چلیی، پاکستان میں کوئی تو محفوظ ہے اور کوئی کیا چاروں بڑے محفوظ ہیں جن کے بارے میں اخبار ڈان نے ”Quartet Seeure “ کی سرخی جمائی ہے۔ اسے ہم جمہوری حکومت کا ”چوکا“ کہہ سکتے ہیں۔ چھکا بھی لگ سکتا تھا بشرطیکہ ان میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اسپیکر و چیئرمین کو بھی شامل کرلیا جاتا لیکن وہ بھی ان چار کے دم سے ہیں۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ”پوسٹ بجٹ تقریر“ کی طرح اپنے تین منٹ کے خطاب کے اگلے دن جو فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں 2013ءتک توسیع کے بعد ہم خود 2013 ءتک تو محفوظ ہوگئے۔ اس حصار میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو اس لیے شامل کرلیا کہ جناب جسٹس افتخار محمد کی مدت ملازمت بھی 2013ءتک ہے۔ ورنہ کسی بھی ملک میں چیف جسٹس کو تحفظ درکار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی حفاظت کا تعلق سپہ سالار کی مدت ملازمت سے ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جناب وزیراعظم نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم ہیں تو جسٹس افتخار بھی ہیں لہٰذا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ لیکن جسٹس افتخار محمد چوہدری پر تو جناب زرداری اور جناب کیانی کے پیشرو صدر اور آرمی چیف نے بھی ہاتھ ڈالا تھا مگر اپنے ہی ہاتھ جلا بیٹھے۔ صدر زرداری تو لاتعلق ہوگئے تھے کہ ہم نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ووٹ نہیں لیے تھی، روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ وہ بہرحال نبھا رہے ہیں ان کے دم سے بہت کی روزی، روٹی لگی ہوئی ہے اور کچھ کو تو ایوان صدر میں مکان ملا ہوا ہے۔ منشور میں یہ تو کہیں نہیں کہ روٹی، کپڑا اور مکان سب کو دیں گے۔ ویسے اس کا حل پیپلز پارٹی سندھ کے وزیر جیل خانہ جات پیش کرچکے ہیں، جیل ایک ایسی جگہ ہے جہاں روٹی، کپڑا مکان ہی کیا اور بھی بہت کچھ ملتا ہے۔جناب وزیراعظم نے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے 2013ءتک محفوظ رہنے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اب ”حدود میں رہ کر کام کیا جائے“ یہ مشورہ یا ہدایت کس کے لیے ہی، ان میںسے اور کون ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ حدیں پار کررہا ہی؟ کیا اس سوال کا جواب ضروری ہی؟ وزیراعظم صاحب نہ تو صدر نہ ہی آرمی چیف کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں اور اپنے بارے میں تو وہ خود جانتے ہیں کہ اتنے محدود ہیں کسی حد کے قریب تک نہیں بھٹکتے مبادا کھینچی ہوئی لکیر پر پاﺅ پڑے جائی، تب شاید یہ اشارہ میڈیا کی طرف ہے لیکن میڈیا تو ان چاروں میں شامل ہی نہیں جسے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بعد تحفظ کی خوشخبری سنائی گئی ہو، اس خطاب اور صحافیوں سے گفتگو میں جناب وزیراعظم نے یہ فرمایا تھا کہ ”ہمیں کیا کرنا ہے یہ ہم جانتے ہیں، میڈیا اپنا کام کرے“۔ہم حکمرانوں کے بارے میں ہمیشہ خوش گمانی سے کام لیتے ہیں خواہ وہ کوئی ہوں۔ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اچھے معنوں میں میڈیا کو کام کرنے کی اجازت دی ہے اور اس کا یہ مفہوم نہیں کہ ”جاﺅ، جاﺅ اپنا کام کرو“ یا یہ کہ ہمارے کام میں ٹانگ مت اڑاﺅ، اس معاملہ میں وزیراعظم بڑے فراخ دل ہیں۔ 19 جولائی کو جب وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کمیشن برائے اعلیٰ تعلیم کے صدر نشین جاوید لغاری نے ان سے 45منٹ تک ملاقات کی تو وزیراعظم نے ان سے بھی یہی کہا تھا کہ جاﺅ، اپنا کام کرو۔ اس کا سرکاری اعلامیہ بھی جاری ہوا لیکن عجیب بات ہے کہ 5 دن بعد 24جولائی کو خبر آرہی ہے کہ وزیراعظم نے تو ایسی کوئی ملاقات کی ہی نہیں۔ چیئر مین ہائر ایجوکیشن کمیشن سے حکمرانوں کو بڑے تحفظات ہیں اور ان کا شمار ”تحفظ یافتگان“ میں نہیں ہے۔ ہم پھر کہیں گے کہ ہمیں واقعی اس بات کی خوشی ہے کہ ملک کے چاروں بڑے محفوظ ہیں اور ان کی انشورنس پالیسی منظور ہوگئی ہے۔ ہم جیسوں کا کیا ہی، کہیں بم دھماکا، کہیں گولیاں، فاقہ کشی، غربت، مہنگائی، بدامنی یہ سب عوام کا مقدر ہے۔ اہل کراچی چڑیوں کی طرح شکار کیے جارہے ہیں لیکن کراچی ہی کیا، ملک میں کس کا گھر محفوظ ہے سوائے چار، پانچ ”محفوظین“ کے۔ کراچی میں چوبیس گھنٹے میں مزید ایک درجن جیتے جاگتے انسان ہلاک کردیے گئے تو نوشہرہ میں صوبائی وزیراطلاعات کے اکلوتے بیٹے کو قتل کردیا گیا، ہم چونکہ کراچی میں بیٹھے ہیں شاید اس لیے ہمیں اپنا دکھ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ جس کا اکلوتا بیٹا مارا جائے اس کا صدمہ زیادہ ہے اور یوں ان لوگوں کے دکھ اور صدمے کا اندازہ بھی ہوسکے گا جن کے کڑیل جوان بیٹے دہشت گرد قرار دے کر مار دیے گئے۔ کتنے ہی بیٹے اسی دن کراچی میں شکار ہوگئے۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں اکٹھی 3 سال کی توسیع سے ہمیں بھی بہت خوشی ہورہی ہے لیکن وزیراعظم صاحب نے اس کا جو جواز تراشا ہے وہ بڑا عجیب ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ”جمہوریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں کیا ہی، مشکلات حالات میں ایسے سپہ سالار کی ضرورت تھی“۔یعنی جنرل کیانی سے نیچے کوئی دوسرا جرنیل جمہوریت پسند ہے نہ اس نام نہاد جنگ کو جاری رکھ سکتا ہی، نہ ہی کوئی دوسرا ایسا ہے جو قبائلی علاقوں میں ”کامیاب فوجی آپریشن“ کرسکے۔ یہ توسیع بھی حسب معمول فوجی مفاد میں ہوئی۔ لیکن کیا یہ دیگر جنرلوں پر عدم اعتماد نہیں اور ان کی نا اہلی کا اعلان نہیں؟ لیکن شاید وزیراعظم کو اپنا اور صدر کا تحفظ عزیز ہے اور یہی ملکی مفاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر بھی 2013ءتک محفوظ ہوگئے اور گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ زرداری صاحب 2018ءتک صدر رہیں گے اور بلاول کو وزیراعظم بنا کر ہی عہدہ چھوڑیں گے۔ تب پھر جنرل کیانی کو 2018 ءتک توسیع دی جائے کہ فوج میں واحد جمہوریت پسند ہیں۔ بی بی بے نظیر تو جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دے چکی ہیں، گیلانی صاحب ستارہ جمہوریت تو دیں۔
July 26, 2010
July 3, 2010
ایک ایڈیٹر کی سائیکل کا پہیہ
ایک صاحبزادی نےوالدین کو بتائےبغیر اپنی پسند کی شادی کر لی اور چپ چاپ پیا گھر سدھار گئی۔
یہ مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شاید اس میں کچھ دخل ٹی وی ڈراموں کا بھی ہو۔ بھارتی ڈراموں میں تو بغیر شادی کےلڑکیاں ماں بن جاتی ہیں اور گھر والےبڑےچاو سےانہیں قبول کرلیتےہیں۔ پاکستانی معاشرےمیں بھی تواتر سےایسے واقعات پیش آرہےہیں اور پھر ڈیرہ غازی خان کی صائمہ کا المیہ سامنےآتا ہےجو موبائل فون کےذریعہ دوستی کرکےکراچی آگئی اور شادی کا وعدہ کرنےوالےنےاسےگھر کےصحن میں گاڑ دیا۔ والدین اپنی بچیوں کےہاتھ میں موبائل فون نہ دیں تو اچھا ہے۔
ہم جس لڑکی کا ذکر کررہےہیں وہ شادی کےصرف تین ماہ بعد واپس آگئی۔ ماں نےگلےلگا کر پوچھا بیٹی ‘ واپسی کی اتنی جلدی کیا تھی۔ لڑکی نےجواب دیا‘ اماں ‘ بڑا دھوکا ہوگیا۔ میں نےجس سےشادی کی اس کی کار کرائےکی تھی‘ وہ جس مکان میں رہتا ہےاس کا کرایہ ایک سال سےنہیں دیا‘ مالک مکان روز آکر دھمکاتا ہے‘ اس کا موبائل چین کا ہے‘ جھاڑو‘ برتن اور کھانا پکانا سب مجھ کو کرنا پڑتا تھا۔ اور تو اور وہ ایک ایسےاخبار میں ملازم ہےجہاں مہینوں تنخواہ نہیں ملتی۔ اس سےتو اپنا ہی گھر بھلا۔
اخبارات ہی نہیں‘ اربوں وپےکےسرمائےسےچلنےوالےبرقی ذرائع ابلاغ میں بھی تنخواہوں کےمعاملہ میں یہی صورت حال ہے۔ لیکن کئی صحافی اور تجزیہ نگار ایسےبھی ہیں جو لاکھوں میں کھیل رہےہیں اور تنخواہ دار صحافی ملازم رکھےہوئےہیں۔
صحافیوں کےحوالےسےیہ تذکرہ یوں نوک قلم پر آگیا کہ کئی دن پہلےہمیں ایک خبر موصول ہوئی تھی اور ہم تب سےیہ خبر چھپی ہوئی دیکھنےکےلیےمختلف اخبارات ٹٹول رہےہیں ۔ لیکن ” ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازعروساں‘‘پریس ریلیز کی شکل میں خبر یوں ہےکہ ” معروف صحافی اور روزنامہ ……..کےایڈیٹر علی زیدی اپنےصحافی دوست علی جان کو اپنی بغیر اسٹینڈ کی سائیکل کےڈنڈےپر بٹھا کر برنس روڈ پر لیموں کا شربت پینےگئے۔ وہاں انہوں نےاپنی سائیکل کا اگلا پہیہ کھمبےکےساتھ زنجیر سےباندھ دیا لیکن نامعلوم چوروں نےلوڈشیڈنگ کا فائدہ اٹھایا اور اگلا پہیہ کھمبےسےبندھا چھوڑ کر باقی سائیکل لےگئے۔ یہ دیکھ کر دونوں صحافیوں نےسینہ کوبی شروع کردی لیکن ستم ظریفی کی انتہاءہےکہ لوگوں نےصورتحال کا مزہ لینا شروع کردیا۔ مزید ستم یہ کہ اتنےبڑےسانحہ کی کوریج کےلیےکسی نیوز چینل یا اخبار نےکیمرہ مین یا فوٹوگرافر بھیجنےکی زحمت بھی نہیں کی حالانکہ کئی چینلز اور اخبارات کےدفاتر قریب ہیں۔ پولیس کےبارےمیں شکایت کی جاتی ہےکہ تھانہ قریب ہونےکےباوجود پولیس تاخیر سےآئی۔ لیکن آتو جاتی ہے۔ مذکورہ واردات کی رپورٹ درج کرانےکےلیےایڈیٹر صاحب اور ان کےصحافی دوست تھانےپہنچےتو پولیس نےمقدمہ درج کرنےسےانکار کردیا ۔ ‘‘دو ‘ چار اہلکار تو ہنس بھی رہےتھے۔
ہمارےہم پیشہ و ہم مشرب بھائی علی زیدی نےعوام اور صحافیوں سےاپیل کی ہےکہ اگر وہ کسی کو بغیر پہیےکی سائیکل فروخت کرتےدیکھیں تو انہیں فوری طور پر اطلاع دیں[موبائل نمبر دیا گیا ہےجو ہم اس لیےدرج نہیں کر رہےکہ کہیں ان سےاگلا پہیہ بھی طلب نہ کرلیا جائے] ۔ علی زیدی نےصدر مملکت ‘ وزیر عظم ‘ گورنر‘ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سےاپیل کی ہےکہ پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنےاور بےپہیہ کی سائیکل برآمد کرنےکےفوری احکامات دیےجائیں۔ انہوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے ازخودنوٹس لینےکی اپیل بھی کی ہے۔
یہ سانحہ بجائےخود بڑا سنگین ہےلیکن سنگین ترین پہلو یہ ہےکہ ایک اخبار کا ایڈیٹر بغیر اسٹینڈ والی سائیکل پر گھوم رہا تھا اوراس کا بھی صرف ایک پہیہ ہی بچا ہے۔ چوروں کےپاس شاید زیادہ وقت نہیں تھا ورنہ تو وہ کھمبا ہی اکھاڑ لیتے تاکہ پوری سائیکل ہاتھ لگے۔ مذکورہ اخبار کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایڈیٹر صاحب کےپہیےمیں سائیکل لگواکر دے۔ ہم نےتو جس دن سےیہ خبر پڑھی ہے‘ آتےجاتےنظر رکھ رہےہیں کہ ایک پہیہ سےمحروم سائیکل نظر آئےتو اپنےایڈیٹر بھائی کو فوراً مطلع کریں۔ غنیمت ہےکہ علی زیدی ان صحافیوں میں سےنہیں جن کی بیویاں تیسرےمہینےہی میکےجا بیٹھتی ہیں۔ ان کی سائیکل کرائےکی نہیں تھی اور تو قع ہےکہ تنخواہ بھی بروقت مل رہی ہوگی۔ ذرائع نےیہ نہیں بتایا کہ کیا علی زیدی شادی شدہ بھی ہیں۔ بغیر اسٹینڈ کی سائیکل سےتو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ان کےاس مطالبہ کی تائید کریں گےکہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں۔
ہمیں صحافی برادری ‘ خاص طور پر کالم نگاروں سےبھی شکایت ہےکہ اتنےبڑےسانحہ پر انہوں نےکچھ نہیں لکھا حالانکہ ایک کالم نگار کشور ناہید کا لیپ ٹاپ گم ہوا تو انتظار حسین نےپر سا بھی دیا اور چور سےاپیل بھی کی کہ لیپ ٹاپ واپس کردے۔ روزن ِدیوار سےعطاالحق قاسمی بھی اپنا کالم لےکر آگئےاور موقع سےفائدہ اٹھا کر 35سال پہلےاپنےلمبریٹا اسکوٹر کی چوری کا ذکر بھی کردیا جس کےتذکرےپر سب کالم نگار ان کی مدد کو دوڑ پڑےتھے۔ احمد ندیم قاسمی‘ انتظار حسین‘ نصراللہ خان‘ منو بھائی اور ابن انشا تک نےایسےکالم باندھےکہ چور ان کا اسکوٹر چھوڑگیا۔ عطاالحق قاسمی کا خیال ہےکہ یہ ” چمتکار“ پیپلز پارٹی کےاخبار مساوات میں سہیل ظفر کا کالم چھپنےسےہوا جس سےچور یہ سمجھا کہ یہ پارٹی کا حکم ہےجس کی پابندی ڈسپلن کا تقاضاہے۔ یعنی 35سال پہلےایک اسکوٹر کی چوری پر بھی اکتفا کرلیا جاتا تھا۔اب تو پلوں کےنیچے سےبہت سا پانی بلکہ پل ہی بہہ گئےہیں۔ جمہوریت کی چوری سےکم پر بات نہیں ٹھیرتی۔ سائیکل والےایڈیٹر بھائی شکر کریں کہ ایک پہیہ تو بچ رہا ہےجسےاب تک کھمبےکی قید سےآزاد کرالیا ہوگا ‘وہ ون وہیل ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ حکومت تو ایسی سائیکل چلا رہی ہےجس کےدونوں پہیےغائب ہیں اور اسٹینڈ بھی نہیں ہے۔ بس کھمبا گڑا ہوا ہے۔
یہ مرض بڑھتا ہی جارہا ہے۔ شاید اس میں کچھ دخل ٹی وی ڈراموں کا بھی ہو۔ بھارتی ڈراموں میں تو بغیر شادی کےلڑکیاں ماں بن جاتی ہیں اور گھر والےبڑےچاو سےانہیں قبول کرلیتےہیں۔ پاکستانی معاشرےمیں بھی تواتر سےایسے واقعات پیش آرہےہیں اور پھر ڈیرہ غازی خان کی صائمہ کا المیہ سامنےآتا ہےجو موبائل فون کےذریعہ دوستی کرکےکراچی آگئی اور شادی کا وعدہ کرنےوالےنےاسےگھر کےصحن میں گاڑ دیا۔ والدین اپنی بچیوں کےہاتھ میں موبائل فون نہ دیں تو اچھا ہے۔
ہم جس لڑکی کا ذکر کررہےہیں وہ شادی کےصرف تین ماہ بعد واپس آگئی۔ ماں نےگلےلگا کر پوچھا بیٹی ‘ واپسی کی اتنی جلدی کیا تھی۔ لڑکی نےجواب دیا‘ اماں ‘ بڑا دھوکا ہوگیا۔ میں نےجس سےشادی کی اس کی کار کرائےکی تھی‘ وہ جس مکان میں رہتا ہےاس کا کرایہ ایک سال سےنہیں دیا‘ مالک مکان روز آکر دھمکاتا ہے‘ اس کا موبائل چین کا ہے‘ جھاڑو‘ برتن اور کھانا پکانا سب مجھ کو کرنا پڑتا تھا۔ اور تو اور وہ ایک ایسےاخبار میں ملازم ہےجہاں مہینوں تنخواہ نہیں ملتی۔ اس سےتو اپنا ہی گھر بھلا۔
اخبارات ہی نہیں‘ اربوں وپےکےسرمائےسےچلنےوالےبرقی ذرائع ابلاغ میں بھی تنخواہوں کےمعاملہ میں یہی صورت حال ہے۔ لیکن کئی صحافی اور تجزیہ نگار ایسےبھی ہیں جو لاکھوں میں کھیل رہےہیں اور تنخواہ دار صحافی ملازم رکھےہوئےہیں۔
صحافیوں کےحوالےسےیہ تذکرہ یوں نوک قلم پر آگیا کہ کئی دن پہلےہمیں ایک خبر موصول ہوئی تھی اور ہم تب سےیہ خبر چھپی ہوئی دیکھنےکےلیےمختلف اخبارات ٹٹول رہےہیں ۔ لیکن ” ہر پھول کی قسمت میں کہاں نازعروساں‘‘پریس ریلیز کی شکل میں خبر یوں ہےکہ ” معروف صحافی اور روزنامہ ……..کےایڈیٹر علی زیدی اپنےصحافی دوست علی جان کو اپنی بغیر اسٹینڈ کی سائیکل کےڈنڈےپر بٹھا کر برنس روڈ پر لیموں کا شربت پینےگئے۔ وہاں انہوں نےاپنی سائیکل کا اگلا پہیہ کھمبےکےساتھ زنجیر سےباندھ دیا لیکن نامعلوم چوروں نےلوڈشیڈنگ کا فائدہ اٹھایا اور اگلا پہیہ کھمبےسےبندھا چھوڑ کر باقی سائیکل لےگئے۔ یہ دیکھ کر دونوں صحافیوں نےسینہ کوبی شروع کردی لیکن ستم ظریفی کی انتہاءہےکہ لوگوں نےصورتحال کا مزہ لینا شروع کردیا۔ مزید ستم یہ کہ اتنےبڑےسانحہ کی کوریج کےلیےکسی نیوز چینل یا اخبار نےکیمرہ مین یا فوٹوگرافر بھیجنےکی زحمت بھی نہیں کی حالانکہ کئی چینلز اور اخبارات کےدفاتر قریب ہیں۔ پولیس کےبارےمیں شکایت کی جاتی ہےکہ تھانہ قریب ہونےکےباوجود پولیس تاخیر سےآئی۔ لیکن آتو جاتی ہے۔ مذکورہ واردات کی رپورٹ درج کرانےکےلیےایڈیٹر صاحب اور ان کےصحافی دوست تھانےپہنچےتو پولیس نےمقدمہ درج کرنےسےانکار کردیا ۔ ‘‘دو ‘ چار اہلکار تو ہنس بھی رہےتھے۔
ہمارےہم پیشہ و ہم مشرب بھائی علی زیدی نےعوام اور صحافیوں سےاپیل کی ہےکہ اگر وہ کسی کو بغیر پہیےکی سائیکل فروخت کرتےدیکھیں تو انہیں فوری طور پر اطلاع دیں[موبائل نمبر دیا گیا ہےجو ہم اس لیےدرج نہیں کر رہےکہ کہیں ان سےاگلا پہیہ بھی طلب نہ کرلیا جائے] ۔ علی زیدی نےصدر مملکت ‘ وزیر عظم ‘ گورنر‘ وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سےاپیل کی ہےکہ پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنےاور بےپہیہ کی سائیکل برآمد کرنےکےفوری احکامات دیےجائیں۔ انہوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے ازخودنوٹس لینےکی اپیل بھی کی ہے۔
یہ سانحہ بجائےخود بڑا سنگین ہےلیکن سنگین ترین پہلو یہ ہےکہ ایک اخبار کا ایڈیٹر بغیر اسٹینڈ والی سائیکل پر گھوم رہا تھا اوراس کا بھی صرف ایک پہیہ ہی بچا ہے۔ چوروں کےپاس شاید زیادہ وقت نہیں تھا ورنہ تو وہ کھمبا ہی اکھاڑ لیتے تاکہ پوری سائیکل ہاتھ لگے۔ مذکورہ اخبار کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایڈیٹر صاحب کےپہیےمیں سائیکل لگواکر دے۔ ہم نےتو جس دن سےیہ خبر پڑھی ہے‘ آتےجاتےنظر رکھ رہےہیں کہ ایک پہیہ سےمحروم سائیکل نظر آئےتو اپنےایڈیٹر بھائی کو فوراً مطلع کریں۔ غنیمت ہےکہ علی زیدی ان صحافیوں میں سےنہیں جن کی بیویاں تیسرےمہینےہی میکےجا بیٹھتی ہیں۔ ان کی سائیکل کرائےکی نہیں تھی اور تو قع ہےکہ تنخواہ بھی بروقت مل رہی ہوگی۔ ذرائع نےیہ نہیں بتایا کہ کیا علی زیدی شادی شدہ بھی ہیں۔ بغیر اسٹینڈ کی سائیکل سےتو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہم ان کےاس مطالبہ کی تائید کریں گےکہ چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں۔
ہمیں صحافی برادری ‘ خاص طور پر کالم نگاروں سےبھی شکایت ہےکہ اتنےبڑےسانحہ پر انہوں نےکچھ نہیں لکھا حالانکہ ایک کالم نگار کشور ناہید کا لیپ ٹاپ گم ہوا تو انتظار حسین نےپر سا بھی دیا اور چور سےاپیل بھی کی کہ لیپ ٹاپ واپس کردے۔ روزن ِدیوار سےعطاالحق قاسمی بھی اپنا کالم لےکر آگئےاور موقع سےفائدہ اٹھا کر 35سال پہلےاپنےلمبریٹا اسکوٹر کی چوری کا ذکر بھی کردیا جس کےتذکرےپر سب کالم نگار ان کی مدد کو دوڑ پڑےتھے۔ احمد ندیم قاسمی‘ انتظار حسین‘ نصراللہ خان‘ منو بھائی اور ابن انشا تک نےایسےکالم باندھےکہ چور ان کا اسکوٹر چھوڑگیا۔ عطاالحق قاسمی کا خیال ہےکہ یہ ” چمتکار“ پیپلز پارٹی کےاخبار مساوات میں سہیل ظفر کا کالم چھپنےسےہوا جس سےچور یہ سمجھا کہ یہ پارٹی کا حکم ہےجس کی پابندی ڈسپلن کا تقاضاہے۔ یعنی 35سال پہلےایک اسکوٹر کی چوری پر بھی اکتفا کرلیا جاتا تھا۔اب تو پلوں کےنیچے سےبہت سا پانی بلکہ پل ہی بہہ گئےہیں۔ جمہوریت کی چوری سےکم پر بات نہیں ٹھیرتی۔ سائیکل والےایڈیٹر بھائی شکر کریں کہ ایک پہیہ تو بچ رہا ہےجسےاب تک کھمبےکی قید سےآزاد کرالیا ہوگا ‘وہ ون وہیل ڈرائیو کرسکتے ہیں۔ حکومت تو ایسی سائیکل چلا رہی ہےجس کےدونوں پہیےغائب ہیں اور اسٹینڈ بھی نہیں ہے۔ بس کھمبا گڑا ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : یہ کالم اطہر ہاشمی صاحب ایک قاری کی فرمائش پر لکھا گیا ہے ۔ جعفر صاحب نے فرمائش کی تھی کہ اطہر صاحب کبھی سیاست کو ٹچ کیے بغیر کچھ لکھ کر نذر بلاگ کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جعفر صاحب آپ کا تبصرہ اہم ہوگا۔
شکریہ
ایڈمن ’’بین السطور‘‘۔