بین السطور

May 8, 2010

تاثیر کی مرسڈیز اور پنجاب کے عوام

اکبر الہ آبادی نے کہا تھا:

رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ
قوم کے غم میں ڈنر کھاتا ہے حکام کے ساتھ
لیکن یہ شعر ایسے لیڈروں کے بارے میں کہا تھا جو حکومت میں نہ ہوں۔ غالباً یہ اپوزیشن کے رہنماﺅں کے لیے ہے۔ آج کل تو ایسے لیڈر بھی ہیں جو حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن میں بھی۔ یعنی ”جناب شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی“۔ حضرت مولانا فضل الرحمن نے چند دن پہلے ایک صحافی کے سوال پر اسے اپنا کمال قرار دیا ہے۔

جہاں تک حکمرانوں اور حکام کا تعلق ہے تو ان کی پانچوں گھی میں ہیں اور عوام کا سر کڑاھی میں دے رکھا ہے، اس پر آنچ بھی دھیمی دھیمی کہ ایک دم ہی نہ جل ’بجھیں‘۔ جواز یہ کہ گیس کا پریشر کم ہے۔ پنجاب اس ملک کا سب سے زرخیز صوبہ ہے اور اس سے زیادہ زردار اس صوبے کا گورنر ہے۔ گورنر ہاﺅس کی بات تو چھوڑیے کہ یہ پُرشکوہ محل ایک سرائے ہے، لیکن خود گورنر صاحب اتنے صاحب ِحیثیت ہیں کہ ان جیسے زرداری ملک بھر میں کم ہی نکلیں گے۔ یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے کہ پرانی مرسیڈیز میں گھوم رہے ہیں۔ ہمیں نواب کالا باغ یاد آگئے۔ پورا مغربی پاکستان جب ایک صوبہ بنادیا گیا تھا وہ اس صوبے کے گورنر تھے۔ گویا موجودہ پاکستان کے حاکم اعلیٰ۔ ایک دن بڑے غصے میں گورنر ہاﺅس کے باہر ٹہل رہے تھے۔ بیٹا سرکاری گاڑی لے گیا تھا۔ جیسے ہی واپس آیا تو اسے ڈانٹنا شروع کردیا: ”یہ سرکاری گاڑی ہے، تمہارے باپ کی گاڑی نہیں، تمہیں جرآت کیسے ہوئی اسے استعمال کرنے کی!“ یہ وہ گورنر ہیں جن کے ظلم و زیادتی کی کئی داستانیں مشہور ہیں لیکن سرکاری مال میں خوردبرد کا ایک واقعہ بھی نہیں ملتا۔ اسی گورنر ہاﺅس میں آج سلمان تاثیر براجمان ہیں اور اس حکومت کا حصہ ہیں جس کی اسپیکر قومی اسمبلی کی گاڑی کے ٹائروں پر لاکھوں خرچ کردیے گئے اور پارٹی کی ترجمان نے پوچھے جانے پر فخریہ کہا کہ کیا ہماری اسپیکر سوزوکی میں سفر کریں گی۔ سوزوکی میں سفر کرنے والے شاید بہت گھٹیا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن جس صوبے اور جس ملک میں روٹی کے لالے پڑے ہیں وہاں کے حکمرانوں کی عیاشیوں کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ دنیا بھر سے بھیک مانگ رہے ہیں تاکہ حکمرانوں کی ”دال روٹی“ چلتی رہے۔ گورنر پنجاب کے لیے دو کروڑ 54 لاکھ روپے کی نئی مرسیڈیز کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس کے لیے آنے والے بجٹ سے پیشگی رقم نکال لی گئی ہے، وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ اگلا بجٹ عوام دوست ہوگا۔ عوام کے دوستوں میں چند ہی تو سرفہرست ہیں۔ سلمان تاثیر اپنی جیب سے ایسی کئی مرسیڈیز خرید سکتے ہیں لیکن جو مزہ عوام کا خون چوس کر عیش کرنے میں ہے وہ اپنے پیسے سے کہاں ملتا ہے!

یہ سب تصویریں اسی پنجاب کی ہیں۔ آج بھی خالصہ راج ہے۔ ہر تصویر منہ سے بول رہی ہے مگر عالی جناب! سب کے سب بہرے ہیں۔ بچے دھوپ میں اینٹیں بنا رہے ہیں، سرکاری پرائمری اسکول میں زمین پر بیٹھے تعلیم حاصل کررہے ہیں تاکہ بڑے ہوکر کسی گورنر، کسی وزیر کے کام آئیں، عورتیں پانی کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں اور عام آدمی بس کی چھت پر سفر کررہے ہیں، گورنر کے لیے ڈھائی کروڑ کی مرسیڈیز۔ بقول شفق ہاشمی:

تو جانِ بزم ہے، روشن ہے تیرا کاشانہ
میں کیا کروں کہ اندھیری مری گلی ہے بہت

شفق ہاشمی اپنی گلی میں ایک بلب ہی لگوا لیتے تو یہ شکوہ نہ رہتا۔ اس صورت حال پر ایک خاتون شمیم فاطمہ کہہ رہی ہیں کہ:

ہمارے پاس تو اپنے لیے اب
تسلی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
کوئی پوچھے کہ یہ تسلی دینے والے کہاں ملیں گے۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں.

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.