بین السطور

October 18, 2010

ہمیں کیوں بلایا؟

اسکو ل میں کلاس ٹیچر دعا کروارہی تھیں کہ اللہ سب کو صحت و تندرستی عطا کرے۔ سب بچےہاتھ اٹھائے۔ آمین آمین کہہ رہےتھے مگر ایک بچےنے ہاتھ اٹھائےنہ آمین کہا۔ ٹیچر نےپوچھا بیٹا تم کیوں خاموش ہو۔ اس نےجواب دیا ”مس‘ میرےابو ڈاکٹر ہیں۔“
دوپیشےایسےہیں کہ جن کےپھلنے‘ پھولنےکی دعا کرتےہوئے سوچنا پڑتاہے‘ ایک ڈاکٹر اور دوسرےگورکن کا پیشہ۔ بسااوقات دونوں ایک دوسرےکےمعاون ہوتےہیں۔ جہاں کوئی بیمار نہ ہو وہاں طبیب بیمار پڑجاتےہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں باہر سے آئےہوئے ایک غیر مسلم طبیب کےساتھ ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ وہ پریشان تھا کہ لوگ بیمار ہی نہیں پڑتے۔ اس کو بتایا گیا کہ مسلمان ”طبیب اعظم“ کےبتائےہوئےاصولوں پر عمل کرتےہیں اس لیےعموماً بیمار نہیں ہوتے۔ا س اصول کا بنیادی جزو یہ تھا کہ خوب ٹھونس ٹھونس کر کھانا مت کھائو۔ ایک حصہ پانی اور ایک ہوا کےلیےچھوڑ دو۔ حقیقت یہ ہےکہ کم کھانےسے آج تک کوئی نہیں مرا البتہ بسیارخوری سےجسم مختلف امراض کا گودام بن جاتا ہے۔
بہرحال‘ ڈاکٹر اور گورکن کا وجود لازمی ہے۔ دعا یوں کی جاسکتی ہےکہ اللہ ڈاکٹر کےہاتھ میں شفا عطا فرمااور درد دل عطا کرے‘ وہ درد نہیں جس کےلیے پھر کسی ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ رہا گورکن تو وہ نہ ہو تولاشیں سڑجائیں۔ اس کےلیے یہی دعا ہےکہ کفن چور نہ ہو۔
یہ ڈاکٹر حضرات ہمیں یوں یاد آگئےکہ ہر سال 10 اکتوبر کو اقوام متحدہ کےتحت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن منایا گیا۔ کراچی میں دماغی اور نفسیاتی و جنسیاتی امراض کےبین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر مبین اختر نےلوگوں کےدماغ درست کرنےکا ٹھیکا لےرکھا ہے۔چنانچہ انہوں نےبھی ایکسپو سینٹر میں اس موضوع پر ایک بھرپور سیمینار منعقد کیا۔ ڈاکٹر مبین اختر ہر سال ہی لوگوں کی آگاہی کےلیےیہ کام کرتےہیں۔ انہوں نےاس موقع پر امراض دماغی کےمعروف معالجین‘ پروفیسرز اور ماہرین نفسیات کو جمع کرلیا۔ ہمارےبارےمیں انہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی یا صحافت سےتعلق رکھنےکی وجہ سے ہمیں بھی بلالیا کہ صحافی جن حالات سےگزر رہےہیں ان میں دماغی صحت برقرار رہنا مشکوک ہے۔ صحافیوں کو مختلف قسم کےذہنی دبائو کا سامنا رہتا ہے۔ فیلڈ میں کام کرنےوالوں کو تو ایسےایسےمناظر دیکھنےپڑتےہیں کہ ہوش اڑ جاتےہیں اور پھر دوسروں کےہوش اڑاتےہیں۔ ذرائع ابلاغ‘ برقی ہوں یا کاغذی‘ نفسیاتی و دماغی الجھنوں کو بڑھانےمیں اپنا کردار اد اکررہےہیں۔ ممکن ہےاپنا انتقام لےرہےہوں۔ آزما کر دیکھ لیجییے۔ ایک ہفتہ اخبار پڑھیں نہ ٹی وی دیکھیں۔ فشار خون (بلڈ پریشر) معمول پر رہےگا‘ بھوک خوب لگےگی اور یہ جو مزاج میں کڑواہٹ آگئی ہے‘ تیوریوں پر مستقل لکیریں پڑگئی ہیں ‘ سب دور ہوجائیں گی۔ بیوی‘ بچےبھی قریب آنےلگیں گے۔ سعودی عرب کےدارالحکومت ریاض کےانگریزی اخبار ریاض ڈیلی کےمدیر طلعت وفا سے ہم نے وچھا کہ سعودی اخبارات میں بڑے سے بڑےحادثےکی خبر ہوتی ہےنہ قتل و غارت کی۔ تو بڑےتحمل سے انہوں نےکہا ”ہم لوگوں کا بلڈ پریشر نہیں بڑھانا چاہتے۔“ سعودی عرب میں لو بلڈ پریشر کی شکایت عام ہے۔
ہمارےایک بہت ہی محترم ساتھی تھےنصر مخدومی۔ ہم سےبہت سینئر تھی۔ اپنےکام پر بھرپور عبور تھا۔ خرابی یہ تھی کہ وہ اخبارمیں ہونے کےباوجود سوچتےبھی تھےاور کڑھتےبھی تھی۔ جسارت میں آنےسےپہلےہی ایسےہی کسی مرحلےمیں ناانصافی دیکھی تو ڈاکٹر مبین اختر کےبقول دماغ میں موجود کیمیائی مادوں کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن یہ گڑبڑ شعور و آگہی میں کمی نہیں‘ زیادتی کےسبب ہوئی۔ پھر یوں ہوتا تھا کہ جب بھی ان پر آگہی کا غلبہ ہوتا تھا تو انہیں زبردستی ڈاکٹر مبین اخترکےنفسیاتی اسپتال بھجوایا جاتا تھا۔ یہ کام عموماً ہمارےساتھی راشد عزیز کیا کرتےتھے۔ وہاں جو ”علاج“ ہوتا تھا اس کےزیر اثر کئی دن تک سہمےرہتےتھے۔ وہ صرف نعرےلگایا کرتےتھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ نعرےبازی تو اب عام ہے۔
صحافیوں کےلیےسوچنا‘ سمجھنا اور حالات کا اثر لینا نقصان دہ ہے۔ حکمرانوں کو دیکھیے۔ اگر وہ بھی قوم و ملک کےحالات پر کڑھنےاور بہتری کی فکر میں مبتلا ہونےلگےتو حکومت کیسےکریں گے۔ جناب صدر کے پاس جب اقتدار نہیں تھا تب تو برطانوی عدالتوں میں ان کی دماغی کیفیت کےبارےمیں جو رپورٹیں خود جمع کرائی گئیں وہ کچھ اور کہتی ہیں۔ اب اگر وہ کراچی نفسیاتی اسپتال کی خدمات حاصل کریں تو کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اس اسپتال میں بھی کلفٹن کےاس اسپتال کی طرح مچھر نہیں ہوتےجہاں قید کا بڑا حصہ گزرا ہے۔
ڈاکٹر مبین اختر نےایکسپو سینٹر میں بہت سےلُوگوں کو جمع کرلیا تھا جس سےاندازہ ہوا کہ لوگ اپنا دماغ درست کرنےمیں د لچسپی رکھتےہیں۔ اس سیمینار میں کئی معروف ماہرین نفسیات موجود تھے۔ مہمان خصوصی پروفیسر مسرت حسین تھے۔ اہم بات یہ ہےکہ صحافی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر مسرت کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہےکہ ہم اپنےاردگرد کسی کو نفسیاتی مرض میں مبتلا پائیں تو اسےکسی ماہر نفسیات کو دکھانےکا مشورہ دیں۔ ڈاکٹر صاحب! کوئی یہ تسلیم ہی کہاں کرتا ہےکہ وہ ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ اصرار کیا تو سر پھاڑ دےگا اور پھر حکمرانوں کو یہ مشورہ دینےکی جرات کون کرےگا؟ بیویاں اپنےشوہروں کو اور شوہر اپنی بیویوں کو لیےکھڑےہوں گے۔ شادی کےچند برس بعد دونوں ایک دوسرےکےبارےمیں یہی سمجھنےلگتےہیں۔ انہوں نےوالدین کو بچوں سےشفقت سے پیش کرنےکا مشورہ دیا ہےلیکن بہتر تھا کہ وہ یہ مشورہ بچوں کو دیتے۔
ڈاکٹر مبین اخترکی تحقیق ہےکہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد 25 فیصد سےتجاوز کرچکی ہےمگر ماہرین ذہنی امراض کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ ہم تو سمجھ رہےتھےکہ شہر کراچی کے آدھےلوگ پاگل نہیں ہیں۔ ماہرین نفسیات کا دم غنیمت ہےکہ تعداد 25 فیصد تک ہی پہنچی ہے۔ مگر ہم اب تک اس سوچ میں ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نےہمیں کیوں بلایا۔ ممکن ہے یہ سوچا ہو کہ صحافی حضرات نفسیاتی اسپتالوں اور ڈاکٹروں کی اہم خدمت کررہےہیں‘آمدنی بڑھوا کر۔ بہرحال دماغی صحت کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے‘بیوی‘ بچوں کو قتل کرنا ‘ خودکش حملے پاگل پن کی انتہا ہے۔ بنیادی سبب دین سےدوری ہے۔ قرآن کریم سب سےبڑا نسخہ شفا ہے۔ پڑھ کر دیکھیےتو نفسیاتی اسپتال خالی ہوجائیں گے۔ ماہرین نفسیات کی تقریریں سن کر ہمیں اپنے بارےمیں شبہ ہوچلا ہے۔ ایک اطمینان یہ ہےکہ دماغ ہو تو خراب ہو اور کیمیائی‘ مادوں میں کمی‘ بیشی کا خطرہ ہو۔

October 12, 2010

بلوری ڈیری فارم کا مکھن

Filed under: سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 5:56 pm
حاجی غلا احمد بلور بڑے بھلے آدمی ہیں۔ جب سے وہ ریلوے کے وزیر بنے ہیں انہوں نے کئی ریلیں بند کروادیں تاکہ ایک طرف تو عوام ٹرین کے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے بچیں‘ ریلوے اسٹیشنوں پر باسی اور مضر صحت کھانا کھا کر اپنی صحت خراب نہ کریں‘ دوسری طرف ان ٹرانسپورٹروں کا بھلا ہو جو عوام کی خاطر بسیں چلاتے اور ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے کی زحمت اٹھاتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ اے این پی کے بلوری وزیر نے چوہدری پرویز الٰہی کا پرانا بیان کسی اخبار میں دیکھ لیا ہے۔ وزراءاتنے مصروف ہوتے ہیں کہ روز کے روز اخبار نہیں پڑھ سکتے۔ ان کے سیکرٹری مطلب کی خبروں پر نشان لگا کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں لیکن دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہنے والے وہ بھی نہیں پڑھ پاتے۔ اس کا اندازہ ٹی وی چینلز کے مباحثوں میں شریک کسی بھی وزیر کی ”باخبری“ سے کیا جاسکتا ہے۔ امکان یہ ہے کہ کسی نے ڈھائی تین سال پرانے اخبار میں نان یا پکوڑے لپیٹ کے دے دیے ہوں گے اور کھانا کھاتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کا یہ بیان سامنے آگیا کہ وہ صدر پرویز کو وردی سمیت آئندہ س بار صدرمنتخب کرائیں گے۔ لیکن خود پرویز مشرف وردی میں سے نکل بھاگے اب افسوس کرتے ہیں کہ کاش مزید 5 سال تک وردی نہ اتاری ہوتی جس کو وہ اپنی کھال کہتے تھے اور اب بالکل ہی کھال سے باہر ہیں۔
غلام احمد بلورنے پرویز الٰہی سے متاثر ہوکر فرمایا ہے کہ ”آصف علی زرداری کو مزید 10 سال کے لیے صدر قبول کیا جائے۔“ حاجی صاحب کی تحقیق ہے کہ صدر زرداری سب سے مسکین آدمی ہیں‘ نہایت عاجز انسان ہیں ‘ ایسا شخص آیا نہ آئے گا‘ انہیں جانے نہ دیا جائے۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ریلوے کے پاس انجن نہیں۔“
ممکن ہے کہ دونوں باتوں میں ربط نہ محسوس ہو حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ ریلوے کا حال تو اس لیے خراب ہے کہ انجن نہیںہیں اور ٹرینیں بغیر انجن کے چل رہی ہیں جبکہ حکومت کو آصف زرداری جیسا انجن ملا ہوا ہے۔ اب یہ واضح نہیں کہ انجن کے پیچھے بوگیاں بھی ہیں یا تنہا ”شنٹنگ“ کررہا ہے اور یہ کہ کس پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ مسکین شخص ہے‘ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ غلام احمد بلور کہتے ہیں کہ صدرمملکت جیسا عاجز صدر آیا ہے اور نہ آئے گا۔ اب یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ عاجز اور مسکین کون ہے‘ عوام یا صدر محترم۔لیکن اگر جناب زرداری واقعی عاجز اور مسکین ہیں تو محکمہ زکواة کو توجہ کرنی چاہیے۔ مسکین کا تعین تو ٹیکس کے گوشوارے دیکھ کر ہی ہوجاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جناب غلام احمد بلورنے اچانک اتنا بہت سا مکھن کیوںلُگادیا؟ کیا یہ گھر کا مکھن ہے؟ یہ افواہیں بھی اڑائی جارہی ہیں کہ وفاقی کابینہ میں کمی کی جارہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ رحمن ملک‘ بابر اعوان کے ساتھ جناب غلام احمد بلور کی ملازمت بھی پکی ہے۔ دوسری طرف اے این پی کے رہنماﺅں اور خےبرپختونخوا کی حکومت کے بارے میں بڑی تشویشناک خبریں آرہی ہیں۔ ہمارا گمان تھا کہ باچا خان کے پیروکار کم از کم بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ سے ضرور دور رہیں گے۔ سیاسی بدعنوانی اپنی جگہ لیکن مالی بدعنوانی زیادہ خطرناک ہے وہ بھی خےبرپختونخوا جیسے ضوبے میں جو سندھ اور پنجاب کے مقابلے میں پہلے ہی بہت پیچھے ہے اور اب سیلاب نے بھی سب سے پہلے اس صوبے کو نشانہ بنایا۔ مگر اے این پی کے حکمران کیا کررہے ہیں اس کا پول خود اے این پی کے رہنما اور مردان سے منتخب رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد خان ہوتی نے اس کا پول کھولا ہے۔ اس وقت وزیراعلیٰ بھی ہوتی ہیں جن کو صوبے کے لوگ ”بابا“ کہتے ہیں۔ صوبے میں عوام کے لبوں پر یہ جملہ ہے کہ عوام سیلاب میں ڈوب گئے اور بابا پیسوں کے سیلاب میں۔ ادھر سیلاب آرہا تھا اور اُدھر اے این پی کی حکومت کی وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے خلاف آوازیں بلند ہورہی تھیں۔
ان آوازوں میں سب سے نمایاں اور توانا آواز رکن قومی اسمبلی نواب خواجہ محمد خان ہوتی کی ہے۔ اخباردی نیشن کی 6 اکتوبر کی ایک رپورٹ کے مطابق اے این پی کے ایم این اے محمد خان ہوتی نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر کو مشورہ دیا ہے کہ دیکھو یہ جو سیلاب زدگان کے لیے امداد آرہی ہے اس میں صوبائی حکومت کے کسی فرد کا ہاتھ نہیں لگنا چاہیے اورور نہ کسی کے ہاتھ نہیں آئے گی‘ اقوام متحدہ خود ہی تقسیم کرے۔ اقوام متحدہ کے افسر نے یقین دلایا کہ اس معاملہ میں خےبرپختونخوا کی حکومت سے بات کرلی جائے گی۔
سابق وفاقی وزیر اور اے این پی کے رکن قومی اسمبلی محمد خان ہوتی کا کہنا ہے کہ میری پارٹی کی حکومت انتہا درجہ کی بدعنوان ہے۔ اس نے تو لوٹ کھسوٹ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ جب میں اپنے علاقہ کے لوگوں کو امداد سے محروم دیکھتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے‘ آپ کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ کتنا برا حال ہے۔ صوبہ کی حکومت کو اربوں روپے کی امداد ملی ہے مگر حکمران اس کا بڑا حصہ خود نگل گئے۔ پٹواری وطن کارڈ وصول کرنے والوں کی جعلی فہرستیں بنارہے ہیں اور اصل کارڈ اے این پی کے رہنماﺅں کے حلقوں میں بانٹے جارہے ہیں۔ مردان میں میرے علاقے میں لوگوں کو ایک کوڑی بھی نہیں ملی۔ چار سدہ اور نوشہرہ کے متعدد علاقے امداد سے محروم ہیں۔ وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی خود بدعنوانی کی سرپرستی کررہے ہیں اور صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی اربوں روپے کھاگئی ہے۔ وزیراعلیٰ اپنے حلقے میں امداد تقسیم کررہے ہیں حالانکہ ان کا علاقہ سیلاب سے متاثر نہیں ہوا۔ چہیتے افسران رشوت دے کر سیلاب زدہ علاقوں میں تعیناتی کروارہے ہیں تاکہ سیلاب زدگان کی امداد لوٹی جاسکے۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی ‘ امیر حیدر ہوتی اور اعظم خان ہوتی بدعنوانی میں براہ راست ملوث ہیں۔
یہ گھر کی گواہی بہت طویل ہے۔ خواجہ محمد خان ہوتی یکم اکتوبر کو اپنی ہی پارٹی کی بدعنوانی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست بھی دائر کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنی درخواست کی نقول نیب‘ آئی ایس آئی‘ ایف آئی اے اور فوج کے سربراہ کو بھی بھیجی ہیں۔ شاید صدرمملکت کو نہیں بھیجی کیونکہ انہیں بھی معلوم ہوگا کہ آصف زرداری بہت مسکین اور عاجز ہیں۔ غلام احمد بلور نے صدر کو مکھن لگایا ہے وہ محمد خان ہوتی کی مہم شروع ہونے کے بعد ہی لگایا ہے۔
محمد خان ہوتی کوانسداد منشیات کی وزارت میں وفاقی وزیر کا منصب دیا گیا تھا مگر انہوں نے صرف تین ماہ بعد گزشتہ سال مارچ میں اپنی اعلیٰ قیادت کی وسیع بدعنوانی پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے حلقے میں 14 تعمیراتی منصوبوں میں جم کر بدعنوانی ہوئی ہے۔ محمد خان ہوتی خود کو بدعنوانی کے خلاف جنگ کا پہلا شہید قرار دیتے ہیں۔ لیکن ”غازی“ تو اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور اب تو ڈیری فارم کھول لیا ہے جہاں سے تازہ مکھن نکال کر لگایا جارہا ہے۔ لیکن یہ ”روغن قاز“ کہا ہوتا ہے۔ سنا ہے یہ زیادہ مچرب اور مجرب ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاقہ میں قاز بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ ایک اور رپورٹ ہے کہ خیبرپختونخوا میں 3 ہزار تجارتی کمپنیاں ایسی ہیں جو ٹیکس چوری کررہی ہیں اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچارہی ہیں۔ یہ رپورٹ وزارت خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔
اس صورتحال پر جانے وہ لوگ کیا کہیں گے جنہوں نے صوبہ پر متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے خلاف آسمان سر پر اٹھالیا تھا اور اے این پی کی کامیابی پر بغلیں بجارہے تھے۔ا س متحدہ مجلس میں شامل جماعت اسلامی اور اس کی تنظیم الخدمت آج بھی سیلاب زدگان کے کام آرہی ہے اور بے لوث خدمت کررہی ہے۔ نوشہرہ میں امداد نہ پہنچنے کا شکوہ نواب محمد خان ہوتی کررہے ہیں۔ نعمت اللہ خان کراچی سے ان کی مدد کو پہنچے اور نائب امیر جماعت سراج الحق کہہ رہے ہیں کہ ہم نوشہرہ والوں کی مدد کے لیے اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے۔ غلام احمد بلور کو اپنے صوبے کے مصیبت زدہ عاجز اور مسکین نظر نہیں آرہے‘ نظر میں ہے تو صرف ایک۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.