<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	xmlns:georss="http://www.georss.org/georss" xmlns:geo="http://www.w3.org/2003/01/geo/wgs84_pos#" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/"
	>

<channel>
	<title>بین السطور</title>
	<atom:link href="http://bainalsutoor.wordpress.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://bainalsutoor.wordpress.com</link>
	<description>اطہر ہاشمی کے قلم سے</description>
	<lastBuildDate>Fri, 20 May 2011 07:07:33 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.com/</generator>
<cloud domain='bainalsutoor.wordpress.com' port='80' path='/?rsscloud=notify' registerProcedure='' protocol='http-post' />
<image>
		<url>http://s2.wp.com/i/buttonw-com.png</url>
		<title>بین السطور</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com</link>
	</image>
	<atom:link rel="search" type="application/opensearchdescription+xml" href="http://bainalsutoor.wordpress.com/osd.xml" title="بین السطور" />
	<atom:link rel='hub' href='http://bainalsutoor.wordpress.com/?pushpress=hub'/>
		<item>
		<title>ہمیں کیوں بلایا؟</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/10/18/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%a8%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%a7%d8%9f/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/10/18/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%a8%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%a7%d8%9f/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 18 Oct 2010 04:39:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات غیر حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی سیاہ سیات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر مبین اختر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر مسرت]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی نفسیاتی اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[آصف علی زرداری]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=136</guid>
		<description><![CDATA[اسکو ل میں کلاس ٹیچر دعا کروارہی تھیں کہ اللہ سب کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ سب بچےہاتھ اٹھائے۔ آمین آمین کہہ رہےتھے مگر ایک بچےنے ہاتھ اٹھائےنہ آمین کہا۔ ٹیچر نےپوچھا بیٹا تم کیوں خاموش ہو۔ اس نےجواب دیا ”مس‘ میرےابو ڈاکٹر ہیں۔“ دوپیشےایسےہیں کہ جن کےپھلنے‘ پھولنےکی دعا کرتےہوئے سوچنا پڑتاہے‘ ایک [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=136&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">اسکو ل میں کلاس ٹیچر دعا کروارہی تھیں کہ اللہ سب کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ سب بچےہاتھ اٹھائے۔ آمین آمین کہہ رہےتھے مگر ایک بچےنے ہاتھ اٹھائےنہ آمین کہا۔ ٹیچر نےپوچھا بیٹا تم کیوں خاموش ہو۔ اس نےجواب دیا ”مس‘ میرےابو ڈاکٹر ہیں۔“<br />
دوپیشےایسےہیں کہ جن کےپھلنے‘ پھولنےکی دعا کرتےہوئے سوچنا پڑتاہے‘ ایک ڈاکٹر اور دوسرےگورکن کا پیشہ۔ بسااوقات دونوں ایک دوسرےکےمعاون ہوتےہیں۔ جہاں کوئی بیمار نہ ہو وہاں طبیب بیمار پڑجاتےہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں باہر سے آئےہوئے ایک غیر مسلم طبیب کےساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ وہ پریشان تھا کہ لوگ بیمار ہی نہیں پڑتے۔ اس کو بتایا گیا کہ مسلمان ”طبیب اعظم“ کےبتائےہوئےاصولوں پر عمل کرتےہیں اس لیےعموماً بیمار نہیں ہوتے۔ا س اصول کا بنیادی جزو یہ تھا کہ خوب ٹھونس ٹھونس کر کھانا مت کھائو۔ ایک حصہ پانی اور ایک ہوا کےلیےچھوڑ دو۔ حقیقت یہ ہےکہ کم کھانےسے آج تک کوئی نہیں مرا البتہ بسیارخوری سےجسم مختلف امراض کا گودام بن جاتا ہے۔<br />
بہرحال‘ ڈاکٹر اور گورکن کا وجود لازمی ہے۔ دعا یوں کی جاسکتی ہےکہ اللہ ڈاکٹر کےہاتھ میں شفا عطا فرمااور درد دل عطا کرے‘ وہ درد نہیں جس کےلیے پھر کسی ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ رہا گورکن تو وہ نہ ہو تولاشیں سڑجائیں۔ اس کےلیے یہی دعا ہےکہ کفن چور نہ ہو۔<br />
یہ ڈاکٹر حضرات ہمیں یوں یاد آگئےکہ ہر سال 10 اکتوبر کو اقوام متحدہ کےتحت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن منایا گیا۔ کراچی میں دماغی اور نفسیاتی و جنسیاتی امراض کےبین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر مبین اختر نےلوگوں کےدماغ درست کرنےکا ٹھیکا لےرکھا ہے۔چنانچہ انہوں نےبھی ایکسپو سینٹر میں اس موضوع پر ایک بھرپور سیمینار منعقد کیا۔ ڈاکٹر مبین اختر ہر سال ہی لوگوں کی آگاہی کےلیےیہ کام کرتےہیں۔ انہوں نےاس موقع پر امراض دماغی کےمعروف معالجین‘ پروفیسرز اور ماہرین نفسیات کو جمع کرلیا۔ ہمارےبارےمیں انہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی یا صحافت سےتعلق رکھنےکی وجہ سے ہمیں بھی بلالیا کہ صحافی جن حالات سےگزر رہےہیں ان میں دماغی صحت برقرار رہنا مشکوک ہے۔ صحافیوں کو مختلف قسم کےذہنی دبائو کا سامنا رہتا ہے۔ فیلڈ میں کام کرنےوالوں کو تو ایسےایسےمناظر دیکھنےپڑتےہیں کہ ہوش اڑ جاتےہیں اور پھر دوسروں کےہوش اڑاتےہیں۔ ذرائع ابلاغ‘ برقی ہوں یا کاغذی‘ نفسیاتی و دماغی الجھنوں کو بڑھانےمیں اپنا کردار اد اکررہےہیں۔ ممکن ہےاپنا انتقام لےرہےہوں۔ آزما کر دیکھ لیجییے۔ ایک ہفتہ اخبار پڑھیں نہ ٹی وی دیکھیں۔ فشار خون (بلڈ پریشر) معمول پر رہےگا‘ بھوک خوب لگےگی اور یہ جو مزاج میں کڑواہٹ آگئی ہے‘ تیوریوں پر مستقل لکیریں پڑگئی ہیں ‘ سب دور ہوجائیں گی۔ بیوی‘ بچےبھی قریب آنےلگیں گے۔ سعودی عرب کےدارالحکومت ریاض کےانگریزی اخبار ریاض ڈیلی کےمدیر طلعت وفا سے ہم نے وچھا کہ سعودی اخبارات میں بڑے سے بڑےحادثےکی خبر ہوتی ہےنہ قتل و غارت کی۔ تو بڑےتحمل سے انہوں نےکہا ”ہم لوگوں کا بلڈ پریشر نہیں بڑھانا چاہتے۔“ سعودی عرب میں لو بلڈ پریشر کی شکایت عام ہے۔<br />
ہمارےایک بہت ہی محترم ساتھی تھےنصر مخدومی۔ ہم سےبہت سینئر تھی۔ اپنےکام پر بھرپور عبور تھا۔ خرابی یہ تھی کہ وہ اخبارمیں ہونے کےباوجود سوچتےبھی تھےاور کڑھتےبھی تھی۔ جسارت میں آنےسےپہلےہی ایسےہی کسی مرحلےمیں ناانصافی دیکھی تو ڈاکٹر مبین اختر کےبقول دماغ میں موجود کیمیائی مادوں کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن یہ گڑبڑ شعور و آگہی میں کمی نہیں‘ زیادتی کےسبب ہوئی۔ پھر یوں ہوتا تھا کہ جب بھی ان پر آگہی کا غلبہ ہوتا تھا تو انہیں زبردستی ڈاکٹر مبین اخترکےنفسیاتی اسپتال بھجوایا جاتا تھا۔ یہ کام عموماً ہمارےساتھی راشد عزیز کیا کرتےتھے۔ وہاں جو ”علاج“ ہوتا تھا اس کےزیر اثر کئی دن تک سہمےرہتےتھے۔ وہ صرف نعرےلگایا کرتےتھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ نعرےبازی تو اب عام ہے۔<br />
صحافیوں کےلیےسوچنا‘ سمجھنا اور حالات کا اثر لینا نقصان دہ ہے۔ حکمرانوں کو دیکھیے۔ اگر وہ بھی قوم و ملک کےحالات پر کڑھنےاور بہتری کی فکر میں مبتلا ہونےلگےتو حکومت کیسےکریں گے۔ جناب صدر کے پاس جب اقتدار نہیں تھا تب تو برطانوی عدالتوں میں ان کی دماغی کیفیت کےبارےمیں جو رپورٹیں خود جمع کرائی گئیں وہ کچھ اور کہتی ہیں۔ اب اگر وہ کراچی نفسیاتی اسپتال کی خدمات حاصل کریں تو کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس اسپتال میں بھی کلفٹن کےاس اسپتال کی طرح مچھر نہیں ہوتےجہاں قید کا بڑا حصہ گزرا ہے۔<br />
ڈاکٹر مبین اختر نےایکسپو سینٹر میں بہت سےلُوگوں کو جمع کرلیا تھا جس سےاندازہ ہوا کہ لوگ اپنا دماغ درست کرنےمیں د لچسپی رکھتےہیں۔ اس سیمینار میں کئی معروف ماہرین نفسیات موجود تھے۔ مہمان خصوصی پروفیسر مسرت حسین تھے۔ اہم بات یہ ہےکہ صحافی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر مسرت کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہےکہ ہم اپنےاردگرد کسی کو نفسیاتی مرض میں مبتلا پائیں تو اسےکسی ماہر نفسیات کو دکھانےکا مشورہ دیں۔ ڈاکٹر صاحب! کوئی یہ تسلیم ہی کہاں کرتا ہےکہ وہ ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ اصرار کیا تو سر پھاڑ دےگا اور پھر حکمرانوں کو یہ مشورہ دینےکی جرات کون کرےگا؟ بیویاں اپنےشوہروں کو اور شوہر اپنی بیویوں کو لیےکھڑےہوں گے۔ شادی کےچند برس بعد دونوں ایک دوسرےکےبارےمیں یہی سمجھنےلگتےہیں۔ انہوں نےوالدین کو بچوں سےشفقت سے پیش کرنےکا مشورہ دیا ہےلیکن بہتر تھا کہ وہ یہ مشورہ بچوں کو دیتے۔<br />
ڈاکٹر مبین اخترکی تحقیق ہےکہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد 25 فیصد سےتجاوز کرچکی ہےمگر ماہرین ذہنی امراض کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ ہم تو سمجھ رہےتھےکہ شہر کراچی کے آدھےلوگ پاگل نہیں ہیں۔ ماہرین نفسیات کا دم غنیمت ہےکہ تعداد 25 فیصد تک ہی پہنچی ہے۔ مگر ہم اب تک اس سوچ میں ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نےہمیں کیوں بلایا۔ ممکن ہے یہ سوچا ہو کہ صحافی حضرات نفسیاتی اسپتالوں اور ڈاکٹروں کی اہم خدمت کررہےہیں‘آمدنی بڑھوا کر۔ بہرحال دماغی صحت کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے‘بیوی‘ بچوں کو قتل کرنا ‘ خودکش حملے پاگل پن کی انتہا ہے۔ بنیادی سبب دین سےدوری ہے۔ قرآن کریم سب سےبڑا نسخہ شفا ہے۔ پڑھ کر دیکھیےتو نفسیاتی اسپتال خالی ہوجائیں گے۔ ماہرین نفسیات کی تقریریں سن کر ہمیں اپنے بارےمیں شبہ ہوچلا ہے۔ ایک اطمینان یہ ہےکہ دماغ ہو تو خراب ہو اور کیمیائی‘ مادوں میں کمی‘ بیشی کا خطرہ ہو۔<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/136/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/136/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/136/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/136/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/136/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/136/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/136/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/136/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/136/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/136/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/136/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/136/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/136/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/136/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=136&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/10/18/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%a8%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%a7%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>بلوری ڈیری فارم کا مکھن</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/10/12/%d8%a8%d9%84%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%88%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%da%a9%da%be%d9%86/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/10/12/%d8%a8%d9%84%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%88%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%da%a9%da%be%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 12 Oct 2010 17:56:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاہ سیات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=133</guid>
		<description><![CDATA[حاجی غلا احمد بلور بڑے بھلے آدمی ہیں۔ جب سے وہ ریلوے کے وزیر بنے ہیں انہوں نے کئی ریلیں بند کروادیں تاکہ ایک طرف تو عوام ٹرین کے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے بچیں‘ ریلوے اسٹیشنوں پر باسی اور مضر صحت کھانا کھا کر اپنی صحت خراب نہ کریں‘ دوسری طرف ان ٹرانسپورٹروں کا [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=133&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">حاجی غلا احمد بلور بڑے بھلے آدمی ہیں۔ جب سے وہ ریلوے کے وزیر بنے ہیں انہوں نے کئی ریلیں بند کروادیں تاکہ ایک طرف تو عوام ٹرین کے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے بچیں‘ ریلوے اسٹیشنوں پر باسی اور مضر صحت کھانا کھا کر اپنی صحت خراب نہ کریں‘ دوسری طرف ان ٹرانسپورٹروں کا بھلا ہو جو عوام کی خاطر بسیں چلاتے اور ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے کی زحمت اٹھاتے ہیں۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> ایسا لگتا ہے کہ اے این پی کے بلوری وزیر نے چوہدری پرویز الٰہی کا پرانا بیان کسی اخبار میں دیکھ لیا ہے۔ وزراءاتنے مصروف ہوتے ہیں کہ روز کے روز اخبار نہیں پڑھ سکتے۔ ان کے سیکرٹری مطلب کی خبروں پر نشان لگا کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں لیکن دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہنے والے وہ بھی نہیں پڑھ پاتے۔ اس کا اندازہ ٹی وی چینلز کے مباحثوں میں شریک کسی بھی وزیر کی ”باخبری“ سے کیا جاسکتا ہے۔ امکان یہ ہے کہ کسی نے ڈھائی تین سال پرانے اخبار میں نان یا پکوڑے لپیٹ کے دے دیے ہوں گے اور کھانا کھاتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کا یہ بیان سامنے آگیا کہ وہ صدر پرویز کو وردی سمیت آئندہ س بار صدرمنتخب کرائیں گے۔ لیکن خود پرویز مشرف وردی میں سے نکل بھاگے اب افسوس کرتے ہیں کہ کاش مزید 5 سال تک وردی نہ اتاری ہوتی جس کو وہ اپنی کھال کہتے تھے اور اب بالکل ہی کھال سے باہر ہیں۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">غلام احمد بلورنے پرویز الٰہی سے متاثر ہوکر فرمایا ہے کہ ”آصف علی زرداری کو مزید 10 سال کے لیے صدر قبول کیا جائے۔“ حاجی صاحب کی تحقیق ہے کہ صدر زرداری سب سے مسکین آدمی ہیں‘ نہایت عاجز انسان ہیں ‘ ایسا شخص آیا نہ آئے گا‘ انہیں جانے نہ دیا جائے۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ریلوے کے پاس انجن نہیں۔“</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> ممکن ہے کہ دونوں باتوں میں ربط نہ محسوس ہو حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ ریلوے کا حال تو اس لیے خراب ہے کہ انجن نہیںہیں اور ٹرینیں بغیر انجن کے چل رہی ہیں جبکہ حکومت کو آصف زرداری جیسا انجن ملا ہوا ہے۔ اب یہ واضح نہیں کہ انجن کے پیچھے بوگیاں بھی ہیں یا تنہا ”شنٹنگ“ کررہا ہے اور یہ کہ کس پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ مسکین شخص ہے‘ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ غلام احمد بلور کہتے ہیں کہ صدرمملکت جیسا عاجز صدر آیا ہے اور نہ آئے گا۔ اب یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ عاجز اور مسکین کون ہے‘ عوام یا صدر محترم۔لیکن اگر جناب زرداری واقعی عاجز اور مسکین ہیں تو محکمہ زکواة کو توجہ کرنی چاہیے۔ مسکین کا تعین تو ٹیکس کے گوشوارے دیکھ کر ہی ہوجاتا ہے۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">سوال یہ ہے کہ جناب غلام احمد بلورنے اچانک اتنا بہت سا مکھن کیوںلُگادیا؟ کیا یہ گھر کا مکھن ہے؟ یہ افواہیں بھی اڑائی جارہی ہیں کہ وفاقی کابینہ میں کمی کی جارہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ رحمن ملک‘ بابر اعوان کے ساتھ جناب غلام احمد بلور کی ملازمت بھی پکی ہے۔ دوسری طرف اے این پی کے رہنماﺅں اور خےبرپختونخوا کی حکومت کے بارے میں بڑی تشویشناک خبریں آرہی ہیں۔ ہمارا گمان تھا کہ باچا خان کے پیروکار کم از کم بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ سے ضرور دور رہیں گے۔ سیاسی بدعنوانی اپنی جگہ لیکن مالی بدعنوانی زیادہ خطرناک ہے وہ بھی خےبرپختونخوا جیسے ضوبے میں جو سندھ اور پنجاب کے مقابلے میں پہلے ہی بہت پیچھے ہے اور اب سیلاب نے بھی سب سے پہلے اس صوبے کو نشانہ بنایا۔ مگر اے این پی کے حکمران کیا کررہے ہیں اس کا پول خود اے این پی کے رہنما اور مردان سے منتخب رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد خان ہوتی نے اس کا پول کھولا ہے۔ اس وقت وزیراعلیٰ بھی ہوتی ہیں جن کو صوبے کے لوگ ”بابا“ کہتے ہیں۔ صوبے میں عوام کے لبوں پر یہ جملہ ہے کہ عوام سیلاب میں ڈوب گئے اور بابا پیسوں کے سیلاب میں۔ ادھر سیلاب آرہا تھا اور اُدھر اے این پی کی حکومت کی وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے خلاف آوازیں بلند ہورہی تھیں۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> ان آوازوں میں سب سے نمایاں اور توانا آواز رکن قومی اسمبلی نواب خواجہ محمد خان ہوتی کی ہے۔ اخباردی نیشن کی 6 اکتوبر کی ایک رپورٹ کے مطابق اے این پی کے ایم این اے محمد خان ہوتی نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر کو مشورہ دیا ہے کہ دیکھو یہ جو سیلاب زدگان کے لیے امداد آرہی ہے اس میں صوبائی حکومت کے کسی فرد کا ہاتھ نہیں لگنا چاہیے اورور نہ کسی کے ہاتھ نہیں آئے گی‘ اقوام متحدہ خود ہی تقسیم کرے۔ اقوام متحدہ کے افسر نے یقین دلایا کہ اس معاملہ میں خےبرپختونخوا کی حکومت سے بات کرلی جائے گی۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> سابق وفاقی وزیر اور اے این پی کے رکن قومی اسمبلی محمد خان ہوتی کا کہنا ہے کہ میری پارٹی کی حکومت انتہا درجہ کی بدعنوان ہے۔ اس نے تو لوٹ کھسوٹ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ جب میں اپنے علاقہ کے لوگوں کو امداد سے محروم دیکھتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے‘ آپ کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ کتنا برا حال ہے۔ صوبہ کی حکومت کو اربوں روپے کی امداد ملی ہے مگر حکمران اس کا بڑا حصہ خود نگل گئے۔ پٹواری وطن کارڈ وصول کرنے والوں کی جعلی فہرستیں بنارہے ہیں اور اصل کارڈ اے این پی کے رہنماﺅں کے حلقوں میں بانٹے جارہے ہیں۔ مردان میں میرے علاقے میں لوگوں کو ایک کوڑی بھی نہیں ملی۔ چار سدہ اور نوشہرہ کے متعدد علاقے امداد سے محروم ہیں۔ وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی خود بدعنوانی کی سرپرستی کررہے ہیں اور صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی اربوں روپے کھاگئی ہے۔ وزیراعلیٰ اپنے حلقے میں امداد تقسیم کررہے ہیں حالانکہ ان کا علاقہ سیلاب سے متاثر نہیں ہوا۔ چہیتے افسران رشوت دے کر سیلاب زدہ علاقوں میں تعیناتی کروارہے ہیں تاکہ سیلاب زدگان کی امداد لوٹی جاسکے۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی ‘ امیر حیدر ہوتی اور اعظم خان ہوتی بدعنوانی میں براہ راست ملوث ہیں۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">یہ گھر کی گواہی بہت طویل ہے۔ خواجہ محمد خان ہوتی یکم اکتوبر کو اپنی ہی پارٹی کی بدعنوانی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست بھی دائر کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنی درخواست کی نقول نیب‘ آئی ایس آئی‘ ایف آئی اے اور فوج کے سربراہ کو بھی بھیجی ہیں۔ شاید صدرمملکت کو نہیں بھیجی کیونکہ انہیں بھی معلوم ہوگا کہ آصف زرداری بہت مسکین اور عاجز ہیں۔ غلام احمد بلور نے صدر کو مکھن لگایا ہے وہ محمد خان ہوتی کی مہم شروع ہونے کے بعد ہی لگایا ہے۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> محمد خان ہوتی کوانسداد منشیات کی وزارت میں وفاقی وزیر کا منصب دیا گیا تھا مگر انہوں نے صرف تین ماہ بعد گزشتہ سال مارچ میں اپنی اعلیٰ قیادت کی وسیع بدعنوانی پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے حلقے میں 14 تعمیراتی منصوبوں میں جم کر بدعنوانی ہوئی ہے۔ محمد خان ہوتی خود کو بدعنوانی کے خلاف جنگ کا پہلا شہید قرار دیتے ہیں۔ لیکن ”غازی“ تو اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور اب تو ڈیری فارم کھول لیا ہے جہاں سے تازہ مکھن نکال کر لگایا جارہا ہے۔ لیکن یہ ”روغن قاز“ کہا ہوتا ہے۔ سنا ہے یہ زیادہ مچرب اور مجرب ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاقہ میں قاز بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ ایک اور رپورٹ ہے کہ خیبرپختونخوا میں 3 ہزار تجارتی کمپنیاں ایسی ہیں جو ٹیکس چوری کررہی ہیں اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچارہی ہیں۔ یہ رپورٹ وزارت خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">اس صورتحال پر جانے وہ لوگ کیا کہیں گے جنہوں نے صوبہ پر متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے خلاف آسمان سر پر اٹھالیا تھا اور اے این پی کی کامیابی پر بغلیں بجارہے تھے۔ا س متحدہ مجلس میں شامل جماعت اسلامی اور اس کی تنظیم الخدمت آج بھی سیلاب زدگان کے کام آرہی ہے اور بے لوث خدمت کررہی ہے۔ نوشہرہ میں امداد نہ پہنچنے کا شکوہ نواب محمد خان ہوتی کررہے ہیں۔ نعمت اللہ خان کراچی سے ان کی مدد کو پہنچے اور نائب امیر جماعت سراج الحق کہہ رہے ہیں کہ ہم نوشہرہ والوں کی مدد کے لیے اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے۔ غلام احمد بلور کو اپنے صوبے کے مصیبت زدہ عاجز اور مسکین نظر نہیں آرہے‘ نظر میں ہے تو صرف ایک۔<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/133/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/133/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/133/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/133/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/133/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/133/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/133/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/133/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/133/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/133/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/133/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/133/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/133/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/133/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=133&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/10/12/%d8%a8%d9%84%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%88%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%da%a9%da%be%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>تاریخ خاموش ہوگئی</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/08/07/%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%ae%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b4-%db%81%d9%88%da%af%d8%a6%db%8c/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/08/07/%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%ae%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b4-%db%81%d9%88%da%af%d8%a6%db%8c/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 07 Aug 2010 07:17:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاہ سیات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=130</guid>
		<description><![CDATA[رضا علی عابدی بڑے سینئر صحافی ہیں‘ اتنے سینئر کہ وہ جو اپنے لڑکپن میں انہیں روز شام کو ایک خاص لہجہ میں بی بی سی ریڈیو پر بولتے ہوئے سنا کرتے تھے‘ آج خودسینئر صحافی کہلاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کا ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو خاصے کی چیز ہے۔ لندن میں [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=130&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">رضا علی عابدی بڑے سینئر صحافی ہیں‘ اتنے سینئر کہ وہ جو اپنے لڑکپن میں انہیں روز شام کو ایک خاص لہجہ میں بی بی سی ریڈیو پر بولتے ہوئے سنا کرتے تھے‘ آج خودسینئر صحافی کہلاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کا ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو خاصے کی چیز ہے۔ لندن میں اتنے عرصہ سے ہیں کہ اب انگریز ان سے اصلاح لیتے ہیں۔ لیکن وہ اب تک پاکستانی ہیں اور صدر پاکستان لندن پہنچے ہیں تو ان کے جذبات بھی عام پاکستانیوں کی طرح ہیں۔زرداری صاحب بڑے عزم و ہمت والے ہیں۔ چیچہ وطنی سے لے برمنگھم تک سب ان کے دورہ برطانیہ کی مخالفت کررہے ہیں لیکن انہوں نے جو ٹھان لی سو ٹھان لی۔ لڑکپن سے ان کا یہی مزاج ہے جب انہوں نے کسی بے کار سی فلم میں چائلڈ اسٹار کا کام کیا تھا۔ فلم تو نہ چل سکی لیکن جناب زرداری اسٹار بن گئے‘ کتنے ہی لوگوں کے مقدر کا ستارہ ‘فراخی افلاک کا ایسا ستارہ جس سے لوگ اپنی تقدیر کی خبر لینا چاہتے ہیں۔زرداری صاحب کے دورہ لندن پر یوں تو بہت سے اعتراضات کیے جارہے ہیں اور پیپلزپارٹی کے سارے ہی دانشور ایک ایک اعتراض کا سرتوڑ جواب دے رہے ہیں لیکن رضا علی عابدی نے ان سب سے ہٹ کر ایک نیا اعتراض کردیا ہے۔ یہ اعتراض زرداری صاحب سے زیادہ ہمارے برطانوی سفارتخانے اور خاص طور پر سفیر پاکستان واجد شمس الحسن کی انگریزی دانی پر ہے۔ جب پاکستان کے اخبارات میں یہ خبریں آئیںکہ غریب قوم کے امیر ترین صدر لندن کے بہت مہنگے ہوٹل میں قیام کریں گے جس کے ایک کمرے کا روز کا کرایہ لاکھوں میں ہے اور کئی کمرے مختص کرائے جاچکے ہیں تو پاکستانی سفارتخانے نے بیان جاری کیا کہ صدر پاکستان لندن کے Cheapest فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کریں گے۔ا س لفظ کو رضا علی عابدی پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ یہاں تو CHEAPEST کامطلب نہایت گھٹیا لیا جاتا ہے‘ یہ پاکستان کی انگریزی تو ہوسکتی ہے لندن کی کوئنز انگلش نہیں۔ انہوں نے اس گھٹیا پر افسوس کا اظہار کیا تاہم جس کی یہ حرکت ہے اس کا نام لینے سے گریز کیا۔ اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ۔ آج کے صحافی ہوتے تو پاکستانی حکومت کے شمس و قمر کا نام بلاتکلف لے ڈالتے۔ رضا علی عابدی کے اس اظہار تاسف پر ہم نے بھی بابائے اردو کی مرتب کردہ انگریزی لغت کھولی تو CHEAPکے مطالب میں ”گھٹیا‘ سستا‘ حقیر‘ نکما‘ شرمندہ‘ افسردہ‘ بے قدر“ وغیرہ وغیرہ پائے۔ CHEAPEST صیغہ مبالغہ ٹھیرا یعنی انتہائی گھٹیا‘حقیر وغیرہ۔ تو اس سرکاری اعلامیہ کا مطلب یہ ٹھیرا کہ پاکستان کے وفاق کی علامت جناب صدر لندن کے انتہائی گٹھیاہوٹل میں قیام فرمائیں گے۔ ممکن ہے کہ ”ہائیڈریجنسی لندن‘ دی چرچل“ نام کا یہ ہوٹل لندن کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ایسا ہی ہو جیسے دنیا کے ارب پتی حکمرانوں میں بے چارے زرداری۔ ویسے تو وہ اپنی طرف سے پاکستان کا مان بڑھانے کی حتی المقدور کوشش کررہے ہیں‘ خاص طور پر 1988 ءکے بعد سے۔ CHEAPESTہوٹل کے حوالے سی ہم یہ سمجھے تھے کہ زرداری صاحب شاید کسی پرانی سرائے میں قیام فرمائیں گے یا جیسے ہمارے ریلوے اسٹیشنوں کے باہر چارپائی‘ بسترا سے اوپر کے ”صاف ستھرے“ہوٹل ہوتے ہیں‘ ایسے ہی کسی ہوٹل میں بستر جمائیں گے تاکہ کچھ پیسہ بچے اور وہ ان کے اپنے اور اپنے بچوں کے کام آئے۔ لیکن لگتا ہے انہیں اور ان کے بچوں کو ایسی بچت کی ضرورت نہیں۔ہمارے لیے تو یہ بھی ایک انکشاف ہے کہ فرانس میں بھی جناب آصف علی زرداری کا کوئی ”خاندانی“ محل ہے۔ ایسی خبروں پر ہمیں تو خوشی ہوتی ہے کہ قسمت سے کیسا صدر ملا ہے کہ لندن کا سرے محل ہی نہیں‘فرانس کے مشہو ر تاریخی علاقہ نارمنڈی میں بھی ان کا محل ہے اور بھی کئی جگہ ہوسکتا ہے۔ ایسے محل داروں سے پاکستان کی شان بڑھتی ہے۔ لیکن تعجب ہمیں نارمنڈی والے محل کے خاندانی ہونے پر ہے جہاں وہ گزشتہ منگل کو فرانسیسی ایئرفورس کے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہنچائے گئے اور صرف دو گھنٹے قیام فرما کر روانہ ہوگئے۔ فرانس کے صدر سرکوزی اور آصف زرداری میں ویسے بھی ایک خاص رشتہ اوگسٹا کے تعلق سے ہے چنانچہ ایئرفورس کا ہیلی کاپٹر ان کے لیے وقف ہوگیا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق نارمنڈی کا یہ محل سولہویں صدی میں شاہ فلپ کی بیوہ کے لیے تعمیر کیا گیا جو اب پاکستانی WIDOWER کی ملکیت ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ محل گزشتہ 24 برس سے زرداری خاندان کی ملکیت ہے۔ یعنی یہ ان کے والدہ حاکم علی زرداری نے 1986ءمیں حاصل کیا۔ پھر یہ اب تک چھپا کر کیوں رکھا گیا۔ فیصل رضا عابدی توکہتے ہیں کہ آصف زرداری جدی‘ پشتی ارب پتی ہیں لیکن جب حاکم علی زرداری نے الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع کرائے تھے تب تو نہ اس محل کا تذکرہ تھا نہ جدی پشتی ارب پتی کہاکروڑ پتی ہونے کا بھی ذکر نہ تھا۔ حاکم علی زرداری نے اپنی معمولی سے آمدنی ظاہر کی تھی اور ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ کراچی کا بمبینو سینما ان کی ملکیت ہے ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس سینما میں صرف روپے میں دو آنے کا حصہ ہے۔تھوڑی سی زمین ظاہر کی گئی تھی۔ گوشوارے اٹھا کر دیکھ لیجیے مرحوم جتوئی صاحب تو اور بھی بہت کچھ کہتے تھے۔ لیکن یہ تحقیق تو کی جاسکتی ہے کہ 1986 ءمیں حاکم علی زرداری کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا کہ انہوں نے فرانس کے علاقہ نارمنڈی میںا یک محل خرید لیا‘ وہ بھی تاریخی محل جس کی قیمت اسی حساب سے زیادہ ہوگی۔ لیکن اس کی تحقیق کون کرے گا؟ لندن کے سرے محل کا اسکینڈل جب سامنے آیا توبے نظیر بھٹو اور آصف زرداری دونوں نے بڑے زور شور سے اس کی ملکیت سے انکار کیا تھا۔ زرداری صاحب نے تو یہ بھی کہا تھا کہ اگر سرے محل میری ملکیت ہے تو میری طرف سے اجازت ہے اسے بیچ کر کچھ حصہ مجھے بھی دے دیا جائے۔ اب تو سنا ہے کہ اسپین اور دوبئی میں بھی وسیع جائداد ہے۔ ہونی بھی چاہیے۔ آخر وہ دو مرتبہ وزیراعظم بننے والی خاتون کے شوہر تھے۔ کیا اتنا بھی نہ ہوتا۔ ایف آئی اے کے ایک معمولی سے افسر نے لندن میں محترمہ کی میزبانی کرکے اور کاروبار میں شرکت کرکے کتنا کچھ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ تو پارس ہیں‘ جو چھو جائے وہ خود سونا بن جائے۔آج کل بحث یہ چھڑی ہوئی ہے کہ جناب صدر لندن کے جس گھٹیا سے ہوٹل میں مقیم ہیں اس کے کمروں کا کرایہ کتنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ تو کہتے ہیں کہ ایک سویٹ کا کرایہ بمشکل ڈھائی‘ تین سو پاﺅنڈ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر زرداری کا دورہ فرانس و برطانیہ سرکاری دورہ ہے۔ یعنی اخراجات یہ بھوکی‘ ننگی قوم اٹھارہی ہے۔ صدر کے بشیر جناب فیصل رضا عابدی کہہ رہے تھے کہ تمام اخراجات صدر زرداری اپنی جیب سے برداشت کررہے ہیں اور پیپلزپارٹی کی نفس ناطقہ بی بی فوزیہ وہاب دعویٰ کررہی تھیں کہ تمام اخراجات پیپلزپارٹی برطانیہ برداشت کررہی ہے۔ کون سچ بول رہا ہی؟ یہ لوگ آپس میں ٹیلی فون کرکے ہی کوئی متفقہ موقف اختیار کرلیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ لیکن تضاد بیانی کا یہ پہلا موقع تو نہیں۔قوم کچھ بھی کہتی رہے‘ برطانوی اخبارات کتنی ہی تضحیک کرتے رہیں اور ٹین پرسنٹ کے حوالے دیتے رہیں‘ آخر جناب زرداری نے ڈیوڈ کیمرون سے مصافحہ کر ہی لیا۔ شاید کئی دن تک ہاتھ نہ دھوئیں۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ جناب زرداری ڈیوڈ کیمرون کے سامنے بیٹھ کر ان کو بتائیں گے کہ صاحب آپ نے پاکستان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ صحیح نہیں ہے‘ ایسا تو نہ کریں۔ جواب کیا ملا اس پر تاریخ خاموش ہے۔ </span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/130/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/130/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/130/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/130/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/130/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/130/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/130/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/130/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/130/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/130/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/130/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/130/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/130/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/130/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=130&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/08/07/%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%ae%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b4-%db%81%d9%88%da%af%d8%a6%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>واحد جمہوریت پسند جنرل</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/07/26/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af-%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%ac%d9%86%d8%b1%d9%84/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/07/26/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af-%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%ac%d9%86%d8%b1%d9%84/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 13:28:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=125</guid>
		<description><![CDATA[چلیی، پاکستان میں کوئی تو محفوظ ہے اور کوئی کیا چاروں بڑے محفوظ ہیں جن کے بارے میں اخبار ڈان نے ”Quartet Seeure “ کی سرخی جمائی ہے۔ اسے ہم جمہوری حکومت کا ”چوکا“ کہہ سکتے ہیں۔ چھکا بھی لگ سکتا تھا بشرطیکہ ان میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اسپیکر و چیئرمین کو بھی [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=125&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">چلیی، پاکستان میں کوئی تو محفوظ ہے اور کوئی کیا چاروں بڑے محفوظ ہیں جن کے بارے میں اخبار ڈان نے ”Quartet Seeure “ کی سرخی جمائی ہے۔ اسے ہم جمہوری حکومت کا ”چوکا“ کہہ سکتے ہیں۔ چھکا بھی لگ سکتا تھا بشرطیکہ ان میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اسپیکر و چیئرمین کو بھی شامل کرلیا جاتا لیکن وہ بھی ان چار کے دم سے ہیں۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ”پوسٹ بجٹ تقریر“ کی طرح اپنے تین منٹ کے خطاب کے اگلے دن جو فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں 2013ءتک توسیع کے بعد ہم خود 2013 ءتک تو محفوظ ہوگئے۔ اس حصار میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو اس لیے شامل کرلیا کہ جناب جسٹس افتخار محمد کی مدت ملازمت بھی 2013ءتک ہے۔ ورنہ کسی بھی ملک میں چیف جسٹس کو تحفظ درکار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی حفاظت کا تعلق سپہ سالار کی مدت ملازمت سے ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جناب وزیراعظم نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم ہیں تو جسٹس افتخار بھی ہیں لہٰذا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ لیکن جسٹس افتخار محمد چوہدری پر تو جناب زرداری اور جناب کیانی کے پیشرو صدر اور آرمی چیف نے بھی ہاتھ ڈالا تھا مگر اپنے ہی ہاتھ جلا بیٹھے۔ صدر زرداری تو لاتعلق ہوگئے تھے کہ ہم نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ووٹ نہیں لیے تھی، روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ وہ بہرحال نبھا رہے ہیں ان کے دم سے بہت کی روزی، روٹی لگی ہوئی ہے اور کچھ کو تو ایوان صدر میں مکان ملا ہوا ہے۔ منشور میں یہ تو کہیں نہیں کہ روٹی، کپڑا اور مکان سب کو دیں گے۔ ویسے اس کا حل پیپلز پارٹی سندھ کے وزیر جیل خانہ جات پیش کرچکے ہیں، جیل ایک ایسی جگہ ہے جہاں روٹی، کپڑا مکان ہی کیا اور بھی بہت کچھ ملتا ہے۔جناب وزیراعظم نے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے 2013ءتک محفوظ رہنے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اب ”حدود میں رہ کر کام کیا جائے“ یہ مشورہ یا ہدایت کس کے لیے ہی، ان میںسے اور کون ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ حدیں پار کررہا ہی؟ کیا اس سوال کا جواب ضروری ہی؟ وزیراعظم صاحب نہ تو صدر نہ ہی آرمی چیف کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں اور اپنے بارے میں تو وہ خود جانتے ہیں کہ اتنے محدود ہیں کسی حد کے قریب تک نہیں بھٹکتے مبادا کھینچی ہوئی لکیر پر پاﺅ پڑے جائی، تب شاید یہ اشارہ میڈیا کی طرف ہے لیکن میڈیا تو ان چاروں میں شامل ہی نہیں جسے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بعد تحفظ کی خوشخبری سنائی گئی ہو، اس خطاب اور صحافیوں سے گفتگو میں جناب وزیراعظم نے یہ فرمایا تھا کہ ”ہمیں کیا کرنا ہے یہ ہم جانتے ہیں، میڈیا اپنا کام کرے“۔ہم حکمرانوں کے بارے میں ہمیشہ خوش گمانی سے کام لیتے ہیں خواہ وہ کوئی ہوں۔ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اچھے معنوں میں میڈیا کو کام کرنے کی اجازت دی ہے اور اس کا یہ مفہوم نہیں کہ ”جاﺅ، جاﺅ اپنا کام کرو“ یا یہ کہ ہمارے کام میں ٹانگ مت اڑاﺅ، اس معاملہ میں وزیراعظم بڑے فراخ دل ہیں۔ 19 جولائی کو جب وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کمیشن برائے اعلیٰ تعلیم کے صدر نشین جاوید لغاری نے ان سے 45منٹ تک ملاقات کی تو وزیراعظم نے ان سے بھی یہی کہا تھا کہ جاﺅ، اپنا کام کرو۔ اس کا سرکاری اعلامیہ بھی جاری ہوا لیکن عجیب بات ہے کہ 5 دن بعد 24جولائی کو خبر آرہی ہے کہ وزیراعظم نے تو ایسی کوئی ملاقات کی ہی نہیں۔ چیئر مین ہائر ایجوکیشن کمیشن سے حکمرانوں کو بڑے تحفظات ہیں اور ان کا شمار ”تحفظ یافتگان“ میں نہیں ہے۔ ہم پھر کہیں گے کہ ہمیں واقعی اس بات کی خوشی ہے کہ ملک کے چاروں بڑے محفوظ ہیں اور ان کی انشورنس پالیسی منظور ہوگئی ہے۔ ہم جیسوں کا کیا ہی، کہیں بم دھماکا، کہیں گولیاں، فاقہ کشی، غربت، مہنگائی، بدامنی یہ سب عوام کا مقدر ہے۔ اہل کراچی چڑیوں کی طرح شکار کیے جارہے ہیں لیکن کراچی ہی کیا، ملک میں کس کا گھر محفوظ ہے سوائے چار، پانچ ”محفوظین“ کے۔ کراچی میں چوبیس گھنٹے میں مزید ایک درجن جیتے جاگتے انسان ہلاک کردیے گئے تو نوشہرہ میں صوبائی وزیراطلاعات کے اکلوتے بیٹے کو قتل کردیا گیا، ہم چونکہ کراچی میں بیٹھے ہیں شاید اس لیے ہمیں اپنا دکھ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ جس کا اکلوتا بیٹا مارا جائے اس کا صدمہ زیادہ ہے اور یوں ان لوگوں کے دکھ اور صدمے کا اندازہ بھی ہوسکے گا جن کے کڑیل جوان بیٹے دہشت گرد قرار دے کر مار دیے گئے۔ کتنے ہی بیٹے اسی دن کراچی میں شکار ہوگئے۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں اکٹھی 3 سال کی توسیع سے ہمیں بھی بہت خوشی ہورہی ہے لیکن وزیراعظم صاحب نے اس کا جو جواز تراشا ہے وہ بڑا عجیب ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ”جمہوریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں کیا ہی، مشکلات حالات میں ایسے سپہ سالار کی ضرورت تھی“۔یعنی جنرل کیانی سے نیچے کوئی دوسرا جرنیل جمہوریت پسند ہے نہ اس نام نہاد جنگ کو جاری رکھ سکتا ہی، نہ ہی کوئی دوسرا ایسا ہے جو قبائلی علاقوں میں ”کامیاب فوجی آپریشن“ کرسکے۔ یہ توسیع بھی حسب معمول فوجی مفاد میں ہوئی۔ لیکن کیا یہ دیگر جنرلوں پر عدم اعتماد نہیں اور ان کی نا اہلی کا اعلان نہیں؟ لیکن شاید وزیراعظم کو اپنا اور صدر کا تحفظ عزیز ہے اور یہی ملکی مفاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر بھی 2013ءتک محفوظ ہوگئے اور گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ زرداری صاحب 2018ءتک صدر رہیں گے اور بلاول کو وزیراعظم بنا کر ہی عہدہ چھوڑیں گے۔ تب پھر جنرل کیانی کو 2018 ءتک توسیع دی جائے کہ فوج میں واحد جمہوریت پسند ہیں۔ بی بی بے نظیر تو جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دے چکی ہیں، گیلانی صاحب ستارہ جمہوریت تو دیں۔</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/125/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/125/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/125/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/125/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/125/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/125/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/125/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/125/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/125/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/125/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/125/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/125/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/125/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/125/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=125&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/07/26/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af-%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%ac%d9%86%d8%b1%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>ایک ایڈیٹر کی سائیکل کا پہیہ</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/07/03/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%db%8c%da%88%db%8c%d9%b9%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%db%8c%db%81/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/07/03/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%db%8c%da%88%db%8c%d9%b9%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%db%8c%db%81/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 03 Jul 2010 15:57:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[فکاہیہ کالم]]></category>
		<category><![CDATA[حالات غیر حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[صحافی ، پاکستان ، کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[صحافت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=115</guid>
		<description><![CDATA[ایک صاحبزادی نےوالدین کو بتائےبغیر اپنی پسند کی شادی کر لی اور چپ چاپ پیا گھر سدھار گئی۔ یہ مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شاید اس میں کچھ دخل ٹی وی ڈراموں کا بھی ہو۔ بھارتی ڈراموں میں تو بغیر شادی کےلڑکیاں ماں بن جاتی ہیں اور گھر والےبڑےچاو سےانہیں قبول کرلیتےہیں۔ پاکستانی معاشرےمیں بھی [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=115&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">ایک صاحبزادی نےوالدین کو بتائےبغیر اپنی پسند کی شادی کر لی اور چپ چاپ پیا گھر سدھار گئی۔<br />
یہ مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شاید اس میں کچھ دخل ٹی وی ڈراموں کا بھی ہو۔ بھارتی ڈراموں میں تو بغیر شادی کےلڑکیاں ماں بن جاتی ہیں اور گھر والےبڑےچاو سےانہیں قبول کرلیتےہیں۔ پاکستانی معاشرےمیں بھی تواتر سےایسے واقعات پیش آرہےہیں اور پھر ڈیرہ غازی خان کی صائمہ کا المیہ سامنےآتا ہےجو موبائل فون کےذریعہ دوستی کرکےکراچی آگئی اور شادی کا وعدہ کرنےوالےنےاسےگھر کےصحن میں گاڑ دیا۔ والدین اپنی بچیوں کےہاتھ میں موبائل فون نہ دیں تو اچھا ہے۔<br />
ہم جس لڑکی کا ذکر کررہےہیں وہ شادی کےصرف تین ماہ بعد واپس آگئی۔ ماں نےگلےلگا کر پوچھا بیٹی ‘ واپسی کی اتنی جلدی کیا تھی۔ لڑکی نےجواب دیا‘ اماں ‘ بڑا دھوکا ہوگیا۔ میں نےجس سےشادی کی اس کی کار کرائےکی تھی‘ وہ جس مکان میں رہتا ہےاس کا کرایہ ایک سال سےنہیں دیا‘ مالک مکان روز آکر دھمکاتا ہے‘ اس کا موبائل چین کا ہے‘ جھاڑو‘ برتن اور کھانا پکانا سب مجھ کو کرنا پڑتا تھا۔ اور تو اور وہ ایک ایسےاخبار میں ملازم ہےجہاں مہینوں تنخواہ نہیں ملتی۔ اس سےتو اپنا ہی گھر بھلا۔<br />
اخبارات ہی نہیں‘ اربوں وپےکےسرمائےسےچلنےوالےبرقی ذرائع ابلاغ میں بھی تنخواہوں کےمعاملہ میں یہی صورت حال ہے۔ لیکن کئی صحافی اور تجزیہ نگار ایسےبھی ہیں جو لاکھوں میں کھیل رہےہیں اور تنخواہ دار صحافی ملازم رکھےہوئےہیں۔<br />
صحافیوں کےحوالےسےیہ تذکرہ یوں نوک قلم پر آگیا کہ کئی دن پہلےہمیں ایک خبر موصول ہوئی تھی اور ہم تب سےیہ خبر چھپی ہوئی دیکھنےکےلیےمختلف اخبارات ٹٹول رہےہیں ۔ لیکن ” ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازعروساں‘‘پریس ریلیز کی شکل میں خبر یوں ہےکہ ” معروف صحافی اور روزنامہ &#8230;&#8230;..کےایڈیٹر علی زیدی اپنےصحافی دوست علی جان کو اپنی بغیر اسٹینڈ کی سائیکل کےڈنڈےپر بٹھا کر برنس روڈ پر لیموں کا شربت پینےگئے۔ وہاں انہوں نےاپنی سائیکل کا اگلا پہیہ کھمبےکےساتھ زنجیر سےباندھ دیا لیکن نامعلوم چوروں نےلوڈشیڈنگ کا فائدہ اٹھایا اور اگلا پہیہ کھمبےسےبندھا چھوڑ کر باقی سائیکل لےگئے۔ یہ دیکھ کر دونوں صحافیوں نےسینہ کوبی شروع کردی لیکن ستم ظریفی کی انتہاءہےکہ لوگوں نےصورتحال کا مزہ لینا شروع کردیا۔ مزید ستم یہ کہ اتنےبڑےسانحہ کی کوریج کےلیےکسی نیوز چینل یا اخبار نےکیمرہ مین یا فوٹوگرافر بھیجنےکی زحمت بھی نہیں کی حالانکہ کئی چینلز اور اخبارات کےدفاتر قریب ہیں۔ پولیس کےبارےمیں شکایت کی جاتی ہےکہ تھانہ قریب ہونےکےباوجود پولیس تاخیر سےآئی۔ لیکن آتو جاتی ہے۔ مذکورہ واردات کی رپورٹ درج کرانےکےلیےایڈیٹر صاحب اور ان کےصحافی دوست تھانےپہنچےتو پولیس نےمقدمہ درج کرنےسےانکار کردیا ۔ ‘‘دو ‘ چار اہلکار تو ہنس بھی رہےتھے۔<br />
ہمارےہم پیشہ و ہم مشرب بھائی علی زیدی نےعوام اور صحافیوں سےاپیل کی ہےکہ اگر وہ کسی کو بغیر پہیےکی سائیکل فروخت کرتےدیکھیں تو انہیں فوری طور پر اطلاع دیں[موبائل نمبر دیا گیا ہےجو ہم اس لیےدرج نہیں کر رہےکہ کہیں ان سےاگلا پہیہ بھی طلب نہ کرلیا جائے] ۔ علی زیدی نےصدر مملکت ‘ وزیر عظم ‘ گورنر‘ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سےاپیل کی ہےکہ پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنےاور بےپہیہ کی سائیکل برآمد کرنےکےفوری احکامات دیےجائیں۔ انہوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے ازخودنوٹس  لینےکی اپیل بھی کی ہے۔<br />
یہ سانحہ بجائےخود بڑا سنگین ہےلیکن سنگین ترین پہلو یہ ہےکہ ایک اخبار کا ایڈیٹر بغیر اسٹینڈ والی سائیکل پر گھوم رہا تھا اوراس کا بھی صرف ایک پہیہ ہی بچا ہے۔ چوروں کےپاس شاید زیادہ وقت نہیں تھا ورنہ تو وہ کھمبا ہی اکھاڑ لیتے تاکہ پوری سائیکل ہاتھ لگے۔ مذکورہ اخبار کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایڈیٹر صاحب کےپہیےمیں سائیکل لگواکر دے۔ ہم نےتو جس دن سےیہ خبر پڑھی ہے‘ آتےجاتےنظر رکھ رہےہیں کہ ایک پہیہ سےمحروم سائیکل نظر آئےتو اپنےایڈیٹر بھائی کو فوراً مطلع کریں۔ غنیمت ہےکہ علی زیدی ان صحافیوں میں سےنہیں جن کی بیویاں تیسرےمہینےہی میکےجا بیٹھتی ہیں۔ ان کی سائیکل کرائےکی نہیں تھی اور تو قع ہےکہ تنخواہ بھی بروقت مل رہی ہوگی۔ ذرائع نےیہ نہیں بتایا کہ کیا علی زیدی شادی شدہ بھی ہیں۔ بغیر اسٹینڈ کی سائیکل سےتو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ان کےاس مطالبہ کی تائید کریں گےکہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں۔<br />
ہمیں صحافی برادری ‘ خاص طور پر کالم نگاروں سےبھی شکایت ہےکہ اتنےبڑےسانحہ پر انہوں نےکچھ نہیں لکھا حالانکہ ایک کالم نگار کشور ناہید کا لیپ ٹاپ گم ہوا تو انتظار حسین نےپر سا بھی دیا اور چور سےاپیل بھی کی کہ لیپ ٹاپ واپس کردے۔ روزن ِدیوار سےعطاالحق قاسمی بھی اپنا کالم لےکر آگئےاور موقع سےفائدہ اٹھا کر 35سال پہلےاپنےلمبریٹا اسکوٹر کی چوری کا ذکر بھی کردیا جس کےتذکرےپر سب کالم نگار ان کی مدد کو دوڑ پڑےتھے۔ احمد ندیم قاسمی‘ انتظار حسین‘ نصراللہ خان‘ منو بھائی اور ابن انشا تک نےایسےکالم باندھےکہ چور ان کا اسکوٹر چھوڑگیا۔ عطاالحق قاسمی کا خیال ہےکہ یہ ” چمتکار“ پیپلز پارٹی کےاخبار مساوات میں سہیل ظفر کا کالم چھپنےسےہوا جس سےچور یہ سمجھا کہ یہ پارٹی کا حکم ہےجس کی پابندی ڈسپلن کا تقاضاہے۔ یعنی 35سال پہلےایک اسکوٹر کی چوری پر بھی اکتفا کرلیا جاتا تھا۔اب تو پلوں کےنیچے سےبہت سا پانی بلکہ پل ہی بہہ گئےہیں۔ جمہوریت کی چوری سےکم پر بات نہیں ٹھیرتی۔ سائیکل والےایڈیٹر بھائی شکر کریں کہ ایک پہیہ تو بچ رہا ہےجسےاب تک کھمبےکی قید سےآزاد کرالیا ہوگا ‘وہ ون وہیل ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ حکومت تو ایسی سائیکل چلا رہی ہےجس کےدونوں پہیےغائب ہیں اور اسٹینڈ بھی نہیں ہے۔ بس کھمبا گڑا ہوا ہے۔</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">نوٹ : یہ کالم اطہر ہاشمی صاحب ایک قاری کی فرمائش پر لکھا گیا ہے ۔ جعفر صاحب نے فرمائش کی تھی کہ اطہر صاحب کبھی سیاست کو ٹچ کیے بغیر کچھ لکھ کر نذر بلاگ کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جعفر صاحب آپ کا تبصرہ اہم ہوگا۔ </span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">شکریہ</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">ایڈمن ’’بین السطور‘‘۔<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/115/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/115/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/115/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/115/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/115/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/115/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/115/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/115/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/115/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/115/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/115/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/115/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/115/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/115/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=115&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/07/03/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%db%8c%da%88%db%8c%d9%b9%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>ہمارے دستی‘ ہمارے جاٹ</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/26/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%af%d8%b3%d8%aa%db%8c%e2%80%98-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%ac%d8%a7%d9%b9/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/26/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%af%d8%b3%d8%aa%db%8c%e2%80%98-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%ac%d8%a7%d9%b9/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 26 Jun 2010 06:18:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاہ سیات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=109</guid>
		<description><![CDATA[”ہزاروں سیاسی اداکاروں کے باوجود ہمارا دستی اور ہمارا جاٹ پھر جیت گیا۔“ جناب صدر نے شہید بی بی کے مزار پر کھڑے ہوکر جعل سازوں‘ دھوکے بازوں کی کامیابی پر نہ صرف فخر کا اظہار کیا بلکہ انہیں ”ہمارا“ کہہ کر اعزاز بھی بخشا۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ایسے تمام لوگ انہی کے [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=109&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">”ہزاروں سیاسی اداکاروں کے باوجود ہمارا دستی اور ہمارا جاٹ پھر جیت گیا۔“ جناب صدر نے شہید بی بی کے مزار پر کھڑے ہوکر جعل سازوں‘ دھوکے بازوں کی کامیابی پر نہ صرف فخر کا اظہار کیا بلکہ انہیں ”ہمارا“ کہہ کر اعزاز بھی بخشا۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ایسے تمام لوگ انہی کے ہیں اور انہی کے دم سے کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ یہ دستی اور جٹ کون ہیں‘ ان سے اب پوری قوم واقف ہوچکی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ سینکڑوں ارکان قومی اسمبلی میں سے دو‘ ایک تھے۔ مگر جب سے عدالت کی نظر پڑی یہ شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے۔ جناب صدر نے ان کو اپنا کہہ کر تمام نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں‘ بس کسی طرح جعلی ڈگریاں حاصل کرلو اور ہمارے ہوجاﺅ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی اپنوں کی حمایت میںکسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ جعلی ڈگری کا حصول کارگل کے معاملہ سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ جیتے رہیں۔اگر جناب سلمان تاثیر یہ بات کہتے تو ان کو زیبا تھا۔ لیکن میاں برادران کا اصل نشانہ توجنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے میاں برادران کی حکومت چھینی تھی چنانچہ ہر برائی کا موازنہ جنرل پرویز سے ہوگا۔ جعلی ڈگری اور کارگل کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک تیلی نے جاٹ سے کہا تھا”جاٹ رے جاٹ تیرے سرپہ کھاٹ۔“تیلی قافیہ ردیف سے واقف تھا ممکن ہے کوئی شاعر اس کے کولہو پر تیل لینے آتا ہو۔ جو اب میں جاٹ کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے کہا ”تیلی رے تیلی‘ تیرے سر پہکولہو“ اس پر تیلی نے اقرار کر کہا واہ‘ قافیہ تو ملا ہی نہیں۔ جاٹ نے کہا قافیہ ملے نہ ملے‘ بوجھوں تومرے گا۔ ہم بھی کب سے سوچ رہے ہیں کہ تیلی کا مناسب قافیہ کیا ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے بھی کچھ ایسا ہی قافیہ ملایا ہے۔اطلاع یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں کے معاملہ میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی سے بازی لے گئی ہے۔ چلیے‘ کہیں توپالا مارا۔ اب ایک خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اور ن لیگ اپنے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی تصدیق رکوانے کے لیے متحدہ ہوگئی ہیں۔ یہ اتحاد مبارک ہو جعل سازوں کو۔ دونوں پارٹیوں کا موقف ہے کہ ایک دوسرے کا ”پنڈا“ کھولنے سے دونوں ہی ”لاجوں“ مریں گے‘ کیوں نہ ایک دوسرے کا پردہ رکھاجائے۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ میاں برادران ایسے کوتاہ اندیش نہیں کہ جعل سازوں اور دھوکے بازوں کو اعلانیہ ہمارے کہیں۔ ایسی جرات تو وہی کرسکتا ہے جو خود اس فن کا ماہر ہو۔ عدالتیں جعلی ڈگریاں پکڑ رہی ہیں اور جعل سازوں کو چھوڑ رہی ہیں۔ نااہل قرار پانے والے روح سفر کی طرح کل کسی اور راستے سے آجائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے لوگوں کو سزا بھی ملتی۔ برسوں تک اسمبلیوں کا رکن رہ کر جو مراعات حاصل کی ہیں‘ قوم کے خزانے سے تنخواہ لی ہے‘ وہ اگلوائی جاتی ‘ ضمنی انتخابات کا خرچہ وصول کیا جاتا۔ لیکن اندھیر نگری میں سب اندھیر ہی ہے۔ ایک عام آدمی معمولی سے جعل سازی کرتا ہے تو اسے سزا ہوجاتی ہے۔ یہاں تو پوری قوم سے دھوکا کیا گیا اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی میں بھی حصہ لیا گیا۔ ایسے قوانین اور ایسی اسمبلیوں کی کیا وقعت رہ گئی؟ سزا مل جاتی تو آج کوئی فخریہ یہ نہ کہتا کہ ہماے دستی اور ہمارے جٹ پھر جیت گئے۔ جن پارٹیوں میں ایسے جعل ساز بیٹھے ہوئے ہیں ان پارٹیوں سے سوائے جعل سازی اور فریب کے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن صدر صاحب یہ تو بتائیں کہ جاٹ کب سے ان کے ہوگئے۔ وہ تو ق لیگ کے ٹکٹ پر بھی جیت گئے تھے۔جناب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سید زادے ہیں اور شیخ عبدالقادر جیلانی جیسے بزرگ سے نسبت ہے جو ڈاکوﺅں کے سامنے بھی سچ بولنے سے نہیں ہچکچائے یہ سید زادے جمشید دستی کی انتخابی مہم کامیاب بنانے کے لیے مظفر گڑھ پہنچے‘ مقامی افراد کے لیے کئی انعامات‘ منصوبوں اور ملازمتوں کا اعلان کرکے دستی کی کامیابی کو پکا کیا اور روحانی قوت کام میں لاکر انتخابات سے پہلے ہی دستی کی کامیابی کا اعلان کردیا۔ ان کے منہ سے نکلی بات بھلا کیوںنہ پوری ہوتی کہ وہ سیدکے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی ہیں۔ لیکن یہی سید صاحب جمعرات 13 مئی کو قومی اسمبلی سے‘ اس اسمبلی سے جس میں اب بھی کئی جعل ساز بیٹھے ہیں‘ خطاب کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ سیاسی جماعتیں جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کو ٹکٹ جاری نہ کریں۔واہ ‘ کیا بات ہے۔ جمشیددستی کی انتخابی مہم میں شرکت کا عذر یہ پیش کیا کہ ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ پارٹی نے کیا تھا‘ پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنا میری ذمہ داری ہے۔ پھر وہ بورے والا میں ایسی ہی ایک اور انتخابی جلسہ میں خطاب کرنے چلے گئے۔کاش کوئی ایسا بھی ہو جو پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنے کے بجائے حق اور سچ کا دفاع کرے‘ ملک کا دفاع کرے‘ غریب عوام کے حقوق کا دفاع کرے اور عوام کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ یہ ہمارے ہیں‘ ہم ان کو جتائیں گے۔ لیکن موجودہ نظام میں تو دستی اور جٹ ہی جیتتے رہیں گے کہ وہ صاحبان اقتدارکے چہیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بل بوتے پر یہ دعویٰ کہ پی پی کو اقتدار سے ہٹانا آسان نہیں۔ آپ تو خود یہ مشکل آسان کیے دے رہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ وفاقی وزیر قانون بھی ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگری لیے گھوم رہے ہیں وہ بھی صدر صاحب کے اپنے ہی ہیں۔ لیکن اصلی سیاسی اداکار کون ہی؟ کیا اب بھی پتا نہیں چلا؟<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/109/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/109/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/109/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/109/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/109/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/109/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/109/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/109/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/109/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/109/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/109/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/109/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/109/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/109/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=109&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/26/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%af%d8%b3%d8%aa%db%8c%e2%80%98-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%ac%d8%a7%d9%b9/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>ہمیشہ دیر کردیتے ہیں ہم</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/24/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%af%db%8c%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%85/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/24/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%af%db%8c%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%85/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 24 Jun 2010 09:36:39 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[حالات غیر حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاہ سیات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان پیپلز پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[آصف زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[اطہر ہاشمی]]></category>
		<category><![CDATA[بے نظیر بھٹو]]></category>
		<category><![CDATA[رچرڈ ہالبروک]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=103</guid>
		<description><![CDATA[ایک سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ 15 اپریل 2010 ءکو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ کو دو ماہ چھ دن گزرنے کے بعد 21 جون کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اس میں حیرت کی کیا بات ہے‘ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری کی پوری رپورٹ انگریزی میں تھی۔ اس کو [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=103&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">ایک سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ 15 اپریل 2010 ءکو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ کو دو ماہ چھ دن گزرنے کے بعد 21 جون کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اس میں حیرت کی کیا بات ہے‘ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری کی پوری رپورٹ انگریزی میں تھی۔ اس کو پڑھنے اور سمجھنے میں وقت تو لگتا ہی ہے جبکہ وقت حکمرانوں میں سے کسی کے پاس نہ تھا۔ وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی اس پورے عرصہ میں بہت مصروف رہے۔ انہوں نے واشنگٹن جاکر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے سرجوڑ کر راز کی باتیں کیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ مسائل پر غور کے لیے سر سے سر جوڑنا ہی پڑتا ہے۔ جواب میں امریکا نے پاکستان کو سر سے پکڑ رکھا ہے۔ صرف رچرڈ ہالبروک ہی اوباما کے خصوصی ایلچی مقرر ہونے کے بعد گزشتہ دنوں دسواں چکر لگا کر گئے ہیں اور اپنی گفتگو سے چکرا کر رکھ دیا ہے۔ ایک دن کہا کہ پاک ایران گیس معاہدہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اور جب واشنگٹن سے باز پرس ہوئی تو اگلے ہی دن کہہ دیا کہ ”مشتری ہوشیار باش“ اس مصرعہ طرح پر پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم گرہ لگارہے ہیں اور گرہیں کھل کر نہیں دے رہیں۔ سنا ہے کہ ہالبروک کو یہ اعتراض تھا کہ پاکستان میں ان کے سر سے سر کیوں نہ جوڑا گیا اور امریکی وزیر خارجہ جیسا یہاں کیوں نہیں ہے۔پھر بھی ہالبروک پاکستان کے آموں کی تعریف کرگئے۔ لیکن امریکی روایات کے عین مطابق دودھ میں مینگیاں بھی ڈال دیں۔ آموں کی تعریف کرنے پر جب ان سے کہا گیا کہ امریکا جس طرح پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیتا ہے اسی طرح پاکستانی سندھڑی‘ چونسہ ‘ انور رٹول‘ دسہری اور سرولی کے لیے بھی دروازے کھول دے‘ لیکن موصوف نے اس کے لیے شرط لگادی کہ امریکی ٹیم آکر ایک ایک انور رٹول کو ٹٹول کر دیکھے گی‘ جراثیم کا سراغ لگائے گی‘ القاعدہ سے تعلق کی تحقیقات کرے گی اور خاص طور پر یہ دیکھے گی کہ یہ ان آموں کی نسل میں سے تو نہیں جو 17 اگست 1988 ءکو جنرل ضیاءالحق کے طیارے میں رکھوائے گئے تھے۔ اس سانحہ میں امریکا نے اپنا سفیر بھی قربان کردیا تھا۔ چلی کے امریکی سفارتخانے میں ایک پاکستانی پہلے سے وقت لے کر اپنا ویزا بڑھوانے گیا تھا۔ اسے دبوچ لیا گیا‘ الزام یہ تھا کہ اس کے کاغذات اور کپڑوں سے دھماکا خیزمواد کی بو آرہی ہے۔ ممکن ہے وہ بیچارہ کسی دیسی صابن سے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر گیا ہو۔ ایسا ہی کوئی مواد ہالبروک کو پاکستانی آم میں نظر آجائے۔ بستی لال کمال کے سانحہ کے بعد تو آموں کے بارے میں امریکی محتاط ہوگئے ہوں گے۔ خود امریکی پالیسی یہ ہے کہ آم کے آم‘ گٹھلیوں کے دام‘ پاکستان کو جتنا کچھ دے رہے ہیں اس میں سے رس تو خود چوس لیتے ہیں اور گٹھلیوں کے دام وصول کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ جو قریشی ہیں اور نام کے ساتھ شاہ بھی لکھتے ہیں‘ سجادہ نشین بھی ہیں۔ امریکا سے فرصت پاکر وہ سجادہ سنبھالتے ہیں۔ عربی میں سجادہ قالین کو کہتے ہیں مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ قالین کے شیر ہیں۔ شیروں کے بارے میں جناب زرداری کا تجربہ وسیع ہے چنانچہ انہوں نے بی بی کی سالگرہ پر بھی نقلی شیروں کا حوالہ دیا ہے۔ غالباً یہ بھی جعلی اسناد کی کوئی شکل ہے۔ بی بی بے نظیر شہید ہوگئیں اس لیے ہم شیر کے حوالے سے ان کا تبصرہ نہیں دوہرائیں گے۔ لیکن جب جعلی ارکان اسمبلی اپنائے جارہے ہیں تو جعلی شیر کیا برے ہیں۔ کبھی بھٹو صاحب کے دست راست جناب غلام مصطفی کھر بھی تو بزعم خود شیر پنجاب تھے۔ چڑیا گھر میں ہم نے بڈھے شہر کا بُرا حال دیکھا ہے کہ اس سے گوشٹ بھی نہیں چبا یا جارہا تھا۔ جعلی شیر اپنی ہی بوٹیاں نوچتے ہیں۔ بے شمار مصروفیات کے بعد اب وزیر خارجہ صاحب کو فرصت ملی تو رپورٹ بھی پڑھی ہوگی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پوری رپورٹ پڑھ کے بیٹھی تھی اور ناراض تھی۔ ایسی ہی ناراضی کا اظہار کیری لوگر بل پر بھی ہوا تھا تب حکمرانوں نے بھی اس کی شرائط پر نظرڈالی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے بہت کچھ ہے۔ مثلاً یہ کہ ”آئی ایس آئی‘ آئی بی اور ایم آئی نے رپورٹ کی تیاری میں رکاوٹیں ڈالیں‘ پی پی کے اپنے انتظامات ناقص تھے‘ پرویز مشرف کے رشتہ دار ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز کے کہنے پر سی سی پی او راولپنڈی مسعود عزیز نے جائے شہادت کو دھلوایا۔ رپورٹ میں بے نظیر کو چھوڑ کر بھاگ جانے والوں کا بھی ذکر ہے۔ 17 اپریل کو وزیراعظم کی صدارت میں پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ رپورٹ میں نامزد سرکاری اہلکاروں کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں‘ تمام ذمہ داروںکے خلاف کارروائی ہوگی‘ ملزمان کو انصاف کے کٹہڑے میں لایا جائے گا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ”رپورٹ نے پارٹی موقف کو درست ثابت کردیا۔“ اب پارٹی موقف کیا کہتا ہی؟ یہی رپورٹ ناقابل اعتبار ٹھیری تو اس کی مداحی کرنے والے کیا ٹھیری؟ ہمارے خیال میں ابھی وہ کٹہڑا تیار کیا جارہا ہے جس میں ملزمان کو کھڑا کیا جائے گا۔ سانحہ بڑا ہے‘ مجرم بھی بڑے بڑے ہیں چنانچہ کٹہڑا بھی بہت بڑا چاہیے۔ شاید اس کے لیے لکڑی کا انتخاب ہورہا ہے۔ بس یوں نہ ہو کہ مضبوط لکڑی حاصل کرنے کے لیے شجرکاری پر غور ہورہاہ ے‘ کچھ بھی بعید نہیں۔ اور ایک رپورٹ یہ تھی کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا ایک صفحہ 15لاکھ ڈالر میں پڑا ہے‘ معاملہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا۔ لیکن یہ تو رپورٹ آنے کے دودن بعد کی بات ہے۔ اب تو معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ یہ قیمتی رپورٹ اقوام متحدہ کے منہ پر دے ماری گئی ہے۔18 اپریل کو تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد شروع ہونے کی اطلاع تھی‘ 6 افسر ہٹادیے گئے تھے‘ ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے۔ رپورت میں نامزد افراد کو گرفتار کرنے کافیصلہ ہوا۔ اور پھر نہائی دھوئی پھسل پڑی۔ اسٹیبلشمنٹ کے اہم افراد کے نام رپورٹ میں آئیں گے تو پھر یہی ہوگا۔ لیکن اتنی تاخیر سے کیون۔ منیر نیازی کے بقول ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں“ مگر اب اتنی دیر ہوچکی ہے کہ مزید انتظار کرنا عوام کے لیے دوبھر ہوگیا ہے۔<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/103/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/103/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/103/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/103/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/103/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/103/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/103/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/103/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/103/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/103/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/103/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/103/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/103/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/103/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=103&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/24/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%af%db%8c%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>ہوائے ترک تعلقات</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/18/%db%81%db%8c%da%ba%db%94%db%81%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%d8%a7%d8%aa/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/18/%db%81%db%8c%da%ba%db%94%db%81%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%d8%a7%d8%aa/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 18 Jun 2010 09:32:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاہ سیات]]></category>
		<category><![CDATA[سلمان تاثیر، آتش تاثیر، رانا ثنااللہ، پاکستان ، مولانا فضل الرحمان ، مولانا شیرانی ، الطاف حسین ،]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=96</guid>
		<description><![CDATA[جوتیوں میں دال بٹنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ پرانے وقتوں کی کہاوت ہے۔ اب دال ایسی سستی نہیں کہ جوتیوں میں تو کیا‘ڈونگوں ‘ پیالوں‘ قابوں اور رکابیوں میں بھی بانٹی جاسکے۔ اس عوامی دور حکومت کے گزشتہ ایک سال میں دالیں سو سے دو سو فیصد تک مہنگی ہوئی ہیں۔ اب [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=96&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">جوتیوں میں دال بٹنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ پرانے وقتوں کی کہاوت ہے۔ اب دال ایسی سستی نہیں کہ جوتیوں میں تو کیا‘ڈونگوں ‘ پیالوں‘ قابوں اور رکابیوں میں بھی بانٹی جاسکے۔ اس عوامی دور حکومت کے گزشتہ ایک سال میں دالیں سو سے دو سو فیصد تک مہنگی ہوئی ہیں۔ اب تو سوغات کے طور پر ہی بانٹی جاسکتی ہے۔ اچھا ہے‘ جوتے ہی کون سے سستے ہیں کہ دال کے ساتھ وہ بھی جائیں۔ یہ تو اب عوام پر برسنے کے لیے رہ گئے ہیں۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">اتحادیوں کی حکومت ہے اور اتحادہی غائب ہے۔ اب اتحاد صرف اک ایئر لائن کے نام پر رہ گیا ہے یا پھر فسادیوں میں نظر آتا ہے وگرنہ حکمران اتحادیوں میں تو عدم اتحاد پر اتحاد ہے۔ پنجاب میں میثاق جمہوریت کے دو بڑے دستخط کنندگان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں اقتدار کی حد تک میثاق ہے‘ جمہوریت کا تو کہیں بھی نام و نشان نہیں۔ قومی اسمبلی میں فرینڈلی اپوزیشن کے نمائندہ چودھری نثار علی خان نے چیلنج دے دیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت میں کوئی خرابی ہے تو پیپلزپارٹی الگ ہوجائے یعنی ”تو روکا ہے کس نے چلی جائے نا۔“</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">قومی اسمبلی میں بحث تو بجٹ پر اور وفاقی معاملات پر ہورہی تھی لیکن بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر کے مصداق جب وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید ہوگی تو وہ جواب میں ن لیگ کی پنجاب حکومت ہی پر تنقید کرے گی۔ تم تو ہمیں کو کہتے ہو‘ یہ تم کو کیا ہوا۔ اب پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں شریک اقتدار ہیں۔ تاہم حصہ بقدر جثہّ کے مطابق ۔ جب پنجاب حکومت پر زد پڑی تو نثار علی خان کو کہنا پڑا کہ قومی اسمبلی میں پنجاب حکومت کو طعنے نہ دیے جائیں ورنہ تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں۔ ہتھیاروں سے ان کا مطلب یقیناً ٹی ٹی اور کلاشنکوف سے نہیں ہوگا۔ ان کی دلیل تھی کہ اگر پنجاب حکومت میں خرابی ہے تو پیپلزپارٹی بھی اس میں حصہ دار ہے۔ الطاف حسین ہوتے تو اس موقع پر اپنا مشہور جملہ دوہراتے‘ میٹھا میٹھا ہپ ‘کڑوا کڑوا تھو۔ نثار علی خان نے دعوت مبارزت دی کہ پیپلزپارٹی میں ہمت ہے تو پنجاب حکومت سے الگ ہوکر دکھائے‘ کس نے روکا ہے۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> کم از کم اس معاملہ میں تو ن لیگ بازی لے جاچکی ہے۔ اس نے وفاقی حکومت سے الگ ہوکر دکھادیا۔ قومی اسمبلی میں پنجاب کے بجٹ پر جوابی اعتراض ہوا تو نثار علی خان نے نہلے پر دہلا مارا کہ پنجاب حکومت کا بجٹ تو پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ ہی نے بنایا ہے۔ اس طرح وہ بھی عوام دوست ہی ہوگا۔ ان کی یہ بات تو معقول ہے کہ پنجاب حکومت پر اعتراضات پنجاب اسمبلی میں کیے جائیں۔ اگر یہاں پنجاب اسمبلی کی بات ہوگی تو پھر سندھ اسمبلی کی بات بھی ہوگی۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">شاید نثار علی خان کے چیلنج کے اثرات ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفے طلب کرلیے ہیں۔ لیکن یہ چائے کی پیالی میں طوفان ہے اور پیالی بھی وہ جو خالی ہے‘ چائے کون سی سستی ہے۔ تازہ ترین صورتحال تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی نے یہ کہہ کر استعفے دینے سے انکار کردیا ہے کہ ہمیں تو بی بی شہید نے ٹکٹ دیے تھے اور ہم بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ یعنی ان سے استعفے بی بی صاحبہ ہی لے سکتی تھیں۔ مرحومہ یہ کام اتنی تاخیر سے نہیں کرتی تھیں بلکہ پہلے ہی استعفے لے کر اپنے بیگ میں رکھ لیتی تھیں کہ وقت ضرورت کام آئیں۔(فوزیہ بی بی کہتی ہیں ہم نے بھی یہی کام کیا ہی)</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">پنجاب کا سب سے دلچسپ اور توجہ طلب کردار گورنر سلمان تاثیر کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن والے جب بھی گورنر ہاﺅس کی طرف دیکھیں گے انہیں گورنر سلمان تاثیر ہی نظر آئے گا‘ صدر بھی آصف زرداری ہی رہیں گے‘ ن لیگ کی باری تب آئے گی جب ہمارے بچے جوان ہوچکے ہوں گے۔ حیرت ہے کہ گورنر صاحب کے بچے اتنے بڑے ہونے کے باوجود اب تک جوان نہیں ہوئے۔ ان کی سکھ ”بیوی“ سے پیدا ہونے والا آتش تاثیر تو کب کا اپنی جوانی کا ثبوت دے چکا ہے۔ جب بیٹا باپ کے منہ آنے لگے اور اس کا کچا چٹھہ کھولنے لگے تو اس کے جوان ہونے میں بلکہ بہت جوان میں کوئی شک نہیں رہتا۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">جناب سلمان تاثیر نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے پنجاب کارڈ چھین لیا ہے۔ اس چھینا جھپٹی کی تو ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی۔ ایک بار ہمارا بھی کارڈ پورے بٹوے کے ساتھ چھینا جاچکا ہے۔ ہم اب تک یہی سوچ رہے تھے کہ اُچکے کا تعلق کس سے تھا۔ گورنر صاحب کا کہنا ہے کہ پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ لا اینڈ آرڈر کا ہے لیکن شواہد اور نظائر موجود ہیں کہ گورنر صاحب کا اپنا سب سے برا مسئلہ لا منسٹر رانا ثنا اللہ ہیں جن کی وجہ سے گورنر صاحب کو بہت نیچے جھکنا پڑتا ہے۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">یہ اچھی بات ہے کہ پرویز مشرف کی باقیات کو سندھ میں لا اینڈ آڈر کا مسئلہ نظر نہیں آتا جہاں پیپلزپارٹی اور متحدہ کی متحدہ حکومت ہے اور قاتل بھی متحد ہیں۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">ہوائے ترک تعلقات کب سے چل رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ سرفہرست ہے اور اب سے نہیں بہت پہلے سے۔ بار بار علیحدہ ہونے اور ترک تعلق کی دھمکیاں دے چکی ہے مگر اسی تنخواہ پر کام کررہی ہے۔ لیکن نہیں‘ شاید ہر دھمکی پر تنخواہ بڑھ جاتی ہو۔ یہی وتیرہ جمعیت علماءاسلام نے اختیار کرلیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی بار بار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک ہی دن دو خبریں تھیں۔ ایک میں حکومت سے علیحدگی کا عندیہ اور دوسری خبر یہ کہ حکومت سے معاملات طے پاگئے‘ مطالبات مان لیے گئے اور اب سب کچھ ٹھیک ہے۔ جے یو آئی کا مطالبہ تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی اس کو دی جائے اور مولانا شیرانی کو چیئرمین بنایا جائے۔ مولانا شیرانی بھلے آدمی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل (مرحومہ)میں تھے توجنرل پرویز مشرف سے بھی اچھے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ترک تعلق اچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔ صلہ رحمی کا صلہ بھی ملتا ہے۔ جمعیت علماءاسلام وضع دار جماعت ہے۔ گزشتہ دنوں اس کے وزراءنے وفاقی کابینہ سے احتجاجاً واک آﺅٹ کرکے مثال قائم کی تو اس پر وزیراعظم گیلانی جیسے شخص کو بھی جلال آگیا اور بول پڑے جارہے ہو تو استعفیٰ دے کر جاﺅ۔ لیکن جے یو آئی کے رہنماﺅں میں تحمل و برداشت بہت ہے۔ یہ سوچ کر ٹال دیا کہ شاید کی اور سے کہا جارہا ہے۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> یہ جو مختلف جماعتیں باربار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکیاں دے رہی ہیں اس پر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کہیں ایک دن خود پیپلزپارٹی ہی دھمکی نہ دے بیٹھے کہ جاﺅ‘ ہم نہیں کھیلتے۔ اس صورتحال پر شعیب بن عزیز کا شعر یاد آتا ہے۔ لکھا رکھا ہے عہد ترک الفت مگر دل دستخط کرتا نہیں ہی ”حجتاں ڈھیر“ کی بھی تو کوئی کہاوت ہے۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;-</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">یہ مضمون آج کے جسارت میں بطور کالم شائع ہوچکا ہے۔ بلاگ کی پالیسی کے مطابق صرف خاص برائے بلاگ تحریریں شائع ہوں گی تاہم ہاشمی صاحب کے کئی مداحوں کے پرزور اصرار پر اس رول میں نرمی کی گئی ہے۔ اب شائع شدہ کلام وضاحت کے ساتھ شائع کیے جائیں گے۔ شکریہ ایڈمن &#8220;بین السطور&#8221;<br />
بلاگ کے گرافک ویو کے لیے <a href="http://www.jasarat.com/2010/06/18/columns/details/01.gif">یہاں</a> کلک کریں۔<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/96/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/96/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/96/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/96/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/96/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/96/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/96/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/96/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/96/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/96/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/96/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/96/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/96/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/96/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=96&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/18/%db%81%db%8c%da%ba%db%94%db%81%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>طوفان اور سیاست دان</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/17/%d8%b7%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%af%d8%a7%d9%86/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/17/%d8%b7%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%af%d8%a7%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 17 Jun 2010 12:29:02 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[فکاہیہ کالم]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی سیاہ سیات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاہ سیات]]></category>
		<category><![CDATA[منور حسن]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا فضل الرحمن]]></category>
		<category><![CDATA[نواز شریف]]></category>
		<category><![CDATA[چودھری شجاعت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آصف زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[الطاف حسین]]></category>
		<category><![CDATA[اطہر ہاشمی]]></category>
		<category><![CDATA[جسارت]]></category>
		<category><![CDATA[حمید اختر]]></category>
		<category><![CDATA[روف طاہر]]></category>
		<category><![CDATA[رحمن ملک تحریک طالبان والے]]></category>
		<category><![CDATA[زورداری]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست دان]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز شریف]]></category>
		<category><![CDATA[طوفان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران خان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=87</guid>
		<description><![CDATA[رئوف طاہر بڑےسینئر صحافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حمید اختر یا عباس اطہر کی عمر کےہیں۔ ہمارےپرانےساتھی ہیں۔ ایک عرصےتک لاہور سےجسارت کی نمائندگی کرتےرہے، پھر مجیب الرحمن شامی کو پیارےہوگئے۔ جدہ میں برسوں ساتھ رہا۔ میاں نوازشریف جدہ پہنچےتو ہم نےشہر خالی کردیا۔ رئوف طاہر نےغریب الوطن امیر کی دلدہی [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=87&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">رئوف طاہر بڑےسینئر صحافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حمید اختر یا عباس اطہر کی عمر کےہیں۔ ہمارےپرانےساتھی ہیں۔ ایک عرصےتک لاہور سےجسارت کی نمائندگی کرتےرہے، پھر مجیب الرحمن شامی کو پیارےہوگئے۔ جدہ میں برسوں ساتھ رہا۔ میاں نوازشریف جدہ پہنچےتو ہم نےشہر خالی کردیا۔ رئوف طاہر نےغریب الوطن امیر کی دلدہی جی جان سےکی۔ رئوف طاہر لاہور واپس آگئےہیں اور اب شریف برادران پر لازم ہےکہ دل داری کریں۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">رئوف طاہر کو ہم بھولتےتو نہیں ہیں لیکن چند دن سےوہ اس لیےیاد آرہےہیں کہ انہوں نےایک دلچسپ ایس ایم ایس بھیجا ہےجو ہمارےموبائل میں محفوظ ہےاور اُس وقت تک رہےگا جب تک موبائل کسی اور کو پسند نہیں آجاتا۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">پیٹ (phet) نامی طوفان بھی جمہوری حکومت کی آمد کی طرح کا شور مچاتا ہوا آیا تھا لیکن گرد ِ کارواں کی طرح سمٹ گیا، تاہم یادیں چھوڑ گیا۔ اس کی یاد رئوف طاہر نےبڑےدلچسپ انداز میں تازہ کی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ ”طوفان کی آمد کی خبر پر عمران خان نےچیف جسٹس سےمطالبہ کیا کہ اس کا سوموٹو ایکشن لیا جائے‘ جماعت اسلامی نےاسےبلیک واٹر کی سازش قرار دیا‘ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی تحقیق یہ تھی کہ اس کی سازش وزیرستان میں تحریک طالبان نےتیار کی ہے، صدر زرداری <a href="http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/14/%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%af%db%92/">کےزوردار مشیر خاص نے‘ جو اب زبان کھینچ لینےکی دھمکیاں بھی دینےلگےہیں‘</a> طوفان کےٹل جانےکو صدر زرداری کی بہترین حکمت عملی قرار دیا۔ محترمہ فوزیہ وہاب نےاسےبےنظیر بھٹو شہید کےخواب کی تعبیر قرار دیا۔ لندن والےالطاف حسین نےطوفان کی شدید مذمت کی اور یہ شکوہ دوہرایا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مسلم لیگ ق کےبڑےچودھری جناب شجاعت نےاپنےتاثرات دیتےہوئےکہا کہ مجھےتو پہلےہی معلوم تھا کہ طوفان سےکچھ نہیں ہوگا اس لیےلسّی شسّی پی کر سوگیا تھا۔“<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">رئوف طاہر کا یہ طوفانی تبصرہ بہت دلچسپ ہےلیکن اس میں ایک بڑی کمی رہ گئی ہے۔ انہوں نےجدہ میں میزبانی کا لحاظ کرتےہوئےیہاں بھی میاں برادران کےتاثرات پیش کرنےسےگریز کیا ہے۔ حالانکہ ان کی دیرینہ خدمات ایسی ہیں کہ ایک آدھ جملہ ان سےمنسوب کرنےسےکوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ میاں برادران تو بڑےظرف والےہیں اور گجرات کےچودھریوں کےسوا سب ان کےبھائی اور ملک و ملت کا سرمایہ ہیں خواہ وہ اللہ اور رسول کےباغی قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر چودھری شجاعت لسّی پی کر سورہےتھےتو ممکن ہےکہ میاں صاحب Last Supper سمجھ کو سری پائےپر ٹوٹ پڑےہوں۔ سری کی ضرورت بھی بہت ہے۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">رئوف طاہر کا یہ ایس ایم ایس پڑھ کر ایک اور صاحب نےتبصرہ کیا ہےکہ میاں صاحب نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر بےساختہ کہا کہ ہمیں کوئی خطرہ نہیں‘ ہم فرینڈلی اپوزیشن ہیں، جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچنےدیں گے۔ انہوں نےفوری طور پر چودھری نثار علی خاں کو فون کیا کہ اس مسئلےپر پارلیمنٹ میں گرماگرم بیان دیا جائےاور یہ بھی دیکھا جائےکہ میثاقِ جمہوریت میں اس کےبارےمیں کیا طےہوا ہے۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">چھوٹےمیاں صاحب نےطوفان کو گورنر پنجاب کی سازش قرار دیا اور اعلان کیاکہ سستی روٹی کا منصوبہ جاری رہےگا۔ جبکہ سلمان تاثیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت ہوتےہوئےپنجاب کو کسی اور طوفان سےکوئی خطرہ نہیں۔ سلمان تاثیر نےعزم ظاہر کیا کہ وہ سمندر کو کراچی سےاٹھا کر لاہور لاکر رہیں گےپھر پیپلزپارٹی کےجیالےجئےبھٹو کےنعرےلگا کر ہر طوفان کا رُخ موڑ دیں گی۔ اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ رانا ثنااللہ سےاستعفیٰ لیا جائے‘ وہ لاہور کو لاڑکانہ بنانےکےمنصوبےمیں رکاوٹ ہے۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">اور بھی بہت سےسیاست دان ہیں جو رئوف طاہر کو یاد نہیں آئےیا طوالت کےخوف سےایسےگریز کیا جیسےپیپلزپارٹی اپنا اقتدار طویل ہونےکےڈر سےہر بار ایسےاقدامات کرتی ہےکہ زیادہ عرصہ تک اسےذمہ داری کا بوجھ سنبھالنا نہ پڑی۔ پاکستان کےاہم ترین سیاستدان پیر صاحب پگارا شریف نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر پہلےتو چھت پر چڑھنےکی کوشش کی تاکہ ستاروں کی چال دیکھی جائے، پھر اپنےگھوڑوں کی چال دیکھنےکےلیےاصطبل میں چلےگئے۔ پچھلےدنوں ان کےپانچوں گھوڑوں نےریس جیت لی۔ سنا ہےکہ انہوں نےایک گھوڑےکا نام ”پیٹ“ رکھنےکا ارادہ بدل دیا، کیوں کہ وہ راستہ بدل دیتا ہے۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">ایک سیاستدان اسفندیار ولی بھی ہیں۔ طوفان کی خبر پر اُن کا کہنا تھا کہ وہ اگر خیبر پختون خوا تک پہنچا تو اےاین پی پیپلز پارٹی سےاتحاد ختم کردےگی کیوں کہ یہی طےہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارےہوتےہوئےاس خطےمیں کوئی اور نہیں آسکتا۔ انہوں نےکہا کہ ہم تو قہوےکی پیالی میں بھی طوفان اٹھا دیتےہیں‘ جس طرح یہ طوفان ٹلا ہےاسی طرح ہزارہ صوبےکا مطالبہ بھی ٹل جائےگا۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">مولانا فضل الرحمن کا ہم بہت زیادہ احترام کرتےہیں اس لیےاُن کا ردعمل دینےسےگریز کریں گے۔ یوں بھی وہ الطاف حسین کی طرح حکومت سےالگ ہونےکی دھمکیاں دیتےرہتےہیں چنانچہ ممکن ہےکہ طوفان کےحوالےسےبھی دونوں کےخیالات ایک سےہوں۔ حکومت نےان کےمطالبات مان لیےہیں‘ اب ملک میں خواہ کوئی بھی طوفان آئے۔<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/87/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/87/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/87/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/87/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/87/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/87/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/87/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/87/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/87/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/87/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/87/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/87/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/87/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/87/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=87&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/17/%d8%b7%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%af%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>غریب عوام کے نمائندے</title>
		<link>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/14/%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%af%db%92/</link>
		<comments>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/14/%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%af%db%92/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 Jun 2010 17:51:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>اطہر ہاشمی</dc:creator>
				<category><![CDATA[فکاہیہ کالم]]></category>
		<category><![CDATA[حالات غیر حاضرہ]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل رضا عابدی]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس ٹی وی]]></category>
		<category><![CDATA[جاوید چوہدری، پروفیسر ابراہیم خان]]></category>
		<category><![CDATA[صدر زرداری ، کرپشن، پی سی ہوٹل]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://bainalsutoor.wordpress.com/?p=75</guid>
		<description><![CDATA[پروفیسر ابراہیم کا خیال تھا کہ یہ مناظرہ ہورہا ہے اور فیصل رضا عابدی بہت اچھے مناظر ہیں۔ لیکن ہمارے خیال میں تو یہ مجادلہ تھا‘ مناقشہ تھا‘ مناقضہ تھا یا ایسا مباحثہ تھا کہ جو زیادہ چیخ کر بولے وہ جیت جائے۔ بھلا فیصل رضا عابدی سے کون جیت سکتا ہے۔ وہ اپنے صدر [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=75&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">پروفیسر ابراہیم کا خیال تھا کہ یہ مناظرہ ہورہا ہے اور فیصل رضا عابدی بہت اچھے مناظر ہیں۔ لیکن ہمارے خیال میں تو یہ مجادلہ تھا‘ مناقشہ تھا‘ مناقضہ تھا یا ایسا مباحثہ تھا کہ جو زیادہ چیخ کر بولے وہ جیت جائے۔ بھلا فیصل رضا عابدی سے کون جیت سکتا ہے۔ وہ اپنے صدر اور پارٹی سربراہ جناب آصف علی زرداری کے لیے ایسی بلند فصیل ہیں کہ کمند ڈالنے والے کوشش کرکے رہ جاتے ہیں۔ فیصل رضا زبان کی آری سے کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ عوام کی ہمدردیاں عابدی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتیں۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">فیصل رضا عابدی کو عوام کی ہمدردی کی ضرورت بھی نہیں۔ انہیں جس کی ہمدردی ‘ حمایت اور پشت پناہی چاہیے وہ وافر دستیاب ہے اور فیصل رضا وفور شوق میں آگے بڑھے چلے جارہے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے۔ آخر وہ صدر پاکستان ‘ حکمران جماعت کے شریک چیئرمین اور پورے چیئرمین کے باپ جناب زرداری کے مشیر خاص ہیں۔ اب تک تو جناب زرداری کے پاس صرف یہ اعزاز تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن کے شریک حیات ہیں‘ ایسے سرتاج ہیں کہ سر کہیں اور تاج کہیں مگر اب تووہ پوری قوم کے سر کا تاج ہیں اور اس تاج میں جناب فیصل رضا عابدی‘ فوزیہ وہاب ‘ بابر اعوان ‘ رحمن ملک ‘ ریاض لالجی‘ سلمان اور عثمان فاروقی‘ جمشید دستی‘ شیخ ریاض اور سلمان تاثیر جیسے کوہ نور جڑے ہوئے ہیں۔ہر ایک ایسا کہ جس کے بارے میں ظفر اقبال نے تلقین کی تھی کہ ”آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے“ امام اور مقتدی سب کے سب صاحبان کردار۔مجال ہے کہ منہ پر ذرا بھی مہتاب چھٹے۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">ایکسپریس چینل کے اس مجادلہ میں ایک بڑے عالم پروفیسر ابراہیم بھی موجود تھے اس لیے ہم نے ایسے مشکل الفاظ شامل کردیے جن کا مطلب جاننے کے لیے لغت سے رجوع لانا پڑے۔ لیکن رعب تو پڑے گا۔ ویسے تو جناب فیصل رضا عابدی خود بھی بڑے عالم فاضل ہیں۔ اسی لیے ایک صحافی نے انہیں آیت اللہ کا خطاب دیا ہے۔ لیکن کیا آیت اللہ ایسے ہوتے ہیں؟ اس کا مطلب تو ”اللہ کی نشانی“ ہے۔ اللہ اپنی کیسی کیسی نشانیاں دکھارہا ہے۔ ہمیں یہ اطمینان ہے کہ پیپلزپارٹی کی چوتھی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جناب فیصل رضا روٹی توکسی طور کما کھائیں گے۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری کے صدر بننے سے پہلے تک تو خود پیپلزپارٹی والے بھی عابدی صاحب کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ لیکن بی بی شہید کے ہوتے ہوئے خود زرداری صاحب ہی کا سیاست میں کیا عمل دخل تھا؟ ہمارے خیال میں اعتراض بے وجہ اور تعصب پر مبنی ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے کام دکھاتے رہتے اور شہرت سے اجتناب کرتے ہیں‘ ناموری کبھی نقصان دہ بھی ہوتی ہے۔ فیصل رضا عابدی کے بارے میں بھی گمان یہی ہے کہ وہ بھی رحمن ملک کی طرح بی بی کے بہت قریب رہے ہوں گے۔ لیکن سامنے کی بات یہ بھی ہے کہ ناہید خان اور صفدرعباسی جیسے لوگ تو بی بی کا سایہ بنے ہوئے تھے اب زرداری کے آفتاب کے سامنے سائے غائب ہوگئے۔ یوں تو بی بی کی رضاکارانہ جلاوطنی کے عرصہ میں مخدوم امین فہیم نہ صرف پارٹی کو سنبھالے رہے بلکہ فوجی حکومت سے معاملات طے کرانے میں بھی آڑھتی کا کردار بخوبی ادا کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تو محض ڈاکیہ تھے اور ڈاک کے نظام کی صورتحال سب کے سامنے ہے‘ ڈاکیے کی تو شکل بھی یاد نہیں رکھی جاتی۔ اور وہی کیا‘ نون لیگ میں بھی تو ایک مخدوم ہیں‘ جناب جاوید ہاشمی۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> کچھ بھی کہیے‘ ڈراما اتنا دلچسپ اور سنسنی خیز تھا کہ ہم نے یہ پروگرام بار بار دیکھا۔ پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر ویسے بھی مزاحیہ پروگرام نہیں آتے اور جو آتے بھی ہیں تو ان کو پر مزاح ثابت کرنے کے لیے قہقہوں کی ریکارڈ آوازیں شامل کردی جاتی ہیں یا پھر پروگرام پیش کرنے والے / والیاں خود محظوظ ہونے کا تاثر دیتے/ دیتی ہیں۔ اس پر تو ہنسی آہی جاتی ہے۔<br />
ایکسپریس چینل کے میزبان جاوید چودھری کو پہلی بار برہم ہوتے دیکھا۔ یہ کریڈٹ بھی فیصل رضا عابدی کو جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپے سے باہر کون ہوا۔ عموماً لڑائی بھڑائی کی فلموں میں مزاح کا حصہ کم ہوتاہے۔ لیکن یہ لڑائی بھی تھی اور کامیڈی بھی۔ فیصل رضا عابدی کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام کے نمائندہ ہیں۔ عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کا نمائندہ سوا سال سے پرل کانٹی ننٹل میں مقیم ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 12 ہزار روپے یومیہ ہے۔ یعنی مہینے کا 3 لاکھ 60 ہزار اور سال کا 43 لاکھ 20 ہزار روپے۔ یہ صرف کمرے کا کرایہ ہے۔ ممکن ہے کہ فیصل رضا کبھی کبھار اس ہوٹل میں کھانا بھی کھالیتے ہوں یا مہمانوں کی تواضع مشروبات ہی سے کر بیٹھتے ہوں۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> اللہ نے ان کو دیا ہے تو کیوں نہ خرچ کریں۔ جاوید چودھری کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہوٹل کاخرچ پی آئی اے ادا کرتی ہے۔ پی آئی اے کا خسارہ سوا سال سے مزید بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس پر فیصل نے چیلنج کیا ہے کہ یہ ثابت ہوجائے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے ورنہ جاوید چودھری چینل چھوڑ دیں۔ جاوید چودھری تو آسانی سے ایک سے دوسرے چینل میں جاسکتے ہیں۔ یہ کام تو عرصہ سے ہورہا ہے۔ جس طرح سیاسی بنجارے مشہور ہیں اسی طرح اب نئی طرح کے خانہ بدوش وجود میں آگئے ہیں۔ جس نے زیادہ پیسے دکھائے اس کے خیمے میں جا بیٹھے۔</span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;"> اب دیکھیے کہ فیصل رضا عابدی اور جاوید چودھری میں سے کون اپنی بات پر قائم رہتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عوام کی نمائندگی کی دعویدار جماعت کا ایک زبردست لیڈر 12 ہزار روپے یومیہ کرائے کے کمرے میں کیوں رہ رہا ہے؟ مان لیا کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کرتے ہوں گے۔ مگر یہ تو کھلا اسراف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ فضول خرچی ہے اور فضول خرچ کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اتنے پیسو ں میں تو عابدی صاحب شاندار بنگلہ کرائے پر لے سکتے ہیں۔ صدر کے مشیر کی حیثیت سے ایوان صدر میں ٹھاٹ دار جگہ مل سکتی ہے جو پرل کانٹی نینٹل سے زیادہ محفوظ بھی ہے اور بارعب بھی۔ فیصل رضا کچھ بھی کہیں‘ اس اسراف اور اصراف بے جا کے انکشاف سے ان کی اپنی پارٹی کے غریب کارکنوں کے سینے پر سانپ لوٹ گیا ہوگا جن میں سے کتنے ہی دو وقت کی روٹی سے محروم ہوں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ اسکیم بہت اچھی ہے لیکن ایک خاندان کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ ملتا ہے اور فیصل رضا عابدی 12 ہزار روپے روزانہ صرف ایک کمرے کا دے رہے ہیں۔ ان کے ذریعہ آمدنی کا ہمیں علم نہیں۔ ممکن ہے وہ بھی جناب زرداری کی طرح وسیع ذرائع رکھتے ہوں۔ </span></div>
<div style="line-height:30px;"><span style="font-family:Alvi Nastaleeq,Urdu Naskh Asiatype,Nafees Web Naskh;font-size:large;">مباحثہ کے شریک پروفیسر ابراہیم کو آخر کار یاد دلانا پڑا کہ وہ بھی موجود ہیں۔ لیکن جہاں فیصل رضا عابدی ہوں وہاں کوئی اور نہیں ہوگا۔ گفتگو اتنی شائستہ کہ نطق نے بڑھ کے بوسے تری زباں کے لیے ۔<br />
</span></div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/bainalsutoor.wordpress.com/75/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/bainalsutoor.wordpress.com/75/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/bainalsutoor.wordpress.com/75/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/bainalsutoor.wordpress.com/75/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/bainalsutoor.wordpress.com/75/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/bainalsutoor.wordpress.com/75/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/bainalsutoor.wordpress.com/75/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/bainalsutoor.wordpress.com/75/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/bainalsutoor.wordpress.com/75/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/bainalsutoor.wordpress.com/75/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/bainalsutoor.wordpress.com/75/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/bainalsutoor.wordpress.com/75/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/bainalsutoor.wordpress.com/75/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/bainalsutoor.wordpress.com/75/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=bainalsutoor.wordpress.com&amp;blog=13115396&amp;post=75&amp;subd=bainalsutoor&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://bainalsutoor.wordpress.com/2010/06/14/%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%af%db%92/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
	
		<media:content url="http://0.gravatar.com/avatar/0c7d4b4db1e79b7751d761bc45d33763?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">bainalsutoor</media:title>
		</media:content>
	</item>
	</channel>
</rss>
