بین السطور

April 20, 2010

ملا نصرالدین اور راجا پرویز اشرف

ایک صاحب نے بڑی تشویش کے عالم میں اپنے دوست سے کہا “یار میری بیوی روزانہ ایک ہزار روپے مانگتی ہے۔” دوست نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا “آخر روزانہ اتنے پیسوں کا وہ کرتی کیا ہے؟” جواب ملا “یہ تو پتا نہیں کبھی دیے ہی نہیں”۔
ظاہر ہے کہ یہ متوسط طبقے کے لوگوں کا مکالمہ ہے جہاں ایک ہزار روپیہ بھی کبھی بڑی حیثیت رکھتا تھا۔ صدر ، وزیر اعظم اور دیگر وزرا کے روزانہ کے اخراجات کا سن کر اب آنکھیں محاورتاً بھی پٹھتی نہیں ہیںکہ گنجائش ہی نہیں رہی۔ اب تو ہر بات معمول کی بات ہوکر رہ گئی ہے۔ تاہم مذکورہ بالا لطیفہ یا “حقیقہ ” ہمیں راجا صاحب کی اپیل سن کر یاد آگیا۔
ملک میں اس وقت یوںتو کئی راجے ہیں جن میں کچھ مہاراجے بھی ہیں لیکن آج کل سب سے زیادہ شہرت جس راجے کو مل رہی ہے وہ ہیں جناب راجا پرویز اشرف۔ بڑے بھلے آدمی ہیں۔ ان کی بھلمنساہٹ اور سادگی دیکھ کر ہی انہیں پانی و بجلی کی وزارت دی گئی کہ ساری بدنامی انہی کے کھاتے میں جائے گی۔ موصوف نے بھی اتنی تاریخیں دیں کہ ایک ٹی وی چینل پر کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ جب باہر نکلتے ہیں تو لوگ “او بھائی کلینڈر” کہہ کر آواز لگاتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے اور جتنی زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اتنی ہی ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ رحمن ملک تک مقبولیت اور نیک نامی میں ان سے پیچھے چلے گئے ہیں۔ یوں بھی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کالی مرسیڈیز کے حوالے نے رحمان ملک کو پریشان کرر کھا ہے۔
یہی راجا پرویز اشرف قوم کو تلقین کررہے تھے کہ بجلی کا استعمال کم کردیں۔ تب ہمیں یہ لطیفہ یاد آگیا۔ یارو بجلی دوگے تو کم یا زیادہ کے استعمال کی بات ہوگی۔ جن علاقوں میں18، 18گھنٹے بجلی آہی نہیں رہی وہاں تو “گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی” والی صورت حال ہے۔ راجا صاحب کہہ رہے ہیںکہ یہ جو 24 گھنٹے میں سے چھ گھنٹے بجلی ملتی ہے اس میں بھی کفایت کرو۔ہم نے سنا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی اب تک پہنچی ہی نہیں ہے وہاں کے لوگوں سے بھی راجا صاحب نے اپیل کردی ہے کہ کم کم استعمال کرو۔ کسی نے توجہ دلائی تو کہا کہ یہ پیشگی انتباہ ہے۔
ہمیں لگتا ہے کہ موصوف ملا نصرالدین کے مداحوں میں سے ہیں۔ملا جی وسط ایشیا ‘ عرب اور ترکی کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ ایک بار انہوں نے بازارمیں دہی خرید کراپنے لڑکے کو پیالہ تھمایا اور تاکید کی کہ گھر لے جا لیکن خبردارگرنے نہ پائے۔ اس کے ساتھ ہی ایک تھپڑ بھی جڑدیا۔ کسی نے کہا ملاجی یہ کیا حرکت‘ ابھی تو دہی گرابھی نہیں۔ کہنے لگے نقصان ہونے کے بعد سزا دینے کا کیا فائدہ۔ سو‘ راجا صاحب بھی جہاں بجلی پہنچی نہیں وہاں پیشگی انتباہ کر رہے ہیں کہ خبردار۔ امریکی اسے ”پیشگی حملہ“ کہتے ہیں۔
بجلی ہے کہ آکر ہی نہیں دے ر ہی۔اسلام آباد میں چاروں وزرا ءاعلیٰ اور وزراءکی معیت میں” قومی توانائی کانفرنس “ ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے توانا لوگ موجود ہیں لیکن قوم میں توانائی کہا ں رہی۔ بجلی نہ ہونے سے کارخانے بند‘ کاروبار بند‘ زراعت متاثر‘ گھروں میں خواتین اور اسکولوں میں بچے پریشان۔ اس ناتواں قوم کے لیے اسلام آباد میں توانائی کانفرنس ہو رہی ہے۔ راجا صاحب کہتے ہیں کہ جو چیز ہے ہی نہیںوہ کہاں سے لائیں۔سارے الزامات حسب روایت سابق حکومت پر۔ جب جنرل پرویز مشرف ملک چھوڑ کر بھاگے تو اس وقت بجلی کی پیداواراور کھپت میں دو ہزار میگاواٹ کا فرق تھا جو راجا صاحب کی حکومت میں بڑھ کر چار ہزار سات سو میگاواٹ ہوگیا ہے۔ یعنی بجلی طلب سے کم ہے۔ راجا صاحب صرف اتنا بتادیں کہ یہ فرق بڑھ کیسے گیا۔ اتنا ہی کیا ہوتا کہ شارٹ فال اسی حد تک رہتا۔ لیکن راجا صاحب کا کہنا بھی صحیح ہے کہ جو چیز ہے ہی نہیں اسے کہاں سے لائیں۔ یعنی گڈگورننس‘ سوجھ بوجھ‘ عقل و فہم اور عوام سے ہمدردی۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.