ایک صاحبزادی نےوالدین کو بتائےبغیر اپنی پسند کی شادی کر لی اور چپ چاپ پیا گھر سدھار گئی۔
یہ مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شاید اس میں کچھ دخل ٹی وی ڈراموں کا بھی ہو۔ بھارتی ڈراموں میں تو بغیر شادی کےلڑکیاں ماں بن جاتی ہیں اور گھر والےبڑےچاو سےانہیں قبول کرلیتےہیں۔ پاکستانی معاشرےمیں بھی تواتر سےایسے واقعات پیش آرہےہیں اور پھر ڈیرہ غازی خان کی صائمہ کا المیہ سامنےآتا ہےجو موبائل فون کےذریعہ دوستی کرکےکراچی آگئی اور شادی کا وعدہ کرنےوالےنےاسےگھر کےصحن میں گاڑ دیا۔ والدین اپنی بچیوں کےہاتھ میں موبائل فون نہ دیں تو اچھا ہے۔
ہم جس لڑکی کا ذکر کررہےہیں وہ شادی کےصرف تین ماہ بعد واپس آگئی۔ ماں نےگلےلگا کر پوچھا بیٹی ‘ واپسی کی اتنی جلدی کیا تھی۔ لڑکی نےجواب دیا‘ اماں ‘ بڑا دھوکا ہوگیا۔ میں نےجس سےشادی کی اس کی کار کرائےکی تھی‘ وہ جس مکان میں رہتا ہےاس کا کرایہ ایک سال سےنہیں دیا‘ مالک مکان روز آکر دھمکاتا ہے‘ اس کا موبائل چین کا ہے‘ جھاڑو‘ برتن اور کھانا پکانا سب مجھ کو کرنا پڑتا تھا۔ اور تو اور وہ ایک ایسےاخبار میں ملازم ہےجہاں مہینوں تنخواہ نہیں ملتی۔ اس سےتو اپنا ہی گھر بھلا۔
اخبارات ہی نہیں‘ اربوں وپےکےسرمائےسےچلنےوالےبرقی ذرائع ابلاغ میں بھی تنخواہوں کےمعاملہ میں یہی صورت حال ہے۔ لیکن کئی صحافی اور تجزیہ نگار ایسےبھی ہیں جو لاکھوں میں کھیل رہےہیں اور تنخواہ دار صحافی ملازم رکھےہوئےہیں۔
صحافیوں کےحوالےسےیہ تذکرہ یوں نوک قلم پر آگیا کہ کئی دن پہلےہمیں ایک خبر موصول ہوئی تھی اور ہم تب سےیہ خبر چھپی ہوئی دیکھنےکےلیےمختلف اخبارات ٹٹول رہےہیں ۔ لیکن ” ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازعروساں‘‘پریس ریلیز کی شکل میں خبر یوں ہےکہ ” معروف صحافی اور روزنامہ ……..کےایڈیٹر علی زیدی اپنےصحافی دوست علی جان کو اپنی بغیر اسٹینڈ کی سائیکل کےڈنڈےپر بٹھا کر برنس روڈ پر لیموں کا شربت پینےگئے۔ وہاں انہوں نےاپنی سائیکل کا اگلا پہیہ کھمبےکےساتھ زنجیر سےباندھ دیا لیکن نامعلوم چوروں نےلوڈشیڈنگ کا فائدہ اٹھایا اور اگلا پہیہ کھمبےسےبندھا چھوڑ کر باقی سائیکل لےگئے۔ یہ دیکھ کر دونوں صحافیوں نےسینہ کوبی شروع کردی لیکن ستم ظریفی کی انتہاءہےکہ لوگوں نےصورتحال کا مزہ لینا شروع کردیا۔ مزید ستم یہ کہ اتنےبڑےسانحہ کی کوریج کےلیےکسی نیوز چینل یا اخبار نےکیمرہ مین یا فوٹوگرافر بھیجنےکی زحمت بھی نہیں کی حالانکہ کئی چینلز اور اخبارات کےدفاتر قریب ہیں۔ پولیس کےبارےمیں شکایت کی جاتی ہےکہ تھانہ قریب ہونےکےباوجود پولیس تاخیر سےآئی۔ لیکن آتو جاتی ہے۔ مذکورہ واردات کی رپورٹ درج کرانےکےلیےایڈیٹر صاحب اور ان کےصحافی دوست تھانےپہنچےتو پولیس نےمقدمہ درج کرنےسےانکار کردیا ۔ ‘‘دو ‘ چار اہلکار تو ہنس بھی رہےتھے۔
ہمارےہم پیشہ و ہم مشرب بھائی علی زیدی نےعوام اور صحافیوں سےاپیل کی ہےکہ اگر وہ کسی کو بغیر پہیےکی سائیکل فروخت کرتےدیکھیں تو انہیں فوری طور پر اطلاع دیں[موبائل نمبر دیا گیا ہےجو ہم اس لیےدرج نہیں کر رہےکہ کہیں ان سےاگلا پہیہ بھی طلب نہ کرلیا جائے] ۔ علی زیدی نےصدر مملکت ‘ وزیر عظم ‘ گورنر‘ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سےاپیل کی ہےکہ پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنےاور بےپہیہ کی سائیکل برآمد کرنےکےفوری احکامات دیےجائیں۔ انہوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے ازخودنوٹس لینےکی اپیل بھی کی ہے۔
یہ سانحہ بجائےخود بڑا سنگین ہےلیکن سنگین ترین پہلو یہ ہےکہ ایک اخبار کا ایڈیٹر بغیر اسٹینڈ والی سائیکل پر گھوم رہا تھا اوراس کا بھی صرف ایک پہیہ ہی بچا ہے۔ چوروں کےپاس شاید زیادہ وقت نہیں تھا ورنہ تو وہ کھمبا ہی اکھاڑ لیتے تاکہ پوری سائیکل ہاتھ لگے۔ مذکورہ اخبار کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایڈیٹر صاحب کےپہیےمیں سائیکل لگواکر دے۔ ہم نےتو جس دن سےیہ خبر پڑھی ہے‘ آتےجاتےنظر رکھ رہےہیں کہ ایک پہیہ سےمحروم سائیکل نظر آئےتو اپنےایڈیٹر بھائی کو فوراً مطلع کریں۔ غنیمت ہےکہ علی زیدی ان صحافیوں میں سےنہیں جن کی بیویاں تیسرےمہینےہی میکےجا بیٹھتی ہیں۔ ان کی سائیکل کرائےکی نہیں تھی اور تو قع ہےکہ تنخواہ بھی بروقت مل رہی ہوگی۔ ذرائع نےیہ نہیں بتایا کہ کیا علی زیدی شادی شدہ بھی ہیں۔ بغیر اسٹینڈ کی سائیکل سےتو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ان کےاس مطالبہ کی تائید کریں گےکہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں۔
ہمیں صحافی برادری ‘ خاص طور پر کالم نگاروں سےبھی شکایت ہےکہ اتنےبڑےسانحہ پر انہوں نےکچھ نہیں لکھا حالانکہ ایک کالم نگار کشور ناہید کا لیپ ٹاپ گم ہوا تو انتظار حسین نےپر سا بھی دیا اور چور سےاپیل بھی کی کہ لیپ ٹاپ واپس کردے۔ روزن ِدیوار سےعطاالحق قاسمی بھی اپنا کالم لےکر آگئےاور موقع سےفائدہ اٹھا کر 35سال پہلےاپنےلمبریٹا اسکوٹر کی چوری کا ذکر بھی کردیا جس کےتذکرےپر سب کالم نگار ان کی مدد کو دوڑ پڑےتھے۔ احمد ندیم قاسمی‘ انتظار حسین‘ نصراللہ خان‘ منو بھائی اور ابن انشا تک نےایسےکالم باندھےکہ چور ان کا اسکوٹر چھوڑگیا۔ عطاالحق قاسمی کا خیال ہےکہ یہ ” چمتکار“ پیپلز پارٹی کےاخبار مساوات میں سہیل ظفر کا کالم چھپنےسےہوا جس سےچور یہ سمجھا کہ یہ پارٹی کا حکم ہےجس کی پابندی ڈسپلن کا تقاضاہے۔ یعنی 35سال پہلےایک اسکوٹر کی چوری پر بھی اکتفا کرلیا جاتا تھا۔اب تو پلوں کےنیچے سےبہت سا پانی بلکہ پل ہی بہہ گئےہیں۔ جمہوریت کی چوری سےکم پر بات نہیں ٹھیرتی۔ سائیکل والےایڈیٹر بھائی شکر کریں کہ ایک پہیہ تو بچ رہا ہےجسےاب تک کھمبےکی قید سےآزاد کرالیا ہوگا ‘وہ ون وہیل ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ حکومت تو ایسی سائیکل چلا رہی ہےجس کےدونوں پہیےغائب ہیں اور اسٹینڈ بھی نہیں ہے۔ بس کھمبا گڑا ہوا ہے۔
یہ مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شاید اس میں کچھ دخل ٹی وی ڈراموں کا بھی ہو۔ بھارتی ڈراموں میں تو بغیر شادی کےلڑکیاں ماں بن جاتی ہیں اور گھر والےبڑےچاو سےانہیں قبول کرلیتےہیں۔ پاکستانی معاشرےمیں بھی تواتر سےایسے واقعات پیش آرہےہیں اور پھر ڈیرہ غازی خان کی صائمہ کا المیہ سامنےآتا ہےجو موبائل فون کےذریعہ دوستی کرکےکراچی آگئی اور شادی کا وعدہ کرنےوالےنےاسےگھر کےصحن میں گاڑ دیا۔ والدین اپنی بچیوں کےہاتھ میں موبائل فون نہ دیں تو اچھا ہے۔
ہم جس لڑکی کا ذکر کررہےہیں وہ شادی کےصرف تین ماہ بعد واپس آگئی۔ ماں نےگلےلگا کر پوچھا بیٹی ‘ واپسی کی اتنی جلدی کیا تھی۔ لڑکی نےجواب دیا‘ اماں ‘ بڑا دھوکا ہوگیا۔ میں نےجس سےشادی کی اس کی کار کرائےکی تھی‘ وہ جس مکان میں رہتا ہےاس کا کرایہ ایک سال سےنہیں دیا‘ مالک مکان روز آکر دھمکاتا ہے‘ اس کا موبائل چین کا ہے‘ جھاڑو‘ برتن اور کھانا پکانا سب مجھ کو کرنا پڑتا تھا۔ اور تو اور وہ ایک ایسےاخبار میں ملازم ہےجہاں مہینوں تنخواہ نہیں ملتی۔ اس سےتو اپنا ہی گھر بھلا۔
اخبارات ہی نہیں‘ اربوں وپےکےسرمائےسےچلنےوالےبرقی ذرائع ابلاغ میں بھی تنخواہوں کےمعاملہ میں یہی صورت حال ہے۔ لیکن کئی صحافی اور تجزیہ نگار ایسےبھی ہیں جو لاکھوں میں کھیل رہےہیں اور تنخواہ دار صحافی ملازم رکھےہوئےہیں۔
صحافیوں کےحوالےسےیہ تذکرہ یوں نوک قلم پر آگیا کہ کئی دن پہلےہمیں ایک خبر موصول ہوئی تھی اور ہم تب سےیہ خبر چھپی ہوئی دیکھنےکےلیےمختلف اخبارات ٹٹول رہےہیں ۔ لیکن ” ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازعروساں‘‘پریس ریلیز کی شکل میں خبر یوں ہےکہ ” معروف صحافی اور روزنامہ ……..کےایڈیٹر علی زیدی اپنےصحافی دوست علی جان کو اپنی بغیر اسٹینڈ کی سائیکل کےڈنڈےپر بٹھا کر برنس روڈ پر لیموں کا شربت پینےگئے۔ وہاں انہوں نےاپنی سائیکل کا اگلا پہیہ کھمبےکےساتھ زنجیر سےباندھ دیا لیکن نامعلوم چوروں نےلوڈشیڈنگ کا فائدہ اٹھایا اور اگلا پہیہ کھمبےسےبندھا چھوڑ کر باقی سائیکل لےگئے۔ یہ دیکھ کر دونوں صحافیوں نےسینہ کوبی شروع کردی لیکن ستم ظریفی کی انتہاءہےکہ لوگوں نےصورتحال کا مزہ لینا شروع کردیا۔ مزید ستم یہ کہ اتنےبڑےسانحہ کی کوریج کےلیےکسی نیوز چینل یا اخبار نےکیمرہ مین یا فوٹوگرافر بھیجنےکی زحمت بھی نہیں کی حالانکہ کئی چینلز اور اخبارات کےدفاتر قریب ہیں۔ پولیس کےبارےمیں شکایت کی جاتی ہےکہ تھانہ قریب ہونےکےباوجود پولیس تاخیر سےآئی۔ لیکن آتو جاتی ہے۔ مذکورہ واردات کی رپورٹ درج کرانےکےلیےایڈیٹر صاحب اور ان کےصحافی دوست تھانےپہنچےتو پولیس نےمقدمہ درج کرنےسےانکار کردیا ۔ ‘‘دو ‘ چار اہلکار تو ہنس بھی رہےتھے۔
ہمارےہم پیشہ و ہم مشرب بھائی علی زیدی نےعوام اور صحافیوں سےاپیل کی ہےکہ اگر وہ کسی کو بغیر پہیےکی سائیکل فروخت کرتےدیکھیں تو انہیں فوری طور پر اطلاع دیں[موبائل نمبر دیا گیا ہےجو ہم اس لیےدرج نہیں کر رہےکہ کہیں ان سےاگلا پہیہ بھی طلب نہ کرلیا جائے] ۔ علی زیدی نےصدر مملکت ‘ وزیر عظم ‘ گورنر‘ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سےاپیل کی ہےکہ پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنےاور بےپہیہ کی سائیکل برآمد کرنےکےفوری احکامات دیےجائیں۔ انہوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے ازخودنوٹس لینےکی اپیل بھی کی ہے۔
یہ سانحہ بجائےخود بڑا سنگین ہےلیکن سنگین ترین پہلو یہ ہےکہ ایک اخبار کا ایڈیٹر بغیر اسٹینڈ والی سائیکل پر گھوم رہا تھا اوراس کا بھی صرف ایک پہیہ ہی بچا ہے۔ چوروں کےپاس شاید زیادہ وقت نہیں تھا ورنہ تو وہ کھمبا ہی اکھاڑ لیتے تاکہ پوری سائیکل ہاتھ لگے۔ مذکورہ اخبار کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایڈیٹر صاحب کےپہیےمیں سائیکل لگواکر دے۔ ہم نےتو جس دن سےیہ خبر پڑھی ہے‘ آتےجاتےنظر رکھ رہےہیں کہ ایک پہیہ سےمحروم سائیکل نظر آئےتو اپنےایڈیٹر بھائی کو فوراً مطلع کریں۔ غنیمت ہےکہ علی زیدی ان صحافیوں میں سےنہیں جن کی بیویاں تیسرےمہینےہی میکےجا بیٹھتی ہیں۔ ان کی سائیکل کرائےکی نہیں تھی اور تو قع ہےکہ تنخواہ بھی بروقت مل رہی ہوگی۔ ذرائع نےیہ نہیں بتایا کہ کیا علی زیدی شادی شدہ بھی ہیں۔ بغیر اسٹینڈ کی سائیکل سےتو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ان کےاس مطالبہ کی تائید کریں گےکہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں۔
ہمیں صحافی برادری ‘ خاص طور پر کالم نگاروں سےبھی شکایت ہےکہ اتنےبڑےسانحہ پر انہوں نےکچھ نہیں لکھا حالانکہ ایک کالم نگار کشور ناہید کا لیپ ٹاپ گم ہوا تو انتظار حسین نےپر سا بھی دیا اور چور سےاپیل بھی کی کہ لیپ ٹاپ واپس کردے۔ روزن ِدیوار سےعطاالحق قاسمی بھی اپنا کالم لےکر آگئےاور موقع سےفائدہ اٹھا کر 35سال پہلےاپنےلمبریٹا اسکوٹر کی چوری کا ذکر بھی کردیا جس کےتذکرےپر سب کالم نگار ان کی مدد کو دوڑ پڑےتھے۔ احمد ندیم قاسمی‘ انتظار حسین‘ نصراللہ خان‘ منو بھائی اور ابن انشا تک نےایسےکالم باندھےکہ چور ان کا اسکوٹر چھوڑگیا۔ عطاالحق قاسمی کا خیال ہےکہ یہ ” چمتکار“ پیپلز پارٹی کےاخبار مساوات میں سہیل ظفر کا کالم چھپنےسےہوا جس سےچور یہ سمجھا کہ یہ پارٹی کا حکم ہےجس کی پابندی ڈسپلن کا تقاضاہے۔ یعنی 35سال پہلےایک اسکوٹر کی چوری پر بھی اکتفا کرلیا جاتا تھا۔اب تو پلوں کےنیچے سےبہت سا پانی بلکہ پل ہی بہہ گئےہیں۔ جمہوریت کی چوری سےکم پر بات نہیں ٹھیرتی۔ سائیکل والےایڈیٹر بھائی شکر کریں کہ ایک پہیہ تو بچ رہا ہےجسےاب تک کھمبےکی قید سےآزاد کرالیا ہوگا ‘وہ ون وہیل ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ حکومت تو ایسی سائیکل چلا رہی ہےجس کےدونوں پہیےغائب ہیں اور اسٹینڈ بھی نہیں ہے۔ بس کھمبا گڑا ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : یہ کالم اطہر ہاشمی صاحب ایک قاری کی فرمائش پر لکھا گیا ہے ۔ جعفر صاحب نے فرمائش کی تھی کہ اطہر صاحب کبھی سیاست کو ٹچ کیے بغیر کچھ لکھ کر نذر بلاگ کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جعفر صاحب آپ کا تبصرہ اہم ہوگا۔
شکریہ
ایڈمن ’’بین السطور‘‘۔
میں خود کو کم ازکم بھی ساڑھے ساتویں آسمان پر محسوس کررہا ہوں
تحریر کی خوبی پر تو لکھنے کی صلاحیت نہیں۔۔۔
لیکن اپنی فرمائش پوری ہونے اور وہ بھی ایسی چوندی چوندی تحریر سے۔۔۔
جزاک اللہ۔۔۔ اور لگے رہیے ہاشمی صاحب۔۔۔
Comment by جعفر — July 4, 2010 @ 4:30 am |
کاش اس تحرير کو دورِ حاضر کا ترقی پسند روشن خيال طبقہ بھی پڑھے
Comment by Iftikhar Ajmal Bhopal — July 4, 2010 @ 6:00 am |
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
یہ روشن خیالی کےفیض ہیں جوکہ قوم جھیل رہی ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیث شریف ہےجسکامفہوم کچھ ایسےہےکہ جب فحاشی عام ہوجائےگی توقتل وغارت عام ہوگایہ اسی کاصلہ ہےکہ ہم اتنےبانجھ ہوچکےہیں پہلےفحاشی کوروکیں گےتوقتل وغارت بند ہوگا۔
اللہ تعالی ہم پراپناکرم کردےاورہم کواپناتابعداربندہ بنالے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
Comment by جاویداقبال — July 4, 2010 @ 3:11 pm |
جناب تحریر کی کیا تعریف کروں۔۔۔۔۔
ایڈیٹر صاحب کی کہانی پڑھ کر تو عبرت ہونی چاہیئے لیکن میرا تو ہنس ہنس کر برا حال ہورہا ہے۔ واقعی روشن خیالوں کو اس تحریر کو ضرور پڑھنا چاہیئے اور ہاں جعفر صاحب کواپنی فرمائش کے پورا ہونے پر مبارکباد۔۔۔
Comment by وقاراعظم — July 5, 2010 @ 2:30 pm |
بہت خوبصورت تحریر ہے. بہت مزہ آیا پڑھ کر لیکن متاثرین کو دو باتوں پر شکر کرنا چاہیے کہ ایک تو چوری ہوجانے والی چیز سائکل تھی ہنڈا اکارڈ نہیں تھی دوسری یہ کہ پوری سائکل چوری نہیں ہوئی اگلا پہیہ چھوڑ گئے کہ جو زندگی بھر متاثرین کے لئے ایک بیش قیمت سبق کے طور پر ہمیشہ ساتھ رہے گا کہ لیموں کا شربت آپ کی جیب پر بھری پر سکتا ہے خاص طور پر جب وہ برنس روڈ کا ہو…سچی بات تو یہ ہے کہ اب میں اس بات کا قائل ہو چلا ہوں کہ وطن عزیز میں جس رفتار سے گاڑیوں ، اسکوٹروں اور کبھی کبھی سائکلوں کو چھینا جا رہا ہے وہ ایک قہر خداوندی کے سوا کچھ نہیں جس پر توبہ استغفار اور صبر سے مدد لینی چاہیے کیونکہ اسے روکنا انسانی طاقت سے باہر ہے. ١٣ سال قبل دوست ایک کام ہے حیدر آباد کے ایک ماراف تجارتی علاقے میں کسی کام سے گیا.طبیعت کی احتیاط تھی یا نئی موٹر سائکل کی محبت ، اس نے اپنی موٹر سائکل کا سائیڈ لاک لگایا، پھر ایک تالا سائیڈ میں ویلڈ کے گئے آنکڑے میں پھنسایا ، پھر ٹائر کے رم پر ایک لاک لگایا اور جب پھر بھی اطمینان نہیں ہوا تو موٹر سائکل کو برابر میں برقی کھمبے سے زنجیر سے باندھ دیا اور مطمئن ہو کر اپنے کام کو نمٹنے چلا گیا. جب واپس آیا تو حفاظت سے موٹر سائکل وہیں کھڑی تھی. لوگ آ جا رہے تھے. کچھ کھڑے باتوں میں مشغول تھے. دوست نے اپنی موٹر سائکل کے لاک کھولنے شروع کے ایک کے بعد دوسرا ، اور دوسرے کے بعد تیسرا. جب سارے لاک کھول لئے تو قریب کھڑے ایک نوجوان نے شرٹ کے اندر ہاتھ ڈالا اور ایک خوفناک قسم کا ٹی ٹی پسٹل نکل لیا اور دوست کو نشانہ بناتے ھوۓ بولا:
“بہت لاک لگاتا ہے بھئی تو ….”
اس کے بعد کیا ہوا ہوگا اسکو سمجھنے کے لئے کسی عقل کی ضرورت نہیں.
Comment by ڈاکٹر جواد احمد خان — May 20, 2011 @ 7:07 am |