بین السطور

June 18, 2010

ہوائے ترک تعلقات

جوتیوں میں دال بٹنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ پرانے وقتوں کی کہاوت ہے۔ اب دال ایسی سستی نہیں کہ جوتیوں میں تو کیا‘ڈونگوں ‘ پیالوں‘ قابوں اور رکابیوں میں بھی بانٹی جاسکے۔ اس عوامی دور حکومت کے گزشتہ ایک سال میں دالیں سو سے دو سو فیصد تک مہنگی ہوئی ہیں۔ اب تو سوغات کے طور پر ہی بانٹی جاسکتی ہے۔ اچھا ہے‘ جوتے ہی کون سے سستے ہیں کہ دال کے ساتھ وہ بھی جائیں۔ یہ تو اب عوام پر برسنے کے لیے رہ گئے ہیں۔
اتحادیوں کی حکومت ہے اور اتحادہی غائب ہے۔ اب اتحاد صرف اک ایئر لائن کے نام پر رہ گیا ہے یا پھر فسادیوں میں نظر آتا ہے وگرنہ حکمران اتحادیوں میں تو عدم اتحاد پر اتحاد ہے۔ پنجاب میں میثاق جمہوریت کے دو بڑے دستخط کنندگان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں اقتدار کی حد تک میثاق ہے‘ جمہوریت کا تو کہیں بھی نام و نشان نہیں۔ قومی اسمبلی میں فرینڈلی اپوزیشن کے نمائندہ چودھری نثار علی خان نے چیلنج دے دیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت میں کوئی خرابی ہے تو پیپلزپارٹی الگ ہوجائے یعنی ”تو روکا ہے کس نے چلی جائے نا۔“
قومی اسمبلی میں بحث تو بجٹ پر اور وفاقی معاملات پر ہورہی تھی لیکن بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر کے مصداق جب وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید ہوگی تو وہ جواب میں ن لیگ کی پنجاب حکومت ہی پر تنقید کرے گی۔ تم تو ہمیں کو کہتے ہو‘ یہ تم کو کیا ہوا۔ اب پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں شریک اقتدار ہیں۔ تاہم حصہ بقدر جثہّ کے مطابق ۔ جب پنجاب حکومت پر زد پڑی تو نثار علی خان کو کہنا پڑا کہ قومی اسمبلی میں پنجاب حکومت کو طعنے نہ دیے جائیں ورنہ تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں۔ ہتھیاروں سے ان کا مطلب یقیناً ٹی ٹی اور کلاشنکوف سے نہیں ہوگا۔ ان کی دلیل تھی کہ اگر پنجاب حکومت میں خرابی ہے تو پیپلزپارٹی بھی اس میں حصہ دار ہے۔ الطاف حسین ہوتے تو اس موقع پر اپنا مشہور جملہ دوہراتے‘ میٹھا میٹھا ہپ ‘کڑوا کڑوا تھو۔ نثار علی خان نے دعوت مبارزت دی کہ پیپلزپارٹی میں ہمت ہے تو پنجاب حکومت سے الگ ہوکر دکھائے‘ کس نے روکا ہے۔
 کم از کم اس معاملہ میں تو ن لیگ بازی لے جاچکی ہے۔ اس نے وفاقی حکومت سے الگ ہوکر دکھادیا۔ قومی اسمبلی میں پنجاب کے بجٹ پر جوابی اعتراض ہوا تو نثار علی خان نے نہلے پر دہلا مارا کہ پنجاب حکومت کا بجٹ تو پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ ہی نے بنایا ہے۔ اس طرح وہ بھی عوام دوست ہی ہوگا۔ ان کی یہ بات تو معقول ہے کہ پنجاب حکومت پر اعتراضات پنجاب اسمبلی میں کیے جائیں۔ اگر یہاں پنجاب اسمبلی کی بات ہوگی تو پھر سندھ اسمبلی کی بات بھی ہوگی۔
شاید نثار علی خان کے چیلنج کے اثرات ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفے طلب کرلیے ہیں۔ لیکن یہ چائے کی پیالی میں طوفان ہے اور پیالی بھی وہ جو خالی ہے‘ چائے کون سی سستی ہے۔ تازہ ترین صورتحال تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی نے یہ کہہ کر استعفے دینے سے انکار کردیا ہے کہ ہمیں تو بی بی شہید نے ٹکٹ دیے تھے اور ہم بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ یعنی ان سے استعفے بی بی صاحبہ ہی لے سکتی تھیں۔ مرحومہ یہ کام اتنی تاخیر سے نہیں کرتی تھیں بلکہ پہلے ہی استعفے لے کر اپنے بیگ میں رکھ لیتی تھیں کہ وقت ضرورت کام آئیں۔(فوزیہ بی بی کہتی ہیں ہم نے بھی یہی کام کیا ہی)
پنجاب کا سب سے دلچسپ اور توجہ طلب کردار گورنر سلمان تاثیر کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن والے جب بھی گورنر ہاﺅس کی طرف دیکھیں گے انہیں گورنر سلمان تاثیر ہی نظر آئے گا‘ صدر بھی آصف زرداری ہی رہیں گے‘ ن لیگ کی باری تب آئے گی جب ہمارے بچے جوان ہوچکے ہوں گے۔ حیرت ہے کہ گورنر صاحب کے بچے اتنے بڑے ہونے کے باوجود اب تک جوان نہیں ہوئے۔ ان کی سکھ ”بیوی“ سے پیدا ہونے والا آتش تاثیر تو کب کا اپنی جوانی کا ثبوت دے چکا ہے۔ جب بیٹا باپ کے منہ آنے لگے اور اس کا کچا چٹھہ کھولنے لگے تو اس کے جوان ہونے میں بلکہ بہت جوان میں کوئی شک نہیں رہتا۔
جناب سلمان تاثیر نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے پنجاب کارڈ چھین لیا ہے۔ اس چھینا جھپٹی کی تو ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی۔ ایک بار ہمارا بھی کارڈ پورے بٹوے کے ساتھ چھینا جاچکا ہے۔ ہم اب تک یہی سوچ رہے تھے کہ اُچکے کا تعلق کس سے تھا۔ گورنر صاحب کا کہنا ہے کہ پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ لا اینڈ آرڈر کا ہے لیکن شواہد اور نظائر موجود ہیں کہ گورنر صاحب کا اپنا سب سے برا مسئلہ لا منسٹر رانا ثنا اللہ ہیں جن کی وجہ سے گورنر صاحب کو بہت نیچے جھکنا پڑتا ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ پرویز مشرف کی باقیات کو سندھ میں لا اینڈ آڈر کا مسئلہ نظر نہیں آتا جہاں پیپلزپارٹی اور متحدہ کی متحدہ حکومت ہے اور قاتل بھی متحد ہیں۔
ہوائے ترک تعلقات کب سے چل رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ سرفہرست ہے اور اب سے نہیں بہت پہلے سے۔ بار بار علیحدہ ہونے اور ترک تعلق کی دھمکیاں دے چکی ہے مگر اسی تنخواہ پر کام کررہی ہے۔ لیکن نہیں‘ شاید ہر دھمکی پر تنخواہ بڑھ جاتی ہو۔ یہی وتیرہ جمعیت علماءاسلام نے اختیار کرلیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی بار بار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک ہی دن دو خبریں تھیں۔ ایک میں حکومت سے علیحدگی کا عندیہ اور دوسری خبر یہ کہ حکومت سے معاملات طے پاگئے‘ مطالبات مان لیے گئے اور اب سب کچھ ٹھیک ہے۔ جے یو آئی کا مطالبہ تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی اس کو دی جائے اور مولانا شیرانی کو چیئرمین بنایا جائے۔ مولانا شیرانی بھلے آدمی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل (مرحومہ)میں تھے توجنرل پرویز مشرف سے بھی اچھے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ترک تعلق اچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔ صلہ رحمی کا صلہ بھی ملتا ہے۔ جمعیت علماءاسلام وضع دار جماعت ہے۔ گزشتہ دنوں اس کے وزراءنے وفاقی کابینہ سے احتجاجاً واک آﺅٹ کرکے مثال قائم کی تو اس پر وزیراعظم گیلانی جیسے شخص کو بھی جلال آگیا اور بول پڑے جارہے ہو تو استعفیٰ دے کر جاﺅ۔ لیکن جے یو آئی کے رہنماﺅں میں تحمل و برداشت بہت ہے۔ یہ سوچ کر ٹال دیا کہ شاید کی اور سے کہا جارہا ہے۔
 یہ جو مختلف جماعتیں باربار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکیاں دے رہی ہیں اس پر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کہیں ایک دن خود پیپلزپارٹی ہی دھمکی نہ دے بیٹھے کہ جاﺅ‘ ہم نہیں کھیلتے۔ اس صورتحال پر شعیب بن عزیز کا شعر یاد آتا ہے۔ لکھا رکھا ہے عہد ترک الفت مگر دل دستخط کرتا نہیں ہی ”حجتاں ڈھیر“ کی بھی تو کوئی کہاوت ہے۔
—————————————————————-
یہ مضمون آج کے جسارت میں بطور کالم شائع ہوچکا ہے۔ بلاگ کی پالیسی کے مطابق صرف خاص برائے بلاگ تحریریں شائع ہوں گی تاہم ہاشمی صاحب کے کئی مداحوں کے پرزور اصرار پر اس رول میں نرمی کی گئی ہے۔ اب شائع شدہ کلام وضاحت کے ساتھ شائع کیے جائیں گے۔ شکریہ ایڈمن “بین السطور”
بلاگ کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.