بین السطور

June 24, 2010

ہمیشہ دیر کردیتے ہیں ہم

ایک سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ 15 اپریل 2010 ءکو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ کو دو ماہ چھ دن گزرنے کے بعد 21 جون کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اس میں حیرت کی کیا بات ہے‘ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری کی پوری رپورٹ انگریزی میں تھی۔ اس کو پڑھنے اور سمجھنے میں وقت تو لگتا ہی ہے جبکہ وقت حکمرانوں میں سے کسی کے پاس نہ تھا۔ وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی اس پورے عرصہ میں بہت مصروف رہے۔ انہوں نے واشنگٹن جاکر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے سرجوڑ کر راز کی باتیں کیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ مسائل پر غور کے لیے سر سے سر جوڑنا ہی پڑتا ہے۔ جواب میں امریکا نے پاکستان کو سر سے پکڑ رکھا ہے۔ صرف رچرڈ ہالبروک ہی اوباما کے خصوصی ایلچی مقرر ہونے کے بعد گزشتہ دنوں دسواں چکر لگا کر گئے ہیں اور اپنی گفتگو سے چکرا کر رکھ دیا ہے۔ ایک دن کہا کہ پاک ایران گیس معاہدہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اور جب واشنگٹن سے باز پرس ہوئی تو اگلے ہی دن کہہ دیا کہ ”مشتری ہوشیار باش“ اس مصرعہ طرح پر پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم گرہ لگارہے ہیں اور گرہیں کھل کر نہیں دے رہیں۔ سنا ہے کہ ہالبروک کو یہ اعتراض تھا کہ پاکستان میں ان کے سر سے سر کیوں نہ جوڑا گیا اور امریکی وزیر خارجہ جیسا یہاں کیوں نہیں ہے۔پھر بھی ہالبروک پاکستان کے آموں کی تعریف کرگئے۔ لیکن امریکی روایات کے عین مطابق دودھ میں مینگیاں بھی ڈال دیں۔ آموں کی تعریف کرنے پر جب ان سے کہا گیا کہ امریکا جس طرح پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیتا ہے اسی طرح پاکستانی سندھڑی‘ چونسہ ‘ انور رٹول‘ دسہری اور سرولی کے لیے بھی دروازے کھول دے‘ لیکن موصوف نے اس کے لیے شرط لگادی کہ امریکی ٹیم آکر ایک ایک انور رٹول کو ٹٹول کر دیکھے گی‘ جراثیم کا سراغ لگائے گی‘ القاعدہ سے تعلق کی تحقیقات کرے گی اور خاص طور پر یہ دیکھے گی کہ یہ ان آموں کی نسل میں سے تو نہیں جو 17 اگست 1988 ءکو جنرل ضیاءالحق کے طیارے میں رکھوائے گئے تھے۔ اس سانحہ میں امریکا نے اپنا سفیر بھی قربان کردیا تھا۔ چلی کے امریکی سفارتخانے میں ایک پاکستانی پہلے سے وقت لے کر اپنا ویزا بڑھوانے گیا تھا۔ اسے دبوچ لیا گیا‘ الزام یہ تھا کہ اس کے کاغذات اور کپڑوں سے دھماکا خیزمواد کی بو آرہی ہے۔ ممکن ہے وہ بیچارہ کسی دیسی صابن سے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر گیا ہو۔ ایسا ہی کوئی مواد ہالبروک کو پاکستانی آم میں نظر آجائے۔ بستی لال کمال کے سانحہ کے بعد تو آموں کے بارے میں امریکی محتاط ہوگئے ہوں گے۔ خود امریکی پالیسی یہ ہے کہ آم کے آم‘ گٹھلیوں کے دام‘ پاکستان کو جتنا کچھ دے رہے ہیں اس میں سے رس تو خود چوس لیتے ہیں اور گٹھلیوں کے دام وصول کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ جو قریشی ہیں اور نام کے ساتھ شاہ بھی لکھتے ہیں‘ سجادہ نشین بھی ہیں۔ امریکا سے فرصت پاکر وہ سجادہ سنبھالتے ہیں۔ عربی میں سجادہ قالین کو کہتے ہیں مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ قالین کے شیر ہیں۔ شیروں کے بارے میں جناب زرداری کا تجربہ وسیع ہے چنانچہ انہوں نے بی بی کی سالگرہ پر بھی نقلی شیروں کا حوالہ دیا ہے۔ غالباً یہ بھی جعلی اسناد کی کوئی شکل ہے۔ بی بی بے نظیر شہید ہوگئیں اس لیے ہم شیر کے حوالے سے ان کا تبصرہ نہیں دوہرائیں گے۔ لیکن جب جعلی ارکان اسمبلی اپنائے جارہے ہیں تو جعلی شیر کیا برے ہیں۔ کبھی بھٹو صاحب کے دست راست جناب غلام مصطفی کھر بھی تو بزعم خود شیر پنجاب تھے۔ چڑیا گھر میں ہم نے بڈھے شہر کا بُرا حال دیکھا ہے کہ اس سے گوشٹ بھی نہیں چبا یا جارہا تھا۔ جعلی شیر اپنی ہی بوٹیاں نوچتے ہیں۔ بے شمار مصروفیات کے بعد اب وزیر خارجہ صاحب کو فرصت ملی تو رپورٹ بھی پڑھی ہوگی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پوری رپورٹ پڑھ کے بیٹھی تھی اور ناراض تھی۔ ایسی ہی ناراضی کا اظہار کیری لوگر بل پر بھی ہوا تھا تب حکمرانوں نے بھی اس کی شرائط پر نظرڈالی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے بہت کچھ ہے۔ مثلاً یہ کہ ”آئی ایس آئی‘ آئی بی اور ایم آئی نے رپورٹ کی تیاری میں رکاوٹیں ڈالیں‘ پی پی کے اپنے انتظامات ناقص تھے‘ پرویز مشرف کے رشتہ دار ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز کے کہنے پر سی سی پی او راولپنڈی مسعود عزیز نے جائے شہادت کو دھلوایا۔ رپورٹ میں بے نظیر کو چھوڑ کر بھاگ جانے والوں کا بھی ذکر ہے۔ 17 اپریل کو وزیراعظم کی صدارت میں پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ رپورٹ میں نامزد سرکاری اہلکاروں کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں‘ تمام ذمہ داروںکے خلاف کارروائی ہوگی‘ ملزمان کو انصاف کے کٹہڑے میں لایا جائے گا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ”رپورٹ نے پارٹی موقف کو درست ثابت کردیا۔“ اب پارٹی موقف کیا کہتا ہی؟ یہی رپورٹ ناقابل اعتبار ٹھیری تو اس کی مداحی کرنے والے کیا ٹھیری؟ ہمارے خیال میں ابھی وہ کٹہڑا تیار کیا جارہا ہے جس میں ملزمان کو کھڑا کیا جائے گا۔ سانحہ بڑا ہے‘ مجرم بھی بڑے بڑے ہیں چنانچہ کٹہڑا بھی بہت بڑا چاہیے۔ شاید اس کے لیے لکڑی کا انتخاب ہورہا ہے۔ بس یوں نہ ہو کہ مضبوط لکڑی حاصل کرنے کے لیے شجرکاری پر غور ہورہاہ ے‘ کچھ بھی بعید نہیں۔ اور ایک رپورٹ یہ تھی کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا ایک صفحہ 15لاکھ ڈالر میں پڑا ہے‘ معاملہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا۔ لیکن یہ تو رپورٹ آنے کے دودن بعد کی بات ہے۔ اب تو معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ یہ قیمتی رپورٹ اقوام متحدہ کے منہ پر دے ماری گئی ہے۔18 اپریل کو تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد شروع ہونے کی اطلاع تھی‘ 6 افسر ہٹادیے گئے تھے‘ ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے۔ رپورت میں نامزد افراد کو گرفتار کرنے کافیصلہ ہوا۔ اور پھر نہائی دھوئی پھسل پڑی۔ اسٹیبلشمنٹ کے اہم افراد کے نام رپورٹ میں آئیں گے تو پھر یہی ہوگا۔ لیکن اتنی تاخیر سے کیون۔ منیر نیازی کے بقول ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں“ مگر اب اتنی دیر ہوچکی ہے کہ مزید انتظار کرنا عوام کے لیے دوبھر ہوگیا ہے۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.