وہ ہر سال چھٹیوں میں اپنے گھر آتا تھا۔ بال بچوں کی خاطر کب سے ملک سے باہر تھا۔ ایک بار آیا تو جانے کیا سوجھی، صحن میں ابا کے لائے ہوئے کھلونوں سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر پوچھ بیٹھا ”یہ فلاں کب پیدا ہوا اور فلاں کب ہوا؟“ سیدھی سادی بیوی شوہر کی سالانہ آمد کے حوالے سے حساب دیتی رہی۔ ایک بچے کا حساب نہیں مل رہا تھا تو گڑبڑا گئی۔تنک کر بولی ”بے چارہ کونے میں بیٹھا دہی سے روٹی کھا رہا ہے، تیرا کیا لیتا ہے!“
لوگ بلاوجہ سابق صدر پرویزمشرف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو امریکا کے کسی کونے میں بیٹھے دہی بلورہے ہیں۔ ان سے اب بھی یہ توقع نہیں کہ وہ دہی سے روٹی کھاتے ہوں گے۔ پاکستان میں عرصہ تک اقتدار میں رہ کر پوری قوم کا دہی بلوتے رہے اور عوام دودھ دہی سے بھی محروم ہوگئے۔ اب جمہوری حکمرانوں نے روٹی سے بھی محروم کردیا۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ پرویز مشرف اطمینان سے ایک کونے میں بیٹھے رہیں اور خط سبو پہ ڈولتے، ناچتے گاتے رہیں۔ پاکستان میں تو وہ ایک نامور گوّیے سے مقابلہ کیا کرتے تھے۔ فنکار ایسے کہ ساغرِ مے سر پر رکھ کر ٹھمکا لگاتے اور ایک قطرہ تک نہ چھلکتا۔ ناچ گانے کی محفلوں میں ان کے حواری بھی ان کا ساتھ دیتے۔ سی بی آر کے چیئرمین عبداللہ یوسف کو حکم ہوا تو وہ بھی اس بڑھاپے میں ”سانوں نہر والے پل تے بلا کے“ کی تال پر ناچے۔ اب مسلم لیگ ق والے یہی گا رہے ہیں کہ ”خورے ماہی کتھے رہ گیا۔“
داد دیجئے ان کے پرانے غمخوار اور آئی ایس پی آر کے سابق ترجمان ریٹائرڈ میجر جنرل راشد قریشی کو کہ بڑے دھڑلے سے دعویٰ کررہے ہیں کہ پورا نہیں تو آدھا پاکستان پرویز مشرف کا منتظر ہے کہ کب وہ مسیحائی کے لئے واپس آتے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی نے انہیں عزت و احترام سے اس لئے تو باہر نہیں بھجوایا کہ وہ واپس بھی آئیں۔
ان کی واپسی سے سب سے بڑا خطرہ موجودہ حکمرانوں ہی کو ہے۔ قاتل بے نقاب ہوسکتے ہیں۔ اندر خانہ یہی کہا جاتا ہے کہ کسی کونے میں بیٹھا جام سبو سے شغل کررہا ہے، کرنے دو ہمارا کیا لیتا ہے. موصوف نے اپریل کے مہینے میں 11 دن نیویارک میں گزارے اور خوب ہلا گلا کیا۔ ایک تقریب میں کوئی بوٹا شیخ ڈھول بجا رہا تھا اور پاکستان کا سابق صدر اور سابق آرمی چیف ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہا تھا۔ پرویز مشرف خوش قسمت ہیں کہ انہیں امریکا میں بھی ”بوٹے“ مل جاتے ہیں جو ان کے لئے ڈھول پیٹتے ہیں۔ پاکستان میں یہی کام راشد قریشی، بیرسٹر سیف ، فہد اور کچھ دوسرے لوگ کررہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس کُل پاکستان مسلم لیگ رجسٹرڈ ہوجائے تو جنرل صاحب جام رکھ کر سیاست کی صراحی اٹھالیں گے۔ لیکن ابھی پاکستان نہیں آسکیں گے۔
برطانوی ”صحافن“ کرسٹینا لیمب لکھتی ہیں کہ میں جب جنرل صاحب سے ملنے گئی تو وہ شراب اور سگار ساتھ پی رہے تھے اور گلوکاروں پر 50-50 پاونڈ کے نوٹ لٹارہے تھے۔ گلوکاروں کی تو موج ہوگئی۔ پاکستان میں تو وہ سو، سو روپے کے نوٹ لٹاتے تھے۔ شراب کے تذکرے پر ہمیں بھٹو صاحب کا وہ معروف جملہ یاد آگیا ”شراب پیتا ہوں، حلوہ تو نہیں کھاتا“۔ پرویزمشرف بھی غالباً حلوہ نہیں کھاتے ورنہ لندن میں موجود ان کے سابق ساتھی اور مداح جناب الطاف حسین اپنا معروف جملہ دوہراتے ”میٹھا میٹھا ہپ“۔ جناب الطاف حسین بھی کڑوا کڑوا تھو کرکے کسی کے میٹھے پر جا بیٹھے ہیں۔ کرسٹینا لیمب کو غالباً ”ویل“ دینے پر تعجب ہے کیونکہ برطانیہ اور امریکہ میں اس طرح ویل نہیں دی جاتی۔ یہ کام کسی اور طریقے سے ہوتا ہے۔ اپنے سامنے ناچنے والوں کو نوازتے تو وہ بھی ہیں۔ ہمیں تو افسوس اس پر ہے کہ ”آنجہانی “ (اب پرویز مشرف کسی اور جہان میں ہیں) جب نیویارک سے لندن جانے لگے تو ظالموں نے ان کی خدمات کاذرا بھی لحاظ نہ کیا اور جوتے، بیلٹ وغیرہ اتار کر تلاشی لی (وغیرہ کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی)۔ کبھی وہ دن بھی تھے کہ پرویزمشرف کا سب کچھ امریکیوں پر عیاں تھا، دل و دماغ تک۔ یہی نہیں بلکہ سابق خاتونِ اول محترمہ صہبا کے پرس کی تلاشی بھی لی اور چوڑیاں تک اتروالیں۔ مشرقی عورت ایک خاص موقع ہی پر اپنی چوڑیاں اتارتی ہے اور کانچ کی چوڑیوں کو توڑ ڈالتی ہے۔ اس موقع پر صہبا نے جن نظروں سے اپنے سرتاج کو دیکھا وہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے اندلس کے آخری خلیفہ کو اس کی ماں نے دیکھا تھا جب جلا وطن ہوتے ہوئے اس نے الحمرا کی شان و شوکت کو دیکھا اور آبدیدہ ہوگیا۔ ممکن ہے کہ صہبا مشرف نے کچھ کہا بھی ہو، مثلاً یہ کہ ”ہور چوبو“۔ لیکن راوی اس بارے میں خاموش ہے۔ اسی دوران یہ خبر آئی کہ ناٹو کو بھیجے جانے والے شراب سے بھرے ہوئے تیس کنٹینر چوری ہوگئے۔ اب کچی شراب پی کر مرنے والوں کی تعداد کم ہوجائے گی کیونکہ ناٹو کو پکی شراب فراہم کی جاتی ہے۔ جناب پرویز مشرف بھی ٹھرا نہیں پیتے۔ صہبا دن رات ساتھ ہے۔ دیکھیے کب موصوف پاکستان میں قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ کوئی اور حکومت این آر او جاری کرے۔ ابھی تو وہ کونے میں بیٹھے سگار اور شراب سے شغل فرما رہے ہیں، کسی کا کیا بگاڑ رہے ہیں! یہ کام وہ کرکے جاچکے۔