرکت‘ ابھی تو دہی گرابھی نہیں۔ کہنے لگے نقصان ہونے کے بعد سزا دینے کا کیا فائدہ۔ سو‘ راجا صاحب بھی جہاں بجلی پہنچی نہیں وہاں پیشگی انتباہ کر رہے ہیں کہ خبردار۔ امریکی اسے ”پیشگی حملہ“ کہتے ہیں۔
بجلی ہے کہ آکر ہی نہیں دے ر ہی۔اسلام آباد میں چاروں وزرا ءاعلیٰ اور وزراءکی معیت میں” قومی توانائی کانفرنس “ ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے توانا لوگ موجود ہیں لیکن قوم میں توانائی کہا ں رہی۔ بجلی نہ ہونے سے کارخانے بند‘ کاروبار بند‘ زراعت متاثر‘ گھروں میں خواتین اور اسکولوں میں بچے پریشان۔ اس ناتواں قوم کے لیے اسلام آباد میں توانائی کانفرنس ہو رہی ہے۔ راجا صاحب کہتے ہیں کہ جو چیز ہے ہی نہیںوہ کہاں سے لائیں۔سارے الزامات حسب روایت سابق حکومت پر۔ جب جنرل پرویز مشرف ملک چھوڑ کر بھاگے تو اس وقت بجلی کی پیداواراور کھپت میں دو ہزار میگاواٹ کا فرق تھا جو راجا صاحب کی حکومت میں بڑھ کر چار ہزار سات سو میگاواٹ ہوگیا ہے۔ یعنی بجلی طلب سے کم ہے۔ راجا صاحب صرف اتنا بتادیں کہ یہ فرق بڑھ کیسے گیا۔ اتنا ہی کیا ہوتا کہ شارٹ فال اسی حد تک رہتا۔ لیکن راجا صاحب کا کہنا بھی صحیح ہے کہ جو چیز ہے ہی نہیں اسے کہاں سے لائیں۔ یعنی گڈگورننس‘ سوجھ بوجھ‘ عقل و فہم اور عوام سے ہمدردی۔
اگلا صفحہ »

Create a free website or blog at WordPress.com.