اسکو ل میں کلاس ٹیچر دعا کروارہی تھیں کہ اللہ سب کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ سب بچےہاتھ اٹھائے۔ آمین آمین کہہ رہےتھے مگر ایک بچےنے ہاتھ اٹھائےنہ آمین کہا۔ ٹیچر نےپوچھا بیٹا تم کیوں خاموش ہو۔ اس نےجواب دیا ”مس‘ میرےابو ڈاکٹر ہیں۔“
دوپیشےایسےہیں کہ جن کےپھلنے‘ پھولنےکی دعا کرتےہوئے سوچنا پڑتاہے‘ ایک ڈاکٹر اور دوسرےگورکن کا پیشہ۔ بسااوقات دونوں ایک دوسرےکےمعاون ہوتےہیں۔ جہاں کوئی بیمار نہ ہو وہاں طبیب بیمار پڑجاتےہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں باہر سے آئےہوئے ایک غیر مسلم طبیب کےساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ وہ پریشان تھا کہ لوگ بیمار ہی نہیں پڑتے۔ اس کو بتایا گیا کہ مسلمان ”طبیب اعظم“ کےبتائےہوئےاصولوں پر عمل کرتےہیں اس لیےعموماً بیمار نہیں ہوتے۔ا س اصول کا بنیادی جزو یہ تھا کہ خوب ٹھونس ٹھونس کر کھانا مت کھائو۔ ایک حصہ پانی اور ایک ہوا کےلیےچھوڑ دو۔ حقیقت یہ ہےکہ کم کھانےسے آج تک کوئی نہیں مرا البتہ بسیارخوری سےجسم مختلف امراض کا گودام بن جاتا ہے۔
بہرحال‘ ڈاکٹر اور گورکن کا وجود لازمی ہے۔ دعا یوں کی جاسکتی ہےکہ اللہ ڈاکٹر کےہاتھ میں شفا عطا فرمااور درد دل عطا کرے‘ وہ درد نہیں جس کےلیے پھر کسی ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ رہا گورکن تو وہ نہ ہو تولاشیں سڑجائیں۔ اس کےلیے یہی دعا ہےکہ کفن چور نہ ہو۔
یہ ڈاکٹر حضرات ہمیں یوں یاد آگئےکہ ہر سال 10 اکتوبر کو اقوام متحدہ کےتحت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن منایا گیا۔ کراچی میں دماغی اور نفسیاتی و جنسیاتی امراض کےبین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر مبین اختر نےلوگوں کےدماغ درست کرنےکا ٹھیکا لےرکھا ہے۔چنانچہ انہوں نےبھی ایکسپو سینٹر میں اس موضوع پر ایک بھرپور سیمینار منعقد کیا۔ ڈاکٹر مبین اختر ہر سال ہی لوگوں کی آگاہی کےلیےیہ کام کرتےہیں۔ انہوں نےاس موقع پر امراض دماغی کےمعروف معالجین‘ پروفیسرز اور ماہرین نفسیات کو جمع کرلیا۔ ہمارےبارےمیں انہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی یا صحافت سےتعلق رکھنےکی وجہ سے ہمیں بھی بلالیا کہ صحافی جن حالات سےگزر رہےہیں ان میں دماغی صحت برقرار رہنا مشکوک ہے۔ صحافیوں کو مختلف قسم کےذہنی دبائو کا سامنا رہتا ہے۔ فیلڈ میں کام کرنےوالوں کو تو ایسےایسےمناظر دیکھنےپڑتےہیں کہ ہوش اڑ جاتےہیں اور پھر دوسروں کےہوش اڑاتےہیں۔ ذرائع ابلاغ‘ برقی ہوں یا کاغذی‘ نفسیاتی و دماغی الجھنوں کو بڑھانےمیں اپنا کردار اد اکررہےہیں۔ ممکن ہےاپنا انتقام لےرہےہوں۔ آزما کر دیکھ لیجییے۔ ایک ہفتہ اخبار پڑھیں نہ ٹی وی دیکھیں۔ فشار خون (بلڈ پریشر) معمول پر رہےگا‘ بھوک خوب لگےگی اور یہ جو مزاج میں کڑواہٹ آگئی ہے‘ تیوریوں پر مستقل لکیریں پڑگئی ہیں ‘ سب دور ہوجائیں گی۔ بیوی‘ بچےبھی قریب آنےلگیں گے۔ سعودی عرب کےدارالحکومت ریاض کےانگریزی اخبار ریاض ڈیلی کےمدیر طلعت وفا سے ہم نے وچھا کہ سعودی اخبارات میں بڑے سے بڑےحادثےکی خبر ہوتی ہےنہ قتل و غارت کی۔ تو بڑےتحمل سے انہوں نےکہا ”ہم لوگوں کا بلڈ پریشر نہیں بڑھانا چاہتے۔“ سعودی عرب میں لو بلڈ پریشر کی شکایت عام ہے۔
ہمارےایک بہت ہی محترم ساتھی تھےنصر مخدومی۔ ہم سےبہت سینئر تھی۔ اپنےکام پر بھرپور عبور تھا۔ خرابی یہ تھی کہ وہ اخبارمیں ہونے کےباوجود سوچتےبھی تھےاور کڑھتےبھی تھی۔ جسارت میں آنےسےپہلےہی ایسےہی کسی مرحلےمیں ناانصافی دیکھی تو ڈاکٹر مبین اختر کےبقول دماغ میں موجود کیمیائی مادوں کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن یہ گڑبڑ شعور و آگہی میں کمی نہیں‘ زیادتی کےسبب ہوئی۔ پھر یوں ہوتا تھا کہ جب بھی ان پر آگہی کا غلبہ ہوتا تھا تو انہیں زبردستی ڈاکٹر مبین اخترکےنفسیاتی اسپتال بھجوایا جاتا تھا۔ یہ کام عموماً ہمارےساتھی راشد عزیز کیا کرتےتھے۔ وہاں جو ”علاج“ ہوتا تھا اس کےزیر اثر کئی دن تک سہمےرہتےتھے۔ وہ صرف نعرےلگایا کرتےتھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ نعرےبازی تو اب عام ہے۔
صحافیوں کےلیےسوچنا‘ سمجھنا اور حالات کا اثر لینا نقصان دہ ہے۔ حکمرانوں کو دیکھیے۔ اگر وہ بھی قوم و ملک کےحالات پر کڑھنےاور بہتری کی فکر میں مبتلا ہونےلگےتو حکومت کیسےکریں گے۔ جناب صدر کے پاس جب اقتدار نہیں تھا تب تو برطانوی عدالتوں میں ان کی دماغی کیفیت کےبارےمیں جو رپورٹیں خود جمع کرائی گئیں وہ کچھ اور کہتی ہیں۔ اب اگر وہ کراچی نفسیاتی اسپتال کی خدمات حاصل کریں تو کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس اسپتال میں بھی کلفٹن کےاس اسپتال کی طرح مچھر نہیں ہوتےجہاں قید کا بڑا حصہ گزرا ہے۔
ڈاکٹر مبین اختر نےایکسپو سینٹر میں بہت سےلُوگوں کو جمع کرلیا تھا جس سےاندازہ ہوا کہ لوگ اپنا دماغ درست کرنےمیں د لچسپی رکھتےہیں۔ اس سیمینار میں کئی معروف ماہرین نفسیات موجود تھے۔ مہمان خصوصی پروفیسر مسرت حسین تھے۔ اہم بات یہ ہےکہ صحافی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر مسرت کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہےکہ ہم اپنےاردگرد کسی کو نفسیاتی مرض میں مبتلا پائیں تو اسےکسی ماہر نفسیات کو دکھانےکا مشورہ دیں۔ ڈاکٹر صاحب! کوئی یہ تسلیم ہی کہاں کرتا ہےکہ وہ ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ اصرار کیا تو سر پھاڑ دےگا اور پھر حکمرانوں کو یہ مشورہ دینےکی جرات کون کرےگا؟ بیویاں اپنےشوہروں کو اور شوہر اپنی بیویوں کو لیےکھڑےہوں گے۔ شادی کےچند برس بعد دونوں ایک دوسرےکےبارےمیں یہی سمجھنےلگتےہیں۔ انہوں نےوالدین کو بچوں سےشفقت سے پیش کرنےکا مشورہ دیا ہےلیکن بہتر تھا کہ وہ یہ مشورہ بچوں کو دیتے۔
ڈاکٹر مبین اخترکی تحقیق ہےکہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد 25 فیصد سےتجاوز کرچکی ہےمگر ماہرین ذہنی امراض کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ ہم تو سمجھ رہےتھےکہ شہر کراچی کے آدھےلوگ پاگل نہیں ہیں۔ ماہرین نفسیات کا دم غنیمت ہےکہ تعداد 25 فیصد تک ہی پہنچی ہے۔ مگر ہم اب تک اس سوچ میں ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نےہمیں کیوں بلایا۔ ممکن ہے یہ سوچا ہو کہ صحافی حضرات نفسیاتی اسپتالوں اور ڈاکٹروں کی اہم خدمت کررہےہیں‘آمدنی بڑھوا کر۔ بہرحال دماغی صحت کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے‘بیوی‘ بچوں کو قتل کرنا ‘ خودکش حملے پاگل پن کی انتہا ہے۔ بنیادی سبب دین سےدوری ہے۔ قرآن کریم سب سےبڑا نسخہ شفا ہے۔ پڑھ کر دیکھیےتو نفسیاتی اسپتال خالی ہوجائیں گے۔ ماہرین نفسیات کی تقریریں سن کر ہمیں اپنے بارےمیں شبہ ہوچلا ہے۔ ایک اطمینان یہ ہےکہ دماغ ہو تو خراب ہو اور کیمیائی‘ مادوں میں کمی‘ بیشی کا خطرہ ہو۔
دوپیشےایسےہیں کہ جن کےپھلنے‘ پھولنےکی دعا کرتےہوئے سوچنا پڑتاہے‘ ایک ڈاکٹر اور دوسرےگورکن کا پیشہ۔ بسااوقات دونوں ایک دوسرےکےمعاون ہوتےہیں۔ جہاں کوئی بیمار نہ ہو وہاں طبیب بیمار پڑجاتےہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں باہر سے آئےہوئے ایک غیر مسلم طبیب کےساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ وہ پریشان تھا کہ لوگ بیمار ہی نہیں پڑتے۔ اس کو بتایا گیا کہ مسلمان ”طبیب اعظم“ کےبتائےہوئےاصولوں پر عمل کرتےہیں اس لیےعموماً بیمار نہیں ہوتے۔ا س اصول کا بنیادی جزو یہ تھا کہ خوب ٹھونس ٹھونس کر کھانا مت کھائو۔ ایک حصہ پانی اور ایک ہوا کےلیےچھوڑ دو۔ حقیقت یہ ہےکہ کم کھانےسے آج تک کوئی نہیں مرا البتہ بسیارخوری سےجسم مختلف امراض کا گودام بن جاتا ہے۔
بہرحال‘ ڈاکٹر اور گورکن کا وجود لازمی ہے۔ دعا یوں کی جاسکتی ہےکہ اللہ ڈاکٹر کےہاتھ میں شفا عطا فرمااور درد دل عطا کرے‘ وہ درد نہیں جس کےلیے پھر کسی ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ رہا گورکن تو وہ نہ ہو تولاشیں سڑجائیں۔ اس کےلیے یہی دعا ہےکہ کفن چور نہ ہو۔
یہ ڈاکٹر حضرات ہمیں یوں یاد آگئےکہ ہر سال 10 اکتوبر کو اقوام متحدہ کےتحت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن منایا گیا۔ کراچی میں دماغی اور نفسیاتی و جنسیاتی امراض کےبین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر مبین اختر نےلوگوں کےدماغ درست کرنےکا ٹھیکا لےرکھا ہے۔چنانچہ انہوں نےبھی ایکسپو سینٹر میں اس موضوع پر ایک بھرپور سیمینار منعقد کیا۔ ڈاکٹر مبین اختر ہر سال ہی لوگوں کی آگاہی کےلیےیہ کام کرتےہیں۔ انہوں نےاس موقع پر امراض دماغی کےمعروف معالجین‘ پروفیسرز اور ماہرین نفسیات کو جمع کرلیا۔ ہمارےبارےمیں انہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی یا صحافت سےتعلق رکھنےکی وجہ سے ہمیں بھی بلالیا کہ صحافی جن حالات سےگزر رہےہیں ان میں دماغی صحت برقرار رہنا مشکوک ہے۔ صحافیوں کو مختلف قسم کےذہنی دبائو کا سامنا رہتا ہے۔ فیلڈ میں کام کرنےوالوں کو تو ایسےایسےمناظر دیکھنےپڑتےہیں کہ ہوش اڑ جاتےہیں اور پھر دوسروں کےہوش اڑاتےہیں۔ ذرائع ابلاغ‘ برقی ہوں یا کاغذی‘ نفسیاتی و دماغی الجھنوں کو بڑھانےمیں اپنا کردار اد اکررہےہیں۔ ممکن ہےاپنا انتقام لےرہےہوں۔ آزما کر دیکھ لیجییے۔ ایک ہفتہ اخبار پڑھیں نہ ٹی وی دیکھیں۔ فشار خون (بلڈ پریشر) معمول پر رہےگا‘ بھوک خوب لگےگی اور یہ جو مزاج میں کڑواہٹ آگئی ہے‘ تیوریوں پر مستقل لکیریں پڑگئی ہیں ‘ سب دور ہوجائیں گی۔ بیوی‘ بچےبھی قریب آنےلگیں گے۔ سعودی عرب کےدارالحکومت ریاض کےانگریزی اخبار ریاض ڈیلی کےمدیر طلعت وفا سے ہم نے وچھا کہ سعودی اخبارات میں بڑے سے بڑےحادثےکی خبر ہوتی ہےنہ قتل و غارت کی۔ تو بڑےتحمل سے انہوں نےکہا ”ہم لوگوں کا بلڈ پریشر نہیں بڑھانا چاہتے۔“ سعودی عرب میں لو بلڈ پریشر کی شکایت عام ہے۔
ہمارےایک بہت ہی محترم ساتھی تھےنصر مخدومی۔ ہم سےبہت سینئر تھی۔ اپنےکام پر بھرپور عبور تھا۔ خرابی یہ تھی کہ وہ اخبارمیں ہونے کےباوجود سوچتےبھی تھےاور کڑھتےبھی تھی۔ جسارت میں آنےسےپہلےہی ایسےہی کسی مرحلےمیں ناانصافی دیکھی تو ڈاکٹر مبین اختر کےبقول دماغ میں موجود کیمیائی مادوں کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن یہ گڑبڑ شعور و آگہی میں کمی نہیں‘ زیادتی کےسبب ہوئی۔ پھر یوں ہوتا تھا کہ جب بھی ان پر آگہی کا غلبہ ہوتا تھا تو انہیں زبردستی ڈاکٹر مبین اخترکےنفسیاتی اسپتال بھجوایا جاتا تھا۔ یہ کام عموماً ہمارےساتھی راشد عزیز کیا کرتےتھے۔ وہاں جو ”علاج“ ہوتا تھا اس کےزیر اثر کئی دن تک سہمےرہتےتھے۔ وہ صرف نعرےلگایا کرتےتھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ نعرےبازی تو اب عام ہے۔
صحافیوں کےلیےسوچنا‘ سمجھنا اور حالات کا اثر لینا نقصان دہ ہے۔ حکمرانوں کو دیکھیے۔ اگر وہ بھی قوم و ملک کےحالات پر کڑھنےاور بہتری کی فکر میں مبتلا ہونےلگےتو حکومت کیسےکریں گے۔ جناب صدر کے پاس جب اقتدار نہیں تھا تب تو برطانوی عدالتوں میں ان کی دماغی کیفیت کےبارےمیں جو رپورٹیں خود جمع کرائی گئیں وہ کچھ اور کہتی ہیں۔ اب اگر وہ کراچی نفسیاتی اسپتال کی خدمات حاصل کریں تو کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس اسپتال میں بھی کلفٹن کےاس اسپتال کی طرح مچھر نہیں ہوتےجہاں قید کا بڑا حصہ گزرا ہے۔
ڈاکٹر مبین اختر نےایکسپو سینٹر میں بہت سےلُوگوں کو جمع کرلیا تھا جس سےاندازہ ہوا کہ لوگ اپنا دماغ درست کرنےمیں د لچسپی رکھتےہیں۔ اس سیمینار میں کئی معروف ماہرین نفسیات موجود تھے۔ مہمان خصوصی پروفیسر مسرت حسین تھے۔ اہم بات یہ ہےکہ صحافی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر مسرت کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہےکہ ہم اپنےاردگرد کسی کو نفسیاتی مرض میں مبتلا پائیں تو اسےکسی ماہر نفسیات کو دکھانےکا مشورہ دیں۔ ڈاکٹر صاحب! کوئی یہ تسلیم ہی کہاں کرتا ہےکہ وہ ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ اصرار کیا تو سر پھاڑ دےگا اور پھر حکمرانوں کو یہ مشورہ دینےکی جرات کون کرےگا؟ بیویاں اپنےشوہروں کو اور شوہر اپنی بیویوں کو لیےکھڑےہوں گے۔ شادی کےچند برس بعد دونوں ایک دوسرےکےبارےمیں یہی سمجھنےلگتےہیں۔ انہوں نےوالدین کو بچوں سےشفقت سے پیش کرنےکا مشورہ دیا ہےلیکن بہتر تھا کہ وہ یہ مشورہ بچوں کو دیتے۔
ڈاکٹر مبین اخترکی تحقیق ہےکہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد 25 فیصد سےتجاوز کرچکی ہےمگر ماہرین ذہنی امراض کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ ہم تو سمجھ رہےتھےکہ شہر کراچی کے آدھےلوگ پاگل نہیں ہیں۔ ماہرین نفسیات کا دم غنیمت ہےکہ تعداد 25 فیصد تک ہی پہنچی ہے۔ مگر ہم اب تک اس سوچ میں ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نےہمیں کیوں بلایا۔ ممکن ہے یہ سوچا ہو کہ صحافی حضرات نفسیاتی اسپتالوں اور ڈاکٹروں کی اہم خدمت کررہےہیں‘آمدنی بڑھوا کر۔ بہرحال دماغی صحت کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے‘بیوی‘ بچوں کو قتل کرنا ‘ خودکش حملے پاگل پن کی انتہا ہے۔ بنیادی سبب دین سےدوری ہے۔ قرآن کریم سب سےبڑا نسخہ شفا ہے۔ پڑھ کر دیکھیےتو نفسیاتی اسپتال خالی ہوجائیں گے۔ ماہرین نفسیات کی تقریریں سن کر ہمیں اپنے بارےمیں شبہ ہوچلا ہے۔ ایک اطمینان یہ ہےکہ دماغ ہو تو خراب ہو اور کیمیائی‘ مادوں میں کمی‘ بیشی کا خطرہ ہو۔
سلام وعلیکم بھای صاحب یہ میرا ویب سایٹ ہے اس کو لنک کر کے اور اپنے دوستوں کو ارسال کر دو آپ کی مہربانی ہو گی جزاک اللہ
http://www.daaljan.wordpress.com ۔
Comment by daaljan — December 7, 2010 @ 5:56 pm |
ہم لوگ توکل میں مشہور ہیں، جن چیزوں سے عموماً پرہیز کرنا ہوتا ہے، ہم خود کو اللہ کے حوالے کرکے کھالیتے ہیں، نعوذ باللہ شاید اللہ تعالی کا یہی کام رہ گیا ہے۔ (معافی چاہتا ہوں) ہم زہر کھاکر چاہتے ہیں کہ مریں نہیں۔
اور ہاں ایک مضحکہ خیز رویہ مشہور ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جاکر بیماری بڑھ جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ طبیب اسے تشخیصِ مرض کا نام دیتا ہے۔
Comment by عطاء رفیع — May 14, 2011 @ 1:34 am |