”ہزاروں سیاسی اداکاروں کے باوجود ہمارا دستی اور ہمارا جاٹ پھر جیت گیا۔“ جناب صدر نے شہید بی بی کے مزار پر کھڑے ہوکر جعل سازوں‘ دھوکے بازوں کی کامیابی پر نہ صرف فخر کا اظہار کیا بلکہ انہیں ”ہمارا“ کہہ کر اعزاز بھی بخشا۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ایسے تمام لوگ انہی کے ہیں اور انہی کے دم سے کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ یہ دستی اور جٹ کون ہیں‘ ان سے اب پوری قوم واقف ہوچکی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ سینکڑوں ارکان قومی اسمبلی میں سے دو‘ ایک تھے۔ مگر جب سے عدالت کی نظر پڑی یہ شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے۔ جناب صدر نے ان کو اپنا کہہ کر تمام نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں‘ بس کسی طرح جعلی ڈگریاں حاصل کرلو اور ہمارے ہوجاﺅ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی اپنوں کی حمایت میںکسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ جعلی ڈگری کا حصول کارگل کے معاملہ سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ جیتے رہیں۔اگر جناب سلمان تاثیر یہ بات کہتے تو ان کو زیبا تھا۔ لیکن میاں برادران کا اصل نشانہ توجنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے میاں برادران کی حکومت چھینی تھی چنانچہ ہر برائی کا موازنہ جنرل پرویز سے ہوگا۔ جعلی ڈگری اور کارگل کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک تیلی نے جاٹ سے کہا تھا”جاٹ رے جاٹ تیرے سرپہ کھاٹ۔“تیلی قافیہ ردیف سے واقف تھا ممکن ہے کوئی شاعر اس کے کولہو پر تیل لینے آتا ہو۔ جو اب میں جاٹ کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے کہا ”تیلی رے تیلی‘ تیرے سر پہکولہو“ اس پر تیلی نے اقرار کر کہا واہ‘ قافیہ تو ملا ہی نہیں۔ جاٹ نے کہا قافیہ ملے نہ ملے‘ بوجھوں تومرے گا۔ ہم بھی کب سے سوچ رہے ہیں کہ تیلی کا مناسب قافیہ کیا ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے بھی کچھ ایسا ہی قافیہ ملایا ہے۔اطلاع یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں کے معاملہ میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی سے بازی لے گئی ہے۔ چلیے‘ کہیں توپالا مارا۔ اب ایک خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اور ن لیگ اپنے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی تصدیق رکوانے کے لیے متحدہ ہوگئی ہیں۔ یہ اتحاد مبارک ہو جعل سازوں کو۔ دونوں پارٹیوں کا موقف ہے کہ ایک دوسرے کا ”پنڈا“ کھولنے سے دونوں ہی ”لاجوں“ مریں گے‘ کیوں نہ ایک دوسرے کا پردہ رکھاجائے۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ میاں برادران ایسے کوتاہ اندیش نہیں کہ جعل سازوں اور دھوکے بازوں کو اعلانیہ ہمارے کہیں۔ ایسی جرات تو وہی کرسکتا ہے جو خود اس فن کا ماہر ہو۔ عدالتیں جعلی ڈگریاں پکڑ رہی ہیں اور جعل سازوں کو چھوڑ رہی ہیں۔ نااہل قرار پانے والے روح سفر کی طرح کل کسی اور راستے سے آجائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے لوگوں کو سزا بھی ملتی۔ برسوں تک اسمبلیوں کا رکن رہ کر جو مراعات حاصل کی ہیں‘ قوم کے خزانے سے تنخواہ لی ہے‘ وہ اگلوائی جاتی ‘ ضمنی انتخابات کا خرچہ وصول کیا جاتا۔ لیکن اندھیر نگری میں سب اندھیر ہی ہے۔ ایک عام آدمی معمولی سے جعل سازی کرتا ہے تو اسے سزا ہوجاتی ہے۔ یہاں تو پوری قوم سے دھوکا کیا گیا اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی میں بھی حصہ لیا گیا۔ ایسے قوانین اور ایسی اسمبلیوں کی کیا وقعت رہ گئی؟ سزا مل جاتی تو آج کوئی فخریہ یہ نہ کہتا کہ ہماے دستی اور ہمارے جٹ پھر جیت گئے۔ جن پارٹیوں میں ایسے جعل ساز بیٹھے ہوئے ہیں ان پارٹیوں سے سوائے جعل سازی اور فریب کے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن صدر صاحب یہ تو بتائیں کہ جاٹ کب سے ان کے ہوگئے۔ وہ تو ق لیگ کے ٹکٹ پر بھی جیت گئے تھے۔جناب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سید زادے ہیں اور شیخ عبدالقادر جیلانی جیسے بزرگ سے نسبت ہے جو ڈاکوﺅں کے سامنے بھی سچ بولنے سے نہیں ہچکچائے یہ سید زادے جمشید دستی کی انتخابی مہم کامیاب بنانے کے لیے مظفر گڑھ پہنچے‘ مقامی افراد کے لیے کئی انعامات‘ منصوبوں اور ملازمتوں کا اعلان کرکے دستی کی کامیابی کو پکا کیا اور روحانی قوت کام میں لاکر انتخابات سے پہلے ہی دستی کی کامیابی کا اعلان کردیا۔ ان کے منہ سے نکلی بات بھلا کیوںنہ پوری ہوتی کہ وہ سیدکے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی ہیں۔ لیکن یہی سید صاحب جمعرات 13 مئی کو قومی اسمبلی سے‘ اس اسمبلی سے جس میں اب بھی کئی جعل ساز بیٹھے ہیں‘ خطاب کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ سیاسی جماعتیں جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کو ٹکٹ جاری نہ کریں۔واہ ‘ کیا بات ہے۔ جمشیددستی کی انتخابی مہم میں شرکت کا عذر یہ پیش کیا کہ ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ پارٹی نے کیا تھا‘ پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنا میری ذمہ داری ہے۔ پھر وہ بورے والا میں ایسی ہی ایک اور انتخابی جلسہ میں خطاب کرنے چلے گئے۔کاش کوئی ایسا بھی ہو جو پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنے کے بجائے حق اور سچ کا دفاع کرے‘ ملک کا دفاع کرے‘ غریب عوام کے حقوق کا دفاع کرے اور عوام کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ یہ ہمارے ہیں‘ ہم ان کو جتائیں گے۔ لیکن موجودہ نظام میں تو دستی اور جٹ ہی جیتتے رہیں گے کہ وہ صاحبان اقتدارکے چہیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بل بوتے پر یہ دعویٰ کہ پی پی کو اقتدار سے ہٹانا آسان نہیں۔ آپ تو خود یہ مشکل آسان کیے دے رہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ وفاقی وزیر قانون بھی ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگری لیے گھوم رہے ہیں وہ بھی صدر صاحب کے اپنے ہی ہیں۔ لیکن اصلی سیاسی اداکار کون ہی؟ کیا اب بھی پتا نہیں چلا؟