کئی برس وطن سے باہر رہ کر یہ بھول ہی چکے تھے کہ آزادی کیا ہوتی ہے‘یہ کیسی بڑی نعمت ہے جو ہمیں میسر ہے مگر ہم اس کی قدر ہی نہیں کرتے۔ ایک کہاوت ہے”دوسرے کا گھر ‘تھوک کا بھی ڈر“ ۔ یعنی دوسرے کے گھر میں ادھر ادھر تھوکتے ہوئے بھی میزبان کی خفگی کا ڈر رہتا ہے۔اس کا احساس ہمیں سعودی عرب میں رہ کر بار ہا ہوا۔
ایک بار یوں ہوا کہ جدہ میں عزیز یہ کے چوراہے پر ہماری ٹیکسی اشارہ پر رکی ہوئی تھی کہ ہم نے اطمینان سے سگریٹ کا ٹوٹا باہر اچھا ل دیا۔ قریب کھڑی کار سے ایک سعودی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ بے چارے کو اردو نہیں آتی تھی اس لیے عربی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ گمان ہے کہ وہ ہماری اس آزادی پر برہم تھا۔ ہمیں عربی نہیں آتی تھی‘قرآن کریم بے سمجھے پڑھ ڈالتے ہیں۔ اندازہ ہوگیا تھاکہ وہ کیا کہہ رہا ہوگا۔ عربی نہ جاننے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ہم نے ایک لفظ سیکھ لیا تھا”انا آسف“ اسی سے کام چلایا۔ اشارہ کھل گیا تھا۔
جب تک سعودی عرب میں رہے محتاط ہی رہے۔پاکستان آنے کے بعد بھی چند دن تک تو یہی کیفیت رہی کہ سڑک پر ٹوٹا اچھالتے ہاتھ رکتا اور پان کی پیک تھوکتے ہوئے گلا رکتا تھا۔لیکن جلد ہی آزادی کا احساس واپس آگیا،آس پاس سب یہی کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ طارق روڈ گئے۔اپنے بچوں کو کوک کی بوتلیں اور چیپس کے پیکٹ دلوائے۔ تاکید کی کہ خالی بوتلیں اور پیکٹ باہر نہ پھینکنا۔اتر کر دکان میں گئے ‘واپس آئے تو کچرا گاڑی میں نہیں تھا۔بچوں سے پوچھاتو انہوں نے بتایا کہ ہم تو بہت دیر تک خالی بوتلیں اور پیکٹ لیے بیٹھے رہے۔ کوئی کچرا کنڈی (ڈسٹ بن) بھی نظر نہ آیا ۔لیکن آس پاس کھڑی گاڑیوں سے لوگ اپنا کچرا باہر پھینک رہے تھے ‘ہم نے بھی پھینک دیا۔
یہ ہیں آزادی کے مزے۔ہم لوگ اپنا کچرا باہر اچھال دیتے ہیں۔اب وہ خواہ کسی کے سر پر پڑے۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک خاتون نے ماسی کو تاکید کی کہ کچرا پھینکتے ہوئے کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔کافی دیر بعد ماسی واپس آئی ‘پوچھا اتنی دیر کیوں لگادی؟ بولی ‘بی بی! آپ ہی نے کہا تھا کہ کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔ شریف آدمی بڑی دیر بعد نظر آیا۔ لیکن اب وہ منہ اوپر کیے جو کچھ کہہ رہا ہے اس سے لگتا ہے پہچاننے میں غلطی ہوگئی۔
یہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ گھر کا کوڑا کرکٹ ہو یا اندر کا غبار ‘ہم سب کچھ باہر اچھال دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی کررہے ہیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔اب اے این پی کے حاجی عدیل کو دیکھ لیجئے۔ نام کے ساتھ ”حاجی ‘ شوقیہ لگا رکھا ہے یا سچ مچ خانہ کعبہ تک گئے تھے؟ انہوںنے کہا ہے کہ ”میرا ہیرو تو راجا داہر ہے‘ محمد بن قاسم نہیں“۔اس سے شبہ ہوتا کہ وہ خانہ کعبہ سے بھی خالی ہاتھ واپس آگئے۔ راجا داہر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور اس کی طر ف منہ کرکے نماز پڑھنے والوں کا سخت دشمن تھا اور محمد بن قاسم کعبہ کی حرمت کا رکھوالا‘مسلمانوں کی عزت کا محافظ۔ حاجی عدیل صاحب نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ یہی کچھ جناب الطاف حسین کے ممدوح جی ایم سید کہہ چکے ہیں۔ وہ بھی راجا داہر کو اپنا ہیرو اور محمد بن قاسم کو لٹیرا گردانتے تھے۔ پھر بھی خود کو سید کہتے تھے۔
حاجی عدیل نے حج ضرور کیا ہوگا۔ایسے ہی لوگوں کے لیے شیخ سعدی نے ایک شعر کہہ رکھا ہے۔
خر عیسیٰ اگر بہ مکہ رود
چوں بیاید ہنوز خرباشد
یعنی حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ ہو آئے تو بھی گدھا ہی رہے گا۔اپنے ملک میں ہر طرح کی آزادی ہے ۔یہ کہیں اور کہاں۔ہم نے بھی کچرا اچھا ل دیا ہے۔
ایک بار یوں ہوا کہ جدہ میں عزیز یہ کے چوراہے پر ہماری ٹیکسی اشارہ پر رکی ہوئی تھی کہ ہم نے اطمینان سے سگریٹ کا ٹوٹا باہر اچھا ل دیا۔ قریب کھڑی کار سے ایک سعودی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ بے چارے کو اردو نہیں آتی تھی اس لیے عربی میں کچھ کہہ رہا تھا۔ گمان ہے کہ وہ ہماری اس آزادی پر برہم تھا۔ ہمیں عربی نہیں آتی تھی‘قرآن کریم بے سمجھے پڑھ ڈالتے ہیں۔ اندازہ ہوگیا تھاکہ وہ کیا کہہ رہا ہوگا۔ عربی نہ جاننے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ہم نے ایک لفظ سیکھ لیا تھا”انا آسف“ اسی سے کام چلایا۔ اشارہ کھل گیا تھا۔
جب تک سعودی عرب میں رہے محتاط ہی رہے۔پاکستان آنے کے بعد بھی چند دن تک تو یہی کیفیت رہی کہ سڑک پر ٹوٹا اچھالتے ہاتھ رکتا اور پان کی پیک تھوکتے ہوئے گلا رکتا تھا۔لیکن جلد ہی آزادی کا احساس واپس آگیا،آس پاس سب یہی کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ وہ طارق روڈ گئے۔اپنے بچوں کو کوک کی بوتلیں اور چیپس کے پیکٹ دلوائے۔ تاکید کی کہ خالی بوتلیں اور پیکٹ باہر نہ پھینکنا۔اتر کر دکان میں گئے ‘واپس آئے تو کچرا گاڑی میں نہیں تھا۔بچوں سے پوچھاتو انہوں نے بتایا کہ ہم تو بہت دیر تک خالی بوتلیں اور پیکٹ لیے بیٹھے رہے۔ کوئی کچرا کنڈی (ڈسٹ بن) بھی نظر نہ آیا ۔لیکن آس پاس کھڑی گاڑیوں سے لوگ اپنا کچرا باہر پھینک رہے تھے ‘ہم نے بھی پھینک دیا۔
یہ ہیں آزادی کے مزے۔ہم لوگ اپنا کچرا باہر اچھال دیتے ہیں۔اب وہ خواہ کسی کے سر پر پڑے۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک خاتون نے ماسی کو تاکید کی کہ کچرا پھینکتے ہوئے کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔کافی دیر بعد ماسی واپس آئی ‘پوچھا اتنی دیر کیوں لگادی؟ بولی ‘بی بی! آپ ہی نے کہا تھا کہ کسی شریف آدمی کو دیکھ کر پھینکنا۔ شریف آدمی بڑی دیر بعد نظر آیا۔ لیکن اب وہ منہ اوپر کیے جو کچھ کہہ رہا ہے اس سے لگتا ہے پہچاننے میں غلطی ہوگئی۔
یہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ گھر کا کوڑا کرکٹ ہو یا اندر کا غبار ‘ہم سب کچھ باہر اچھال دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی کررہے ہیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔اب اے این پی کے حاجی عدیل کو دیکھ لیجئے۔ نام کے ساتھ ”حاجی ‘ شوقیہ لگا رکھا ہے یا سچ مچ خانہ کعبہ تک گئے تھے؟ انہوںنے کہا ہے کہ ”میرا ہیرو تو راجا داہر ہے‘ محمد بن قاسم نہیں“۔اس سے شبہ ہوتا کہ وہ خانہ کعبہ سے بھی خالی ہاتھ واپس آگئے۔ راجا داہر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور اس کی طر ف منہ کرکے نماز پڑھنے والوں کا سخت دشمن تھا اور محمد بن قاسم کعبہ کی حرمت کا رکھوالا‘مسلمانوں کی عزت کا محافظ۔ حاجی عدیل صاحب نے کوئی نئی بات نہیں کہی۔ یہی کچھ جناب الطاف حسین کے ممدوح جی ایم سید کہہ چکے ہیں۔ وہ بھی راجا داہر کو اپنا ہیرو اور محمد بن قاسم کو لٹیرا گردانتے تھے۔ پھر بھی خود کو سید کہتے تھے۔
حاجی عدیل نے حج ضرور کیا ہوگا۔ایسے ہی لوگوں کے لیے شیخ سعدی نے ایک شعر کہہ رکھا ہے۔
خر عیسیٰ اگر بہ مکہ رود
چوں بیاید ہنوز خرباشد
یعنی حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ ہو آئے تو بھی گدھا ہی رہے گا۔اپنے ملک میں ہر طرح کی آزادی ہے ۔یہ کہیں اور کہاں۔ہم نے بھی کچرا اچھا ل دیا ہے۔



