بین السطور

June 17, 2010

طوفان اور سیاست دان

رئوف طاہر بڑےسینئر صحافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حمید اختر یا عباس اطہر کی عمر کےہیں۔ ہمارےپرانےساتھی ہیں۔ ایک عرصےتک لاہور سےجسارت کی نمائندگی کرتےرہے، پھر مجیب الرحمن شامی کو پیارےہوگئے۔ جدہ میں برسوں ساتھ رہا۔ میاں نوازشریف جدہ پہنچےتو ہم نےشہر خالی کردیا۔ رئوف طاہر نےغریب الوطن امیر کی دلدہی جی جان سےکی۔ رئوف طاہر لاہور واپس آگئےہیں اور اب شریف برادران پر لازم ہےکہ دل داری کریں۔
رئوف طاہر کو ہم بھولتےتو نہیں ہیں لیکن چند دن سےوہ اس لیےیاد آرہےہیں کہ انہوں نےایک دلچسپ ایس ایم ایس بھیجا ہےجو ہمارےموبائل میں محفوظ ہےاور اُس وقت تک رہےگا جب تک موبائل کسی اور کو پسند نہیں آجاتا۔
پیٹ (phet) نامی طوفان بھی جمہوری حکومت کی آمد کی طرح کا شور مچاتا ہوا آیا تھا لیکن گرد ِ کارواں کی طرح سمٹ گیا، تاہم یادیں چھوڑ گیا۔ اس کی یاد رئوف طاہر نےبڑےدلچسپ انداز میں تازہ کی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ ”طوفان کی آمد کی خبر پر عمران خان نےچیف جسٹس سےمطالبہ کیا کہ اس کا سوموٹو ایکشن لیا جائے‘ جماعت اسلامی نےاسےبلیک واٹر کی سازش قرار دیا‘ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی تحقیق یہ تھی کہ اس کی سازش وزیرستان میں تحریک طالبان نےتیار کی ہے، صدر زرداری کےزوردار مشیر خاص نے‘ جو اب زبان کھینچ لینےکی دھمکیاں بھی دینےلگےہیں‘ طوفان کےٹل جانےکو صدر زرداری کی بہترین حکمت عملی قرار دیا۔ محترمہ فوزیہ وہاب نےاسےبےنظیر بھٹو شہید کےخواب کی تعبیر قرار دیا۔ لندن والےالطاف حسین نےطوفان کی شدید مذمت کی اور یہ شکوہ دوہرایا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مسلم لیگ ق کےبڑےچودھری جناب شجاعت نےاپنےتاثرات دیتےہوئےکہا کہ مجھےتو پہلےہی معلوم تھا کہ طوفان سےکچھ نہیں ہوگا اس لیےلسّی شسّی پی کر سوگیا تھا۔“
رئوف طاہر کا یہ طوفانی تبصرہ بہت دلچسپ ہےلیکن اس میں ایک بڑی کمی رہ گئی ہے۔ انہوں نےجدہ میں میزبانی کا لحاظ کرتےہوئےیہاں بھی میاں برادران کےتاثرات پیش کرنےسےگریز کیا ہے۔ حالانکہ ان کی دیرینہ خدمات ایسی ہیں کہ ایک آدھ جملہ ان سےمنسوب کرنےسےکوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ میاں برادران تو بڑےظرف والےہیں اور گجرات کےچودھریوں کےسوا سب ان کےبھائی اور ملک و ملت کا سرمایہ ہیں خواہ وہ اللہ اور رسول کےباغی قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر چودھری شجاعت لسّی پی کر سورہےتھےتو ممکن ہےکہ میاں صاحب Last Supper سمجھ کو سری پائےپر ٹوٹ پڑےہوں۔ سری کی ضرورت بھی بہت ہے۔
رئوف طاہر کا یہ ایس ایم ایس پڑھ کر ایک اور صاحب نےتبصرہ کیا ہےکہ میاں صاحب نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر بےساختہ کہا کہ ہمیں کوئی خطرہ نہیں‘ ہم فرینڈلی اپوزیشن ہیں، جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچنےدیں گے۔ انہوں نےفوری طور پر چودھری نثار علی خاں کو فون کیا کہ اس مسئلےپر پارلیمنٹ میں گرماگرم بیان دیا جائےاور یہ بھی دیکھا جائےکہ میثاقِ جمہوریت میں اس کےبارےمیں کیا طےہوا ہے۔
چھوٹےمیاں صاحب نےطوفان کو گورنر پنجاب کی سازش قرار دیا اور اعلان کیاکہ سستی روٹی کا منصوبہ جاری رہےگا۔ جبکہ سلمان تاثیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت ہوتےہوئےپنجاب کو کسی اور طوفان سےکوئی خطرہ نہیں۔ سلمان تاثیر نےعزم ظاہر کیا کہ وہ سمندر کو کراچی سےاٹھا کر لاہور لاکر رہیں گےپھر پیپلزپارٹی کےجیالےجئےبھٹو کےنعرےلگا کر ہر طوفان کا رُخ موڑ دیں گی۔ اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ رانا ثنااللہ سےاستعفیٰ لیا جائے‘ وہ لاہور کو لاڑکانہ بنانےکےمنصوبےمیں رکاوٹ ہے۔
اور بھی بہت سےسیاست دان ہیں جو رئوف طاہر کو یاد نہیں آئےیا طوالت کےخوف سےایسےگریز کیا جیسےپیپلزپارٹی اپنا اقتدار طویل ہونےکےڈر سےہر بار ایسےاقدامات کرتی ہےکہ زیادہ عرصہ تک اسےذمہ داری کا بوجھ سنبھالنا نہ پڑی۔ پاکستان کےاہم ترین سیاستدان پیر صاحب پگارا شریف نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر پہلےتو چھت پر چڑھنےکی کوشش کی تاکہ ستاروں کی چال دیکھی جائے، پھر اپنےگھوڑوں کی چال دیکھنےکےلیےاصطبل میں چلےگئے۔ پچھلےدنوں ان کےپانچوں گھوڑوں نےریس جیت لی۔ سنا ہےکہ انہوں نےایک گھوڑےکا نام ”پیٹ“ رکھنےکا ارادہ بدل دیا، کیوں کہ وہ راستہ بدل دیتا ہے۔
ایک سیاستدان اسفندیار ولی بھی ہیں۔ طوفان کی خبر پر اُن کا کہنا تھا کہ وہ اگر خیبر پختون خوا تک پہنچا تو اےاین پی پیپلز پارٹی سےاتحاد ختم کردےگی کیوں کہ یہی طےہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارےہوتےہوئےاس خطےمیں کوئی اور نہیں آسکتا۔ انہوں نےکہا کہ ہم تو قہوےکی پیالی میں بھی طوفان اٹھا دیتےہیں‘ جس طرح یہ طوفان ٹلا ہےاسی طرح ہزارہ صوبےکا مطالبہ بھی ٹل جائےگا۔
مولانا فضل الرحمن کا ہم بہت زیادہ احترام کرتےہیں اس لیےاُن کا ردعمل دینےسےگریز کریں گے۔ یوں بھی وہ الطاف حسین کی طرح حکومت سےالگ ہونےکی دھمکیاں دیتےرہتےہیں چنانچہ ممکن ہےکہ طوفان کےحوالےسےبھی دونوں کےخیالات ایک سےہوں۔ حکومت نےان کےمطالبات مان لیےہیں‘ اب ملک میں خواہ کوئی بھی طوفان آئے۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.