بین السطور

August 7, 2010

تاریخ خاموش ہوگئی

Filed under: سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 7:17 am
رضا علی عابدی بڑے سینئر صحافی ہیں‘ اتنے سینئر کہ وہ جو اپنے لڑکپن میں انہیں روز شام کو ایک خاص لہجہ میں بی بی سی ریڈیو پر بولتے ہوئے سنا کرتے تھے‘ آج خودسینئر صحافی کہلاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کا ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو خاصے کی چیز ہے۔ لندن میں اتنے عرصہ سے ہیں کہ اب انگریز ان سے اصلاح لیتے ہیں۔ لیکن وہ اب تک پاکستانی ہیں اور صدر پاکستان لندن پہنچے ہیں تو ان کے جذبات بھی عام پاکستانیوں کی طرح ہیں۔زرداری صاحب بڑے عزم و ہمت والے ہیں۔ چیچہ وطنی سے لے برمنگھم تک سب ان کے دورہ برطانیہ کی مخالفت کررہے ہیں لیکن انہوں نے جو ٹھان لی سو ٹھان لی۔ لڑکپن سے ان کا یہی مزاج ہے جب انہوں نے کسی بے کار سی فلم میں چائلڈ اسٹار کا کام کیا تھا۔ فلم تو نہ چل سکی لیکن جناب زرداری اسٹار بن گئے‘ کتنے ہی لوگوں کے مقدر کا ستارہ ‘فراخی افلاک کا ایسا ستارہ جس سے لوگ اپنی تقدیر کی خبر لینا چاہتے ہیں۔زرداری صاحب کے دورہ لندن پر یوں تو بہت سے اعتراضات کیے جارہے ہیں اور پیپلزپارٹی کے سارے ہی دانشور ایک ایک اعتراض کا سرتوڑ جواب دے رہے ہیں لیکن رضا علی عابدی نے ان سب سے ہٹ کر ایک نیا اعتراض کردیا ہے۔ یہ اعتراض زرداری صاحب سے زیادہ ہمارے برطانوی سفارتخانے اور خاص طور پر سفیر پاکستان واجد شمس الحسن کی انگریزی دانی پر ہے۔ جب پاکستان کے اخبارات میں یہ خبریں آئیںکہ غریب قوم کے امیر ترین صدر لندن کے بہت مہنگے ہوٹل میں قیام کریں گے جس کے ایک کمرے کا روز کا کرایہ لاکھوں میں ہے اور کئی کمرے مختص کرائے جاچکے ہیں تو پاکستانی سفارتخانے نے بیان جاری کیا کہ صدر پاکستان لندن کے Cheapest فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کریں گے۔ا س لفظ کو رضا علی عابدی پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ یہاں تو CHEAPEST کامطلب نہایت گھٹیا لیا جاتا ہے‘ یہ پاکستان کی انگریزی تو ہوسکتی ہے لندن کی کوئنز انگلش نہیں۔ انہوں نے اس گھٹیا پر افسوس کا اظہار کیا تاہم جس کی یہ حرکت ہے اس کا نام لینے سے گریز کیا۔ اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ۔ آج کے صحافی ہوتے تو پاکستانی حکومت کے شمس و قمر کا نام بلاتکلف لے ڈالتے۔ رضا علی عابدی کے اس اظہار تاسف پر ہم نے بھی بابائے اردو کی مرتب کردہ انگریزی لغت کھولی تو CHEAPکے مطالب میں ”گھٹیا‘ سستا‘ حقیر‘ نکما‘ شرمندہ‘ افسردہ‘ بے قدر“ وغیرہ وغیرہ پائے۔ CHEAPEST صیغہ مبالغہ ٹھیرا یعنی انتہائی گھٹیا‘حقیر وغیرہ۔ تو اس سرکاری اعلامیہ کا مطلب یہ ٹھیرا کہ پاکستان کے وفاق کی علامت جناب صدر لندن کے انتہائی گٹھیاہوٹل میں قیام فرمائیں گے۔ ممکن ہے کہ ”ہائیڈریجنسی لندن‘ دی چرچل“ نام کا یہ ہوٹل لندن کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ایسا ہی ہو جیسے دنیا کے ارب پتی حکمرانوں میں بے چارے زرداری۔ ویسے تو وہ اپنی طرف سے پاکستان کا مان بڑھانے کی حتی المقدور کوشش کررہے ہیں‘ خاص طور پر 1988 ءکے بعد سے۔ CHEAPESTہوٹل کے حوالے سی ہم یہ سمجھے تھے کہ زرداری صاحب شاید کسی پرانی سرائے میں قیام فرمائیں گے یا جیسے ہمارے ریلوے اسٹیشنوں کے باہر چارپائی‘ بسترا سے اوپر کے ”صاف ستھرے“ہوٹل ہوتے ہیں‘ ایسے ہی کسی ہوٹل میں بستر جمائیں گے تاکہ کچھ پیسہ بچے اور وہ ان کے اپنے اور اپنے بچوں کے کام آئے۔ لیکن لگتا ہے انہیں اور ان کے بچوں کو ایسی بچت کی ضرورت نہیں۔ہمارے لیے تو یہ بھی ایک انکشاف ہے کہ فرانس میں بھی جناب آصف علی زرداری کا کوئی ”خاندانی“ محل ہے۔ ایسی خبروں پر ہمیں تو خوشی ہوتی ہے کہ قسمت سے کیسا صدر ملا ہے کہ لندن کا سرے محل ہی نہیں‘فرانس کے مشہو ر تاریخی علاقہ نارمنڈی میں بھی ان کا محل ہے اور بھی کئی جگہ ہوسکتا ہے۔ ایسے محل داروں سے پاکستان کی شان بڑھتی ہے۔ لیکن تعجب ہمیں نارمنڈی والے محل کے خاندانی ہونے پر ہے جہاں وہ گزشتہ منگل کو فرانسیسی ایئرفورس کے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہنچائے گئے اور صرف دو گھنٹے قیام فرما کر روانہ ہوگئے۔ فرانس کے صدر سرکوزی اور آصف زرداری میں ویسے بھی ایک خاص رشتہ اوگسٹا کے تعلق سے ہے چنانچہ ایئرفورس کا ہیلی کاپٹر ان کے لیے وقف ہوگیا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق نارمنڈی کا یہ محل سولہویں صدی میں شاہ فلپ کی بیوہ کے لیے تعمیر کیا گیا جو اب پاکستانی WIDOWER کی ملکیت ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ محل گزشتہ 24 برس سے زرداری خاندان کی ملکیت ہے۔ یعنی یہ ان کے والدہ حاکم علی زرداری نے 1986ءمیں حاصل کیا۔ پھر یہ اب تک چھپا کر کیوں رکھا گیا۔ فیصل رضا عابدی توکہتے ہیں کہ آصف زرداری جدی‘ پشتی ارب پتی ہیں لیکن جب حاکم علی زرداری نے الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع کرائے تھے تب تو نہ اس محل کا تذکرہ تھا نہ جدی پشتی ارب پتی کہاکروڑ پتی ہونے کا بھی ذکر نہ تھا۔ حاکم علی زرداری نے اپنی معمولی سے آمدنی ظاہر کی تھی اور ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ کراچی کا بمبینو سینما ان کی ملکیت ہے ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس سینما میں صرف روپے میں دو آنے کا حصہ ہے۔تھوڑی سی زمین ظاہر کی گئی تھی۔ گوشوارے اٹھا کر دیکھ لیجیے مرحوم جتوئی صاحب تو اور بھی بہت کچھ کہتے تھے۔ لیکن یہ تحقیق تو کی جاسکتی ہے کہ 1986 ءمیں حاکم علی زرداری کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا کہ انہوں نے فرانس کے علاقہ نارمنڈی میںا یک محل خرید لیا‘ وہ بھی تاریخی محل جس کی قیمت اسی حساب سے زیادہ ہوگی۔ لیکن اس کی تحقیق کون کرے گا؟ لندن کے سرے محل کا اسکینڈل جب سامنے آیا توبے نظیر بھٹو اور آصف زرداری دونوں نے بڑے زور شور سے اس کی ملکیت سے انکار کیا تھا۔ زرداری صاحب نے تو یہ بھی کہا تھا کہ اگر سرے محل میری ملکیت ہے تو میری طرف سے اجازت ہے اسے بیچ کر کچھ حصہ مجھے بھی دے دیا جائے۔ اب تو سنا ہے کہ اسپین اور دوبئی میں بھی وسیع جائداد ہے۔ ہونی بھی چاہیے۔ آخر وہ دو مرتبہ وزیراعظم بننے والی خاتون کے شوہر تھے۔ کیا اتنا بھی نہ ہوتا۔ ایف آئی اے کے ایک معمولی سے افسر نے لندن میں محترمہ کی میزبانی کرکے اور کاروبار میں شرکت کرکے کتنا کچھ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ تو پارس ہیں‘ جو چھو جائے وہ خود سونا بن جائے۔آج کل بحث یہ چھڑی ہوئی ہے کہ جناب صدر لندن کے جس گھٹیا سے ہوٹل میں مقیم ہیں اس کے کمروں کا کرایہ کتنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ تو کہتے ہیں کہ ایک سویٹ کا کرایہ بمشکل ڈھائی‘ تین سو پاﺅنڈ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر زرداری کا دورہ فرانس و برطانیہ سرکاری دورہ ہے۔ یعنی اخراجات یہ بھوکی‘ ننگی قوم اٹھارہی ہے۔ صدر کے بشیر جناب فیصل رضا عابدی کہہ رہے تھے کہ تمام اخراجات صدر زرداری اپنی جیب سے برداشت کررہے ہیں اور پیپلزپارٹی کی نفس ناطقہ بی بی فوزیہ وہاب دعویٰ کررہی تھیں کہ تمام اخراجات پیپلزپارٹی برطانیہ برداشت کررہی ہے۔ کون سچ بول رہا ہی؟ یہ لوگ آپس میں ٹیلی فون کرکے ہی کوئی متفقہ موقف اختیار کرلیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ لیکن تضاد بیانی کا یہ پہلا موقع تو نہیں۔قوم کچھ بھی کہتی رہے‘ برطانوی اخبارات کتنی ہی تضحیک کرتے رہیں اور ٹین پرسنٹ کے حوالے دیتے رہیں‘ آخر جناب زرداری نے ڈیوڈ کیمرون سے مصافحہ کر ہی لیا۔ شاید کئی دن تک ہاتھ نہ دھوئیں۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ جناب زرداری ڈیوڈ کیمرون کے سامنے بیٹھ کر ان کو بتائیں گے کہ صاحب آپ نے پاکستان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ صحیح نہیں ہے‘ ایسا تو نہ کریں۔ جواب کیا ملا اس پر تاریخ خاموش ہے۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.