بین السطور

May 10, 2010

عدالت ِ عظمیٰ پر پکّے سوروں کا حملہ

عدالت ِعظمیٰ میں این آر او پر عمل نہ ہونے کے مقدمے کی سماعت ہورہی تھی کہ تین سوروں نے عدالت ِعظمیٰ پر حملہ کردیا۔
ذرا ٹھیریے‘ آپ جو سوچ رہے ہیں وہ غلط ہے۔ بات وہ نہیں جو اس خبر کی سرخی پڑھتے ہی دماغ میں آگئی ہوگی اور لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ تین سور کون سے ہوسکتے ہیں۔ ہماری قوم نتیجہ اخذ کرنے میں بڑی جلدبازی سے کام لیتی ہے۔ بعض لوگوں نے تو نام بھی گنوانے شروع کردیے اور سب جمع کریں تو تعداد تین سے کہیں آگے بڑھ جاتی ہے۔
بات صرف اتنی ہے کہ سپریم کورٹ پر حملہ آور سور اصطلاحی معنوں میں پکے سور نہیں تھے بلکہ سچ مچ کے چار ٹانگوں والے سور تھے جن کا نام اپنی زبان پر لاتے ہوئے بڑی، بوڑھی خواتین اب بھی گریز کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس کا نام لینے سے چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں۔ چنانچہ ذکر کرنا ہی پڑجائے تو ” جنگل والا“ کہہ کر اپنی نمازیں بچا لیتی ہیں۔ البتہ وہ قرآن کریم جو نماز میں بھی پڑھا جاتا ہے‘ اس میں خنزیر کا ذکر ہو تو کوئی حرج نہیں کہ قرآن کریم تو بے سوچے سمجھے پڑھا جاتا ہے۔
سب بے سوچے سمجھے نہیں پڑھتے۔ ایک کاتب صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی کی بھی تحریر میں اپنی طرف سے کچھ تحریف و ترمیم ضرور کیا کرتے تھے۔کچھ عرصہ پہلے تک جب کمپوزنگ شروع نہیں ہوئی تھی تو کاتبوں کی بڑی قدر تھی اور وہ اتنے پڑھے لکھے سمجھدار ہوتے تھے کہ ایڈیٹر کو بھی مناسب مشورہ دیتے تھے۔ کسی نے ہمارے مذکورہ کاتب کو قرآن کریم کتابت کے لیے دیا اور تاکید کردی کہ دیکھنا اس میں اپنی طرف سے کچھ شامل نہ کرنا۔
کام مکمل ہوا تو احتیاطاً پوچھ لیا کہ اس میں بھی اپنی عقل تو نہیں لڑائی۔ کہنے لگے ”توبہ توبہ‘ میری کیا جرا ¿ت! البتہ جہاں خنزیر اور ابلیس کا نام آیا وہاں میں نے تھوڑی سی تبدیلی کردی۔ مقدس ترین کلام میں خنزیر اور ابلیس کا تذکرہ کیا معنی۔“
پوچھا: ”کمبخت پھر ان کی جگہ کیا کیا؟“ کہنے لگے ”خنزیر کی جگہ تو میں نے گھوڑا کردیا کہ پسندیدہ جانور ہے اور اللہ نے ہانپتے ہوئے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے، اور جہاں ابلیس اور شیطان کا ذکر تھا وہاں کہیں میں نے آپ کا اور کہیں آپ کے والد کا نام ڈال دیا۔“
خبر یہ ہے کہ جمعرات 6 مئی کو اسلام آباد ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے اہلکار عدالت ِ عظمیٰ اور ایوانِ صدر سے ملحقہ زمین سے گھاس کی کٹائی کررہے تھے کہ اچانک ایوانِ صدر کی طرف سے تین سور نکل آئے اور سب سے پہلے اس جگہ حملہ آور ہوئے جہاں برقی ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کیمرہ مین موجود تھے۔ یہ افراد این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے کی کوریج کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے۔ ان کے حملے سے دو کیمرہ مین زخمی ہوگئے۔ ٹی وی چینلز کے کیمرہ مین مشتعل افراد یا پولیس والوں کے ہاتھوں پہلے بھی زخمی ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایوانِ صدر کی طرف سے آنے والے سوروں کا نشانہ بنے۔ اس بات کی تحقیق کی جارہی ہے کہ انہوں نے کس کے اشارے پر میڈیا کے لوگوں پر ”سورانہ“ حملہ کیا۔ تاہم اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ان سوروں کی ذاتی حرکت تھی اور انہیں حکومت کی اس ناراضی سے نہ جوڑا جائے جو وہ الیکٹرانک میڈیا یا چینلز کے خلاف ظاہر کرتی رہتی ہے۔ یوں بھی اس موقع پر وہ مخصوص اینکرز موجود نہیں تھے جن کو ایوان صدر سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جنگلی سوروں نے پارکنگ ایریا میں موجود گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ جس سے لگتا ہے کہ ان سوروں تک بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ بڑے لوگوں کے لیے نئی نئی کاریں خریدی جارہی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ بھی اس بات پر برہم ہوں کہ ان کا جنگل روز بروز کم ہوتا جارہا ہے اور شہر پھیلتے جارہے ہیں۔ جنگل کا رقبہ کم ہونے سے ان کے پیٹ پر بھی لات پڑ رہی ہے۔ غربت اور ظلم سے تنگ آئے ہوئے انسان بھی سب سے پہلے گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کیا سوروں نے بھی انسان سے کچھ سیکھ لیا ہے؟ انسانوں میں تو کئی ایسے ہیں جنہوں نے سوروں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
گاڑیوں پر حملوں سے تین ڈرائیور بھی زخمی ہوئے جو وقت پر بھاگنے میں ناکام رہے۔ جو وقت پڑنے پر گاڑی بھگا کر لے جاتے ہیں ان پر خوامخواہ تنقید کی جاتی ہے۔ کیا وہ بھی زخم کھاتے؟ ان سوروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شاہراہِ دستور پر بھی نکل آئے اور عوام کو نشانہ بنایا۔ دو راہ گیر زخمی ہوئے۔ شاہراہ دستور خطرناک جگہ ہے۔ اب دستور کسی اور شاہراہ پر جاپڑا ہے۔ وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے صاف کہہ دیا کہ عدالت صدر زرداری کے سوئس اکاﺅنٹس کو بھول جائے۔ یہ”شیرِ مادر“ کیا ہوتا ہے؟ سنا ہے آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے۔
بی بی سی کا تبصرہ ہے کہ جب ایوانِ صدر کی طرف سے آئے ہوئے سور حملوں پر حملے کررہے تھے تو پولیس اور رینجرز کے مسلح اہلکار تماشا دیکھ رہے تھے اور کسی نے گولی نہیں چلائی۔ حالانکہ پولیس تو اس معاملے میں بہت تیز ہے۔ ممکن ہے وہ اس چکر میں ہو کہ ان حملہ آوروں کو پکڑ کر تھانے لے جائے اور وہاں چھترول کرے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ گولی چلا دیتی تو جنگلی حیاتیات کے تحفظ کا عالمی ادارہ ہنگامہ کردیتا۔ اہلِ مغرب کو انسانوں سے زیادہ جانوروں کی زندگی عزیز ہے اور جانور بھی سور۔ اس سے ان کا پیٹ کا رشتہ ہے۔
لوگوں کو زخمی اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرکے یہ تینوں سور ریڈیو پاکستان سے ملحقہ گرین ایریا میں روپوش ہوگئے۔ سپریم کورٹ کے وکیل نعیم صاحب نے کہا ہے کہ عدالت ِعظمیٰ ان سوروں کے خلاف سوموٹو ایکشن لے اور عوام کو سوروں سے بچائے۔ اس کے لیے ایوانِ صدر‘ وزیراعظم ہاﺅس اور عدالت ِعظمیٰ کے اطراف باڑ لگائی جائے۔ آخری اطلاعات کے مطابق عدالت نے سوروں کے خلاف سوموٹو ایکشن لے لیا ہے اور حاضری کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔ سیکریٹری قانون نے استعفیٰ دے دیا ہے اور باخبر ذرائع کے مطابق استعفے کی ایک وجہ وہ سور ہیں جو عدالت پر حملہ آور ہوئے۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.