”ہزاروں سیاسی اداکاروں کے باوجود ہمارا دستی اور ہمارا جاٹ پھر جیت گیا۔“ جناب صدر نے شہید بی بی کے مزار پر کھڑے ہوکر جعل سازوں‘ دھوکے بازوں کی کامیابی پر نہ صرف فخر کا اظہار کیا بلکہ انہیں ”ہمارا“ کہہ کر اعزاز بھی بخشا۔ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ایسے تمام لوگ انہی کے ہیں اور انہی کے دم سے کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ یہ دستی اور جٹ کون ہیں‘ ان سے اب پوری قوم واقف ہوچکی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ سینکڑوں ارکان قومی اسمبلی میں سے دو‘ ایک تھے۔ مگر جب سے عدالت کی نظر پڑی یہ شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے۔ جناب صدر نے ان کو اپنا کہہ کر تمام نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں‘ بس کسی طرح جعلی ڈگریاں حاصل کرلو اور ہمارے ہوجاﺅ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی اپنوں کی حمایت میںکسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ جعلی ڈگری کا حصول کارگل کے معاملہ سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ جیتے رہیں۔اگر جناب سلمان تاثیر یہ بات کہتے تو ان کو زیبا تھا۔ لیکن میاں برادران کا اصل نشانہ توجنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے میاں برادران کی حکومت چھینی تھی چنانچہ ہر برائی کا موازنہ جنرل پرویز سے ہوگا۔ جعلی ڈگری اور کارگل کا موازنہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک تیلی نے جاٹ سے کہا تھا”جاٹ رے جاٹ تیرے سرپہ کھاٹ۔“تیلی قافیہ ردیف سے واقف تھا ممکن ہے کوئی شاعر اس کے کولہو پر تیل لینے آتا ہو۔ جو اب میں جاٹ کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے کہا ”تیلی رے تیلی‘ تیرے سر پہکولہو“ اس پر تیلی نے اقرار کر کہا واہ‘ قافیہ تو ملا ہی نہیں۔ جاٹ نے کہا قافیہ ملے نہ ملے‘ بوجھوں تومرے گا۔ ہم بھی کب سے سوچ رہے ہیں کہ تیلی کا مناسب قافیہ کیا ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے بھی کچھ ایسا ہی قافیہ ملایا ہے۔اطلاع یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں کے معاملہ میں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی سے بازی لے گئی ہے۔ چلیے‘ کہیں توپالا مارا۔ اب ایک خبر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اور ن لیگ اپنے ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کی تصدیق رکوانے کے لیے متحدہ ہوگئی ہیں۔ یہ اتحاد مبارک ہو جعل سازوں کو۔ دونوں پارٹیوں کا موقف ہے کہ ایک دوسرے کا ”پنڈا“ کھولنے سے دونوں ہی ”لاجوں“ مریں گے‘ کیوں نہ ایک دوسرے کا پردہ رکھاجائے۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ میاں برادران ایسے کوتاہ اندیش نہیں کہ جعل سازوں اور دھوکے بازوں کو اعلانیہ ہمارے کہیں۔ ایسی جرات تو وہی کرسکتا ہے جو خود اس فن کا ماہر ہو۔ عدالتیں جعلی ڈگریاں پکڑ رہی ہیں اور جعل سازوں کو چھوڑ رہی ہیں۔ نااہل قرار پانے والے روح سفر کی طرح کل کسی اور راستے سے آجائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے لوگوں کو سزا بھی ملتی۔ برسوں تک اسمبلیوں کا رکن رہ کر جو مراعات حاصل کی ہیں‘ قوم کے خزانے سے تنخواہ لی ہے‘ وہ اگلوائی جاتی ‘ ضمنی انتخابات کا خرچہ وصول کیا جاتا۔ لیکن اندھیر نگری میں سب اندھیر ہی ہے۔ ایک عام آدمی معمولی سے جعل سازی کرتا ہے تو اسے سزا ہوجاتی ہے۔ یہاں تو پوری قوم سے دھوکا کیا گیا اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی میں بھی حصہ لیا گیا۔ ایسے قوانین اور ایسی اسمبلیوں کی کیا وقعت رہ گئی؟ سزا مل جاتی تو آج کوئی فخریہ یہ نہ کہتا کہ ہماے دستی اور ہمارے جٹ پھر جیت گئے۔ جن پارٹیوں میں ایسے جعل ساز بیٹھے ہوئے ہیں ان پارٹیوں سے سوائے جعل سازی اور فریب کے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن صدر صاحب یہ تو بتائیں کہ جاٹ کب سے ان کے ہوگئے۔ وہ تو ق لیگ کے ٹکٹ پر بھی جیت گئے تھے۔جناب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سید زادے ہیں اور شیخ عبدالقادر جیلانی جیسے بزرگ سے نسبت ہے جو ڈاکوﺅں کے سامنے بھی سچ بولنے سے نہیں ہچکچائے یہ سید زادے جمشید دستی کی انتخابی مہم کامیاب بنانے کے لیے مظفر گڑھ پہنچے‘ مقامی افراد کے لیے کئی انعامات‘ منصوبوں اور ملازمتوں کا اعلان کرکے دستی کی کامیابی کو پکا کیا اور روحانی قوت کام میں لاکر انتخابات سے پہلے ہی دستی کی کامیابی کا اعلان کردیا۔ ان کے منہ سے نکلی بات بھلا کیوںنہ پوری ہوتی کہ وہ سیدکے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی ہیں۔ لیکن یہی سید صاحب جمعرات 13 مئی کو قومی اسمبلی سے‘ اس اسمبلی سے جس میں اب بھی کئی جعل ساز بیٹھے ہیں‘ خطاب کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ سیاسی جماعتیں جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کو ٹکٹ جاری نہ کریں۔واہ ‘ کیا بات ہے۔ جمشیددستی کی انتخابی مہم میں شرکت کا عذر یہ پیش کیا کہ ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ پارٹی نے کیا تھا‘ پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنا میری ذمہ داری ہے۔ پھر وہ بورے والا میں ایسی ہی ایک اور انتخابی جلسہ میں خطاب کرنے چلے گئے۔کاش کوئی ایسا بھی ہو جو پارٹی فیصلوں کا دفاع کرنے کے بجائے حق اور سچ کا دفاع کرے‘ ملک کا دفاع کرے‘ غریب عوام کے حقوق کا دفاع کرے اور عوام کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ یہ ہمارے ہیں‘ ہم ان کو جتائیں گے۔ لیکن موجودہ نظام میں تو دستی اور جٹ ہی جیتتے رہیں گے کہ وہ صاحبان اقتدارکے چہیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بل بوتے پر یہ دعویٰ کہ پی پی کو اقتدار سے ہٹانا آسان نہیں۔ آپ تو خود یہ مشکل آسان کیے دے رہے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ وفاقی وزیر قانون بھی ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگری لیے گھوم رہے ہیں وہ بھی صدر صاحب کے اپنے ہی ہیں۔ لیکن اصلی سیاسی اداکار کون ہی؟ کیا اب بھی پتا نہیں چلا؟
June 26, 2010
June 24, 2010
ہمیشہ دیر کردیتے ہیں ہم
ایک سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ 15 اپریل 2010 ءکو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ کو دو ماہ چھ دن گزرنے کے بعد 21 جون کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اس میں حیرت کی کیا بات ہے‘ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پوری کی پوری رپورٹ انگریزی میں تھی۔ اس کو پڑھنے اور سمجھنے میں وقت تو لگتا ہی ہے جبکہ وقت حکمرانوں میں سے کسی کے پاس نہ تھا۔ وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی اس پورے عرصہ میں بہت مصروف رہے۔ انہوں نے واشنگٹن جاکر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے سرجوڑ کر راز کی باتیں کیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ مسائل پر غور کے لیے سر سے سر جوڑنا ہی پڑتا ہے۔ جواب میں امریکا نے پاکستان کو سر سے پکڑ رکھا ہے۔ صرف رچرڈ ہالبروک ہی اوباما کے خصوصی ایلچی مقرر ہونے کے بعد گزشتہ دنوں دسواں چکر لگا کر گئے ہیں اور اپنی گفتگو سے چکرا کر رکھ دیا ہے۔ ایک دن کہا کہ پاک ایران گیس معاہدہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اور جب واشنگٹن سے باز پرس ہوئی تو اگلے ہی دن کہہ دیا کہ ”مشتری ہوشیار باش“ اس مصرعہ طرح پر پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیراعظم گرہ لگارہے ہیں اور گرہیں کھل کر نہیں دے رہیں۔ سنا ہے کہ ہالبروک کو یہ اعتراض تھا کہ پاکستان میں ان کے سر سے سر کیوں نہ جوڑا گیا اور امریکی وزیر خارجہ جیسا یہاں کیوں نہیں ہے۔پھر بھی ہالبروک پاکستان کے آموں کی تعریف کرگئے۔ لیکن امریکی روایات کے عین مطابق دودھ میں مینگیاں بھی ڈال دیں۔ آموں کی تعریف کرنے پر جب ان سے کہا گیا کہ امریکا جس طرح پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیتا ہے اسی طرح پاکستانی سندھڑی‘ چونسہ ‘ انور رٹول‘ دسہری اور سرولی کے لیے بھی دروازے کھول دے‘ لیکن موصوف نے اس کے لیے شرط لگادی کہ امریکی ٹیم آکر ایک ایک انور رٹول کو ٹٹول کر دیکھے گی‘ جراثیم کا سراغ لگائے گی‘ القاعدہ سے تعلق کی تحقیقات کرے گی اور خاص طور پر یہ دیکھے گی کہ یہ ان آموں کی نسل میں سے تو نہیں جو 17 اگست 1988 ءکو جنرل ضیاءالحق کے طیارے میں رکھوائے گئے تھے۔ اس سانحہ میں امریکا نے اپنا سفیر بھی قربان کردیا تھا۔ چلی کے امریکی سفارتخانے میں ایک پاکستانی پہلے سے وقت لے کر اپنا ویزا بڑھوانے گیا تھا۔ اسے دبوچ لیا گیا‘ الزام یہ تھا کہ اس کے کاغذات اور کپڑوں سے دھماکا خیزمواد کی بو آرہی ہے۔ ممکن ہے وہ بیچارہ کسی دیسی صابن سے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر گیا ہو۔ ایسا ہی کوئی مواد ہالبروک کو پاکستانی آم میں نظر آجائے۔ بستی لال کمال کے سانحہ کے بعد تو آموں کے بارے میں امریکی محتاط ہوگئے ہوں گے۔ خود امریکی پالیسی یہ ہے کہ آم کے آم‘ گٹھلیوں کے دام‘ پاکستان کو جتنا کچھ دے رہے ہیں اس میں سے رس تو خود چوس لیتے ہیں اور گٹھلیوں کے دام وصول کررہے ہیں۔ وزیر خارجہ جو قریشی ہیں اور نام کے ساتھ شاہ بھی لکھتے ہیں‘ سجادہ نشین بھی ہیں۔ امریکا سے فرصت پاکر وہ سجادہ سنبھالتے ہیں۔ عربی میں سجادہ قالین کو کہتے ہیں مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ قالین کے شیر ہیں۔ شیروں کے بارے میں جناب زرداری کا تجربہ وسیع ہے چنانچہ انہوں نے بی بی کی سالگرہ پر بھی نقلی شیروں کا حوالہ دیا ہے۔ غالباً یہ بھی جعلی اسناد کی کوئی شکل ہے۔ بی بی بے نظیر شہید ہوگئیں اس لیے ہم شیر کے حوالے سے ان کا تبصرہ نہیں دوہرائیں گے۔ لیکن جب جعلی ارکان اسمبلی اپنائے جارہے ہیں تو جعلی شیر کیا برے ہیں۔ کبھی بھٹو صاحب کے دست راست جناب غلام مصطفی کھر بھی تو بزعم خود شیر پنجاب تھے۔ چڑیا گھر میں ہم نے بڈھے شہر کا بُرا حال دیکھا ہے کہ اس سے گوشٹ بھی نہیں چبا یا جارہا تھا۔ جعلی شیر اپنی ہی بوٹیاں نوچتے ہیں۔ بے شمار مصروفیات کے بعد اب وزیر خارجہ صاحب کو فرصت ملی تو رپورٹ بھی پڑھی ہوگی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پوری رپورٹ پڑھ کے بیٹھی تھی اور ناراض تھی۔ ایسی ہی ناراضی کا اظہار کیری لوگر بل پر بھی ہوا تھا تب حکمرانوں نے بھی اس کی شرائط پر نظرڈالی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے بہت کچھ ہے۔ مثلاً یہ کہ ”آئی ایس آئی‘ آئی بی اور ایم آئی نے رپورٹ کی تیاری میں رکاوٹیں ڈالیں‘ پی پی کے اپنے انتظامات ناقص تھے‘ پرویز مشرف کے رشتہ دار ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز کے کہنے پر سی سی پی او راولپنڈی مسعود عزیز نے جائے شہادت کو دھلوایا۔ رپورٹ میں بے نظیر کو چھوڑ کر بھاگ جانے والوں کا بھی ذکر ہے۔ 17 اپریل کو وزیراعظم کی صدارت میں پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ رپورٹ میں نامزد سرکاری اہلکاروں کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں‘ تمام ذمہ داروںکے خلاف کارروائی ہوگی‘ ملزمان کو انصاف کے کٹہڑے میں لایا جائے گا۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ”رپورٹ نے پارٹی موقف کو درست ثابت کردیا۔“ اب پارٹی موقف کیا کہتا ہی؟ یہی رپورٹ ناقابل اعتبار ٹھیری تو اس کی مداحی کرنے والے کیا ٹھیری؟ ہمارے خیال میں ابھی وہ کٹہڑا تیار کیا جارہا ہے جس میں ملزمان کو کھڑا کیا جائے گا۔ سانحہ بڑا ہے‘ مجرم بھی بڑے بڑے ہیں چنانچہ کٹہڑا بھی بہت بڑا چاہیے۔ شاید اس کے لیے لکڑی کا انتخاب ہورہا ہے۔ بس یوں نہ ہو کہ مضبوط لکڑی حاصل کرنے کے لیے شجرکاری پر غور ہورہاہ ے‘ کچھ بھی بعید نہیں۔ اور ایک رپورٹ یہ تھی کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا ایک صفحہ 15لاکھ ڈالر میں پڑا ہے‘ معاملہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا۔ لیکن یہ تو رپورٹ آنے کے دودن بعد کی بات ہے۔ اب تو معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ یہ قیمتی رپورٹ اقوام متحدہ کے منہ پر دے ماری گئی ہے۔18 اپریل کو تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد شروع ہونے کی اطلاع تھی‘ 6 افسر ہٹادیے گئے تھے‘ ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے۔ رپورت میں نامزد افراد کو گرفتار کرنے کافیصلہ ہوا۔ اور پھر نہائی دھوئی پھسل پڑی۔ اسٹیبلشمنٹ کے اہم افراد کے نام رپورٹ میں آئیں گے تو پھر یہی ہوگا۔ لیکن اتنی تاخیر سے کیون۔ منیر نیازی کے بقول ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں“ مگر اب اتنی دیر ہوچکی ہے کہ مزید انتظار کرنا عوام کے لیے دوبھر ہوگیا ہے۔
June 18, 2010
ہوائے ترک تعلقات
جوتیوں میں دال بٹنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ پرانے وقتوں کی کہاوت ہے۔ اب دال ایسی سستی نہیں کہ جوتیوں میں تو کیا‘ڈونگوں ‘ پیالوں‘ قابوں اور رکابیوں میں بھی بانٹی جاسکے۔ اس عوامی دور حکومت کے گزشتہ ایک سال میں دالیں سو سے دو سو فیصد تک مہنگی ہوئی ہیں۔ اب تو سوغات کے طور پر ہی بانٹی جاسکتی ہے۔ اچھا ہے‘ جوتے ہی کون سے سستے ہیں کہ دال کے ساتھ وہ بھی جائیں۔ یہ تو اب عوام پر برسنے کے لیے رہ گئے ہیں۔
اتحادیوں کی حکومت ہے اور اتحادہی غائب ہے۔ اب اتحاد صرف اک ایئر لائن کے نام پر رہ گیا ہے یا پھر فسادیوں میں نظر آتا ہے وگرنہ حکمران اتحادیوں میں تو عدم اتحاد پر اتحاد ہے۔ پنجاب میں میثاق جمہوریت کے دو بڑے دستخط کنندگان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں اقتدار کی حد تک میثاق ہے‘ جمہوریت کا تو کہیں بھی نام و نشان نہیں۔ قومی اسمبلی میں فرینڈلی اپوزیشن کے نمائندہ چودھری نثار علی خان نے چیلنج دے دیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت میں کوئی خرابی ہے تو پیپلزپارٹی الگ ہوجائے یعنی ”تو روکا ہے کس نے چلی جائے نا۔“
قومی اسمبلی میں بحث تو بجٹ پر اور وفاقی معاملات پر ہورہی تھی لیکن بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر کے مصداق جب وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید ہوگی تو وہ جواب میں ن لیگ کی پنجاب حکومت ہی پر تنقید کرے گی۔ تم تو ہمیں کو کہتے ہو‘ یہ تم کو کیا ہوا۔ اب پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں شریک اقتدار ہیں۔ تاہم حصہ بقدر جثہّ کے مطابق ۔ جب پنجاب حکومت پر زد پڑی تو نثار علی خان کو کہنا پڑا کہ قومی اسمبلی میں پنجاب حکومت کو طعنے نہ دیے جائیں ورنہ تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں۔ ہتھیاروں سے ان کا مطلب یقیناً ٹی ٹی اور کلاشنکوف سے نہیں ہوگا۔ ان کی دلیل تھی کہ اگر پنجاب حکومت میں خرابی ہے تو پیپلزپارٹی بھی اس میں حصہ دار ہے۔ الطاف حسین ہوتے تو اس موقع پر اپنا مشہور جملہ دوہراتے‘ میٹھا میٹھا ہپ ‘کڑوا کڑوا تھو۔ نثار علی خان نے دعوت مبارزت دی کہ پیپلزپارٹی میں ہمت ہے تو پنجاب حکومت سے الگ ہوکر دکھائے‘ کس نے روکا ہے۔
کم از کم اس معاملہ میں تو ن لیگ بازی لے جاچکی ہے۔ اس نے وفاقی حکومت سے الگ ہوکر دکھادیا۔ قومی اسمبلی میں پنجاب کے بجٹ پر جوابی اعتراض ہوا تو نثار علی خان نے نہلے پر دہلا مارا کہ پنجاب حکومت کا بجٹ تو پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ ہی نے بنایا ہے۔ اس طرح وہ بھی عوام دوست ہی ہوگا۔ ان کی یہ بات تو معقول ہے کہ پنجاب حکومت پر اعتراضات پنجاب اسمبلی میں کیے جائیں۔ اگر یہاں پنجاب اسمبلی کی بات ہوگی تو پھر سندھ اسمبلی کی بات بھی ہوگی۔
شاید نثار علی خان کے چیلنج کے اثرات ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفے طلب کرلیے ہیں۔ لیکن یہ چائے کی پیالی میں طوفان ہے اور پیالی بھی وہ جو خالی ہے‘ چائے کون سی سستی ہے۔ تازہ ترین صورتحال تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی نے یہ کہہ کر استعفے دینے سے انکار کردیا ہے کہ ہمیں تو بی بی شہید نے ٹکٹ دیے تھے اور ہم بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچے ہیں۔ یعنی ان سے استعفے بی بی صاحبہ ہی لے سکتی تھیں۔ مرحومہ یہ کام اتنی تاخیر سے نہیں کرتی تھیں بلکہ پہلے ہی استعفے لے کر اپنے بیگ میں رکھ لیتی تھیں کہ وقت ضرورت کام آئیں۔(فوزیہ بی بی کہتی ہیں ہم نے بھی یہی کام کیا ہی)
پنجاب کا سب سے دلچسپ اور توجہ طلب کردار گورنر سلمان تاثیر کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن والے جب بھی گورنر ہاﺅس کی طرف دیکھیں گے انہیں گورنر سلمان تاثیر ہی نظر آئے گا‘ صدر بھی آصف زرداری ہی رہیں گے‘ ن لیگ کی باری تب آئے گی جب ہمارے بچے جوان ہوچکے ہوں گے۔ حیرت ہے کہ گورنر صاحب کے بچے اتنے بڑے ہونے کے باوجود اب تک جوان نہیں ہوئے۔ ان کی سکھ ”بیوی“ سے پیدا ہونے والا آتش تاثیر تو کب کا اپنی جوانی کا ثبوت دے چکا ہے۔ جب بیٹا باپ کے منہ آنے لگے اور اس کا کچا چٹھہ کھولنے لگے تو اس کے جوان ہونے میں بلکہ بہت جوان میں کوئی شک نہیں رہتا۔
جناب سلمان تاثیر نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ن لیگ سے پنجاب کارڈ چھین لیا ہے۔ اس چھینا جھپٹی کی تو ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی۔ ایک بار ہمارا بھی کارڈ پورے بٹوے کے ساتھ چھینا جاچکا ہے۔ ہم اب تک یہی سوچ رہے تھے کہ اُچکے کا تعلق کس سے تھا۔ گورنر صاحب کا کہنا ہے کہ پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ لا اینڈ آرڈر کا ہے لیکن شواہد اور نظائر موجود ہیں کہ گورنر صاحب کا اپنا سب سے برا مسئلہ لا منسٹر رانا ثنا اللہ ہیں جن کی وجہ سے گورنر صاحب کو بہت نیچے جھکنا پڑتا ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ پرویز مشرف کی باقیات کو سندھ میں لا اینڈ آڈر کا مسئلہ نظر نہیں آتا جہاں پیپلزپارٹی اور متحدہ کی متحدہ حکومت ہے اور قاتل بھی متحد ہیں۔
ہوائے ترک تعلقات کب سے چل رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ سرفہرست ہے اور اب سے نہیں بہت پہلے سے۔ بار بار علیحدہ ہونے اور ترک تعلق کی دھمکیاں دے چکی ہے مگر اسی تنخواہ پر کام کررہی ہے۔ لیکن نہیں‘ شاید ہر دھمکی پر تنخواہ بڑھ جاتی ہو۔ یہی وتیرہ جمعیت علماءاسلام نے اختیار کرلیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی بار بار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک ہی دن دو خبریں تھیں۔ ایک میں حکومت سے علیحدگی کا عندیہ اور دوسری خبر یہ کہ حکومت سے معاملات طے پاگئے‘ مطالبات مان لیے گئے اور اب سب کچھ ٹھیک ہے۔ جے یو آئی کا مطالبہ تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی اس کو دی جائے اور مولانا شیرانی کو چیئرمین بنایا جائے۔ مولانا شیرانی بھلے آدمی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل (مرحومہ)میں تھے توجنرل پرویز مشرف سے بھی اچھے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ترک تعلق اچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔ صلہ رحمی کا صلہ بھی ملتا ہے۔ جمعیت علماءاسلام وضع دار جماعت ہے۔ گزشتہ دنوں اس کے وزراءنے وفاقی کابینہ سے احتجاجاً واک آﺅٹ کرکے مثال قائم کی تو اس پر وزیراعظم گیلانی جیسے شخص کو بھی جلال آگیا اور بول پڑے جارہے ہو تو استعفیٰ دے کر جاﺅ۔ لیکن جے یو آئی کے رہنماﺅں میں تحمل و برداشت بہت ہے۔ یہ سوچ کر ٹال دیا کہ شاید کی اور سے کہا جارہا ہے۔
یہ جو مختلف جماعتیں باربار حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکیاں دے رہی ہیں اس پر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کہیں ایک دن خود پیپلزپارٹی ہی دھمکی نہ دے بیٹھے کہ جاﺅ‘ ہم نہیں کھیلتے۔ اس صورتحال پر شعیب بن عزیز کا شعر یاد آتا ہے۔ لکھا رکھا ہے عہد ترک الفت مگر دل دستخط کرتا نہیں ہی ”حجتاں ڈھیر“ کی بھی تو کوئی کہاوت ہے۔
—————————————————————-
یہ مضمون آج کے جسارت میں بطور کالم شائع ہوچکا ہے۔ بلاگ کی پالیسی کے مطابق صرف خاص برائے بلاگ تحریریں شائع ہوں گی تاہم ہاشمی صاحب کے کئی مداحوں کے پرزور اصرار پر اس رول میں نرمی کی گئی ہے۔ اب شائع شدہ کلام وضاحت کے ساتھ شائع کیے جائیں گے۔ شکریہ ایڈمن “بین السطور”
بلاگ کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔
بلاگ کے گرافک ویو کے لیے یہاں کلک کریں۔
June 17, 2010
طوفان اور سیاست دان
رئوف طاہر بڑےسینئر صحافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حمید اختر یا عباس اطہر کی عمر کےہیں۔ ہمارےپرانےساتھی ہیں۔ ایک عرصےتک لاہور سےجسارت کی نمائندگی کرتےرہے، پھر مجیب الرحمن شامی کو پیارےہوگئے۔ جدہ میں برسوں ساتھ رہا۔ میاں نوازشریف جدہ پہنچےتو ہم نےشہر خالی کردیا۔ رئوف طاہر نےغریب الوطن امیر کی دلدہی جی جان سےکی۔ رئوف طاہر لاہور واپس آگئےہیں اور اب شریف برادران پر لازم ہےکہ دل داری کریں۔
رئوف طاہر کو ہم بھولتےتو نہیں ہیں لیکن چند دن سےوہ اس لیےیاد آرہےہیں کہ انہوں نےایک دلچسپ ایس ایم ایس بھیجا ہےجو ہمارےموبائل میں محفوظ ہےاور اُس وقت تک رہےگا جب تک موبائل کسی اور کو پسند نہیں آجاتا۔
پیٹ (phet) نامی طوفان بھی جمہوری حکومت کی آمد کی طرح کا شور مچاتا ہوا آیا تھا لیکن گرد ِ کارواں کی طرح سمٹ گیا، تاہم یادیں چھوڑ گیا۔ اس کی یاد رئوف طاہر نےبڑےدلچسپ انداز میں تازہ کی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ ”طوفان کی آمد کی خبر پر عمران خان نےچیف جسٹس سےمطالبہ کیا کہ اس کا سوموٹو ایکشن لیا جائے‘ جماعت اسلامی نےاسےبلیک واٹر کی سازش قرار دیا‘ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی تحقیق یہ تھی کہ اس کی سازش وزیرستان میں تحریک طالبان نےتیار کی ہے، صدر زرداری کےزوردار مشیر خاص نے‘ جو اب زبان کھینچ لینےکی دھمکیاں بھی دینےلگےہیں‘ طوفان کےٹل جانےکو صدر زرداری کی بہترین حکمت عملی قرار دیا۔ محترمہ فوزیہ وہاب نےاسےبےنظیر بھٹو شہید کےخواب کی تعبیر قرار دیا۔ لندن والےالطاف حسین نےطوفان کی شدید مذمت کی اور یہ شکوہ دوہرایا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مسلم لیگ ق کےبڑےچودھری جناب شجاعت نےاپنےتاثرات دیتےہوئےکہا کہ مجھےتو پہلےہی معلوم تھا کہ طوفان سےکچھ نہیں ہوگا اس لیےلسّی شسّی پی کر سوگیا تھا۔“
رئوف طاہر کا یہ طوفانی تبصرہ بہت دلچسپ ہےلیکن اس میں ایک بڑی کمی رہ گئی ہے۔ انہوں نےجدہ میں میزبانی کا لحاظ کرتےہوئےیہاں بھی میاں برادران کےتاثرات پیش کرنےسےگریز کیا ہے۔ حالانکہ ان کی دیرینہ خدمات ایسی ہیں کہ ایک آدھ جملہ ان سےمنسوب کرنےسےکوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ میاں برادران تو بڑےظرف والےہیں اور گجرات کےچودھریوں کےسوا سب ان کےبھائی اور ملک و ملت کا سرمایہ ہیں خواہ وہ اللہ اور رسول کےباغی قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر چودھری شجاعت لسّی پی کر سورہےتھےتو ممکن ہےکہ میاں صاحب Last Supper سمجھ کو سری پائےپر ٹوٹ پڑےہوں۔ سری کی ضرورت بھی بہت ہے۔
رئوف طاہر کا یہ ایس ایم ایس پڑھ کر ایک اور صاحب نےتبصرہ کیا ہےکہ میاں صاحب نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر بےساختہ کہا کہ ہمیں کوئی خطرہ نہیں‘ ہم فرینڈلی اپوزیشن ہیں، جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچنےدیں گے۔ انہوں نےفوری طور پر چودھری نثار علی خاں کو فون کیا کہ اس مسئلےپر پارلیمنٹ میں گرماگرم بیان دیا جائےاور یہ بھی دیکھا جائےکہ میثاقِ جمہوریت میں اس کےبارےمیں کیا طےہوا ہے۔
چھوٹےمیاں صاحب نےطوفان کو گورنر پنجاب کی سازش قرار دیا اور اعلان کیاکہ سستی روٹی کا منصوبہ جاری رہےگا۔ جبکہ سلمان تاثیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت ہوتےہوئےپنجاب کو کسی اور طوفان سےکوئی خطرہ نہیں۔ سلمان تاثیر نےعزم ظاہر کیا کہ وہ سمندر کو کراچی سےاٹھا کر لاہور لاکر رہیں گےپھر پیپلزپارٹی کےجیالےجئےبھٹو کےنعرےلگا کر ہر طوفان کا رُخ موڑ دیں گی۔ اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ رانا ثنااللہ سےاستعفیٰ لیا جائے‘ وہ لاہور کو لاڑکانہ بنانےکےمنصوبےمیں رکاوٹ ہے۔
اور بھی بہت سےسیاست دان ہیں جو رئوف طاہر کو یاد نہیں آئےیا طوالت کےخوف سےایسےگریز کیا جیسےپیپلزپارٹی اپنا اقتدار طویل ہونےکےڈر سےہر بار ایسےاقدامات کرتی ہےکہ زیادہ عرصہ تک اسےذمہ داری کا بوجھ سنبھالنا نہ پڑی۔ پاکستان کےاہم ترین سیاستدان پیر صاحب پگارا شریف نےطوفان کی آمد کی خبر سن کر پہلےتو چھت پر چڑھنےکی کوشش کی تاکہ ستاروں کی چال دیکھی جائے، پھر اپنےگھوڑوں کی چال دیکھنےکےلیےاصطبل میں چلےگئے۔ پچھلےدنوں ان کےپانچوں گھوڑوں نےریس جیت لی۔ سنا ہےکہ انہوں نےایک گھوڑےکا نام ”پیٹ“ رکھنےکا ارادہ بدل دیا، کیوں کہ وہ راستہ بدل دیتا ہے۔
ایک سیاستدان اسفندیار ولی بھی ہیں۔ طوفان کی خبر پر اُن کا کہنا تھا کہ وہ اگر خیبر پختون خوا تک پہنچا تو اےاین پی پیپلز پارٹی سےاتحاد ختم کردےگی کیوں کہ یہی طےہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارےہوتےہوئےاس خطےمیں کوئی اور نہیں آسکتا۔ انہوں نےکہا کہ ہم تو قہوےکی پیالی میں بھی طوفان اٹھا دیتےہیں‘ جس طرح یہ طوفان ٹلا ہےاسی طرح ہزارہ صوبےکا مطالبہ بھی ٹل جائےگا۔
مولانا فضل الرحمن کا ہم بہت زیادہ احترام کرتےہیں اس لیےاُن کا ردعمل دینےسےگریز کریں گے۔ یوں بھی وہ الطاف حسین کی طرح حکومت سےالگ ہونےکی دھمکیاں دیتےرہتےہیں چنانچہ ممکن ہےکہ طوفان کےحوالےسےبھی دونوں کےخیالات ایک سےہوں۔ حکومت نےان کےمطالبات مان لیےہیں‘ اب ملک میں خواہ کوئی بھی طوفان آئے۔
June 14, 2010
غریب عوام کے نمائندے
پروفیسر ابراہیم کا خیال تھا کہ یہ مناظرہ ہورہا ہے اور فیصل رضا عابدی بہت اچھے مناظر ہیں۔ لیکن ہمارے خیال میں تو یہ مجادلہ تھا‘ مناقشہ تھا‘ مناقضہ تھا یا ایسا مباحثہ تھا کہ جو زیادہ چیخ کر بولے وہ جیت جائے۔ بھلا فیصل رضا عابدی سے کون جیت سکتا ہے۔ وہ اپنے صدر اور پارٹی سربراہ جناب آصف علی زرداری کے لیے ایسی بلند فصیل ہیں کہ کمند ڈالنے والے کوشش کرکے رہ جاتے ہیں۔ فیصل رضا زبان کی آری سے کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ عوام کی ہمدردیاں عابدی صاحب کے ساتھ نہیں ہوتیں۔
فیصل رضا عابدی کو عوام کی ہمدردی کی ضرورت بھی نہیں۔ انہیں جس کی ہمدردی ‘ حمایت اور پشت پناہی چاہیے وہ وافر دستیاب ہے اور فیصل رضا وفور شوق میں آگے بڑھے چلے جارہے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے۔ آخر وہ صدر پاکستان ‘ حکمران جماعت کے شریک چیئرمین اور پورے چیئرمین کے باپ جناب زرداری کے مشیر خاص ہیں۔ اب تک تو جناب زرداری کے پاس صرف یہ اعزاز تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن کے شریک حیات ہیں‘ ایسے سرتاج ہیں کہ سر کہیں اور تاج کہیں مگر اب تووہ پوری قوم کے سر کا تاج ہیں اور اس تاج میں جناب فیصل رضا عابدی‘ فوزیہ وہاب ‘ بابر اعوان ‘ رحمن ملک ‘ ریاض لالجی‘ سلمان اور عثمان فاروقی‘ جمشید دستی‘ شیخ ریاض اور سلمان تاثیر جیسے کوہ نور جڑے ہوئے ہیں۔ہر ایک ایسا کہ جس کے بارے میں ظفر اقبال نے تلقین کی تھی کہ ”آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے“ امام اور مقتدی سب کے سب صاحبان کردار۔مجال ہے کہ منہ پر ذرا بھی مہتاب چھٹے۔
ایکسپریس چینل کے اس مجادلہ میں ایک بڑے عالم پروفیسر ابراہیم بھی موجود تھے اس لیے ہم نے ایسے مشکل الفاظ شامل کردیے جن کا مطلب جاننے کے لیے لغت سے رجوع لانا پڑے۔ لیکن رعب تو پڑے گا۔ ویسے تو جناب فیصل رضا عابدی خود بھی بڑے عالم فاضل ہیں۔ اسی لیے ایک صحافی نے انہیں آیت اللہ کا خطاب دیا ہے۔ لیکن کیا آیت اللہ ایسے ہوتے ہیں؟ اس کا مطلب تو ”اللہ کی نشانی“ ہے۔ اللہ اپنی کیسی کیسی نشانیاں دکھارہا ہے۔ ہمیں یہ اطمینان ہے کہ پیپلزپارٹی کی چوتھی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی جناب فیصل رضا روٹی توکسی طور کما کھائیں گے۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری کے صدر بننے سے پہلے تک تو خود پیپلزپارٹی والے بھی عابدی صاحب کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ لیکن بی بی شہید کے ہوتے ہوئے خود زرداری صاحب ہی کا سیاست میں کیا عمل دخل تھا؟ ہمارے خیال میں اعتراض بے وجہ اور تعصب پر مبنی ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے کام دکھاتے رہتے اور شہرت سے اجتناب کرتے ہیں‘ ناموری کبھی نقصان دہ بھی ہوتی ہے۔ فیصل رضا عابدی کے بارے میں بھی گمان یہی ہے کہ وہ بھی رحمن ملک کی طرح بی بی کے بہت قریب رہے ہوں گے۔ لیکن سامنے کی بات یہ بھی ہے کہ ناہید خان اور صفدرعباسی جیسے لوگ تو بی بی کا سایہ بنے ہوئے تھے اب زرداری کے آفتاب کے سامنے سائے غائب ہوگئے۔ یوں تو بی بی کی رضاکارانہ جلاوطنی کے عرصہ میں مخدوم امین فہیم نہ صرف پارٹی کو سنبھالے رہے بلکہ فوجی حکومت سے معاملات طے کرانے میں بھی آڑھتی کا کردار بخوبی ادا کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تو محض ڈاکیہ تھے اور ڈاک کے نظام کی صورتحال سب کے سامنے ہے‘ ڈاکیے کی تو شکل بھی یاد نہیں رکھی جاتی۔ اور وہی کیا‘ نون لیگ میں بھی تو ایک مخدوم ہیں‘ جناب جاوید ہاشمی۔
کچھ بھی کہیے‘ ڈراما اتنا دلچسپ اور سنسنی خیز تھا کہ ہم نے یہ پروگرام بار بار دیکھا۔ پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر ویسے بھی مزاحیہ پروگرام نہیں آتے اور جو آتے بھی ہیں تو ان کو پر مزاح ثابت کرنے کے لیے قہقہوں کی ریکارڈ آوازیں شامل کردی جاتی ہیں یا پھر پروگرام پیش کرنے والے / والیاں خود محظوظ ہونے کا تاثر دیتے/ دیتی ہیں۔ اس پر تو ہنسی آہی جاتی ہے۔
ایکسپریس چینل کے میزبان جاوید چودھری کو پہلی بار برہم ہوتے دیکھا۔ یہ کریڈٹ بھی فیصل رضا عابدی کو جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپے سے باہر کون ہوا۔ عموماً لڑائی بھڑائی کی فلموں میں مزاح کا حصہ کم ہوتاہے۔ لیکن یہ لڑائی بھی تھی اور کامیڈی بھی۔ فیصل رضا عابدی کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام کے نمائندہ ہیں۔ عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کا نمائندہ سوا سال سے پرل کانٹی ننٹل میں مقیم ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 12 ہزار روپے یومیہ ہے۔ یعنی مہینے کا 3 لاکھ 60 ہزار اور سال کا 43 لاکھ 20 ہزار روپے۔ یہ صرف کمرے کا کرایہ ہے۔ ممکن ہے کہ فیصل رضا کبھی کبھار اس ہوٹل میں کھانا بھی کھالیتے ہوں یا مہمانوں کی تواضع مشروبات ہی سے کر بیٹھتے ہوں۔
ایکسپریس چینل کے میزبان جاوید چودھری کو پہلی بار برہم ہوتے دیکھا۔ یہ کریڈٹ بھی فیصل رضا عابدی کو جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپے سے باہر کون ہوا۔ عموماً لڑائی بھڑائی کی فلموں میں مزاح کا حصہ کم ہوتاہے۔ لیکن یہ لڑائی بھی تھی اور کامیڈی بھی۔ فیصل رضا عابدی کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام کے نمائندہ ہیں۔ عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کا نمائندہ سوا سال سے پرل کانٹی ننٹل میں مقیم ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 12 ہزار روپے یومیہ ہے۔ یعنی مہینے کا 3 لاکھ 60 ہزار اور سال کا 43 لاکھ 20 ہزار روپے۔ یہ صرف کمرے کا کرایہ ہے۔ ممکن ہے کہ فیصل رضا کبھی کبھار اس ہوٹل میں کھانا بھی کھالیتے ہوں یا مہمانوں کی تواضع مشروبات ہی سے کر بیٹھتے ہوں۔
اللہ نے ان کو دیا ہے تو کیوں نہ خرچ کریں۔ جاوید چودھری کا دعویٰ ہے کہ ان کے ہوٹل کاخرچ پی آئی اے ادا کرتی ہے۔ پی آئی اے کا خسارہ سوا سال سے مزید بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس پر فیصل نے چیلنج کیا ہے کہ یہ ثابت ہوجائے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے ورنہ جاوید چودھری چینل چھوڑ دیں۔ جاوید چودھری تو آسانی سے ایک سے دوسرے چینل میں جاسکتے ہیں۔ یہ کام تو عرصہ سے ہورہا ہے۔ جس طرح سیاسی بنجارے مشہور ہیں اسی طرح اب نئی طرح کے خانہ بدوش وجود میں آگئے ہیں۔ جس نے زیادہ پیسے دکھائے اس کے خیمے میں جا بیٹھے۔
اب دیکھیے کہ فیصل رضا عابدی اور جاوید چودھری میں سے کون اپنی بات پر قائم رہتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عوام کی نمائندگی کی دعویدار جماعت کا ایک زبردست لیڈر 12 ہزار روپے یومیہ کرائے کے کمرے میں کیوں رہ رہا ہے؟ مان لیا کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کرتے ہوں گے۔ مگر یہ تو کھلا اسراف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ فضول خرچی ہے اور فضول خرچ کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اتنے پیسو ں میں تو عابدی صاحب شاندار بنگلہ کرائے پر لے سکتے ہیں۔ صدر کے مشیر کی حیثیت سے ایوان صدر میں ٹھاٹ دار جگہ مل سکتی ہے جو پرل کانٹی نینٹل سے زیادہ محفوظ بھی ہے اور بارعب بھی۔ فیصل رضا کچھ بھی کہیں‘ اس اسراف اور اصراف بے جا کے انکشاف سے ان کی اپنی پارٹی کے غریب کارکنوں کے سینے پر سانپ لوٹ گیا ہوگا جن میں سے کتنے ہی دو وقت کی روٹی سے محروم ہوں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ اسکیم بہت اچھی ہے لیکن ایک خاندان کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ ملتا ہے اور فیصل رضا عابدی 12 ہزار روپے روزانہ صرف ایک کمرے کا دے رہے ہیں۔ ان کے ذریعہ آمدنی کا ہمیں علم نہیں۔ ممکن ہے وہ بھی جناب زرداری کی طرح وسیع ذرائع رکھتے ہوں۔
مباحثہ کے شریک پروفیسر ابراہیم کو آخر کار یاد دلانا پڑا کہ وہ بھی موجود ہیں۔ لیکن جہاں فیصل رضا عابدی ہوں وہاں کوئی اور نہیں ہوگا۔ گفتگو اتنی شائستہ کہ نطق نے بڑھ کے بوسے تری زباں کے لیے ۔
June 4, 2010
مضبوط پوّا
شعیب اختر چار اوورز میں ہانپنے اور لنگڑانے لگے۔ ان کو ایشیا کپ کے 15 رکنی اسکواڈ کے لیے منتخب کرلیا گیا۔
ایک اخبار کی سرخی ہے ”راولپنڈی ایکسپریس کا انجن جواب دے گیا‘ ایکسپریس پٹڑی پر چڑھنے سے پہلے اترگئی۔“ شاید ان کی یہی ادا سلیکٹرز کو بھاگئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تو بغیر کوئی گیند پھینکے کب سے ہانپ رہے ہیں‘زبان تک ”لنگڑانے“ لگی ہے اور جناب چیف سلیکٹر محسن حسن خان نے شاید کبھی بالنگ کرائی ہی نہیں۔ کرکٹ چھوڑے ہوئے ایک عرصہ ہوگیا۔ ان کے کریڈٹ میں ایک ‘ دو بھارتی فلمیں اور ماضی کی دوسرے درجے کی فلم ایکٹریس رینارائے ہے۔ اس کو دوسرے درجے کی اداکار بھی ہم نے مروتاً کہہ دیا ہے۔ لیکن محسن حسن خان وہاں بھی کلین بولڈ ہوگئے تھے اور میدان سے باہر کردیے گئے۔
شعیب اختر کی یہ کارکردگی دیکھ کر کرکٹ کے پنڈتوں نے پیش گوئی کی کہ ان کا ایشیا کپ کھیلنے کا امکان ختم ہوگیا لیکن جسے اعجاز بٹ رکھے اسے کون چکھے۔ اگلے ہی دن خبر آگئی کہ 15 رکنی ٹیم کے لیے شعیب اختر اور شعیب ملک دونوں کو منتخب کرلیا گیا ہے۔ شعیب اختر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جو کارکردگی دکھائی ہے‘ اس سے وہ مطمئن ہیں۔ ہونا بھی چاہیے کہ اب تک وہ ایسی ہی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ اگر چار اوورز کرالیے تو بڑی بات سمجھیے۔ جتنی ان کی عمر اور ان کا وزن ہے اس میں اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ شاید یہی سوچ کر انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ ایک سال پہلے کی تو بات ہے کہ دو‘ تین اوورز کراکے راولپنڈی ایکسپریس نے پویلین کا رخ کیا تھا۔
ایک چیز ہوتی ہے ”درشنی ہاتھی“۔ یہ خوب کھلایا ‘ پلایا ہاتھی ہوتا ہے جس سے غینم خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ جانے کیا بلا ہے۔ اس ہاتھی کا کام صرف خوف زدہ کرنا ہی ہوتا ہے۔ لڑاﺅ تو راجا پورس کا ہاتھی ثابت ہوتا ہے جو اپنی ہی فوج کو نقصان پہنچاتا ہے۔
شعیب اختر کی ٹیم میں موجودگی سے مخالف پر یقینا خوف طاری ہوجائے گا۔ آخر کو وہ تیز ترین بالرز میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بس اتنی احتیاط کی جائے کہ ان سے بالنگ نہ کرائی جائے ورنہ بھرم ٹوٹ جائے گا۔ویسے بھی وہ آخری کھلاڑیوں (ٹیل اینڈرز) کو آﺅٹ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں آزمانا ہی ہو تو آخری دو ‘ تین اوورز دے دیے جائیں۔ ان کی خوبی بس یہ ہے کہ وہ تیز گیند پھینکتے ہیں اور اس کے لیے اتنی جان مارتے ہیں کہ خود ہانپنے لگتے ہیں۔
شعیب اختر کا حال بھی ان سیاسی جماعتوں جیسا ہے جو اقتدار میں آنے سے پہلے اپنا بھرم بنائے رکھتی ہیں اور اقتدار ملتے ہی ہانپنے‘ لنگڑانے لگتی ہیں۔ شعیب اختر تو چار اوورز کے بعد ہانپتے ہوئے نظر آئے لیکن موجودہ حکومت تو سوا دو اوورز ہی میں ہانپ اور کانپ گئی ہے۔ پانچ اوورز مکمل کرتے کرتے جانے کیا حال ہو۔ لوگ کب سے شرطیں لگارہے ہیں کہ کب امپائر انگلی اٹھاتاہے۔ لیکن لگتا ہے کہ تماشائی ہی ہانپ جائیں گے‘ بجٹ سے تو پہلے ہی کانپ رہے ہیں۔ اتنا خوف سمندری طوفان ہیرا (پیٹ) کا نہیں جتنا بجٹ اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا تھا۔ لوگ ”پیٹ“ نامی طوفان سے نہیں اپنے خالی پیٹ سے سہمے ہوئے ہیں کہ 5 سالہ اننگز کھیلنے کے دعویداروں کا پیٹ بھرے تو ان کو بھی کچھ نصیب ہو۔ پاکستان کے 45 فیصد عوام کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا۔
سنا ہے کہ شعیب اختر کے لیے کپتان شاہد آفریدی کا اصرار تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 34 سالہ فاسٹ بالر ٹوئنٹی‘ ٹوئنٹی اور ون ڈے میچوں کے لیے بہت مناسب ہیں۔ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ شاہد آفریدی اس وقت کا انتظار کرلیتے جب ٹوئنٹی کی جگہ 10 اوورز کا میچ ہوا کرے گا۔ عمر کا کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ بہرحال قوم کا اثاثہ ہیں۔ اسی لیے کپتان ”بوم بوم“ (فارسی والا نہیں) نے کہا ہے کہ ”شعیب اختر کی جتنی بھی کرکٹ باقی رہ گئی ہے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایشیا کپ میں شعیب اختر کو سری لنکا اور بھارت کے خلاف اہم میچوں میں کھلایا جائے گا۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں انہیں آرام دیا جائے گا۔“ہمارا خیال میں تو انہیں صرف بنگلہ دیش کے خلاف کھلایا جاتا باقی دو ٹیمیں تو مضبوط ہیں۔
پاکستان کے اور بھی کئی کرکٹرزایسے ہیں جن میں اب بھی کچھ نہ کچھ کرکٹ باقی رہ گئی ہوگی ان کو بھی موقع دیا جانا چاہیے۔ مثلاً عمران خان ‘ عبدالقادر‘ رمیز راجا‘ محسن حسن خان اور خود اعجاز بٹ۔ اور ہاں! یونس خان کا قصور بھی معاف کردینا چاہیے۔
ایک برخوردار نے شعیب اختر کی شمولیت کی خبر سنتے ہی بے ساختہ کہا ”بڑا مضبوط پوّا ہے صاحب“ ہم اس اصطلاح سے ناواقف ہیں۔ ہم تو اب تک یہ سمجھتے رہے کہ یہ تیل یا دودھ وغیرہ ناپنے کا آلہ ہے جس میں پاﺅ بھر شے ناپی جاتی ہے یا پھر میخواروں کی اصطلاح میں پوّا اور ادھا کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یہ مضبوط پوّا کیا ہے؟ ایک اخبار کا تجزیہ ہے کہ ”پس پردہ کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں۔“
پوّا تو خود اعجاز بٹ کا بھی مضبوط ہے‘ وزیر دفاع کے برادر نسبتی ہیں۔ لیکن وہ جمعرات کو پریس کانفرنس میں خود ہی بول پڑے کہ ”شعیب اختر کی شمولیت کسی سیاسی دباﺅ یا خفیہ ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔“
شاہد آفریدی کا مسئلہ تو صرف سر کی خشکی ہے۔ جس کے لیے وہ ”سر اور کندھا“ استعمال کرتے ہیں۔ کندھے پر ان کے بوجھ ہے اور سر میں خشکی۔
ایسا لگتا ہے کہ شعیب ملک میں بھی کرکٹ ”باقی ماندہ “ ہی ہے۔شادی سے پہلے ہی وہ ماند ہوگئے تھے۔ قومی کرکٹ کی سلیکشن کمیٹی سے زیادہ فعال تو حکمران پیپلزپارٹی کی سلیکشن کمیٹی ہے کہ چن چن کر پرانے اور تجربہ کار مخلص وابستگان سے پیچھا چھڑا کر ایسی ٹیم منتخب کی ہے جس کے بیشتر دانے داغدار ہیں مگر خوب کھیل رہے ہیں بلکہ کھل کھیل رہے ہیں۔ دیکھیے‘ ایشیا کپ اور پاکستان کپ میں کیا ہو۔
ایک اخبار کی سرخی ہے ”راولپنڈی ایکسپریس کا انجن جواب دے گیا‘ ایکسپریس پٹڑی پر چڑھنے سے پہلے اترگئی۔“ شاید ان کی یہی ادا سلیکٹرز کو بھاگئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تو بغیر کوئی گیند پھینکے کب سے ہانپ رہے ہیں‘زبان تک ”لنگڑانے“ لگی ہے اور جناب چیف سلیکٹر محسن حسن خان نے شاید کبھی بالنگ کرائی ہی نہیں۔ کرکٹ چھوڑے ہوئے ایک عرصہ ہوگیا۔ ان کے کریڈٹ میں ایک ‘ دو بھارتی فلمیں اور ماضی کی دوسرے درجے کی فلم ایکٹریس رینارائے ہے۔ اس کو دوسرے درجے کی اداکار بھی ہم نے مروتاً کہہ دیا ہے۔ لیکن محسن حسن خان وہاں بھی کلین بولڈ ہوگئے تھے اور میدان سے باہر کردیے گئے۔
شعیب اختر کی یہ کارکردگی دیکھ کر کرکٹ کے پنڈتوں نے پیش گوئی کی کہ ان کا ایشیا کپ کھیلنے کا امکان ختم ہوگیا لیکن جسے اعجاز بٹ رکھے اسے کون چکھے۔ اگلے ہی دن خبر آگئی کہ 15 رکنی ٹیم کے لیے شعیب اختر اور شعیب ملک دونوں کو منتخب کرلیا گیا ہے۔ شعیب اختر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جو کارکردگی دکھائی ہے‘ اس سے وہ مطمئن ہیں۔ ہونا بھی چاہیے کہ اب تک وہ ایسی ہی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ اگر چار اوورز کرالیے تو بڑی بات سمجھیے۔ جتنی ان کی عمر اور ان کا وزن ہے اس میں اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ شاید یہی سوچ کر انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ ایک سال پہلے کی تو بات ہے کہ دو‘ تین اوورز کراکے راولپنڈی ایکسپریس نے پویلین کا رخ کیا تھا۔
ایک چیز ہوتی ہے ”درشنی ہاتھی“۔ یہ خوب کھلایا ‘ پلایا ہاتھی ہوتا ہے جس سے غینم خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ جانے کیا بلا ہے۔ اس ہاتھی کا کام صرف خوف زدہ کرنا ہی ہوتا ہے۔ لڑاﺅ تو راجا پورس کا ہاتھی ثابت ہوتا ہے جو اپنی ہی فوج کو نقصان پہنچاتا ہے۔
شعیب اختر کی ٹیم میں موجودگی سے مخالف پر یقینا خوف طاری ہوجائے گا۔ آخر کو وہ تیز ترین بالرز میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بس اتنی احتیاط کی جائے کہ ان سے بالنگ نہ کرائی جائے ورنہ بھرم ٹوٹ جائے گا۔ویسے بھی وہ آخری کھلاڑیوں (ٹیل اینڈرز) کو آﺅٹ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں آزمانا ہی ہو تو آخری دو ‘ تین اوورز دے دیے جائیں۔ ان کی خوبی بس یہ ہے کہ وہ تیز گیند پھینکتے ہیں اور اس کے لیے اتنی جان مارتے ہیں کہ خود ہانپنے لگتے ہیں۔
شعیب اختر کا حال بھی ان سیاسی جماعتوں جیسا ہے جو اقتدار میں آنے سے پہلے اپنا بھرم بنائے رکھتی ہیں اور اقتدار ملتے ہی ہانپنے‘ لنگڑانے لگتی ہیں۔ شعیب اختر تو چار اوورز کے بعد ہانپتے ہوئے نظر آئے لیکن موجودہ حکومت تو سوا دو اوورز ہی میں ہانپ اور کانپ گئی ہے۔ پانچ اوورز مکمل کرتے کرتے جانے کیا حال ہو۔ لوگ کب سے شرطیں لگارہے ہیں کہ کب امپائر انگلی اٹھاتاہے۔ لیکن لگتا ہے کہ تماشائی ہی ہانپ جائیں گے‘ بجٹ سے تو پہلے ہی کانپ رہے ہیں۔ اتنا خوف سمندری طوفان ہیرا (پیٹ) کا نہیں جتنا بجٹ اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا تھا۔ لوگ ”پیٹ“ نامی طوفان سے نہیں اپنے خالی پیٹ سے سہمے ہوئے ہیں کہ 5 سالہ اننگز کھیلنے کے دعویداروں کا پیٹ بھرے تو ان کو بھی کچھ نصیب ہو۔ پاکستان کے 45 فیصد عوام کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا۔
سنا ہے کہ شعیب اختر کے لیے کپتان شاہد آفریدی کا اصرار تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 34 سالہ فاسٹ بالر ٹوئنٹی‘ ٹوئنٹی اور ون ڈے میچوں کے لیے بہت مناسب ہیں۔ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ شاہد آفریدی اس وقت کا انتظار کرلیتے جب ٹوئنٹی کی جگہ 10 اوورز کا میچ ہوا کرے گا۔ عمر کا کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ بہرحال قوم کا اثاثہ ہیں۔ اسی لیے کپتان ”بوم بوم“ (فارسی والا نہیں) نے کہا ہے کہ ”شعیب اختر کی جتنی بھی کرکٹ باقی رہ گئی ہے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایشیا کپ میں شعیب اختر کو سری لنکا اور بھارت کے خلاف اہم میچوں میں کھلایا جائے گا۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں انہیں آرام دیا جائے گا۔“ہمارا خیال میں تو انہیں صرف بنگلہ دیش کے خلاف کھلایا جاتا باقی دو ٹیمیں تو مضبوط ہیں۔
پاکستان کے اور بھی کئی کرکٹرزایسے ہیں جن میں اب بھی کچھ نہ کچھ کرکٹ باقی رہ گئی ہوگی ان کو بھی موقع دیا جانا چاہیے۔ مثلاً عمران خان ‘ عبدالقادر‘ رمیز راجا‘ محسن حسن خان اور خود اعجاز بٹ۔ اور ہاں! یونس خان کا قصور بھی معاف کردینا چاہیے۔
ایک برخوردار نے شعیب اختر کی شمولیت کی خبر سنتے ہی بے ساختہ کہا ”بڑا مضبوط پوّا ہے صاحب“ ہم اس اصطلاح سے ناواقف ہیں۔ ہم تو اب تک یہ سمجھتے رہے کہ یہ تیل یا دودھ وغیرہ ناپنے کا آلہ ہے جس میں پاﺅ بھر شے ناپی جاتی ہے یا پھر میخواروں کی اصطلاح میں پوّا اور ادھا کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یہ مضبوط پوّا کیا ہے؟ ایک اخبار کا تجزیہ ہے کہ ”پس پردہ کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں۔“
پوّا تو خود اعجاز بٹ کا بھی مضبوط ہے‘ وزیر دفاع کے برادر نسبتی ہیں۔ لیکن وہ جمعرات کو پریس کانفرنس میں خود ہی بول پڑے کہ ”شعیب اختر کی شمولیت کسی سیاسی دباﺅ یا خفیہ ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔“
شاہد آفریدی کا مسئلہ تو صرف سر کی خشکی ہے۔ جس کے لیے وہ ”سر اور کندھا“ استعمال کرتے ہیں۔ کندھے پر ان کے بوجھ ہے اور سر میں خشکی۔
ایسا لگتا ہے کہ شعیب ملک میں بھی کرکٹ ”باقی ماندہ “ ہی ہے۔شادی سے پہلے ہی وہ ماند ہوگئے تھے۔ قومی کرکٹ کی سلیکشن کمیٹی سے زیادہ فعال تو حکمران پیپلزپارٹی کی سلیکشن کمیٹی ہے کہ چن چن کر پرانے اور تجربہ کار مخلص وابستگان سے پیچھا چھڑا کر ایسی ٹیم منتخب کی ہے جس کے بیشتر دانے داغدار ہیں مگر خوب کھیل رہے ہیں بلکہ کھل کھیل رہے ہیں۔ دیکھیے‘ ایشیا کپ اور پاکستان کپ میں کیا ہو۔