پاکستان کی خبر ایجنسی اے پی پی نے کہیں سے نکال کر ایک تحقیق پیش کی ہے کہ خواتین میں جلن اور حسد کا مادہ ضرور
ہوتا ہے اور یہ منفی جذبہ ان کی بینائی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ جب خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے شوہر دوسری عورتوں کی طرف متوجہ ہیں تو انہیں شدید جلن ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں ان کی قریب کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت متاثرہوتی ہے اور وہ صاف نہیں دیکھ پاتیں۔
ہوتا ہے اور یہ منفی جذبہ ان کی بینائی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ جب خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے شوہر دوسری عورتوں کی طرف متوجہ ہیں تو انہیں شدید جلن ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں ان کی قریب کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت متاثرہوتی ہے اور وہ صاف نہیں دیکھ پاتیں۔ اے پی پی سرکاری خبر ایجنسی ہے‘اس لیے اس کی پیش کردہ تحقیق پر آنکھ بند کرکے اعتبار کرلینا چاہیے‘یہ تحقیق کیے بغیر کہ موجودہ حکومت کی کتنی خاتون وزراءاور ارکان اسمبلی ایسی ہیں جن کو صاف نظر نہیں آتا یا صرف وہ نظر آتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ بی بی بے نظیر شہید کی قریب کی نظر تو بہت ہی گر گئی تھی۔ وجہ اس تحقیق کی روشنی میں اب سمجھ میں آئی۔ لیکن اسپیکر قومی اسمبلی ہوں یا وفاقی وزیر بہبود آبادی و منصوبہ بندی محترمہ فردوس عاشق اعوان ‘ ان کی قریب کی نظر کیوں کمزور ہے ‘اس پر اے پی پی کو تحقیق کروانی چاہیے۔
یوں تو اور بھی کچھ اہم خواتین ہیں لیکن ہمیں اس وقت دو ہی نام یاد آرہے ہیں۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان کی قریب کی نظر تو اتنی کمزور ہے کہ وہ مسلم لیگ ق میں رہ کر جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دیتی رہیں اور قریب ہونے کے باوجود اس وقت تک جنرل صاحب اور ان کی لیگ کا چہرہ صاف نظر نہیں آیا جب تک انہیں یقین نہیں ہوگیاکہ فروری 2008ءکے انتخابات میں ق لیگ اقتدار میں نہیں آرہی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کی دور کی نظر بہت تیز ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہ کدھر جھکتی ہیں۔ یہ تو یقینی بات ہے کہ وہ جس پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں گی وہی بیٹھ جائے گا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں ق لیگ کے ایک رہنما اور سابق ساتھی انہیں دیکھ کر یہ گنگنا رہے تھے“کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں“ وہ برا مان گئیں۔ پتا نہیں انسان کہنے پر یا بدل جانے کے الزام پر۔ بچوں کو پیدا ہونے سے روکنے کے محکمہ کی وزیر بی بی فردوس نے شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کو بچے مارنے کی مہم کا سفیر نامزد کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک خبر ہے کہ ”ہیجڑوں کی مدد سے فیملی پلاننگ کو فروغ دینا چاہتی ہوں‘بھارت میں آبرو باختہ عورتوں سے بہبود آبادی کاکام لیا جارہا ہے‘ممبئی کے ریڈلائٹ ایریا میں سارا دن گزار کر مفید معلومات حاصل کیں۔“ اس پر شعیب ملک اور ثانیہ مرزا اعتراض کریں تو کریں لیکن مفید معلومات کے حوالے سے بھارتی اخبارات نے فردوس عاشق کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں وہ ایک روپے کا سکہ ڈال کر خودکار مشین سے کنڈوم نکال رہی ہیں۔ انہوں نے بسہولت اور سستی دستیابی پر بھارتی حکومت کی بہت تعریف کی اور سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کی۔ ممکن ہے مشین کی درآمد یااس کی ایجنسی لینے پر بات ہوئی ہو۔
بات چلی تھی خواتین میں جلن اور حسد کے مادے اور اس کی وجہ سے قریب کی نظر کمزور ہونے سے۔اس کمزوری کی وجہ سے خواتین اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتیں۔ شوہر بھی صاف نظر نہیں آتا۔ ویسے تو چند برس بعد قریب سے کیا دور سے دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ چشمہ لگوانے سے کتراتی ہیں کہ اس سے عمر سے زیادہ یا اپنی عمر کے مطابق نظر آنے لگیں گی۔ بہ مجبوری کبھی چشمہ لگاہی لیں تو حیران ہوجاتی ہیں کہ ارے یہ ہے وہ جس کے ساتھ اتنے برس بِتا دیے۔ حسد اور جلن فطری معاملہ ہے۔اس سے مبرا پنجاب اسمبلی کی ایک رکن ہی نظر آئیں جنہوں نے اپنے شوہر کو مزید شادیاں کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ کاش…………!


