بین السطور

April 27, 2010

کچرا پھینکنے کی آزادی

Filed under: سماجی سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 4:54 pm
کئی برس وطن سے باہر رہ کر یہ بھول ہی چکے تھے کہ آزادی کیا ہوتی ہے‘یہ کیسی بڑی نعمت ہے جو ہمیں میسر ہے مگر ہم اس کی قدر ہی نہیں کرتے۔ ایک کہاوت ہے”دوسرے کا گھر ‘تھوک کا بھی ڈر“ ۔ یعنی دوسرے کے گھر میں ادھر ادھر تھوکتے ہوئے بھی میزبان کی خفگی کا ڈر رہتا ہے۔اس کا احساس ہمیں سعودی عرب میں رہ کر بار ہا ہوا۔
ایک بار یوں ہوا کہ جدہ میں عزیز یہ کے چوراہے پر ہماری ٹیکسی اشارہ پر رکی ہوئی تھی کہ ہم نے اطمینان سے سگریٹ کا ٹوٹا باہر اچھا ل دیا۔ قریب کھڑی کار سے ایک سعودی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ بے چارے کو اردو نہیں آتی تھی اس لیے عربی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ گمان ہے کہ وہ ہماری اس آزادی پر برہم تھا۔ ہمیں عربی نہیں آتی تھی‘قرآن کریم بے سمجھے پڑھ ڈالتے ہیں۔ اندازہ ہوگیا تھاکہ وہ کیا کہہ رہا ہوگا۔ عربی نہ جاننے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ہم نے ایک لفظ سیکھ لیا تھا”انا آسف“ اسی سے کام چلایا۔ اشارہ کھل گیا تھا۔
جب تک سعودی عرب میں رہے محتاط ہی رہے۔پاکستان آنے کے بعد بھی چند دن تک تو یہی کیفیت رہی کہ سڑک پر ٹوٹا اچھالتے ہاتھ رکتا اور پان کی پیک تھوکتے ہوئے گلا رکتا تھا۔لیکن جلد ہی آزادی کا احساس واپس آگیا،آس پاس سب یہی کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ طارق روڈ گئے۔اپنے بچوں کو کوک کی بوتلیں اور چیپس کے پیکٹ دلوائے۔ تاکید کی کہ خالی بوتلیں اور پیکٹ باہر نہ پھینکنا۔اتر کر دکان میں گئے ‘واپس آئے تو کچرا گاڑی میں نہیں تھا۔بچوں سے پوچھاتو انہوں نے بتایا کہ ہم تو بہت دیر تک خالی بوتلیں اور پیکٹ لیے بیٹھے رہے۔ کوئی کچرا کنڈی (ڈسٹ بن) بھی نظر نہ آیا ۔لیکن آس پاس کھڑی گاڑیوں سے لوگ اپنا کچرا باہر پھینک رہے تھے ‘ہم نے بھی پھینک دیا۔
یہ ہیں آزادی کے مزے۔ہم لوگ اپنا کچرا باہر اچھال دیتے ہیں۔اب وہ خواہ کسی کے سر پر پڑے۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک خاتون نے ماسی کو تاکید کی کہ کچرا پھینکتے ہوئے کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔کافی دیر بعد ماسی واپس آئی ‘پوچھا اتنی دیر کیوں لگادی؟ بولی ‘بی بی! آپ ہی نے کہا تھا کہ کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔ شریف آدمی بڑی دیر بعد نظر آیا۔ لیکن اب وہ منہ اوپر کیے جو کچھ کہہ رہا ہے اس سے لگتا ہے پہچاننے میں غلطی ہوگئی۔
یہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ گھر کا کوڑا کرکٹ ہو یا اندر کا غبار ‘ہم سب کچھ باہر اچھال دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی کررہے ہیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔اب اے این پی کے حاجی عدیل کو دیکھ لیجئے۔ نام کے ساتھ ”حاجی ‘ شوقیہ لگا رکھا ہے یا سچ مچ خانہ کعبہ تک گئے تھے؟ انہوںنے کہا ہے کہ ”میرا ہیرو تو راجا داہر ہے‘ محمد بن قاسم نہیں“۔اس سے شبہ ہوتا کہ وہ خانہ کعبہ سے بھی خالی ہاتھ واپس آگئے۔ راجا داہر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور اس کی طر ف منہ کرکے نماز پڑھنے والوں کا سخت دشمن تھا اور محمد بن قاسم کعبہ کی حرمت کا رکھوالا‘مسلمانوں کی عزت کا محافظ۔ حاجی عدیل صاحب نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ یہی کچھ جناب الطاف حسین کے ممدوح جی ایم سید کہہ چکے ہیں۔ وہ بھی راجا داہر کو اپنا ہیرو اور محمد بن قاسم کو لٹیرا گردانتے تھے۔ پھر بھی خود کو سید کہتے تھے۔
حاجی عدیل نے حج ضرور کیا ہوگا۔ایسے ہی لوگوں کے لیے شیخ سعدی نے ایک شعر کہہ رکھا ہے۔
خر عیسیٰ اگر بہ مکہ رود
چوں بیاید ہنوز خرباشد
یعنی حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ ہو آئے تو بھی گدھا ہی رہے گا۔اپنے ملک میں ہر طرح کی آزادی ہے ۔یہ کہیں اور کہاں۔ہم نے بھی کچرا اچھا ل دیا ہے۔

April 23, 2010

قریب کی نظر اور خواتین

پاکستان کی خبر ایجنسی اے پی پی نے کہیں سے نکال کر ایک تحقیق پیش کی ہے کہ خواتین میں جلن اور حسد کا مادہ ضرور ہوتا ہے اور یہ منفی جذبہ ان کی بینائی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ جب خواتین یہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے شوہر دوسری عورتوں کی طرف متوجہ ہیں تو انہیں شدید جلن ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں ان کی قریب کی چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت متاثرہوتی ہے اور وہ صاف نہیں دیکھ پاتیں۔
اے پی پی سرکاری خبر ایجنسی ہے‘اس لیے اس کی پیش کردہ تحقیق پر آنکھ بند کرکے اعتبار کرلینا چاہیے‘یہ تحقیق کیے بغیر کہ موجودہ حکومت کی کتنی خاتون وزراءاور ارکان اسمبلی ایسی ہیں جن کو صاف نظر نہیں آتا یا صرف وہ نظر آتا ہے جو وہ دیکھناچاہتی ہیں۔ بی بی بے نظیر شہید کی قریب کی نظر تو بہت ہی گر گئی تھی۔ وجہ اس تحقیق کی روشنی میں اب سمجھ میں آئی۔ لیکن اسپیکر قومی اسمبلی ہوں یا وفاقی وزیر بہبود آبادی و منصوبہ بندی محترمہ فردوس عاشق اعوان ‘ ان کی قریب کی نظر کیوں کمزور ہے ‘اس پر اے پی پی کو تحقیق کروانی چاہیے۔
یوں تو اور بھی کچھ اہم خواتین ہیں لیکن ہمیں اس وقت دو ہی نام یاد آرہے ہیں۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان کی قریب کی نظر تو اتنی کمزور ہے کہ وہ مسلم لیگ ق میں رہ کر جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دیتی رہیں اور قریب ہونے کے باوجود اس وقت تک جنرل صاحب اور ان کی لیگ کا چہرہ صاف نظر نہیں آیا جب تک انہیں یقین نہیں ہوگیاکہ فروری 2008ءکے انتخابات میں ق لیگ اقتدار میں نہیں آرہی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کی دور کی نظر بہت تیز ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہ کدھر جھکتی ہیں۔ یہ تو یقینی بات ہے کہ وہ جس پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں گی وہی بیٹھ جائے گا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں ق لیگ کے ایک رہنما اور سابق ساتھی انہیں دیکھ کر یہ گنگنا رہے تھے“کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں“ وہ برا مان گئیں۔ پتا نہیں انسان کہنے پر یا بدل جانے کے الزام پر۔ بچوں کو پیدا ہونے سے روکنے کے محکمہ کی وزیر بی بی فردوس نے شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کو بچے مارنے کی مہم کا سفیر نامزد کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک خبر ہے کہ ”ہیجڑوں کی مدد سے فیملی پلاننگ کو فروغ دینا چاہتی ہوں‘بھارت میں آبرو باختہ عورتوں سے بہبود آبادی کاکام لیا جارہا ہے‘ممبئی کے ریڈلائٹ ایریا میں سارا دن گزار کر مفید معلومات حاصل کیں۔“ اس پر شعیب ملک اور ثانیہ مرزا اعتراض کریں تو کریں لیکن مفید معلومات کے حوالے سے بھارتی اخبارات نے فردوس عاشق کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں وہ ایک روپے کا سکہ ڈال کر خودکار مشین سے کنڈوم نکال رہی ہیں۔ انہوں نے بسہولت اور سستی دستیابی پر بھارتی حکومت کی بہت تعریف کی اور سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کی۔ ممکن ہے مشین کی درآمد یااس کی ایجنسی لینے پر بات ہوئی ہو۔
بات چلی تھی خواتین میں جلن اور حسد کے مادے اور اس کی وجہ سے قریب کی نظر کمزور ہونے سے۔اس کمزوری کی وجہ سے خواتین اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتیں۔ شوہر بھی صاف نظر نہیں آتا۔ ویسے تو چند برس بعد قریب سے کیا دور سے دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ چشمہ لگوانے سے کتراتی ہیں کہ اس سے عمر سے زیادہ یا اپنی عمر کے مطابق نظر آنے لگیں گی۔ بہ مجبوری کبھی چشمہ لگاہی لیں تو حیران ہوجاتی ہیں کہ ارے یہ ہے وہ جس کے ساتھ اتنے برس بِتا دیے۔ حسد اور جلن فطری معاملہ ہے۔اس سے مبرا پنجاب اسمبلی کی ایک رکن ہی نظر آئیں جنہوں نے اپنے شوہر کو مزید شادیاں کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ کاش…………!

April 20, 2010

ملا نصرالدین اور راجا پرویز اشرف

ایک صاحب نے بڑی تشویش کے عالم میں اپنے دوست سے کہا “یار میری بیوی روزانہ ایک ہزار روپے مانگتی ہے۔” دوست نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا “آخر روزانہ اتنے پیسوں کا وہ کرتی کیا ہے؟” جواب ملا “یہ تو پتا نہیں کبھی دیے ہی نہیں”۔
ظاہر ہے کہ یہ متوسط طبقے کے لوگوں کا مکالمہ ہے جہاں ایک ہزار روپیہ بھی کبھی بڑی حیثیت رکھتا تھا۔ صدر ، وزیر اعظم اور دیگر وزرا کے روزانہ کے اخراجات کا سن کر اب آنکھیں محاورتاً بھی پٹھتی نہیں ہیںکہ گنجائش ہی نہیں رہی۔ اب تو ہر بات معمول کی بات ہوکر رہ گئی ہے۔ تاہم مذکورہ بالا لطیفہ یا “حقیقہ ” ہمیں راجا صاحب کی اپیل سن کر یاد آگیا۔
ملک میں اس وقت یوںتو کئی راجے ہیں جن میں کچھ مہاراجے بھی ہیں لیکن آج کل سب سے زیادہ شہرت جس راجے کو مل رہی ہے وہ ہیں جناب راجا پرویز اشرف۔ بڑے بھلے آدمی ہیں۔ ان کی بھلمنساہٹ اور سادگی دیکھ کر ہی انہیں پانی و بجلی کی وزارت دی گئی کہ ساری بدنامی انہی کے کھاتے میں جائے گی۔ موصوف نے بھی اتنی تاریخیں دیں کہ ایک ٹی وی چینل پر کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ جب باہر نکلتے ہیں تو لوگ “او بھائی کلینڈر” کہہ کر آواز لگاتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے اور جتنی زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اتنی ہی ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ رحمن ملک تک مقبولیت اور نیک نامی میں ان سے پیچھے چلے گئے ہیں۔ یوں بھی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کالی مرسیڈیز کے حوالے نے رحمان ملک کو پریشان کرر کھا ہے۔
یہی راجا پرویز اشرف قوم کو تلقین کررہے تھے کہ بجلی کا استعمال کم کردیں۔ تب ہمیں یہ لطیفہ یاد آگیا۔ یارو بجلی دوگے تو کم یا زیادہ کے استعمال کی بات ہوگی۔ جن علاقوں میں18، 18گھنٹے بجلی آہی نہیں رہی وہاں تو “گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی” والی صورت حال ہے۔ راجا صاحب کہہ رہے ہیںکہ یہ جو 24 گھنٹے میں سے چھ گھنٹے بجلی ملتی ہے اس میں بھی کفایت کرو۔ہم نے سنا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی اب تک پہنچی ہی نہیں ہے وہاں کے لوگوں سے بھی راجا صاحب نے اپیل کردی ہے کہ کم کم استعمال کرو۔ کسی نے توجہ دلائی تو کہا کہ یہ پیشگی انتباہ ہے۔
ہمیں لگتا ہے کہ موصوف ملا نصرالدین کے مداحوں میں سے ہیں۔ملا جی وسط ایشیا ‘ عرب اور ترکی کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ ایک بار انہوں نے بازارمیں دہی خرید کراپنے لڑکے کو پیالہ تھمایا اور تاکید کی کہ گھر لے جا لیکن خبردارگرنے نہ پائے۔ اس کے ساتھ ہی ایک تھپڑ بھی جڑدیا۔ کسی نے کہا ملاجی یہ کیا حرکت‘ ابھی تو دہی گرابھی نہیں۔ کہنے لگے نقصان ہونے کے بعد سزا دینے کا کیا فائدہ۔ سو‘ راجا صاحب بھی جہاں بجلی پہنچی نہیں وہاں پیشگی انتباہ کر رہے ہیں کہ خبردار۔ امریکی اسے ”پیشگی حملہ“ کہتے ہیں۔
بجلی ہے کہ آکر ہی نہیں دے ر ہی۔اسلام آباد میں چاروں وزرا ءاعلیٰ اور وزراءکی معیت میں” قومی توانائی کانفرنس “ ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے توانا لوگ موجود ہیں لیکن قوم میں توانائی کہا ں رہی۔ بجلی نہ ہونے سے کارخانے بند‘ کاروبار بند‘ زراعت متاثر‘ گھروں میں خواتین اور اسکولوں میں بچے پریشان۔ اس ناتواں قوم کے لیے اسلام آباد میں توانائی کانفرنس ہو رہی ہے۔ راجا صاحب کہتے ہیں کہ جو چیز ہے ہی نہیںوہ کہاں سے لائیں۔سارے الزامات حسب روایت سابق حکومت پر۔ جب جنرل پرویز مشرف ملک چھوڑ کر بھاگے تو اس وقت بجلی کی پیداواراور کھپت میں دو ہزار میگاواٹ کا فرق تھا جو راجا صاحب کی حکومت میں بڑھ کر چار ہزار سات سو میگاواٹ ہوگیا ہے۔ یعنی بجلی طلب سے کم ہے۔ راجا صاحب صرف اتنا بتادیں کہ یہ فرق بڑھ کیسے گیا۔ اتنا ہی کیا ہوتا کہ شارٹ فال اسی حد تک رہتا۔ لیکن راجا صاحب کا کہنا بھی صحیح ہے کہ جو چیز ہے ہی نہیں اسے کہاں سے لائیں۔ یعنی گڈگورننس‘ سوجھ بوجھ‘ عقل و فہم اور عوام سے ہمدردی۔

April 13, 2010

پارلیمنٹ کی توہین اور آرٹیکل 6

Filed under: سیاہ سیات — اطہر ہاشمی @ 5:40 pm
وفاقی وزیرداخلہ جناب رحمن ملک بہت دورکی کوڑی لائے ہیں۔ اس کے لیے انہیں سیالکوٹ جانا پڑا جوعلامہ اقبال‘کھیلوں اورآلات جراحی کے بعد اب ایک نئی پہچان حاصل کررہاہے۔ یہ شہربھارت کی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کا سسرال بننے جارہاہے بلکہ یوں سمجھوکہ بن گیاہے۔ عین وقت پرسسرکے نام کا جھگڑا پڑگیا تھا لیکن جس طرح عائشہ صدیقی کانام ماہا بھی ہے اسی طرح ان کے سابق سسر اور شعیب ملک کے والد کے بھی دو‘دونام ہیں۔ والدین کا رکھا ہوا نام فقیر ان کو پسند نہیں آیا ۔یہ شہرکا تقاضہ تھا چنانچہ وہ سلیم ملک ہوگئے ۔دوسرے نکاح نامے میں جانے کونسی ولدیت درج کی گئی ہے۔ بہرحال اس طرح شعیب ملک کے والدکانام بھی ذرائع ابلاغ میں آگیا ورنہ ایک اورملک جناب رحمن ملک کے والد اور ان کے پیشے کے بارے میں کتنے لوگ جانتے ہیں؟۔ والدین تو سادگی میں اپنے بچوں کے نام سیدھے سادے اورحتی الامکان دینی قسم کے رکھتے ہیں۔ مثلاً گورنرپنجاب کے والد کانام محمددین تھا۔ اچھا پیار ااور اسلامی قسم کا نام ہے۔ مگرجب وہ یورپ تک جاکر پڑھ آئے تو انہیں بھی اپنانام آﺅٹ آف فیشن لگنے لگا۔ نام تو نہ بدلا البتہ محمددین سے ایم ڈی ہوگئے۔ والدین کے رکھے ہوئے ایسے کئی نام ہیں جن پرشرمندگی محسوس کرکے لوگوں نے انگریزی مخفف استعمال کرناشروع کردیا۔ مثلاً ایک وزیرصاحب تھے‘ اے بی اخوند‘ یہ اللہ بچایو تھے ۔جناب اے کے بروہی بڑے معروف اور ماہرقانون دان تھے۔ اب کسے یاد کہ اے کے بروہی اللہ بخش‘ خدابخش تھے۔ ڈھونڈے سے ایسے اورکئی نام مل جائیں گے جن کو اپنے والدین کا رکھا ہوا نام پسند نہ آیا ہو مثلاً این ڈی خان۔ بات تھی رحمان ملک کی۔ موصوف نے سیالکوٹ جاکر فرمایاہے کہ پارلیمنٹ کی توہین کرنے والے پرآرٹیکل چھ کا اطلاق ہوسکتاہے۔ یعنی اس مشق کے تحت وہ بھی اسی طرح غدارقرارپائے گا جس طرح ملک کا آئین توڑنے اور اس کی مدد کرنے والا۔ یہ شق بھٹو صاحب نے آئین میں شامل کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اب مارشل لا کا راستہ ہمیشہ کے لیے بندکردیاگیا۔ بمشکل چار سال بعد مارشل لاءنے پھر اپنا راستہ ایسے بنالیا جیسے کچے مکان کی دیوارگرنے سے لوگ صحن میں راستے بنالیتے ہیں۔ یہ آرجارلگی ہی رہتی ہے اور آرٹیکل چھ ان مارشل لا ایڈمنسٹریٹروں کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو پارلیمنٹ کی توہین کرنے والوں کا کیاکرلے گا۔ ابھی ابھی تو ایک فوجی حکمران کو جناب رحمن ملک کی حکومت نے گارڈآف آنر کے ساتھ رخصت کیاہے۔ آڑٹیکل چھ منہ دیکھتا رہ گیا۔اسے گارڈ آف ”ڈس آنر“ پیش کیاجارہاتھا۔مارشل لاءایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان کو پورے اعزاز کے ساتھ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر پاک مٹی کو سونپاگیا۔ بھٹو صاحب نے آرٹیکل چھ کا اطلاق جنرل ایوب خان پرکیا نہ جنرل یحییٰ پر۔ وہ ان دونوں کے فیض یافتہ تھے۔ محسن کشی انہیں بھی پسند نہ ہوگی۔ اور وہ خود بھی تو دنیا کی تاریخ میں پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹرتھے۔ کیا آرٹیکل چھ کا اطلاق ان پر بھی ہوسکتاتھا؟ شاید یہی کچھ سوچ کر جنرل پرویزمشرف کو عزت کے ساتھ رخصت کردیاگیا۔ پارلیمنٹ کی اصل توہین تو یہ ہے کہ اس کی منظورکردہ متفقہ قرارداد پرعمل نہ کیاجائے۔ اب جناب رحمن ملک ہی بتائیں گے کہ ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پرکتنا عمل ہوا اور عمل کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی۔ کیا اس کی لپیٹ میں پوری حکومت نہیں آرہی؟ توکیاصدر اور وزیراعظم سمیت تمام حکمرانوں پر آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوگا؟ کون کرے گا؟ کیا رحمن ملک وزیرداخلہ اورپولیس سمیت تمام ایجنسیوں کے باس ہونے کی حیثیت سے آرٹیکل چھ کی توہین کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم دیں گے؟۔ پارلیمنٹ کی توہین کا ایک اورطریقہ ہے ۔وہ یہ کہ معروف جعل سازوں‘ دھوکے بازوں اوراعترافی مجرموں کو ڈھونڈ ڈھونڈکر پارلیمنٹ میں لابٹھایاجائے۔ کسی بھی ادارے کی اس سے بڑی توہین نہیں ہوسکتی۔ اور ادارہ ہی کیا‘ نااہل‘ داغدار افراد کسی بھی ایوان میں‘ کسی بھی منصب پربیٹھ جائیں یا بٹھادیے جائیں‘ جاہلوں کو جہل کا انعام دیاجائے‘ یہ تمام شرفاءاور ان نیک نفس لوگوں کی توہین ہے جن کا دامن صاف ہے۔ابھی کچھ دن پہلے ہی تو قومی اورصوبائی اسمبلیوں نے جعل سازوں‘ جعلی ڈگریاں پیش کرنے والوں سے نجات حاصل کی تھی۔ پیپلزپارٹی کے جمشید دستی‘ رکن صوبائی اسمبلی اللہ وسایا اور مسلم لیگ ق کے رکن قومی اسمبلی نذیرجٹ۔ان کو واپس اسمبلیوں میں لانا کیا پارلیمنٹ کی ایک بار پھر توہین نہیں ہے۔ توکیا انہیں ٹکٹ دینے والوں پر آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوگا؟ رحمن ملک صاحب ‘ کیوں اپنے پیروں پرکلہاڑی مارنے چلے ہیں۔ ایف آئی اے کے ایک چھوٹے سے افسرسے ترقی کرکے وفاقی وزیر داخلہ کے منصب تک پہنچانے والوں کا کچھ تو لحاظ کیجیے۔ بابر اعوان کو دیکھیں جو ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگری پرنازاں ہیں لیکن صدرسے وفاداری کا یہ عالم کہ سوئس مقدمات کھلوانے کے لیے عدالت تک سے پنگالے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سوئس عدالت کو اس ضمن میں کوئی خط میری لاش پرسے گزرکرہی جاسکے گا۔ خط نہ ہوا بل ڈوزر ہوگیا جو مہنگائی کی صورت میں عوام کی لاشوں کو روندتا ہوا آگے بڑھتاجارہاہے۔ پیپلزپارٹی کو ہرجعل ساز‘ دھوکے باز اور لٹیرے سے ایسی کیا رغبت ہے کہ ایسے تمام لوگوں کو اپنی صفوں میں دیکھنا چاہتی ہے۔ ق لیگ کے نذیرجٹ تک کو اپنی پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑایاجارہاہے۔ پیپلزپارٹی ہی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیاہے کہ اس وقت ایوان میں ایسے چالیس افراد ہیں جن کی ڈگریاں مشکوک ہیں۔ بی بی سی نے تو صدر مملکت تک کی ڈگری پر سوال اٹھادیاہے تاہم یہ بھی کہہ دیاہے کہ سیانا سیاست دان ڈگریوںکا محتاج نہیں۔ لیکن جس کی جعل سازی پکڑی جائے وہ تو سیانا بھی نہیں ہوتا۔ سیانے کوّے کے بارے میں بھی تو ایک معاورہ ہے۔ مظفرگڑھ سے جمشید دستی کے مقابلہ میں بھٹو صاحب کے سابق چہیتے اور گورنرپنجاب بنائے جانے والے مصطفی کھر نے کاغذات جمع کرادیے ہیں۔ مظفرگڑھ بہرحال مصطفی کھرکاگڑھ ہے۔ جمشید دستی کو جتوانے کے لیے صدر زرداری کو بہت محنت کرنا پڑے گی۔ وزیراعظم لاتعلق رہیں گے کیونکہ وہ اس نشست پر اپنے بھائی کولڑانا چاہتے تھے اورجمشید دستی کو اپنا مشیر بنالیاتھا۔ لیکن جمشید دستی نے صدرکی بہن کے لیے ایوان میں جس درازدستی کا مظاہرہ کیا اس نے جناب زرداری کا دل ایسا جیتا ہے کہ جمشید دستی ہارگئے تو بھی اہم منصب کہیں نہیں گیا۔ ادھر جناب مصطفی کھر نے اپنے کاغذات جمع کرانے کے بعد کہاہے کہ پیپلزپارٹی کے کارکن ان کو ووٹ دیں کیونکہ وہ بھٹو صاحب کے خاص بندے رہ چکے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے خود بھٹو صاحب کا مقابلہ کرنا۔ بے شک جناب کھرکبھی بھٹو صاحب کی ناک کا بال تھے اور ان کی اترن پہننا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے۔ خود ایک انٹرویومیں بتایا تھا کہ بھٹو صاحب اپنے استعمال شدہ اطالوی جوتے یہ کہہ کر ان کو دے دیاکرتے تھے کہ کھر‘ اچھی چیزیں استعمال کیاکرو۔ کھر صاحب نے اپنے مرشد کی اس ہدایت پر مختلف طریقوں سے عمل کیا۔ لیکن جس طرح بھٹو صاحب اپنے ”ڈیڈی“ کے مخالف ہوگئے تھے اسی طرح ایک وقت آیا تھا کہ خود کھرصاحب بھی بھٹو کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے تھے۔ کھرصاحب نے ن لیگ کے کارکنوں کو بھی یہ احسان یاددلایا کہ وہ آخر وقت تک نوازشریف کے ساتھ رہے اور جب وہ جلاوطنی سے واپس آرہے تھے تو اسی طیارے میں کھر صاحب بھی تھے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو اپنے احسانات یاددلانے کے بعد اب اگر ق لیگ کے لیے کچھ ہوتو وہ بھی بتادیں۔ اورکچھ نہیں تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ چوہدری شجاعت سے جب سامنا ہوتاہے تو وہ ان کو سلام ضرورکرتے ہیں چنانچہ ق لیگ والے بھی ….مولانا فضل الرحمان کو پرچانے کے لیے تو اپنی شادیوں کی تعداد بتانا ہی کافی ہوگا۔ خواتین کے ووٹ بھی کھرصاحب کو پڑنے چاہئیں کہ کھر صاحب نے متعدد خواتین کا گھربسایاہے۔ ایک افواہ تو یہ بھی تھی کہ جب کھر صاحب پنجاب کے گورنرتھے تو کئی لاپتا خواتین گورنر ہاﺅس سے برآمدکی گئیں۔ ہمیں کھرصاحب کی اس بات پر اعتبار ہے کہ کالج کی ان مغوی طالبات کو انہوں نے کہیں سے برآمدکرکے گورنرہاﺅس میں رکھاتھا۔ محترم رحمن ملک صاحب ‘ہرچندکہ آپ خود عوام کے منتخب کردہ نہیں لیکن اگرجمشیددستی‘ نذیرجٹ اور اللہ وسایا عرف میاں چنوں آپ اور آپ کی پارٹی کے بھرپور تعاون سے پھرمنتخب ہوکر ایوانوں میں آگئے تو یہ پارلیمنٹ کی زبردست توہین ہوگی اور حکمرانوں پر آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوگا۔ لیکن پارلیمنٹ کیا‘ یہاں تو قدم قدم پر عوام کی توہین ہورہی ہے اور اس کے لیے آئین میں کوئی شق نہیں۔ جرائم پیشہ‘ جعل ساز‘ دھوکے باز اور داغوں کو اچھا کہنے والے عوام‘ جو ان کومنتخب کرکے ایوانوں میں بھیجتے ہیں‘ وہ خود بھی تو اپنی توہین کے ذمہ دارہیں اور پھر روتے ہیں کھلتے ہوئے زخموں کی جلن سے ۔ ہم یہاں تک لکھ کر اپنی بھڑاس نکال چکے تھے کہ اگلے دن وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس خبرکی بڑی ”سختی“ سے تردیدکردی کہ سینیٹر رحمن ملک نے اپنے دورہ سیالکوٹ وگوجرانوالہ میں پارلیمنٹ اورآرٹیکل چھ کے حوالے سے کوئی بات کی ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی ”مہربان“ نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے وزیرداخلہ سے بے بنیاد اورغلط بیان منسوب کرکے اخبارات میں ہیڈلائن کے ساتھ شائع کرتے ہوئے ایک غلط تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ جناب رحمن ملک کا تاثر خراب کرنے کے لیے کسی مہربان کو کوشش کرنے کی ضرورت تو نہیں جناب اس کے لیے خودکفیل ہیں۔ یہ مہربان کون ہیں اور انہوں نے کیسے اخبارات میں یہ بیان شائع کروادیا‘اس کا جواب تو وہ اخبارات ہی دیں گے ۔ تاہم اس تردید سے ایسا لگتاہے کہ رحمن ملک بھی آہستہ آہستہ سیاستدان ہوتے جارہے ہیں۔ جو چاہے کہہ دو پھر تردید کردویا پھر وزارت داخلہ میں کوئی ایسا شخص بیٹھا ہے جس نے مذکورہ بیان کے عوامل اور عواقب کا اندازہ کرلیا۔ رہے ہم جیسے تو ہماری مثال یہ ہے کہ ”کاتا اور لے دوڑے“ ہم سیاستدان ہوتے تو اپنے لکھے کی بھی تردیدکرڈالتے۔

Theme: Rubric. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.