بین السطور

April 27, 2010

کچرا پھینکنے کی آزادی

Filed under: سماجی سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 4:54 pm
کئی برس وطن سے باہر رہ کر یہ بھول ہی چکے تھے کہ آزادی کیا ہوتی ہے‘یہ کیسی بڑی نعمت ہے جو ہمیں میسر ہے مگر ہم اس کی قدر ہی نہیں کرتے۔ ایک کہاوت ہے”دوسرے کا گھر ‘تھوک کا بھی ڈر“ ۔ یعنی دوسرے کے گھر میں ادھر ادھر تھوکتے ہوئے بھی میزبان کی خفگی کا ڈر رہتا ہے۔اس کا احساس ہمیں سعودی عرب میں رہ کر بار ہا ہوا۔
ایک بار یوں ہوا کہ جدہ میں عزیز یہ کے چوراہے پر ہماری ٹیکسی اشارہ پر رکی ہوئی تھی کہ ہم نے اطمینان سے سگریٹ کا ٹوٹا باہر اچھا ل دیا۔ قریب کھڑی کار سے ایک سعودی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ بے چارے کو اردو نہیں آتی تھی اس لیے عربی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ گمان ہے کہ وہ ہماری اس آزادی پر برہم تھا۔ ہمیں عربی نہیں آتی تھی‘قرآن کریم بے سمجھے پڑھ ڈالتے ہیں۔ اندازہ ہوگیا تھاکہ وہ کیا کہہ رہا ہوگا۔ عربی نہ جاننے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ہم نے ایک لفظ سیکھ لیا تھا”انا آسف“ اسی سے کام چلایا۔ اشارہ کھل گیا تھا۔
جب تک سعودی عرب میں رہے محتاط ہی رہے۔پاکستان آنے کے بعد بھی چند دن تک تو یہی کیفیت رہی کہ سڑک پر ٹوٹا اچھالتے ہاتھ رکتا اور پان کی پیک تھوکتے ہوئے گلا رکتا تھا۔لیکن جلد ہی آزادی کا احساس واپس آگیا،آس پاس سب یہی کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ طارق روڈ گئے۔اپنے بچوں کو کوک کی بوتلیں اور چیپس کے پیکٹ دلوائے۔ تاکید کی کہ خالی بوتلیں اور پیکٹ باہر نہ پھینکنا۔اتر کر دکان میں گئے ‘واپس آئے تو کچرا گاڑی میں نہیں تھا۔بچوں سے پوچھاتو انہوں نے بتایا کہ ہم تو بہت دیر تک خالی بوتلیں اور پیکٹ لیے بیٹھے رہے۔ کوئی کچرا کنڈی (ڈسٹ بن) بھی نظر نہ آیا ۔لیکن آس پاس کھڑی گاڑیوں سے لوگ اپنا کچرا باہر پھینک رہے تھے ‘ہم نے بھی پھینک دیا۔
یہ ہیں آزادی کے مزے۔ہم لوگ اپنا کچرا باہر اچھال دیتے ہیں۔اب وہ خواہ کسی کے سر پر پڑے۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک خاتون نے ماسی کو تاکید کی کہ کچرا پھینکتے ہوئے کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔کافی دیر بعد ماسی واپس آئی ‘پوچھا اتنی دیر کیوں لگادی؟ بولی ‘بی بی! آپ ہی نے کہا تھا کہ کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔ شریف آدمی بڑی دیر بعد نظر آیا۔ لیکن اب وہ منہ اوپر کیے جو کچھ کہہ رہا ہے اس سے لگتا ہے پہچاننے میں غلطی ہوگئی۔
یہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ گھر کا کوڑا کرکٹ ہو یا اندر کا غبار ‘ہم سب کچھ باہر اچھال دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی کررہے ہیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔اب اے این پی کے حاجی عدیل کو دیکھ لیجئے۔ نام کے ساتھ ”حاجی ‘ شوقیہ لگا رکھا ہے یا سچ مچ خانہ کعبہ تک گئے تھے؟ انہوںنے کہا ہے کہ ”میرا ہیرو تو راجا داہر ہے‘ محمد بن قاسم نہیں“۔اس سے شبہ ہوتا کہ وہ خانہ کعبہ سے بھی خالی ہاتھ واپس آگئے۔ راجا داہر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور اس کی طر ف منہ کرکے نماز پڑھنے والوں کا سخت دشمن تھا اور محمد بن قاسم کعبہ کی حرمت کا رکھوالا‘مسلمانوں کی عزت کا محافظ۔ حاجی عدیل صاحب نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ یہی کچھ جناب الطاف حسین کے ممدوح جی ایم سید کہہ چکے ہیں۔ وہ بھی راجا داہر کو اپنا ہیرو اور محمد بن قاسم کو لٹیرا گردانتے تھے۔ پھر بھی خود کو سید کہتے تھے۔
حاجی عدیل نے حج ضرور کیا ہوگا۔ایسے ہی لوگوں کے لیے شیخ سعدی نے ایک شعر کہہ رکھا ہے۔
خر عیسیٰ اگر بہ مکہ رود
چوں بیاید ہنوز خرباشد
یعنی حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ ہو آئے تو بھی گدھا ہی رہے گا۔اپنے ملک میں ہر طرح کی آزادی ہے ۔یہ کہیں اور کہاں۔ہم نے بھی کچرا اچھا ل دیا ہے۔

27 Comments »

  1. !!!Bravo

    Comment by Rehan Ali — April 27, 2010 @ 5:02 pm | Reply

  2. شاید اسے بھی زیادہ سخت رد عمل درکار ہے، عجیب ملک ہے ہمارا ، بے وقوف جاہل اور نالائق لوگ کہاں کہاں گھس چکے ہیں، بلکہ مزید ترقی بھی کر رہے ہیں، اگر مسلم لیگ نواز اپنے ممبران کی کرپشن کا نوٹس لے سکتی ہے تو اے این پی ایسی فضول باتوں کا کیوں نہیں
    کون اس گند کو صاف کرے گا اور کب

    Comment by یاسر عمران مرزا — April 27, 2010 @ 5:03 pm | Reply

  3. یاسر بھائی بالکل درست فرمایاآپ نے کہ زیادہ سخت ردعمل درکار ہے۔ حاجی عدیل اور ان جیسے سرخ ٹوپیوں والوں پرآپ جتنا چاہے تنقید کرلیں لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ اپنے آپ کی طرح سرخ ٹوپی لوگوں کو پہنائیں یا نہ پہنائیں ، ٹوپی پہنانے میں ماہر ضرور ہے۔ انہوں نے یہ تقریر پشاور کے کسی تعلیمی ادارے میں کی ہے جہاں مخوص سوچ رکھنے والے لوگ جمع تھے جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ حاجی صاحب ذرا آپنے حلقہ انتخاب میں جاکر یہ بیان دیں تو ہم ان کو مانیں گے۔ وہ دن یقینا عراق سے شروع ہونے والی جوتا کاری روایت میں اس لیے اہم دن ہوگا کہ جوتوں کے ساتھ پشاوری چپل پر پڑیں گے۔

    Comment by ابوسعد — April 27, 2010 @ 5:17 pm | Reply

  4. اے این پی کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں
    تقسیم سے پہلے
    دوقومی نظریہ غلط ہے
    ہندوستانی ایک قوم ہیں
    تقسیم کے بعد
    پاکستان میں‌چار قومیں ہیں
    پختون علیحدہ قوم ہیں

    Comment by جعفر — April 28, 2010 @ 4:51 am | Reply

  5. کیا غلط کہا ہہے حاجی عدیل نے۔ ہر کسی کی اپنی تاریخ ہے۔ ایک کردار ایک قوم کی تاریخ میں ہیرو تو دوسرے کے ہاں ولن ہوتا ہے۔ لازمی نہیں کہ آپ جس کو ولن قرار دے رہے ہیں وہ واقعتا ولن ہوں۔ کیا ثبوت ہے کہ محمد بن قاسم صرف امت کی بیٹی کو بچانے آئے تھے۔ اور پھر وہ جہاں سے آئے تھے وہاں کا اخلاقی دیوالیہ پن تو ملاحظہ کریں کہ واپس بلاکر مارا گیا۔ کیا بھلا کوئی اپنے ہیرو کو مارتا ہے؟ ہاں محمد بن قاسم کو اقتدار کی جنگ میں مارا گیا۔ دراصل زمین پر قبضے کی جنگ کو قوموں کی جنگیں قراردیا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ قوموں کی نہیں بلکہ حکمرانوں اور اشرافیہ کی ذاتی جنگ ہواکرتی ہے۔ راجا داہر اس وطن کا بیٹا تھا۔ اس کو تخت سے ہٹانے اور اس پر خود قبضہ کرنے کے لیے کہانیاں گھڑ لی گئیں۔ اب اگر حاجی عدیل ان کہانیوں پر یقین کو کرنے کو تیار نہیں تو وہ برے بن گئے۔

    Comment by مراد علی — April 28, 2010 @ 5:34 am | Reply

    • مجھے مراد کی باتوں سے اتفاق ہے۔ حاجی عدیل کا تعلق عوامی نشینل پارٹی سے ہے اور یہ وہ واحد پارٹی ہے جو عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند ہے۔ ایسی کہانیاں جن سے جنگجوانا عزائم پروان چڑھتے ہیں ان کی مخالفت کرنی چاہیے۔ اے این پی آج کل براہ راست اس تشدد کا شکار ہے۔ مارنے والے ان اپنے لوگوں نے محمد بن قاسم کی ہے کہانیاں سنی ہیں جو یقینا جھوٹ پر مبنی ہے۔

      Comment by شگفتہ ناز — April 28, 2010 @ 5:42 am | Reply

      • Get your facts corrected Raja dahir was not a Sindhi but himself an agressor’s son. He was from Kashmir and invaded and ruled Sindh. Secondly, all the Pukhtoons are invaders , over a long period of time they invaded India again and again and settled there. My origins are from Afghanistan, yet my generations dwelled in Central India.Haji Adeel can call anyone a hero but there should be consistency of principle not a mere hatred for Arabs. His party is the only political faction which favored the oppressing red armies when they were busy committing murders, rape and plundering in Afghanistan.

        Comment by Rehan Ali — April 28, 2010 @ 6:30 am

  6. مراد علی صاحب ۔ آپ اپنی تاریخ کی کتاب کا ذرا حوالہ دینے کی زحمت کریں گے کہ جس میں راجہ داہر کو ایک اچھا اور نیک حاکم قرار دیا گیا ہو؟ اس کی ظلم و زیادتی تو متفق علیہ ہے
    فتح_سندھ/http://ur.wikipedia.org/wiki

    لیکن یہ بات بجا ہے کہ یہ جنگ تہذیبوں کی جنگ تھی۔ اسلامی تہذیب اور شیطانی تہذیب۔ آپ کا قبلہ کس طرف ہیں یہ تعین کر لیجیے۔

    Comment by عدنان مسعود — April 28, 2010 @ 6:11 am | Reply

  7. however the facts are that they dont know the facts…or they are intentionally trying to fool the people
    ..raja dahir was non Sindhi who ruled sindh ,where he imposed Hindu rule over majority (non Hindus.. Buddhists)…local people were oppressed by him . Muhammad bin qasim while coming here to act on the order of governor of Iraq to make release the women ,children and others who while retuning from cylon (sri lanka)were kidnapped by coastallooters,protected by raja dahir.The unpopular raja was defeated with the help of local coastal tribes and MBQ established self rule of local people under his governor.when he left the local people wept and made idols on MBQ and use to consider him as a holy man.
    raja dahir was born near Kashmir…probably north east Punjab…however most of the people considering him as a Sindhi brother which he was not at all. haji sahab is in the same line.. but his jeay sindh comrades have not fully informed…obviously if he knew that raja dahir was Kashmiri or Punjabi….not a Sindhi,…his statement must have been changed….:)
    You must know that nationalists consider arabs as invaders ..haji sbs statment is just an example.
    the details are mentioned in an old history book…chach nama(Persian..translated by allama i.i. Qazi)….to whom most people quote as an authentic source
    however haji sb has right to have any thought and opinion

    Comment by Zafar Iqbal — April 28, 2010 @ 6:35 am | Reply

    • راجا داہر جارح تھا اگر اس بات سے اتفاق کر بھی لیا جائے تو اس کیا محمد بن قاسم جارح نہیں تھا۔ اگر راجا داہر ولن تھا تو کم ازکم محمد بن قاسم بھی تو ہیرا نہیں تھا

      Comment by شگفتہ ناز — April 28, 2010 @ 6:46 am | Reply

  8. Zafar bhai, haji adeel jaise log is baat par sharminda hain ke musalman khandan aur pakistan mein kyun paida hogaye. this approach is typical of the so-called nationalists in our country jin ko shayad is baat ki bhi khabar naheen ke nationalism jahan ki paidawar thha wahan us ko dafan kar diya gaya hai aur ab European Unioin (EU) regionalism or trans-national economy ki ek misal hai.
    Btw, you are right ke raja dahir was not a sindhi local. His father, Chach, was a kashmiri brahmin who invaded Sindh and established his rule over the peaceful budhist and jain population. Agar local abadi MBQ ka saath nahin deti tau yeh kaise mumkin thha ke mehez 6000 sipahion ke saath wuh poore sindh, multan aur gujarat ko itni tezi se fatah kar le.
    Haji (Paji) Adeel ko shayad yeh bhi maloom ho ke un ke aur hamaray deegar qaum-paraston ke hero Raja Dahir ka ek aur karnama apne panditon ke mashwaray par apni sagi behen ke saath shadi karna thha.

    Comment by Rehan Ali — April 28, 2010 @ 6:37 am | Reply

  9. آپ لگے رہيئے جس بات کو آپ درست يا سچ سمجھتے ہيں لکھتے رہيئے ۔ جو لوگ آپ کو غلط يا جھوٹا کہتے ہيں کيا اُن کے خيال ميں لُوٹنا اور عورتوں بچوں کا اغواء ايک اچھا فعل ہ جو راجہ داہر کے آدميوں نے کيا تھا ؟

    Comment by افتخار اجمل بھوپال — April 28, 2010 @ 7:07 am | Reply

  10. يہ واقعہ ہے سن 2005؟ کا ہم ڈيفنس فيز فائيو ايکسٹنشن ميں ايک کوٹھی کی اُوپر کی منزل ميں کرائے پر رہتے تھے ۔ ہم اپنے سونے کے کمرے کی کھڑياں اسلئے نہيں کھول سکتے تھے کہ اُدھر ايک خالی پلاٹ تھا جس پر لاکھوں اور کروڑوں روپے کی کوٹھيوں کے مالکان کچرا پھينتے تھے جس سے ناقابلِ برداشت تعفن اُٹھتا تھا ۔ کچھ دن بعد محلے والوں سے بات کی ۔ ہر ايک نے منہ ايسے پھيرا جيسے کچرے کی بجائے مجھ ميں سے بدبُو آ رہی ہو ۔ ہمارے ملک ميں ہر جگہ يہی حال ہے مگر کسی جگہ کم اور کسی جگہ زيادہ ۔ آجکل ميں لاہور ميں ہوں مگر يہاں ارد گرد وہ حال نہيں ہے جو ميں نے اُوپر بيان کيا ہے

    Comment by افتخار اجمل بھوپال — April 28, 2010 @ 7:15 am | Reply

  11. yesterday when i was going to start my car for office i noticed a shopping bad on its top , i thought someone has put his treature in it but on opening it i found used papmpers, and other “Kachras” in it.

    Comment by Salman Shah — April 28, 2010 @ 7:28 am | Reply

    • سلمان، یہ واقعہ کس علاقے میں پیش آیا؟ حد کر دی نا شائستگی کی لوگوں نے۔

      Comment by احمد عرفان شفقت — April 28, 2010 @ 9:00 am | Reply

  12. @Ahmed
    Yeh Gulshan-e-Iqbal Karachi Ka Waqea hai. oper ka flat kisi ne ghar ka kachra uchhal dia tha jo sidha meri gari per aagira tha.heheh

    Comment by Salman Shah — April 28, 2010 @ 10:18 am | Reply

    • اوہ اچھا اوپر سے پھینکا گیا تھا یہ گند بلا۔ مجھے لگا کوئی راہ چلتا بوجہ سستی گزرتے گزرتے گاڑی پے رکھ گیا ہے۔ بہر حال کوڑا پھینکنے کے سلسلے میں اسقدر شخصی آزادی کا استعمال بھی غلط ہے۔ کچھ تو سوچ بچار کرنی چاہیئے تھوڑی بہت۔

      Comment by احمد عرفان شفقت — April 28, 2010 @ 11:28 am | Reply

  13. بلاگ متعارف کرانے کا شکریہ۔ امید ہے آپ کی محنت سے یہ سلسلہ خوب پھلے پھولے گا۔

    Comment by میرا پاکستان — April 28, 2010 @ 10:54 am | Reply

  14. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    آپ نےبہت خوب لکھاہے۔ دراصل ہم لـــــــــــوگ آزادہــــــــــیں، جب تک ہم غیرممالک میں رہتےہیں توان کےقوانین کی حددرجہ تعظیم کرتےہیں لیکن جیسےہی اپنےملک میں آتےہیں توقانون کی دھجیاں اڑادیتےہیں۔ عجیب قوم ہے ہماری ہم عجیب لوگ ہیں

    والسلام
    جاویداقبال

    Comment by جاویداقبال — April 28, 2010 @ 3:00 pm | Reply

  15. بھئی راجہ داہر تھا یا محمد بن قاسم۔۔۔ آئے تو دونوں اپنے اپنے لشکروں کے زور پر تھے۔۔۔ اصل مسئلہ اپنی سلطنت کو طول دینے کا تھا، مذہب کو تو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔

    Comment by Naeem — April 29, 2010 @ 10:33 am | Reply

  16. جناب والا ! محمد بن قاسم بہت جلد بلا لیے گئے تھے اگر وہ جارح ہوتے تو یہاں لوگ ان کے جاتے ہی دوبارہ کسی راجا داہر کی راج دانی کا مطالبہ کر بیٹھتے۔ ویسے بھی راجا داہر برہمن تھا جبکہ یہاں کی آبادی بدھ مت کے پیروکاروں کی تھی۔

    Comment by ابوسعد — April 29, 2010 @ 5:01 pm | Reply

  17. [...] دنوں ايک نئے اُردو بلاگر اطہر ہاشمی صاحب نے حاجی عديل صاحب کے راجہ داہر کو ہيرو کہنے کا ذکر [...]

    Pingback by What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » راجہ داہر اور گاندھی کن کے ہيرو ہيں — April 30, 2010 @ 3:26 am | Reply

  18. اس موضوع سے متعلق افتخار بھائی کا نیا بلاگ یہاں نقل کرنا غیر ضروری نہیں ہوگا۔
    غزوہ بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوچکی تو ایک روز حضرت ابوبکر کے صاحبزادے عبدالرحمن اپنے والد گرامی سے ملے اور کہنے لگے کہ بدر کے میدان میں ایک موقع پر آپ کی گردن میری تلوار کی عین زد میں آگئی تھی لیکن میں نے آپ سے رشتے کا احترام کرتے ہوئے تلوار کا رخ موڑ دیا ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت تک عبدالرحمن نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، چنانچہ وہ کفار کی جانب سے میدان میں اترے تھے ۔ یہ بات سن کر حضرت ابوبکر نے ایسا جواب دیا جس نے رشتوں کے درمیان حد فاصل کی وضاحت کردی ۔ آپ نے کہا کہ صاحبزدے اگر تمہاری گردن میری تلوار کی زد میں آجاتی تو خدا کی قسم میں اسے کاٹ کر تن سے جدا کردیتا

    خون کے رشتے مذہب کے رشتوں کے مقابلے میں باطل ٹھہرے اور یہی وہ بات ہے جو ہمارے ان روشن خیال، سیکولر ازم پر فخر کرنے والے ا ور
    نام کے مسلمان دانشوروں، لکھاریوں اور نام نہاد مؤرخین کو سمجھنی چاہيئے جو ہر وقت یہ رٹ لگاتے پائے جاتے ہیں کہ ہم اور ہندو اور سکھ ایک ہی نسل سے ہیں، اس لئے اختلافات اور علیحدگی چہ معنی ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے کہ اگر قائد اعظم بھی ہمارے ان روشن خیال اور سیکولر دانشوروں کی مانند ہوتے تو وہ کبھی بھی اپنی صلاحیتوں کا بہترین حصہ اس موقف کی وضاحت پر صرف نہ کرتے کہ مسلمان ہر لحاظ، تعریف اور معیار کے مطابق ایک الگ قوم ہیں اس لئے وہ ایک الگ وطن چاہتے ہیں ۔ قائد اعظم اپنے مذہب اور عقیدے کی روح سے شناسا تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب ان کی اکلوتی اور نہایت چہیتی بیٹی دینا جناح نے ایک پارسی نوجوان سے شادی کرنے کا ارادہ کیا تو بقول سیٹنلے والپرٹ (جناح آف پاکستان) قائد اعظم نے دینا کو بلایا، نہایت محبت سے اسے سمجھایا اور کہا کہ ہندوستان میں کروڑوں مسلمان نوجوان ہیں جو تم سے شادی کرنے پر فخر محسوس کریں گے ، تم کسی بھی مسلمان نوجوان کو اپنا جیون ساتھی منتخب کر لو میں اس پرراضی ہوں گا لیکن اگر تم نے کسی غیر مسلم نوجوان سے شادی کی تو میری اور تمہاری راہیں جداجدا ہوجائیں گی ۔ اولاد اور پھر اکلوتی اولاد کو چھوڑنا قیامت سے کم نہیں ہوتا ۔ کسی صاحب اولاد سے پوچھو کہ یہ کتنا کٹھن اور دردناک فیصلہ ہوتا ہے؟ جو قائد اعظم نے اپنے مذہب اور دین کی خاطر کیا ۔ یہ بھی نہیں کہ قائد اعظم انسانی کمزوریوں سے ماوراء تھے ۔ ان میں بھی کمزوریاں تھیں لیکن ان کی دیانت، حق گوئی اور اعلیٰ کردار ان کی زندگی کے ایسے شعبے ہیں جن کا اعتراف ان کے بدترین دشمن بھی کرتے ہیں اور جس کی تصدیق اب تاریخ نے بھی کردی ہے

    جب ایسی شخصیت پر حاجی عدیل آف اے این پی نے کیچڑ اچھالا تو مجھے نہایت صدمہ ہوا اور میں فقط یہی سمجھ سکا کہ گویا ابھی تک آنر بیل خان عبدالغفار خان کے سیاسی جانشینوں نے قائد اعظم کا پاکستان قائم کرنے کا جرم معاف نہیں کیا، گویا ابھی تک ان کے باطن میں نہرو اور گاندھی سے عقیدت و وفاداری کے بت موجود ہیں ۔ میں نے عمر بھر نیپ اور پھر اے این پی کی جمہوریت پسندی کی حمایت کی ہے اور عمر بھر یہ لکھتا رہا ہوں کہ ان علاقائی سیاسی قوتوں کو قومی دھارے میں شامل اور ضم کرکے ہی جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے لیکن حاجی عدیل کے پے در پے قلبی انکشافات کے بعد مجھے تشویش ہے کہ کیا کبھی پاکستان اور قائد اعظم مخالف قوتیں قومی دھارے میں ضم ہوں گی ؟ کیا ان کی موجودہ نسلیں جو وقتاً فوقتاً قائد اعظم کے قائم کردہ پاکستان میں اقتدار کے ”لوشے“ لوٹتی رہتی ہیں اپنے ذہنوں اور دلوں کے چوکھٹوں میں گاندھی کی جگہ قائد اعظم کی تصویر سجائیں گی ؟ میرا خیال تھا کہ تقسیم ہند سے نفرت کا ورثہ سرحدی بزرگوں کے ساتھ دفن ہوچکا لیکن لگتا ہے کہ یہ محض ہمارا حسن ظن تھا

    اس حوالے سے مجھے قائد اعظم کے وہ ا لفاظ یاد آتے ہیں جو انہوں نے 20 اپریل1948ء کو پشاور کے جلسہ عام میں کہے تھے ۔ ہماری نوجوان نسلوں کو علم نہیں کہ قائد اعظم نے بحیثیت گورنر جنرل پاکستان 18,17,16اپریل 1948ء کو صوبہ سرحد کا دورہ کیا تھا ۔ پشاور کے قیام کے دوران وہ مسلسل دو دن خان عبدالغفار خان سے ملے اور انہیں پاکستان کے قومی دھارے میں شریک کرنا چاہا اور پھر مایوس ہو کر 20 اپریل کو جلسہ عام میں یہ اعلان کیا کہ اے قوم یہ لوگ قابل اعتماد نہیں ۔ جو دوست اس موضوع پر تفصیل پڑھنے کی خواہش رکھتے ہوں وہ میری کتاب درد آگہی کا آخری باب ملاحظہ فرمائیں

    قائد اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار جن شخصیتوں کے بارے میں کیا تھا وہ اللہ کو پیاری ہوچکیں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی ورثہ حاجی عدیل جیسے وفاداروں کے ذہنوں پر آج تک چھایا ہوا ہے حاجی عدیل صاحب کے ذہنی رہنما اور سیاسی گرو کو اپنے سرحدی گاندھی ہونے پر فخر تھا اور گاندھی کی سوچ کیا تھی اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ وہ قائد اعظم سے خط و کتابت اور ملاقاتوں میں فرمایا کرتے تھے کہ میں کیسے مان لوں کہ کچھ مذہب تبدیل کرنے والے (Converts) علیحدہ قوم بن گئے ہیں

    مسلمانوں سے حقارت اس قدر کہ ایک بار مسلمانوں کے نام کھلی چھٹی لکھی کہ تمہارے ڈرپوک بزرگ اور نگزیب کی تلوار سے ڈر کر
    مسلمان ہوگئے تھے ۔ تم واپس ہندو دھرم میں آجاؤ ۔ جمیل الرحمن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ گاندھی نے اپنے رسالے میں لکھا
    ہندوستان کے مسلمانوں سے نپٹنے کے دو طریقے ہیں ۔ اول ان کو واپس ہندو دھرم میں لایا جائے، دوم جو اس کے لئے تیار نہ ہوں انہیں ملک
    بدر کردیا جائے ۔ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں سرآغاخان کی آٹو بائیو گرافی کے حوالے سے لکھا ہے کہ گول میز کانفرنس لندن کے دوران
    سر آغا خان نے گاندھی سے کہا کہ آپ ہندوستان کے باپو کہلاتے ہیں کیا آپ مسلمانوں کے باپو بھی بن سکتے ہیں ۔ گاندھی کا جواب نفی میں تھا ۔ وہ گاندھی جو مسلمانوں سے اتنی”محبت“ بہ وزن ”حقارت“ کرتا تھا اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو سرحدی گاندھی کہلوانا اور قیام پاکستان کی ڈٹ کر مخالفت کرنا بذات خود پاکستان اور قائد اعظم سے ”محبت“ کے واضح ثبوت ہیں لیکن اس کے باوجود ہم جیسوں کو خوش فہمی تھی کہ شاید قیام پاکستان کے وقت پیدا ہونے والی نسل اپنا قلبی و ذہنی قبلہ تبدیل کرکے ماضی کے سیاسی ورثے سے تائب ہوجائے کہ انہیں پاکستان نے بے حد عزت و احترام دیا ہے لیکن میرے ممدوح حاجی عدیل صاحب تو چند قدم مزید آگے چلے گئے اور یہ بیان دے کر اپنی”اصل“ آشکارا کردی کہ میرا ہیرو راجہ داہر ہے نہ کہ محمد بن قاسم ۔ بے شک انہوں نے گاندھی کے سچے پیروکار اور ذہنی چیلے ہونے کا ثبوت دے دیا اور ظاہر ہے کہ ان کا ہیرو راجہ داہر ہی ہونا چاہئے تھاکیونکہ وہ اسلامی مملکت کی بنیاد ڈالنے والے محمد بن قاسم کو کیسے اپنا ہیرو مان سکتے ہیں ؟ اسی طرح بانی پاکستان ان کا ہیر و کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ راجہ داہر کے مریدوں کا ہیرو تو صرف گاندھی ہی ہوسکتا ہے

    محمد بن قاسم کا اصل قصور کچھ اور تھا وہ 712 ء میں ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور اسلامی مملکت کی بنیاد رکھ کر 715ء میں واپس چلا
    گیا ۔ 997ء سے لے کر 1030ء تک محمود غزنوی نے ہندوستان پر تیرہ حملے کئے لیکن اس نے اسلامی مملکت کی بنیاد ہرگز نہیں رکھی ۔ اس کے باوجود 1192ء میں جب غوری اور پرتھوی راج کے درمیان جنگ ترائن ہوئی تو تاریخ فرشتہ کے مطابق شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کو جو خط لکھا اس میں واضح کیا کہ سندھ پنجاب اور سرحد میں مسلمان مقابلتاً اکثریت میں ہیں اس لئے یا تو یہ علاقے مجھے دے دو یا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ

    یہ محمد بن قاسم سے لے کر محمود غزنوی اور غوری تک کا اعجاز تھا کہ ان علاقوں میں مسلمان مقابلتاً اکثریت میں ہوئے جس میں صوفیاء
    اکرام اور اولیاء اکرام نے بے حد اہم کردار سرانجام دیا ۔ مشیت الٰہی یہ تھی کہ جغرافیائی حوالے سے ایک دوسرے میں پیوست علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہوئے جس کی بنیاد پر قائد اعظم نے پاکستان کا مطالبہ کیا ۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ان ملحقہ علاقوں میں اسلام محمد بن قاسم، محمود غزنوی اور غوری اور مسلمان صوفیاء اکرام کے سبب پھیلا اور اسی لئے وہ ہمارے ہیرو ہیں جبکہ کچھ حضرات ان کے مخالفین کو اپنا ہیرو مانتے ہیں اور ہندو مؤرخین کی پیروی کرتے ہوئے ان کی کردار کشی کرتے ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مسلمان ہونے پر شرمندہ ہوں ؟

    Comment by تلخابہ — April 30, 2010 @ 3:37 am | Reply

  19. “حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ ہو آئے تو بھی گدھا ہی رہے گا”
    اس آخری جملے نے تو کہانی ہی ختم کر دی۔ میرے خیال میں حاجی عدیل کے لیے اس سے اچھا جواب کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس بے وقوفانہ بیان کے ذریعے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!

    Comment by ابوشامل — April 30, 2010 @ 12:23 pm | Reply

  20. حاجی عدیل کا بیان ایک رد عمل ہے اس سوچ کے خلاف جو یہاں پہ بسنے والے مسلمان، تاریخی طور پہ یہاان کے موجود باشندوں کی ہتک کرتے ہوئے دکھاتے ہیں اور اپنے آپکو ہر چیز کا نجات دہندہ بنا دیتے ہیں۔ یہاں تو ہندو راجہ اشوک بھی گذرا ہے جو یہاں کے عوام کا مقبول ترین بادشاہ تھا اور اسکی سلطنت ان حدوں میں بھی تھیں، جن میں آج کا پاکستان واقع ہے۔
    لیکن جب ہم تاریخ کو نکالتے ہیں تو اس علاقے کی گذشتہ تحریراً موجود پانچ ہزار سالہ تاریخ میں سے اپنے ہیروز نکال لیتے ہیں جن کی اکثریت اس علاقے میں لوٹ مار کرنے یا یہاں کے وسائل پہ قبضہ کرنے آئ تھی۔ تاریخ کا تعصب یہ ہے کہ ہم انگریزوں کو برا بھلا کہتے ہیں کہ انہوں نے ہماری حکومت کو ختم کیا، ہمارے تمدن پہ گہری ضرب لگائ، ہماری تہذیب کو ختم کر دیا۔ مگر جب یہی کام ہمارے ہیرو کے دور میں ہوتا ہے تو ہم فتح اور شادمانی کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ خون ہماری رگوں میں جوش مارنے لگتا ہے اور ہمارا بس نہیں چلتا کہ نعرہ ء تکبیر لگا کر ہمیں کوئ اور نہ ملے تو اپنے ہی ہم مذہب کی گردن کاٹ دیں۔
    اگرچہ مجھے اس چیز سے اتفاق نہیں کہ اے این پی عدم تشدد کے فلسفے پہ عمل کرتی ہے وہ انکی کراچی میں کی گئ اور جاری سرگرمیاں ہیں۔ اسکے علاوہ تعصب کی سیاست میں اے این پی کا حصہ خاصہ زیادہ ہے۔
    ہر گدھا، اس حقیقت سے لا علم ہوتا ہے کہ وہ گدھا ہے۔ تو اس طرح کے محاورے ہر دو فرقیقن پہ بالکل صحیح آتے ہیں۔
    اس طرح کے عمومی روئیے تاریخ کو بگاڑ کر پھیلانے کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔
    جہاں ایک فریق دعوی کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ محمد بن قاسم ایک مسلمان عورت کی پکار پہ آئے تھے۔ در حقیقت یہ پکجار والا قصہ خآصہ کمزور ہے۔ کچھض مءورخین اس پہ یقین رکھتے ہیں اور کچھ نہیں۔ ویسے بھی اس طرح کے انتہائ اقدام محض ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ بہت سارے عوامل مل کر ایک صورت حال کو جنم دیتے ہیں جسے اپنے آخری انجام تک پہنچانے میں کوئ چھوٹی سی بات بھی عمل انگیز کا کام انجام دے دیتی ہے۔ داہر یہاں کا بادشاہ تھا۔ ہندو یہاں کے آبائ باشندے ہیں، بدھ مذہب کے ماننے والے نہیں۔ بدھ مذہب نے ہندو مذہب کے ہزاروں سال یہاں ذات پات کے خلاف علامت کے طور پہ جنم لیا۔
    یہ البتہ کہا جاتا ہے کہ داہر ایک اچھا بادشاہ نہیں تھا۔ جیسے نادر شاہ ایک اچھا بادشاہ نہیں تھا یا نظام دکن ایک اچھا بادشاہ نہیں تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس وقت بلکہ خاصے عرصے سے ہمیں بھِ اچھے بادشاہ نہیں مل رہے تو کیا ہم توقع کریں کہ سعودی عرب ہم پہ قبضہ کر لے یا انڈیا ہمارا فرمانروا بن جائے اور ہمارے مسائل حل کرے۔ کیا اس صورت میں ہم انکی تعریفیں کر کے انہیں تاریخی طور پہ اپنا ہیرو مان لیں۔

    Comment by عنیقہ ناز — May 1, 2010 @ 6:15 am | Reply

  21. زبردست ہاشمی صاحب! دراصل پاکستان میں آج کل ایسی ہی باتیں کینے کی آزادی ہے۔عدیل جیسے لوگوں کو محمد بن قاسم جارح لگ رہے ہیں کیونکھ آج کل کے ان کے نٔے آقا امریکھ کو پسند ہے وہ بات الگ ہے کہ ان کو امریکا جارح نظر نہیں آتا اور ملا عمر دہشت گرد لگتا ہے جو اپنی زمین اور ایمان کے لیے برسر پیکار ہے۔ ان ایں پی والوں نے ۲۰ سالوں میں دو حملہ آور جارح فوج کو پختونوں کی سر زمیں پے خوش آمدہد کہا اور ان کی کاسہ لیسی کی۔ 

    Comment by عمران صدیقی — May 2, 2010 @ 9:15 pm | Reply

  22. I honestly didn’t consider this specific issue that way. I feel that there is a point in all of this. Happy to be capable to play a part. Wish you good luck.

    Comment by gazy obronne — February 6, 2011 @ 11:39 am | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.