پروفیسر ابراہیم کا خیال تھا کہ یہ مناظرہ ہورہا ہے اور فیصل رضا عابدی بہت اچھے مناظر ہیں۔ لیکن ہمارے خیال میں تو یہ مجادلہ تھا‘ مناقشہ تھا‘ مناقضہ تھا یا ایسا مباحثہ تھا کہ جو زیادہ چیخ کر بولے وہ جیت جائے۔ بھلا فیصل رضا عابدی سے کون جیت سکتا ہے۔ وہ اپنے صدر اور پارٹی سربراہ جناب آصف علی زرداری کے لیے ایسی بلند فصیل ہیں کہ کمند ڈالنے والے کوشش کرکے رہ جاتے ہیں۔ فیصل رضا زبان کی آری سے کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ عوام کی ہمدردیاں عابدی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتیں۔
فیصل رضا عابدی کو عوام کی ہمدردی کی ضرورت بھی نہیں۔ انہیں جس کی ہمدردی ‘ حمایت اور پشت پناہی چاہیے وہ وافر دستیاب ہے اور فیصل رضا وفور شوق میں آگے بڑھے چلے جارہے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے۔ آخر وہ صدر پاکستان ‘ حکمران جماعت کے شریک چیئرمین اور پورے چیئرمین کے باپ جناب زرداری کے مشیر خاص ہیں۔ اب تک تو جناب زرداری کے پاس صرف یہ اعزاز تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن کے شریک حیات ہیں‘ ایسے سرتاج ہیں کہ سر کہیں اور تاج کہیں مگر اب تووہ پوری قوم کے سر کا تاج ہیں اور اس تاج میں جناب فیصل رضا عابدی‘ فوزیہ وہاب ‘ بابر اعوان ‘ رحمن ملک ‘ ریاض لالجی‘ سلمان اور عثمان فاروقی‘ جمشید دستی‘ شیخ ریاض اور سلمان تاثیر جیسے کوہ نور جڑے ہوئے ہیں۔ہر ایک ایسا کہ جس کے بارے میں ظفر اقبال نے تلقین کی تھی کہ ”آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے“ امام اور مقتدی سب کے سب صاحبان کردار۔مجال ہے کہ منہ پر ذرا بھی مہتاب چھٹے۔
ایکسپریس چینل کے اس مجادلہ میں ایک بڑے عالم پروفیسر ابراہیم بھی موجود تھے اس لیے ہم نے ایسے مشکل الفاظ شامل کردیے جن کا مطلب جاننے کے لیے لغت سے رجوع لانا پڑے۔ لیکن رعب تو پڑے گا۔ ویسے تو جناب فیصل رضا عابدی خود بھی بڑے عالم فاضل ہیں۔ اسی لیے ایک صحافی نے انہیں آیت اللہ کا خطاب دیا ہے۔ لیکن کیا آیت اللہ ایسے ہوتے ہیں؟ اس کا مطلب تو ”اللہ کی نشانی“ ہے۔ اللہ اپنی کیسی کیسی نشانیاں دکھارہا ہے۔ ہمیں یہ اطمینان ہے کہ پیپلزپارٹی کی چوتھی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جناب فیصل رضا روٹی توکسی طور کما کھائیں گے۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری کے صدر بننے سے پہلے تک تو خود پیپلزپارٹی والے بھی عابدی صاحب کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ لیکن بی بی شہید کے ہوتے ہوئے خود زرداری صاحب ہی کا سیاست میں کیا عمل دخل تھا؟ ہمارے خیال میں اعتراض بے وجہ اور تعصب پر مبنی ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے کام دکھاتے رہتے اور شہرت سے اجتناب کرتے ہیں‘ ناموری کبھی نقصان دہ بھی ہوتی ہے۔ فیصل رضا عابدی کے بارے میں بھی گمان یہی ہے کہ وہ بھی رحمن ملک کی طرح بی بی کے بہت قریب رہے ہوں گے۔ لیکن سامنے کی بات یہ بھی ہے کہ ناہید خان اور صفدرعباسی جیسے لوگ تو بی بی کا سایہ بنے ہوئے تھے اب زرداری کے آفتاب کے سامنے سائے غائب ہوگئے۔ یوں تو بی بی کی رضاکارانہ جلاوطنی کے عرصہ میں مخدوم امین فہیم نہ صرف پارٹی کو سنبھالے رہے بلکہ فوجی حکومت سے معاملات طے کرانے میں بھی آڑھتی کا کردار بخوبی ادا کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تو محض ڈاکیہ تھے اور ڈاک کے نظام کی صورتحال سب کے سامنے ہے‘ ڈاکیے کی تو شکل بھی یاد نہیں رکھی جاتی۔ اور وہی کیا‘ نون لیگ میں بھی تو ایک مخدوم ہیں‘ جناب جاوید ہاشمی۔
کچھ بھی کہیے‘ ڈراما اتنا دلچسپ اور سنسنی خیز تھا کہ ہم نے یہ پروگرام بار بار دیکھا۔ پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر ویسے بھی مزاحیہ پروگرام نہیں آتے اور جو آتے بھی ہیں تو ان کو پر مزاح ثابت کرنے کے لیے قہقہوں کی ریکارڈ آوازیں شامل کردی جاتی ہیں یا پھر پروگرام پیش کرنے والے / والیاں خود محظوظ ہونے کا تاثر دیتے/ دیتی ہیں۔ اس پر تو ہنسی آہی جاتی ہے۔
ایکسپریس چینل کے میزبان جاوید چودھری کو پہلی بار برہم ہوتے دیکھا۔ یہ کریڈٹ بھی فیصل رضا عابدی کو جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپے سے باہر کون ہوا۔ عموماً لڑائی بھڑائی کی فلموں میں مزاح کا حصہ کم ہوتاہے۔ لیکن یہ لڑائی بھی تھی اور کامیڈی بھی۔ فیصل رضا عابدی کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام کے نمائندہ ہیں۔ عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کا نمائندہ سوا سال سے پرل کانٹی ننٹل میں مقیم ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 12 ہزار روپے یومیہ ہے۔ یعنی مہینے کا 3 لاکھ 60 ہزار اور سال کا 43 لاکھ 20 ہزار روپے۔ یہ صرف کمرے کا کرایہ ہے۔ ممکن ہے کہ فیصل رضا کبھی کبھار اس ہوٹل میں کھانا بھی کھالیتے ہوں یا مہمانوں کی تواضع مشروبات ہی سے کر بیٹھتے ہوں۔
ایکسپریس چینل کے میزبان جاوید چودھری کو پہلی بار برہم ہوتے دیکھا۔ یہ کریڈٹ بھی فیصل رضا عابدی کو جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپے سے باہر کون ہوا۔ عموماً لڑائی بھڑائی کی فلموں میں مزاح کا حصہ کم ہوتاہے۔ لیکن یہ لڑائی بھی تھی اور کامیڈی بھی۔ فیصل رضا عابدی کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام کے نمائندہ ہیں۔ عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کا نمائندہ سوا سال سے پرل کانٹی ننٹل میں مقیم ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 12 ہزار روپے یومیہ ہے۔ یعنی مہینے کا 3 لاکھ 60 ہزار اور سال کا 43 لاکھ 20 ہزار روپے۔ یہ صرف کمرے کا کرایہ ہے۔ ممکن ہے کہ فیصل رضا کبھی کبھار اس ہوٹل میں کھانا بھی کھالیتے ہوں یا مہمانوں کی تواضع مشروبات ہی سے کر بیٹھتے ہوں۔
اللہ نے ان کو دیا ہے تو کیوں نہ خرچ کریں۔ جاوید چودھری کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہوٹل کاخرچ پی آئی اے ادا کرتی ہے۔ پی آئی اے کا خسارہ سوا سال سے مزید بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس پر فیصل نے چیلنج کیا ہے کہ یہ ثابت ہوجائے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے ورنہ جاوید چودھری چینل چھوڑ دیں۔ جاوید چودھری تو آسانی سے ایک سے دوسرے چینل میں جاسکتے ہیں۔ یہ کام تو عرصہ سے ہورہا ہے۔ جس طرح سیاسی بنجارے مشہور ہیں اسی طرح اب نئی طرح کے خانہ بدوش وجود میں آگئے ہیں۔ جس نے زیادہ پیسے دکھائے اس کے خیمے میں جا بیٹھے۔
اب دیکھیے کہ فیصل رضا عابدی اور جاوید چودھری میں سے کون اپنی بات پر قائم رہتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عوام کی نمائندگی کی دعویدار جماعت کا ایک زبردست لیڈر 12 ہزار روپے یومیہ کرائے کے کمرے میں کیوں رہ رہا ہے؟ مان لیا کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کرتے ہوں گے۔ مگر یہ تو کھلا اسراف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ فضول خرچی ہے اور فضول خرچ کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اتنے پیسو ں میں تو عابدی صاحب شاندار بنگلہ کرائے پر لے سکتے ہیں۔ صدر کے مشیر کی حیثیت سے ایوان صدر میں ٹھاٹ دار جگہ مل سکتی ہے جو پرل کانٹی نینٹل سے زیادہ محفوظ بھی ہے اور بارعب بھی۔ فیصل رضا کچھ بھی کہیں‘ اس اسراف اور اصراف بے جا کے انکشاف سے ان کی اپنی پارٹی کے غریب کارکنوں کے سینے پر سانپ لوٹ گیا ہوگا جن میں سے کتنے ہی دو وقت کی روٹی سے محروم ہوں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ اسکیم بہت اچھی ہے لیکن ایک خاندان کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ ملتا ہے اور فیصل رضا عابدی 12 ہزار روپے روزانہ صرف ایک کمرے کا دے رہے ہیں۔ ان کے ذریعہ آمدنی کا ہمیں علم نہیں۔ ممکن ہے وہ بھی جناب زرداری کی طرح وسیع ذرائع رکھتے ہوں۔
مباحثہ کے شریک پروفیسر ابراہیم کو آخر کار یاد دلانا پڑا کہ وہ بھی موجود ہیں۔ لیکن جہاں فیصل رضا عابدی ہوں وہاں کوئی اور نہیں ہوگا۔ گفتگو اتنی شائستہ کہ نطق نے بڑھ کے بوسے تری زباں کے لیے ۔